Talaq Ke Baad: Behan Ki Tanha Kahani | Urdu stories | Emotional Story


 طلاق کے بعد عدت ختم ہوئ بھائی نے کہا


طلاق کے بعد عدت ختم ہوتے ہی جب میں نے بھائی کے کمرے کا دروازہ کھولا تو ان کی آنکھوں میں وہ اپنا پن نہیں تھا جو کبھی میری طاقت ہوا کرتا تھا بلکہ وہاں ایک اجنبیت تھی جو دل کو اندر تک زخمی کر رہی تھی اور وہ بغیر میری طرف دیکھے بولے دیکھو صائمہ میرے اپنے بھی چھوٹے بچے ہیں میں مزید تمہارا خرچ نہیں اٹھا سکتا اور نہ مجھ سے یہ امید رکھنا کہ میں دوبارہ تمہاری شادی کرواؤں اس لیے بہتر ہے کہ اب تم خود اپنے رہنے سہنے کا انتظام کرو

میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان کی طرف دیکھتی رہی میرے ہونٹ ہل رہے تھے مگر آواز ساتھ چھوڑ چکی تھی یہی وہ بھائی تھا جو کبھی میری ہنسی پر جان دیتا تھا اور آج ایسے بات کر رہا تھا جیسے میں کوئی بوجھ ہوں اسی لمحے میری بھابھی صحن میں آئی اور میرے ہاتھ میں پکڑا ہوا بیگ چھین کر زمین پر پھینک دیا اور تیز لہجے میں بولی یہاں مزید ڈراما نہیں چلے گا

میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے میں نے خاموشی سے اپنا بیگ اٹھایا اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے کیونکہ وہاں رکنا اب خودداری کے قتل کے برابر تھا جیسے ہی میں گلی میں نکلی تو میرے قدم لرزنے لگے دل میں سوال تھا کہ اب کہاں جاؤں وہ گھر جو باپ کے نام پر تھا جہاں میرا بھی حق تھا آج وہاں میرے لیے دروازہ بند ہو چکا تھا

میں ابھی چند قدم ہی چلی تھی کہ اچانک خالہ زرینہ کی نظر مجھ پر پڑی وہ تیزی سے میرے پاس آئیں اور میرا ہاتھ تھام کر بولیں بیٹی اس حالت میں کہاں جا رہی ہو تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو کیوں ہیں اور میں جواب دینے سے پہلے ہی ٹوٹ گئی وہ مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئیں جہاں پہلی بار اس دن کسی نے مجھے انسان سمجھ کر پانی دیا

اگلی صبح وہ مجھے اپنے ساتھ اس بڑے گھر میں لے گئیں جہاں وہ کام کرتی تھیں میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ہی میں اس گھر کے دروازے کے قریب پہنچی تو میں نے لاشعوری طور پر اپنی چادر سے چہرہ چھپا لیا کیونکہ دل میں ایک ڈر بیٹھا ہوا تھا ماضی کا وہ زخم جو ابھی ہرا تھا

خالہ زرینہ نے اندر جا کر بات کی اور مجھے صحن میں بٹھا دیا میں زمین کو گھورتی رہی اور سوچتی رہی کہ اگر یہاں بھی مجھے رد کر دیا گیا تو میں کہاں جاؤں گی میرے پاس نہ کوئی سہارا تھا نہ کوئی چھت

اسی دوران اندر سے کسی کے قدموں کی آواز آئی اور میرا دل ایک لمحے کو رک سا گیا میں نے آہستہ سے سر اٹھایا اور سامنے کھڑی عورت کو دیکھ کر میری سانسیں الجھ گئیں کیونکہ قسمت ایک بار پھر مجھے ایک نئے امتحان کے دہانے پر لا کھڑا کر چکی تھی

اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ دروازہ میری بربادی کی طرف کھلے گا یا میری زندگی کو ایک نیا راستہ دے گا

میں صحن میں بیٹھی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی جن میں اب مجھے اپنی کوئی لکیر سیدھی دکھائی نہیں دے رہی تھی دل بار بار یہی سوال کر رہا تھا کہ اگر یہاں سے بھی نکال دی گئی تو میں کہاں جاؤں گی کون سا دروازہ میرے لیے کھلے گا اور کون سا بند ہو جائے گا

