اشاعتیں

دل کو چھو لینے والی روزانہ دیکھیں سچی کہانیاں"

Mein Yateem Thi – Sardi Mein Zindagi Ka Sakht Imtihan | Urdu Kahani

تصویر
 چچی مجھ سے پورا گھر کا کام کرواتی تھی میں یتیم تھی، سردی میں چچی نے سویٹر چھین لیا میں یتیم تھی، اور یہ بات اس گھر میں سب جانتے تھے۔ ابا کے جانے کے بعد میرا نام صرف ایک ذمہ داری بن کر رہ گیا تھا، ایسی ذمہ داری جو کسی کو پسند نہیں تھی۔ چچا کے گھر میں رہتی تھی، مگر رہنا اور جینا دو الگ باتیں ہوتی ہیں۔ میرے حصے میں صرف کام آیا، اور وہ بھی ایسا جس کا کوئی اختتام نہیں تھا۔ سردی اپنے عروج پر تھی۔ راتیں لمبی اور دن کاٹنے کو دوڑتے تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں سن ہو جاتی تھیں، مگر چچی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ صبح آنکھ کھلتے ہی آواز آتی، “اٹھ گئی ہو یا مرنے کا ارادہ ہے؟” میرے پاس پہننے کو بس ایک پرانی قمیض تھی۔ نہ جرسی، نہ سویٹر، نہ موزے۔ میں کام کرتی جاتی اور خاموش رہتی، کیونکہ بولنے کا حق میں کب کا کھو چکی تھی۔ چچی کے بچے لحاف میں دبکے رہتے، ہیٹر ان کے سامنے جلتا رہتا، اور میں صحن کے ٹھنڈے فرش پر برتن دھوتی رہتی۔ ایک دن شدید سردی میں، میری نظر دادی جان کے پرانے سامان پر پڑی۔ وہ ایک بوسیدہ سا سویٹر تھا، جو شاید برسوں سے استعمال میں نہیں آیا تھا۔ میں نے کچھ نہیں کہا، بس خاموشی سے اسے دیکھ...

Barray Khwab Aur Zindagi Ke Gehrey Sabak | Sachi Kahani | Sabaq Amoz Kahani

تصویر
 زینب کی جدائی اور صبر کا درد آپ کے دل کو چھو جائے گا کچھ رشتے محبت سے نہیں، مجبوری سے باندھے جاتے ہیں۔ اور مجبوری میں بندھا رشتہ اکثر کسی ایک کے لیے قید بن جاتا ہے۔ یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی رشتے سے شروع ہوتی ہے، جس میں خواب ایک طرف تھے اور حقیقت بالکل دوسری طرف۔ عمر ایک متوسط مگر خوددار گھرانے کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ذہین، خوداعتماد اور بڑے خواب رکھنے والا۔ میٹرک کے بعد اس کا ایک ہی مقصد تھا: بیرونِ ملک جانا، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، اور ایک جدید، پڑھی لکھی زندگی گزارنا۔ گاؤں، روایات اور سادگی اسے ہمیشہ پیچھے کھینچتی ہوئی لگتی تھیں۔ اسے لگتا تھا کہ یہ سب اس کی پرواز کے راستے میں دیواریں ہیں۔ دوسری طرف زینب تھی۔ ایک دیہاتی لڑکی، سادہ مزاج، کم گو، اور آنکھوں میں خاموشی سمیٹے ہوئے۔ اس کی دنیا محدود تھی مگر نیت صاف۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی قسمت کا فیصلہ وہ خود نہیں کرے گی، بلکہ بڑوں کی مرضی سے ہوگا۔ اس کے لیے شادی خواب نہیں، ذمہ داری تھی۔ یہ فیصلہ ایک دن اچانک سنا دیا گیا۔ “ہم نے زینب سے تمہارا نکاح طے کر دیا ہے۔ اگلے مہینے شادی ہے۔” عمر کو لگا جیسے کسی نے اس کے خوابوں پر پانی پھیر دیا ہو۔ اس...

Bawafa Wife Ko Bila Waja Talaq Dene Walay Husband Ki Ibratnaak Kahani | Sachi Kahani

