Kumhar Ki Beti Ki Dardnaak Kahani | Jazbaati Aur Dil Ko Chhoo Jane Wali Urdu Kahani - Sachi Kahani Umair

Sachi Kahani Umair ek behtareen Urdu blog hai jahan aapko milengi asli zindagi se li gayi sachi kahaniyan, jin mein mohabbat, wafadari, dard aur jazbaat chhupe hain. Rozana naye topics aur dil ko choo lene wali kahaniyan sirf yahan.

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Monday, August 4, 2025

Kumhar Ki Beti Ki Dardnaak Kahani | Jazbaati Aur Dil Ko Chhoo Jane Wali Urdu Kahani



کمہار کی بیٹی کی زندگی میں بہت سے دکھ اور مشکلات آئیں۔

یہ کہانی صبر، حوصلہ اور ایمان کا سبق دیتی ہے۔

ہر مشکل کو برداشت کر کے آگے بڑھنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔


ٹھٹھہ خورد کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں غلام رسول مٹی کے برتن بنانے کا پرانا پیشہ کرتا تھا اس کے ہاتھ میں کمال مہارت تھی دن رات وہ گدھا گاڑی پر مٹی کے برتن رکھ کر بازار جاتا بیچتا اور اسی سے روزی روٹی کماتا غلام رسول کے تین بچے تھے جن میں ایک بیٹی فرزانہ بھی تھی جو اس کی آنکھوں کا تارا تھی گاؤں میں ایسا کوئی دن نہ ہوتا جب لوگ فرزانہ کی ذہانت کی مثال نہ دیتے وہ ہمیشہ سے کتابوں میں گم رہتی پڑھنے لکھنے کا شوق اس کی روح میں بسا تھا ایک دن جب میٹرک کے نتائج آئے تو پورے ضلع ٹھٹھہ خورد میں فرزانہ کا نام سب سے اوپر تھا اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے خاص طور پر اعلان کیا کہ غلام رسول کی بیٹی نے پورے ضلع میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے پورا گاؤں حیران تھا کہ ایک کمہار کی بیٹی نے وہ کارنامہ انجام دے دیا جس کا گمان بھی نہ تھا کچھ لوگ خوش تھے لیکن وہی گاؤں کا وڈیرہ جس کے بیٹے کبھی پاس بھی نہ ہو سکے اسے یہ سب برداشت نہ ہوا اس نے غلام رسول کو اپنے ڈیرے پر بلایا اور سخت لہجے میں کہا کہ تمہاری بیٹی نے جتنا پڑھنا تھا پڑھ لیا اب اس کو گھر بٹھاؤ اور اس کے ہاتھ پیلے کرو ورنہ یہ پڑھ لکھ کر کسی دن گھر سے بھاگ جائے گی غلام رسول نے ادب سے کہا کہ وڈیرے صاحب وہ میرا فخر ہے میں چاہتا ہوں کہ وہ ڈاکٹر بنے وڈیرہ طیش میں آ گیا اس نے اپنے ملازموں سے کہا کہ غلام رسول کو سبق سکھاؤ غلام رسول کے ناک کاٹ دی گئی منہ کالا کیا گیا اسے گدھے پر بٹھا کر پورے گاؤں میں گھمایا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس کی بیٹی کو اٹھا کر ڈیرے پر لے آؤ وڈیرے کے غنڈے جیسے ہی غلام رسول کے گھر پہنچے تو فرزانہ کو خبر ہو چکی تھی اس نے جلدی سے برقع پہنا اور پیچھے کے دروازے سے نکل گئی گاؤں کی تنگ گلیوں میں چھپتی چھپاتی وہ ایک سڑک تک پہنچی جہاں ایک پرانی ٹیکسی کھڑی تھی ڈرائیور کی شکل شریف لگتی تھی وہ قریب گئی اور سسکیوں میں کہا کہ انکل مجھے بچا لیں میرے پیچھے لوگ لگے ہیں جو میری عزت لوٹنا چاہتے ہیں ڈرائیور کا دل کانپ اٹھا اس نے فوراً دروازہ کھولا اور فرزانہ کو گاڑی کی ڈگی میں چھپایا اور تیز رفتاری سے گاڑی کو شہر کی طرف دوڑایا فرزانہ کی سانسیں بے ترتیب تھیں وہ اندھیرے میں سمیٹی ہوئی ایک معصوم کلی کی طرح کانپ رہی تھی ڈرائیور نے گاڑی کو حیدرآباد کی طرف موڑ دیا راستے بھر اس نے نہ کوئی سوال کیا نہ کچھ بولا وہ صرف اتنا کہتا جا رہا تھا بیٹی گھبرا مت میں تیری حفاظت کروں گا راستے میں کئی ناکے آئے لیکن اللہ نے اسے بچا لیا ڈگی میں چھپی ہوئی فرزانہ کی سسکیاں گاڑی کے شور میں دب چکی تھیں جب وہ حیدرآباد کی حدود میں داخل ہوئے تو اس نے ایک محفوظ جگہ گاڑی روکی اور پیچھے سے ڈگی کھولی لیکن اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ فرزانہ ڈگی میں بے ہوش ہو چکی تھی وہ تھک چکی تھی