Mein Yateem Thi – Sardi Mein Zindagi Ka Sakht Imtihan | Urdu Kahani
چچی مجھ سے پورا گھر کا کام کرواتی تھی میں یتیم تھی، سردی میں چچی نے سویٹر چھین لیا میں یتیم تھی، اور یہ بات اس گھر میں سب جانتے تھے۔ ابا کے جانے کے بعد میرا نام صرف ایک ذمہ داری بن کر رہ گیا تھا، ایسی ذمہ داری جو کسی کو پسند نہیں تھی۔ چچا کے گھر میں رہتی تھی، مگر رہنا اور جینا دو الگ باتیں ہوتی ہیں۔ میرے حصے میں صرف کام آیا، اور وہ بھی ایسا جس کا کوئی اختتام نہیں تھا۔ سردی اپنے عروج پر تھی۔ راتیں لمبی اور دن کاٹنے کو دوڑتے تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں سن ہو جاتی تھیں، مگر چچی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ صبح آنکھ کھلتے ہی آواز آتی، “اٹھ گئی ہو یا مرنے کا ارادہ ہے؟” میرے پاس پہننے کو بس ایک پرانی قمیض تھی۔ نہ جرسی، نہ سویٹر، نہ موزے۔ میں کام کرتی جاتی اور خاموش رہتی، کیونکہ بولنے کا حق میں کب کا کھو چکی تھی۔ چچی کے بچے لحاف میں دبکے رہتے، ہیٹر ان کے سامنے جلتا رہتا، اور میں صحن کے ٹھنڈے فرش پر برتن دھوتی رہتی۔ ایک دن شدید سردی میں، میری نظر دادی جان کے پرانے سامان پر پڑی۔ وہ ایک بوسیدہ سا سویٹر تھا، جو شاید برسوں سے استعمال میں نہیں آیا تھا۔ میں نے کچھ نہیں کہا، بس خاموشی سے اسے دیکھ...