تصویر
 شوہر نے حاملہ بیوی کو بلا وجہ طلاق دی دل دہلا دینے والی کہانی لاہور کی اس خاموش اور مہنگی سوسائٹی میں وہ رات عام راتوں جیسی نہیں تھی، فضا میں عجیب سا بوجھ تھا، آسمان پر گہرے بادل اس طرح چھائے ہوئے تھے جیسے کسی آنے والے حادثے کا اعلان کر رہے ہوں، موسلا دھار بارش تیز ہوا کے ساتھ زمین پر برس رہی تھی اور اسی بارش کے شور میں حنا کا دل بھی بے ترتیب دھڑک رہا تھا، وہ ڈرائنگ روم کی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر اندھیرے میں دیکھ رہی تھی جہاں گیٹ کے پاس جلتی مدھم لائٹ بارش کے قطروں میں لرز رہی تھی، اس کا ایک ہاتھ شیشے پر تھا اور دوسرا بے اختیار اپنے ابھرے ہوئے پیٹ پر، حمل کے ساتویں مہینے میں اس کا جسم کمزور ہو چکا تھا مگر دل کی کمزوری اس سے کہیں زیادہ تھی، رات کے تین بج چکے تھے اور ارسلان ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا، حالانکہ کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ وہ اتنی دیر کرے۔ حنا کو وہ دن یاد آیا جب شادی کے ابتدائی دنوں میں ارسلان اس کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں رہ پاتا تھا، دفتر سے بار بار فون کرتا، معمولی سی دیر ہو جاتی تو پیغامات کی لائن لگ جاتی، مگر پچھلے کچھ مہینوں سے سب کچھ بدل گیا تھا، فون خاموش رہنے لگے...

Pardes Chhor Kar Aya To Ameer Bewa Ne Mujhe Driver Rakh Li | Islamic Story

تصویر
  پردیس چھوڑ کر واپس آیا تو ایک امیر بیوہ نے مجھے ڈرائیور رکھ لیا میں کافی عرصہ خلیجی ملک میں ملازمت کرتا رہا تھا، کام آسان نہیں تھا مگر اتنا ضرور تھا کہ گھر کا نظام کسی طرح چل رہا تھا۔ دوری کا دکھ الگ تھا، مگر بچوں کے مستقبل کی خاطر سب برداشت کر لیتا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ میری غیر موجودگی میری بیوی کو دن بدن بے چین کرتی جا رہی تھی۔ پہلے شکایت، پھر ناراضگی اور آخرکار ضد نے گھر کا سکون ختم کر دیا۔ وہ ہر فون کال پر یہی کہتی کہ اب مزید تنہا نہیں رہ سکتی، اسے میرا ساتھ چاہیے، بچوں کو باپ کی ضرورت ہے، اور اگر میں واپس نہ آیا تو وہ بچوں کو لے کر میکے چلی جائے گی۔ میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی، حالات بتائے، مگر اس کے دل میں ایک ہی بات بیٹھ چکی تھی۔ آخرکار بچوں کے بچھڑنے کے خوف نے مجھے توڑ دیا اور میں نے نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب میں وطن واپس آیا تو دل میں یہ امید تھی کہ کچھ نہ کچھ کام مل جائے گا اور زندگی پھر پٹری پر آ جائے گی، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ دن گزرتے گئے، جیب خالی ہوتی گئی، اور گھر میں فکروں کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔ میں نے شہر کے ہر کونے میں کام تلاش کیا، فیکٹریاں،...

Meri Biwi Do Bachon Ke Baad Moti Ho Gai To Maine Dusri Shadi Kar Li | Urdu stories

تصویر
 دو بچوں کے بعد بیوی موٹی ہو گئی  میرا نام ارسلان ہے اور میں لاہور کے ایک عام سے محلے میں رہتا ہوں۔ میری شادی آٹھ سال پہلے نادیہ سے ہوئی تھی، یہ رشتہ میرے والدین کی پسند سے طے پایا تھا۔ شروع میں سب کچھ ٹھیک تھا، نادیہ نرم مزاج تھی، سادہ سی، اور مجھے دل سے چاہتی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتے اور زندگی آسان لگتی تھی۔ پھر وقت بدلا، ذمہ داریاں بڑھیں اور اللہ نے ہمیں دو بچوں سے نوازا۔ بچوں کی پیدائش کے بعد نادیہ کی پوری دنیا بدل گئی۔ اس کی توجہ خود سے ہٹ کر مکمل طور پر بچوں اور گھر تک محدود ہو گئی۔ وہ سارا دن گھر کے کاموں میں لگی رہتی، بچوں کی فکر کرتی، مگر اپنی ذات کو مکمل طور پر بھول گئی۔ آہستہ آہستہ اس کا وزن بڑھنے لگا۔ شروع میں مجھے اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا، میں نے اسے فطری تبدیلی سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے دل میں عجیب سی بےچینی پیدا ہونے لگی۔ نادیہ اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی، نہ اس کی شخصیت میں وہ چمک تھی، نہ وہ کشش جو کبھی مجھے اس کی طرف کھینچتی تھی۔ باہر جاتے تو لوگ ہمیں دیکھ کر مختلف تبصرے ک...