اس کی ہمت جواب دے چکی تھی ڈرائیور نے پانی چھینٹا تو وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آئی اس نے ڈرائیور کو دیکھا اور ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا انکل مجھے کسی ایسے مقام پر پہنچا دیں جہاں مجھے کوئی نہ پہچانے میں نہیں جانتی میرے ساتھ کیا ہوگا لیکن مجھے اب واپس نہیں جانا وہ اسے ایک مقامی خیراتی ادارے میں چھوڑنے ہی والا تھا کہ ایک نوجوان حارث جو وہاں بطور والنٹیئر کام کرتا تھا اس نے سب سنا اور سامنے آ گیا اس نے ڈرائیور سے کہا انکل آپ چلے جائیں میں اس بچی کی مدد کروں گا فرزانہ نے آنکھوں میں خوف لیے حارث کو دیکھا لیکن وہ نوجوان بہت شائستہ انداز میں پیش آیا اور کہا بہن میں یونیورسٹی کا طالبعلم ہوں یہاں شام کو والنٹیئر کام کرتا ہوں اگر آپ کو اجازت ہو تو آپ کو محفوظ جگہ پہنچاتا ہوں فرزانہ نے بہت ہچکچاتے ہوئے ہاں کی اور حارث اسے ادارے کے مہمان خانے میں لے گیا وہاں کچھ خواتین پہلے سے مقیم تھیں جن سے کہہ کر اس نے فرزانہ کے لیے کپڑے اور کھانا منگوایا فرزانہ کی آنکھوں میں مسلسل آنسو تھے وہ ابھی تک اس دھچکے سے باہر نہ آ سکی تھی دوسری طرف غلام رسول ویران نظروں سے گاؤں کی گلیوں میں گھومتا رہا لوگ اسے طعنے دے رہے تھے لیکن وہ صرف اپنی بیٹی کو یاد کر رہا تھا کہ نہ جانے وہ کہاں گئی کس حال میں ہو گی ادھر وڈیرے کے غنڈے اسے ڈھونڈنے مختلف علاقوں میں نکلے ہوئے تھے لیکن فرزانہ اب کئی میل دور محفوظ مقام پر تھی حارث نے فرزانہ سے کہا کہ اگر وہ چاہے تو ادارے میں کچھ دن رک سکتی ہے جب تک کوئی مستقل حل نہ نکلے وہ اس کی تعلیم کا سن کر حیران رہ گیا تھا اور کہنے لگا کہ آپ کو تو کسی بھی بڑے ادارے میں داخلہ مل سکتا ہے میں خود بھی اسی شعبے میں ہوں جہاں آپ کا شوق ہے اگر آپ مطالعہ جاری رکھنا چاہیں تو میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کی مدد کی جائے فرزانہ نے کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا کہ میں پڑھنا چاہتی ہوں میں ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ لڑکیاں کسی سے کم نہیں لیکن اب میرے راستے میں دشمن کھڑے ہیں جن کے پاس طاقت ہے پیسہ ہے رسوخ ہے حارث نے مسکرا کر کہا اگر نیت صاف ہو تو دشمن خود راستہ چھوڑ دیتے ہیں فرزانہ کے دل میں پہلی بار امید کی کرن جاگی اسے لگا جیسے اندھیرے میں روشنی پیدا ہوئی ہو رات کو جب وہ لیٹی تو اس کی آنکھوں میں حارث کی باتیں گونجتی رہیں اگلے دن اس نے حارث سے کہا کہ مجھے ایک فون کال کرنی ہے اس نے غلام رسول کا نمبر ڈائل کیا جو گاؤں کے ایک چھوٹے دکاندار کے موبائل پر ملا غلام رسول نے جب بیٹی کی آواز سنی تو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا وہ بس یہی کہہ رہا تھا بیٹی تو ٹھیک ہے نا میں نے تجھے کچھ نہ ہونے دیا ہوتا تو اپنی جان دے دیتا فرزانہ نے کہا ابا میں ٹھیک ہوں آپ فکر نہ کریں غلام رسول نے کہا بیٹی تو کہہ دے کہاں ہے میں خود آؤں گا تجھے لینے لیکن فرزانہ نے کہا ابا میں ابھی واپس نہیں آ سکتی میں جب مناسب سمجھوں گی واپس آؤں گی غلام رسول نے کہا بیٹی تو جو چاہے کر لیکن مجھ سے رابطہ رکھنا میں تجھے بہت یاد کرتا ہوں فرزانہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اسے لگا جیسے کسی نے سینے سے لگا لیا ہو حارث نے جب یہ سنا تو بولا کہ میں تمہارے والد سے بات کر کے چاہوں تو ایک دن خود ان سے مل آؤں گا اگر تم کہو فرزانہ نے انکار کیا کہنے لگی ابھی نہیں میں ابھی سب کچھ بھول کر صرف پڑھائی پر دھیان دینا چاہتی ہوں چند دن گزرے تو فرزانہ نے ادارے میں موجود کمپیوٹرز پر تعلیمی سرگرمیاں شروع کر دیں حارث اسے ہر ممکن مدد دیتا رہا وہ دونوں دن میں کلاسز اور شام میں ادارے کے لائبریری میں مطالعہ کرتے رہ

