نادیا نے مدرسے سے بھاگ کر سب کو صدمہ دیا
میری ہمسائی بڑی نیک اور شریف خاتون تھیں۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھی — نادیا۔ نادیا دسویں جماعت کی طالبہ تھی، معصوم، خوبصورت اور اپنی ماں کی آنکھوں کا تارا۔ ایک دن میری ہمسائی میرے گھر آئیں اور کہنے لگیں:
“باجی! میں چاہتی ہوں کہ نادیا قرآنِ پاک سیکھے۔ کوئی اچھا سا امام مسجد بتا دو جو اچھے طریقے سے قرآن پڑھاتا ہو۔”
میں نے سوچ کر کہا، “ہماری محلے کی مسجد کا قاری امام الدین بہت اچھا قاری ہے۔ نرم لہجے والا اور بظاہر بہت نیک انسان لگتا ہے۔ اسے کہہ دو نادیا کو قرآن پڑھا دے گا۔”
میری ہمسائی نے میری بات پر بھروسہ کیا اور اگلے دن ہی نادیا کو قاری امام الدین کے پاس لے گئیں۔ قاری صاحب نے مسکرا کر کہا:
“آپ فکر نہ کریں، میں آپ کی بیٹی کو پورا قرآن مجید پڑھا دوں گا۔”
میری ہمسائی مطمئن ہو گئیں اور نادیا کو وہاں چھوڑ کر واپس گھر آگئیں۔
وقت گزرتا گیا۔ نادیا روز اسکول سے واپس آتی، کپڑے بدلتی، اور قرآن پڑھنے مسجد چلی جاتی۔ محلے والے بھی قاری امام الدین کی نیکی کے چرچے کرتے نہ تھکتے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کے چہرے کے پیچھے کی حقیقت کیا ہے۔
قاری امام الدین بظاہر ایک غریب شخص تھا، مگر دراصل اس کے پاس بے پناہ دولت تھی، زمینیں تھیں، اور ایک چھپی ہوئی زندگی تھی جس سے کوئی واقف نہیں تھا۔
وہ نادیا کی معصومیت اور حسن کا دیوانہ ہو چکا تھا۔ ابتدا میں نادیا قرآن پڑھنے آتی تھی، مگر آہستہ آہستہ وہ قاری کے الفاظ، تعریفوں اور نرم رویے سے متاثر ہونے لگی۔ نادیا کا دل بھی ایک انجانے جذبے کی گرفت میں آ گیا۔
ماں کو تو یقین تھا کہ اس کی بیٹی دین کی تعلیم حاصل کر رہی ہے، مگر اسے علم نہ تھا کہ شیطان نے کسی نیک لبادے میں چھپ کر اس کی معصوم بیٹی کے گرد اپنے جال بچھا دیے ہیں۔
کچھ مہینے یونہی گزرتے گئے۔ پھر ایک دن نادیا اسکول سے لوٹی اور قرآن پڑھنے گئی — مگر شام تک واپس نہ آئی۔
ماں کو تشویش ہوئی۔ پہلے تو صبر کیا کہ شاید دیر ہو گئی ہو، مگر جب اندھیرا چھا گیا تو وہ روتی ہوئی میرے گھر آ گئی:
“باجی! نادیا ابھی تک واپس نہیں آئی۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔”
میں فوراً اس کے ساتھ مسجد پہنچی۔ مسجد کے دروازے پر تالا لگا تھا۔ اندھیرا پھیل رہا تھا اور ہوا میں ایک انجانا خوف تھا۔ ہم دونوں کے دل دھڑک رہے تھے۔
اسی وقت محلے کے ایک معزز آدمی، ملک صاحب، وہاں آ گئے۔ انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ میری ہمسائی نے روتے ہوئے ساری بات بتا دی۔ ملک صاحب سن کر گہری سوچ میں پڑ گئے، پھر بولے:
“یہ معاملہ خطرناک لگ رہا ہے۔ ہمیں فوراً پولیس کو اطلاع دینی چاہیے۔”
میری ہمسائی ڈر گئیں:
“نہیں ملک صاحب، اگر بات پھیل گئی تو میری بیٹی بدنام ہو جائے گی…”
ملک صاحب نے تحمل سے کہا:
“بہن! اگر تم نے چھپایا تو نقصان اور بڑھے گا۔ اللہ بہتر کرے گا، مگر سچ کو سامنے آنا ہی پڑے گا۔”
ملک صاحب کے کہنے پر آخر کار میری ہمسائی نے ہمت کی، اور وہ ان کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچ گئیں۔ میں بھی ان کے ساتھ جانا چاہتی تھی، مگر انہوں نے کہا کہ تم گھر رہو، شاید نادیا خود واپس آ جائے۔
پولیس اسٹیشن میں ملک صاحب نے ساری بات تفصیل سے بتائی۔ ڈیوٹی افسر نے سب کچھ نوٹ کیا اور فوراً نادیا کی گمشدگی کی رپورٹ درج کی۔ جب قاری امام الدین کا نام آیا تو پولیس افسر چونک گیا، بولا:
“کیا وہی امام الدین جو محلے کی مسجد میں نماز پڑھاتا ہے؟ وہ تو بہت نیک آدمی سمجھا جاتا ہے!”