کچھ ہی دیر بعد وہ خاتون میرے سامنے آ کر رکیں ان کی آنکھوں میں حیرت تھی مگر لہجے میں سختی نہیں تھی انہوں نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر خالہ زرینہ کی طرف دیکھ کر بولیں یہ ہی وہ لڑکی ہے جس کا تم ذکر کر رہی تھیں خالہ زرینہ نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا بی بی یہ بہت شریف بچی ہے حالات نے اسے یہاں لا کھڑا کیا ہے

خاتون نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود سامنے کرسی پر آ بیٹھیں انہوں نے نرمی سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے اور میں نے دھیمی آواز میں کہا صائمہ ان کا اگلا سوال سیدھا دل پر لگا تمہاری شادی کب ہوئی تھی اور طلاق کیوں ہوئی اس سوال کے ساتھ ہی میرے اندر برسوں سے دبا ہوا درد جاگ اٹھا

میں نے نظریں جھکا لیں اور آہستہ آہستہ سچ بیان کرنا شروع کیا کہ کیسے میرا شوہر نشے کا عادی تھا کیسے اس کی ہر کمزوری کا خمیازہ مجھے بھگتنا پڑا اور کیسے ایک دن اس نے مجھے بغیر کسی قصور کے گھر سے نکال دیا میری آواز بار بار رُک رہی تھی مگر وہ عورت خاموشی سے سنتی رہیں

انہوں نے ایک گہری سانس لی اور بولیں زندگی کبھی کبھی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں غلطی اس کی نہیں ہوتی مگر سزا پھر بھی اسی کو ملتی ہے ان کے الفاظ نے میرے اندر ایک عجیب سا سکون اتار دیا جیسے کسی نے میرے زخم پر مرہم رکھ دیا ہو

انہوں نے کہا خالہ زرینہ نے ٹھیک کہا ہے مجھے ایک ایسی لڑکی کی ضرورت ہے جو گھر کو اپنا سمجھے اور میں تمہاری آنکھوں میں وہ سچائی دیکھ رہی ہوں جو آج کل کم نظر آتی ہے اگر تم چاہو تو تم یہاں رہ سکتی ہو کام کے ساتھ عزت بھی ملے گی

میرے لیے یہ الفاظ کسی معجزے سے کم نہ تھے میں نے فوراً سر ہلا دیا کیونکہ میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا مجھے اسی لمحے احساس ہوا کہ شاید اللہ نے میرے لیے ابھی سب کچھ ختم نہیں کیا

کچھ دن گزرے میں نے دل لگا کر کام کرنا شروع کیا اس گھر کے ہر کونے میں مجھے عجیب سا تحفظ محسوس ہوتا تھا مگر دل کے کسی کونے میں ایک خوف اب بھی زندہ تھا کہ کہیں یہ سکون عارضی نہ ہو کیونکہ میری زندگی نے مجھے یہی سکھایا تھا کہ خوشی زیادہ دیر ٹھہرتی نہیں

ایک شام جب میں کچن میں کام کر رہی تھی تو اچانک وہ صاحب جنہیں میں نے صرف دور سے دیکھا تھا میرے سامنے آ کھڑے ہوئے انہوں نے مجھے غور سے دیکھا اور بولے تم بہت بدلی ہوئی لگتی ہو جیسے کوئی طوفان دیکھ کر بھی خاموش کھڑی رہنے والی عورت

ان کے الفاظ سن کر میرا دل زور سے دھڑکا کیونکہ میں نہیں جانتی تھی کہ یہ سوال میرے ماضی کی طرف لے جائے گا یا مستقبل کے کسی ایسے فیصلے کی طرف جس کا انجام ابھی میری آنکھوں سے اوجھل تھا

اور میں یہی سوچتی رہ گئی کہ کیا واقعی میری آزمائش ختم ہونے والی ہے یا یہ صرف ایک نئے امتحان کی شروعات ہے

اس رات میں دیر تک سو نہ سکی چھت کو گھورتے ہوئے بار بار یہی خیال آتا رہا کہ وہ صاحب آخر مجھ سے ایسا سوال کیوں کر گئے تھے کیا وہ صرف رسمی بات تھی یا وہ میرے اندر چھپے زخموں کو دیکھ چکے تھے

اگلی صبح ماحول کچھ بدلا بدلا سا تھا وہ خاتون جن کی مہربانی نے مجھے اس گھر میں جگہ دی تھی غیر معمولی حد تک خاموش تھیں ان کی نظریں بار بار مجھ پر ٹھہرتیں جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہوں مگر الفاظ ساتھ نہ دے رہے ہوں

دوپہر کے وقت انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا ان کا چہرہ سنجیدہ تھا انہوں نے کہا صائمہ میں تم سے ایک بات پوچھوں تو برا تو نہیں مانو گی میں نے فوراً کہا نہیں بی بی آپ جو پوچھیں گی سچ بتاؤں گی

وہ لمحہ چند سیکنڈز پر مشتمل تھا مگر مجھے یوں لگا جیسے وقت تھم گیا ہو پھر انہوں نے وہ سوال کیا جس کا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کیا تم ابھی تک اپنے سابق شوہر سے ڈرتی ہو

میرا دل جیسے سینے میں دھڑکنا بھول گیا میں نے نظریں جھکا لیں کیونکہ سچ یہ تھا کہ میں اب بھی اس کے نام سے کانپ جاتی تھی میں نے آہستہ سے کہا ڈر نہیں بی بی بس کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو آوازوں سے پھر ہرے ہو جاتے ہیں

انہوں نے سر ہلایا اور بولیں میں نے تمہیں اسی لیے یہاں رکھا تھا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ ٹوٹے ہوئے لوگ سب سے زیادہ وفادار ہوتے ہیں مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اتنی مضبوط بھی ہو

اسی لمحے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی آہٹ ہوئی وہی صاحب اندر آئے ان کی موجودگی نے کمرے کا ماحول بدل دیا انہوں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا پھر میری طرف اور بولے امی ٹھیک کہہ رہی ہیں کچھ لوگ خاموشی میں سب کچھ سہہ لیتے ہیں

میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ یہ باتیں میرے بارے میں ہو رہی ہیں مگر کوئی فیصلہ ابھی ہوا نہیں تھا

شام کے بعد مجھے اوپر والے کمرے میں بلایا گیا وہاں ایک بند الماری رکھی تھی خاتون نے اس کی چابی میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا اس میں کچھ چیزیں ہیں جو شاید تمہاری زندگی بدل دیں یا پھر تمہیں یہاں سے ہمیشہ کے لیے دور لے جائیں

میرے ہاتھ کانپنے لگے میں نے چابی کو دیکھا پھر ان دونوں کو وہ صاحب خاموش کھڑے تھے مگر ان کی آنکھوں میں عجیب سی بےچینی تھی جیسے وہ بھی اس الماری کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہوں

میں نے آہستہ آہستہ چابی گھمائی

تالا کھل گیا

مگر ابھی دروازہ نہیں کھولا

اور اسی لمحے میرے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا

کیا اس الماری کے پیچھے میرا ماضی دفن ہے

یا میرا آنے والا مستقبل میرا انتظار کر رہا ہے


الماری کا دروازہ آخرکار کھل ہی گیا مگر اس کے اندر کوئی خزانہ نہیں تھا نہ ہی کوئی خوفناک راز تھا اس میں چند پرانے کاغذات تھے ایک نکاح نامہ ایک طلاق کے کاغذات اور کچھ تصویریں وہ تصویریں جن میں میں کسی اور زندگی کی عورت لگتی تھی ہنستی ہوئی زندہ آنکھوں میں خواب سجائے ہوئے میں نے ایک تصویر ہاتھ میں لی تو یوں لگا جیسے وہ لڑکی مجھے پہچان ہی نہ رہی ہو جیسے وہ پوچھ رہی ہو کہ تم کہاں کھو گئی تھیں

آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور میں وہیں زمین پر بیٹھ گئی اس گھر کی مالکن میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں اور بہت نرمی سے بولیں بیٹی یہ سب اس لیے دکھایا ہے تاکہ تم خود فیصلہ کرو تم ماضی کے ساتھ جینا چاہتی ہو یا مستقبل کے ساتھ

میں نے پہلی بار دل سے ایک بات سوچی کہ اگر میں نے ہمیشہ ڈر کے ساتھ جینا ہے تو پھر میری زندگی کا قصور کیا تھا میں نے اپنے آنسو پونچھے اور کہا میں اب کسی سے نہیں ڈرتی میں بس سکون چاہتی ہوں