Meri Biwi Aksar Der Se Ghar Aati Hai – Ek Dard Bhari Aur Sabaq Amoz Kahani | Sachi Kahani

تصویر
 ایک شوہر کا شک اور ایک بیوی کی قربانی — دیر سے گھر آنے کی اصل حقیقت کراچی کے ایک متوسط علاقے میں رہنے والا ارسلان بظاہر ایک پرسکون زندگی گزار رہا تھا، مگر اس کے دل کے اندر ایک ایسی بے چینی پل رہی تھی جو دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کی بیوی ماہین ایک نجی فرم میں ملازمت کرتی تھی، اور پچھلے کچھ مہینوں سے اس کا معمول بدل چکا تھا۔ پہلے جو عورت شام چھ بجے تک گھر پہنچ جاتی تھی، اب اکثر رات کے دس، کبھی گیارہ بجے دروازہ کھولتی تھی۔ ارسلان ہر رات لاؤنج میں بیٹھا دیوار گھڑی کو گھورتا رہتا، اور ہر گزرتا منٹ اس کے دل میں ایک نیا خدشہ پیدا کر دیتا۔ وہ خود کو سمجھاتا تھا کہ حالات خراب ہیں، مہنگائی بڑھ چکی ہے، مگر دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔ شک ایک ایسا زہر ہے جو خاموشی سے انسان کے اندر اترتا ہے، اور ارسلان کے دل میں یہ زہر اب پوری طرح پھیل چکا تھا۔ وہ بچوں کے سونے کے بعد تنہا بیٹھ کر سوچتا کہ آخر ایسی کون سی مجبوری ہے جو ماہین کو اتنی دیر تک آفس میں روکے رکھتی ہے۔ اس کے ذہن میں بار بار ایک ہی چہرہ ابھرتا، ماہین کا باس، کامران شیخ۔ اس رات بھی گھڑی نے گیارہ بجائے تھے۔ دونوں بچے اپنی ماں کا انتظار کر...

Main Ek Ameer Ghar Mein Jharu Pochha Karti Thi – Sachi Kahani

تصویر
 میں ایک امیر گھر میں جھاڑو پونچھا لگاتی تھی میرا نام عائشہ ہے، اور میری پہچان بس اتنی تھی کہ میں ایک امیر گھر میں جھاڑو پونچھا کرنے والی لڑکی تھی، جسے لوگ نام سے کم اور کام سے زیادہ جانتے تھے، اس گھر کی چمکتی ہوئی فرشیں، شیشے جیسے دروازے اور مہنگے صوفے میری محنت کے گواہ تھے مگر میری ذات وہاں صرف ایک سایہ سمجھی جاتی تھی، ایسا سایہ جس پر قدم رکھنا کوئی گناہ نہیں سمجھتا۔ میرے کپڑے اکثر میلے رہتے تھے، اس لیے نہیں کہ مجھے صفائی پسند نہیں تھی بلکہ اس لیے کہ دن بھر دوسروں کی گندگی صاف کرتے کرتے میرے اپنے کپڑوں پر بھی محنت کے نشان ثبت ہو جاتے تھے، میں صبح اندھیرے میں آتی اور شام ڈھلتے ہی تھکی ہاری اپنے چھوٹے سے کمرے میں لوٹ جاتی، جہاں نہ کوئی میرا انتظار کرتا تھا اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا تھا۔ اس گھر کی مالکن خود کو بہت مہذب سمجھتی تھیں، مگر ان کی شرافت صرف اپنے جیسے لوگوں تک محدود تھی، ان کا بیٹا ریحان ان سے بھی زیادہ بے حس تھا، اس کی آنکھوں میں غرور ایسا بھرا تھا جیسے دولت اس کے رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہو، وہ جب بھی مجھے دیکھتا تو اس کی نظریں میرے وجود کو کاٹ کر رکھ دیتیں، جیسے میں ان...