کراچی میں وقت گزرتا رہا فرزانہ نے اپنی نئی زندگی کو اپنانا شروع کیا وہ ہر روز صبح جلدی اٹھتی اور ادارے کے کمپیوٹر روم میں جا کر مختلف مضامین پر تحقیق کرتی وہ خود ہی اپنی کاپیاں اور نوٹس بناتی اور حارث سے ہر اس مقام پر رہنمائی لیتی جہاں اسے سمجھ نہ آتی حارث بھی اس کی محنت کو دیکھ کر حیران تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنی بڑی آزمائش کے بعد کوئی لڑکی اتنی باہمت ہو سکتی ہے وہ اکثر کہتا کہ فرزانہ تم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ان تمام لڑکیوں کے لیے مثال ہو جو حالات کے سامنے ہار مان لیتی ہیں فرزانہ بس خاموش رہتی اور اپنے مقصد کی طرف رواں دواں رہتی ایک دن ادارے کے ایک سینئر رکن نے آ کر فرزانہ سے بات کی کہ ہم تمہیں ایک اسکالرشپ دینا چاہتے ہیں کیونکہ تمہاری قابلیت اور محنت ہم سب نے دیکھی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تم یہیں کراچی کی بڑی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرو فرزانہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے اس نے پہلی بار دل سے مسکرایا اور کہا کہ اگر مجھے موقع ملا تو میں کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھوں گی اس کے بعد ادارے کی مدد سے اس کا داخلہ کراچی یونیورسٹی کے سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں ہو گیا وہ روز ادارے سے یونیورسٹی جاتی اور واپس آ کر بچوں کو پڑھاتی بھی تھی کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ جو اسے ملا ہے وہ دوسروں کو بھی دے وہ ایک روز بچوں کو قرآن پڑھا رہی تھی کہ اچانک گیٹ پر دستک ہوئی جب گیٹ کھولا تو ایک انجان سا لڑکا کھڑا تھا جس نے ادارے کے منتظم سے کہا کہ میں فرزانہ سے ملنا چاہتا ہوں منتظم نے فرزانہ کو بلایا جب وہ آئی تو سامنے عامر کھڑا تھا وہی لڑکا جو اس کی یونیورسٹی کا کلاس فیلو تھا اور جس سے وہ ایک وقت میں رشتہ قائم کرنا چاہتی تھی عامر نے کہا فرزانہ میں تمہیں لینے آیا ہوں بہت ڈھونڈا تمہیں مجھے تمہاری ماں نے بتایا کہ تم کراچی میں ہو میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں عزت سے لے کر جاؤں گا اور اپنے والدین سے منوا کر تم سے نکاح کروں گا فرزانہ نے ایک لمحہ خاموشی اختیار کی اور کہا عامر تمہیں اتنی دیر کیوں لگی تمہیں اس وقت آنا چاہیے تھا جب میں اندھیرے میں تھی جب میرے ابا کی ناک کاٹی گئی جب میری عزت خطرے میں تھی اور تم مجھے صرف باتوں سے بہلاتے رہے اور اب جب میں اپنی راہ بنا چکی ہوں اپنی عزت کو بچا چکی ہوں تو تم میرے سامنے کھڑے ہو اور مجھ سے مطالبہ کر رہے ہو کہ واپس چلو عامر کے چہرے پر ندامت کے آثار تھے اس نے کہا فرزانہ میں غلط تھا میں ڈر گیا تھا لیکن اب میں سچ میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں فرزانہ نے آہستگی سے کہا عامر میں تمہیں معاف کرتی ہوں لیکن میں اب اپنی راہ پر ہوں میں نے اپنے لیے ایک نیا سفر شروع کیا ہے اور اب میں مڑ کر نہیں دیکھنا چاہتی عامر نے کہا لیکن میں تم سے محبت کرتا ہوں فرزانہ نے کہا محبت تب سچی ہوتی ہے جب وہ آزمائش میں ثابت قدمی دکھائے اور تم نے وہ وقت کھو دیا جو محبت کے لیے اہم تھا اب میرا دل اور دماغ دونوں مجھے یہ کہنے پر مجبور کرتے ہیں کہ میں اب تمہارے ساتھ نہیں چل سکتی عامر کا چہرہ سرخ ہو گیا اس نے غصے سے کہا فرزانہ تم مجھے انکار نہیں کر سکتی میں تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ کر آیا ہوں فرزانہ نے مسکرا کر کہا عامر عزت کے ساتھ محبت کرنا سیکھو میں اب وہ لڑکی نہیں رہی جو تمہارے خوابوں میں تھی اب میں حقیقت کے میدان میں ہوں عامر کچھ کہے بغیر پلٹ گیا وہ جان چکا تھا کہ فرزانہ اب کسی اور مقام پر پہنچ چکی ہے اور وہ اس کے قابل نہیں رہا جب یہ سب حارث کو معلوم ہوا تو اس نے فرزانہ سے کہا تم بہت بہادر ہو تم نے وہ فیصلہ کیا ہے جو کوئی عام لڑکی نہیں کر سکتی فرزانہ نے کہا میں صرف اپنی عزت کو بچانا چاہتی تھی اور اب میں چاہتی ہوں کہ ہر لڑکی یہ سیکھے کہ اسے اپنی قدر خود کرنی چاہیے حارث نے کہا فرزانہ اگر کبھی تمہیں میرے ساتھ ایک پاکیزہ تعلق نبھانا ہو تو میں حاضر ہوں فرزانہ نے کہا ابھی میرا مقصد تعلیم ہے میں ہر اس لڑکی کی آواز بننا چاہتی ہوں جو بول نہیں سکتی جو سہتی ہے جو دبی ہوتی ہے اور میں جانتی ہوں کہ تم میرے ساتھ ایک اچھے دوست کی طرح کھڑے ہو حارث نے کہا ہاں میں تمہارا دوست ہوں اور ہمیشہ رہوں گا دن گزرتے گئے فرزانہ نے اپنی ڈگری مکمل کی اور کراچی کی ایک بڑی این جی او میں نوکری حاصل کی وہ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے لگی وہ گاؤں گاؤں جا کر کہانیاں سناتی اور کہتی کہ تعلیم کسی طبقے کی میراث نہیں یہ ہر لڑکی کا حق ہے ادھر غلام رسول نے گاؤں چھوڑ دیا اور حیدرآباد میں رہنے لگا جہاں وہ ایک چھوٹا سا کاروبار کر کے زندگی گزار رہا تھا وہ اکثر فرزانہ سے ملنے آتا اور فخر سے لوگوں کو بتاتا کہ یہ میری بیٹی ہے جو آج پورے صوبے کی لڑکیوں کی آواز بن چکی ہے فرزانہ نے آخرکار وہ سب حاصل کیا جو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا اس نے صرف اپنا مقام نہیں بنایا بلکہ لاکھوں بچیوں کو یہ سبق دیا کہ ہمت ہو تو راستے خود بنتے ہیں