وہ صاحب جو اب تک خاموش تھے بولے ہماری نظر میں تم ایک مضبوط عورت ہو اور ہم تمہیں بوجھ نہیں سمجھتے اگر تم چاہو تو اس گھر میں عزت کے ساتھ رہ سکتی ہو یا اگر چاہو تو ہم تمہارے لیے نیا راستہ بھی تلاش کر سکتے ہیں

یہ الفاظ میرے لیے کسی دعا سے کم نہ تھے وقت گزرتا گیا میں نے اس گھر میں کام نہیں کیا بلکہ جینا سیکھا ان لوگوں نے مجھے پھر سے انسان سمجھا آہستہ آہستہ میرے اندر کی ٹوٹی ہوئی عورت جڑنے لگی میں ہنسنے لگی باتیں کرنے لگی

چند مہینوں بعد اسی محلے میں ایک شریف انسان کا ذکر آیا جو اپنی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد اکیلا رہتا تھا ایک سادہ مزاج محنتی اور نرم دل انسان اس رشتے کی بات پہلے میرے دل تک پہنچی پھر مجھ سے پوچھا گیا میں نے کئی راتیں سوچتے گزاریں اور آخرکار اللہ پر بھروسہ کر کے ہاں کہہ دی

نکاح سادہ تھا مگر دل سے تھا پہلی بار مجھے ایسا لگا کہ میرا ماضی مجھے طعنہ نہیں دے رہا بلکہ خاموشی سے پیچھے ہٹ رہا ہے اس گھر میں میں صرف بیوی نہیں بنی بلکہ شریک بنی میرے شوہر نے کبھی میرے زخموں کو کریدنے کی کوشش نہیں کی بلکہ میرے خاموش دنوں کو بھی سمجھا

وقت کے ساتھ اللہ نے مجھے وہ نعمت دی جس کا خواب میں نے کبھی دیکھنا چھوڑ دیا تھا میرے بچے میری دنیا بن گئے ان کی ہنسی میں مجھے اپنی ساری تکلیفیں بھول جاتی تھیں میں نے جان لیا کہ خوشی شور میں نہیں سکون میں ہوتی ہے

ادھر وقت نے اپنا انصاف بھی دکھایا وہ بھائی جس نے مجھے بےعزت کر کے گھر سے نکالا تھا آج وہی بھائی بیماری کے بستر پر پڑا تھا وہی گھر جس کے دروازے میرے لیے بند کیے گئے تھے اب وہاں سناٹا تھا اس کی بیوی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی اور وہ تنہا پڑا تھا

ایک دن خبر آئی کہ اسے میری یاد آئی ہے اس نے کسی کے ذریعے پوچھا کہ میری بہن کہاں ہے وہ ٹھیک ہے یا نہیں اس سوال میں شرمندگی تھی مگر دیر سے آئی ہوئی

میں نے سنا تو دل میں عجیب سا احساس آیا نہ بدلہ نہ نفرت بس ایک خاموش افسوس میں نے اس کے لیے دعا کی کیونکہ میں اب وہ نہیں تھی جو نفرت پالے میں وہ تھی جو آگے بڑھ چکی تھی

اسی طرح وہ بھائی جس نے مجھے جگہ نہ دی تھی جس نے مجھے طلاق کے بعد بوجھ سمجھا تھا آج اس کی اپنی زندگی بکھر چکی تھی اس کی بیوی اسے چھوڑ چکی تھی اور وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہا تھا تب اسے احساس ہوا کہ بہن کی بددعا خاموش ہوتی ہے مگر لگ ضرور جاتی ہے

مگر میں نے بددعا نہیں دی تھی میں نے صرف اللہ پر چھوڑ دیا تھا اور اللہ نے انصاف خود کیا

آج میں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھتی ہوں تو دل میں ایک ہی شکر ہوتا ہے کہ اگر وہ درد نہ ملتا تو شاید میں اس سکون تک کبھی نہ پہنچتی میں نے سیکھ لیا کہ ہر ٹوٹنے والی چیز برباد نہیں ہوتی کچھ لوگ ٹوٹ کر نکھر جاتے ہیں

یہی میری کہانی تھی ایک نکالی گئی عورت سے ایک مکمل عورت بننے تک کی

اور یہ انجام تھا

خاموش مگر طاقتور

درد سے نکل کر دعا تک کا سفر

تبصرے

New Urdu Stories

ماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانیماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

فاطمہ اور عمران کی موٹر وے پر آخری ملاقات — ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

امتحان کی گزرگاہ: ایک مخلص انسان کی کہانی"