Sachi Kahani | Sabr, Mohabbat Aur Allah Par Yaqeen Ki Kahani

تصویر
 جب اپنے ہی بے گھر کر دیں اللہ ہی آخری سہارا ہے “بس ایک رات اور ٹھہرنے دو، صبح ہوتے ہی میں خود چلی جاؤں گی۔” میری آواز کانپ رہی تھی، ہاتھ اس کے پاؤں سے لپٹے ہوئے تھے، مگر سامنے کھڑا شخص میرا بھائی نہیں لگ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں خون کی طرح سرخی تھی، اور لہجے میں وہ سختی تھی جو رشتوں کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ باپ کی قبر ابھی گیلی تھی، مگر اس کے دل میں جائیداد کی ہوس سوکھے پتھر کی طرح جم چکی تھی۔ امی کے انتقال کے بعد ابا ہی میرا سایہ تھے، اور اب ان کے جانے کے بعد وہی گھر میرے لیے اجنبی ہو چکا تھا، دیواریں جو کبھی مجھے تحفظ دیتی تھیں، آج مجھے دھکے دے کر باہر نکال رہی تھیں، آدھی رات کا وقت تھا، دروازہ زور سے بند ہوا، اور اس آواز کے ساتھ میرا بچپن، میری یادیں اور میرا حق سب وہیں دفن ہو گیا۔ میں سردی میں لپٹی چادر کو مضبوطی سے پکڑے سڑک کنارے بیٹھ گئی، ہوا میں عجیب سی خاموشی تھی، جیسے شہر بھی میری بے بسی کو محسوس کر رہا ہو، گاڑیاں تیز رفتاری سے گزر رہی تھیں، مگر کسی نے پلٹ کر نہیں دیکھا، میں نے پہلی بار جانا کہ یتیمی صرف ماں باپ کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ اپنوں کے رویے کا نام ہے۔ دل میں ...

Suteli Maan Aur Yateem Bachi | Urdu story | Ek Dard Bhari Aur Ibratnak Kahani

تصویر
 سرد رات، بند دروازہ، اور یتیم بچی دسمبر کی یخ بستہ رات اپنی پوری شدت کے ساتھ گاؤں پر اتر چکی تھی، ایسی سردی جس میں سانس لینا بھی سینے میں چھریاں چلنے جیسا محسوس ہوتا تھا، آسمان پر بکھرے ستارے مدھم پڑ چکے تھے اور ہوائیں سرگوشیوں کے بجائے جیسے نوحہ کر رہی تھیں، کہر کی موٹی تہہ نے کچی گلیوں، درختوں اور مٹی کے مکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، یوں لگتا تھا جیسے قدرت نے اس بستی کی بے حسی پر سفید کفن ڈال دیا ہو۔ اسی گاؤں کے ایک کچے مگر کشادہ گھر میں ایک یتیم بچی کھڑی کانپ رہی تھی، اس کے پاؤں ننگے تھے، جسم پر ایک پرانی، میلی سی قمیص اور آنکھوں میں خوف کی نمی تیر رہی تھی، سامنے کھڑی عورت جس کے چہرے پر سختی اور آنکھوں میں لالچ صاف جھلک رہا تھا، اس کی سوتیلی ماں تھی، جس کے لبوں پر ترس کا کوئی نشان نہیں تھا۔ “یاد رکھو، میرے بیٹوں کی جائیداد میں تمہارا کوئی حق نہیں،” عورت کی آواز سردی سے زیادہ بے رحم تھی، “ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ۔” بچی نے لرزتی آواز میں کچھ کہنا چاہا، شاید باپ کی یاد دلانا چاہتی تھی، شاید اپنی بے بسی سنانا چاہتی تھی، مگر اس کے ہونٹوں سے کوئی لفظ نہ نکل سکا، اگلے ہ...

Main Is Haveli Mein Naukrani Thi Magar Asal Sach Kuch Aur Tha | Hindi stories

تصویر
 میں نوکرانی نہیں وارث تھی میں اس حویلی میں صرف ایک نوکرانی سمجھی جاتی تھی مگر میرے لیے یہ جگہ کسی قید خانے سے کم نہ تھی جہاں ہر دن ذلت ایک نئے انداز میں میرا استقبال کرتی تھی اور ہر صبح بڑی بی بی کی سخت آواز میرے دن کی شروعات بن جاتی تھی میں سویرا تھی اور شاید برسوں سے اسی نام کے ساتھ اسی شناخت میں زندہ تھی ایک ایسی شناخت جو دوسروں کے دیے ہوئے حکموں اور طعنوں کے سائے میں پلتی رہی میں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میں یہاں کب آئی کیونکہ بچپن کی یادیں دھند میں لپٹی ہوئی تھیں بس اتنا یاد تھا کہ یہ حویلی ہمیشہ سے میری دنیا رہی ہے مگر اس دنیا میں میرا کوئی مقام نہیں تھا بڑی بی بی اس گھر کی مالکن تھیں ان کی ایک ایک نظر میں غرور اور ایک ایک لفظ میں سختی بسی ہوتی تھی وہ مجھے صرف کام کرنے والی مشین سمجھتی تھیں جو نہ تھکتی ہے نہ بولتی ہے اور اگر بولے تو سزا کی حقدار ہوتی ہے میں نے سیکھ لیا تھا کہ خاموشی ہی میرا سب سے مضبوط ہتھیار ہے کیونکہ یہاں سچ بولنے کی قیمت بہت مہنگی تھی بڑے صاحب اس دنیا میں نہیں رہے تھے اور ان کی موجودگی بس دیواروں پر لگی تصویروں تک محدود تھی حویلی کی فضا میں ان ...