فرزانہ نے اپنی نوکری کو عبادت کی طرح اپنایا وہ دن رات اس مشن میں لگی رہتی کہ ہر گاؤں میں ہر بستی میں وہ خود جائے اور لڑکیوں کو ان کے حقوق کے بارے میں بتائے وہ اپنے ساتھ دو لڑکیوں کو بھی لے جاتی تھی جنہیں وہ خود پڑھا چکی تھی ان میں سے ایک کا نام نور تھا اور دوسری کا نام مریم دونوں نے اپنی زندگی میں فرزانہ کو ماں کا درجہ دیا ہوا تھا وہ اس کے بغیر کچھ بھی نہ کرتی تھیں جب فرزانہ کسی بستی میں جاتی تو لوگ پہلے تو تعجب سے اسے دیکھتے کہ یہ کیسی لڑکی ہے جو اتنی سنجیدہ باتیں کر رہی ہے لیکن پھر اس کی باتوں سے متاثر ہو کر اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنے پر آمادہ ہو جاتے کچھ لوگ اسے طعنہ دیتے کچھ کہتے کہ یہ ہماری روایتوں کو توڑنے آئی ہے لیکن وہ خاموشی سے اپنے کام میں لگی رہتی اس کے اندر ایک ایسی آگ تھی جو صرف انصاف سے ہی بجھ سکتی تھی ایک دن اسے اطلاع ملی کہ حیدرآباد کے قریب ایک گاؤں میں ایک لڑکی کو اس کے ماں باپ نے غیرت کے نام پر مار دیا کیونکہ وہ پڑھنا چاہتی تھی فرزانہ نے فوراً اپنی ٹیم کو تیار کیا اور اس گاؤں پہنچی وہ وہاں جا کر گاؤں کے بزرگوں سے ملی اور انہیں قائل کیا کہ بیٹیوں کو تعلیم دینا گناہ نہیں بلکہ فرض ہے اس نے مثالیں دیں آیات سنائیں اور کہا کہ آپ کا دین بھی علم کا حکم دیتا ہے اس کی باتوں کا اتنا اثر ہوا کہ اس گاؤں کی جامع مسجد کے امام نے خود جمعے کے خطبے میں اعلان کیا کہ اب سے ہر بیٹی کو تعلیم دی جائے گی اور جس نے روکا اس پر گناہ ہوگا یہ بات پورے شہر میں پھیل گئی میڈیا نے اسے کور کیا اور فرزانہ پہلی بار خبروں میں آئی ٹی وی چینلز اس کے انٹرویو لینے لگے مگر وہ ہر بار کہتی کہ میں کچھ نہیں میرے ابا غلام رسول کی دعاؤں اور میری محنت کا نتیجہ ہے اس نے ہمیشہ اپنے گاؤں کو یاد رکھا وہ چاہتی تھی کہ ایک دن وہ واپس جائے اور وڈیروں کے خلاف آواز بلند کرے مگر اسے پتہ تھا کہ وہ طاقتور لوگ اب بھی وہاں موجود ہیں اور وہ بدلہ لینا چاہتے ہیں ایک دن اچانک ادارے کے دروازے پر ایک نوجوان آیا جس نے کہا کہ وہ غلام رسول کے گاؤں سے ہے اور اسے پیغام دیا گیا ہے کہ فرزانہ کو فوراً واپس بلایا جائے کیونکہ اس کی ماں شدید بیمار ہے فرزانہ چونک گئی کیونکہ وہ برسوں سے اپنی ماں سے نہیں ملی تھی وہ سوچ میں پڑ گئی اور اس نے حارث سے مشورہ کیا کہ کیا اسے جانا چاہیے حارث نے کہا کہ اگر تم نہیں گئی اور کچھ ہوا تو تم ساری زندگی خود کو معاف نہیں کر سکو گی فرزانہ نے فیصلہ کیا کہ وہ جائے گی لیکن اکیلی نہیں جائے گی وہ نور اور مریم کو ساتھ لے گئی جب وہ گاؤں پہنچی تو سناٹا چھایا ہوا تھا اسے بتایا گیا کہ اس کی ماں کی حالت بہتر ہے مگر وہ صرف تمہیں دیکھنا چاہتی ہے جب فرزانہ اندر گئی تو ناصرہ چارپائی پر لیٹی تھی اس کے چہرے پر پریشانی تھی اس نے آہستہ سے کہا بیٹی میں نے تمہیں نقصان دینا نہیں چاہا تھا لیکن تمہیں مجھ پر یقین کرنا ہوگا کہ میں مجبور تھی فرزانہ نے کہا ماں آپ نے مجھے گھر سے بھاگنے کا مشورہ دیا کیوں ناصرہ نے آنکھیں بند کیں اور کہا میں نے یہ سب اس لیے کیا کیونکہ تم میرے شوہر کی بیٹی نہیں ہو تمہاری اصل ماں وہ عورت تھی جو غلام رسول سے نکاح کے بعد دنیا سے چلی گئی اور میں تمہیں کبھی قبول نہ کر پائی میں چاہتی تھی کہ تم میری زندگی سے نکل جاؤ لیکن جب تم چلی گئی تو میں اندر سے ٹوٹ گئی فرزانہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے وہ خاموشی سے اپنی ماں کے پاس بیٹھی رہی اور اس کے ہاتھ تھامے رہی ناصرہ نے کہا بیٹی میں مرنے سے پہلے بس یہ چاہتی ہوں کہ تم مجھے معاف کر دو فرزانہ نے کہا ماں جس دن آپ نے مجھے بھیجا وہ دن میری نئی زندگی کا آغاز تھا میں آپ کو معاف کرتی ہوں اور میں اب آپ سے محبت کرتی ہوں ناصرہ نے مسکرا کر آنکھیں بند کر لیں اور چند لمحوں بعد وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی فرزانہ نے گاؤں میں اس کی تدفین کی اس دن وڈیرے کے بیٹے نے گاؤں میں اعلان کیا کہ فرزانہ کو اب بھی گاؤں میں رہنے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ ان کے خلاف کام کرتی ہے مگر اس بار گاؤں کے لوگ خاموش نہ رہے نور نے آگے بڑھ کر کہا ہم اب اپنی بیٹیوں کو فرزانہ کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی نہیں روک سکتا اور اگر کسی نے روکا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے وڈیرے کے بیٹے کو پہلی بار پسپائی اختیار کرنا پڑی کیونکہ گاؤں کے لوگ اب فرزانہ کے ساتھ کھڑے تھے فرزانہ نے کہا میں کسی سے بدلہ لینے نہیں آئی میں تو صرف آپ کو یہ بتانے آئی ہوں کہ آپ کی بیٹی بھی انسان ہے اور اس کا خواب بھی آپ کی طرح قیمتی ہے وہ رات جب وہ واپس کراچی آئی تو اس کی آنکھوں میں سکون تھا اس نے حارث کو فون کیا اور کہا میں اب پوری ہو چکی ہوں میری کہانی مکمل ہے مگر یہ مشن ابھی جاری ہے وہ دن آیا جب حکومت نے اسے خواتین کی فلاح کا قومی ایوارڈ دیا وہ سٹیج پر گئی اور کہا میں وہ لڑکی ہوں جس کا باپ کمہار تھا جس کا گاؤں اسے مٹی میں دفن کرنا چاہتا تھا لیکن میں اٹھی میں چلی میں لڑکھڑائی مگر میں جیتی کیونکہ میرا یقین زندہ تھا اور میرا اللہ میرے ساتھ تھا ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور اس دن ہر لڑکی نے اپنے دل میں عہد کیا کہ وہ بھی ایک دن فرزانہ بنے گی







No comments:

Post a Comment

"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."

Post Bottom Ad