ملک صاحب نے آہستہ کہا، “جی وہی۔ لیکن اب لگتا ہے حقیقت کچھ اور ہے…”
پولیس نے فوراً اس کا پتا لگانے کی کوشش شروع کی۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ مسجد کا قفل بند تھا، اور قاری امام الدین کا موبائل نمبر بھی بند جا رہا تھا۔ ایسا لگا جیسے وہ یکدم غائب ہو گیا ہو۔
ادھر نادیا کی ماں کی حالت بری تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا، آنکھوں میں نیند نہیں تھی، اور ہر لمحہ دروازے کی طرف دیکھتی رہتی تھی۔ وہ بار بار کہتی،
“میری بچی تو صرف قرآن پڑھنے گئی تھی… اللہ جانے اس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا…”
چند دن بعد پولیس کو اطلاع ملی کہ قاری امام الدین شہر سے باہر ایک بڑے بنگلے میں دیکھا گیا ہے۔ پولیس کی گاڑی فوراً وہاں پہنچی۔
بنگلہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے — وہ جگہ کسی امیر زمیندار کی حویلی لگ رہی تھی۔ گیٹ پر ایک نوکر کھڑا تھا۔ پولیس نے پوچھا،
“یہ قاری امام الدین کا گھر ہے؟”
نوکر نے ادب سے جواب دیا، “جی حضور، یہ قاری صاحب ہی کا گھر ہے۔ مگر وہ اس وقت اندر اپنی بیوی کے ساتھ ہیں۔”
پولیس افسر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
“بیوی؟ کس کی بیوی؟”
نوکر نے کہا، “جی، نئی شادی ہوئی ہے ان کی۔ ابھی کچھ دن پہلے لائے ہیں۔”
یہ سن کر ملک صاحب اور نادیا کی ماں ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔ پولیس نے فوراً دروازہ کھٹکھٹایا۔ کچھ دیر بعد قاری امام الدین خود باہر آیا۔ صاف ستھرے کپڑوں میں، چہرے پر مسکراہٹ، مگر نظریں نیچی۔
پولیس افسر نے سخت لہجے میں کہا:
“قاری صاحب! نادیا نامی لڑکی جو آپ کے پاس قرآن پڑھنے آتی تھی، تین دن سے لاپتہ ہے۔ آپ کو کچھ پتا ہے اس کے بارے میں؟”
قاری نے خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ بولا:
“جی، مجھے علم ہے… نادیا میرے ساتھ ہے۔”
یہ سن کر سب سکتے میں آ گئے۔ نادیا کی ماں چیخ اٹھی،
“کیا کہا تم نے؟ میری بیٹی تمہارے ساتھ ہے؟”
قاری امام الدین نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا:
“ہاں، اس نے اپنی مرضی سے میرے ساتھ نکاح کیا ہے۔ ہم دونوں راضی ہیں۔”
ماں کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
“افسوس! جسے میں نے نیکی اور دین کا استاد سمجھا، اس نے میری بیٹی کو ہی مجھ سے چھین لیا!”
قاری امام الدین نے صفائی دینے کی کوشش کی، مگر پولیس نے اسے فوراً گرفتار کر لیا۔ نادیا کو اندر سے بلایا گیا — وہ خوبصورت مگر بدلی ہوئی نادیا تھی، جس کے چہرے پر محبت کا سکون تو تھا، مگر معصومیت کہیں کھو گئی تھی۔
ماں نے روتے ہوئے کہا،
“بیٹی! تم نے یہ کیا کیا؟ تمہاری ماں کا بھروسہ توڑا، اپنا مستقبل برباد کر لیا!”
نادیا نے خاموشی سے کہا،
“امی، میں خوش ہوں۔ میں نے اپنے دل سے فیصلہ کیا۔ قاری صاحب نے مجھ سے نکاح کیا ہے۔ اب وہ میرے شوہر ہیں۔”
ماں کے آنسو بہہ نکلے۔ اس کے دل میں جیسے کسی نے خنجر چلا دیا ہو۔
نادیا کی ماں کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ پولیس کے سامنے ٹوٹ چکی تھی۔ اس کے لب کپکپا رہے تھے،
“بیٹی… تُو نے میری عزت، میرا یقین، میرا سب کچھ خاک میں ملا دیا۔ میں نے تجھے قرآن کے سائے میں بھیجا تھا، گناہ کی راہوں پر نہیں…”
نادیا خاموش کھڑی تھی، مگر اس کے چہرے پر ضد، بے بسی اور ایک عجیب سا اطمینان تھا۔ جیسے وہ خود کو سچا سمجھ رہی ہو۔
قاری امام الدین نے آگے بڑھ کر کہا،
“بی بی، میں نے آپ کی بیٹی پر ظلم نہیں کیا، میں نے اس سے نکاح کیا ہے۔ اسلام نے اجازت دی ہے۔”
ماں کے آنسوؤں نے اس کے قدموں کی زمین گیلی کر دی۔
“اسلام نے اجازت دی ہے، مگر دھوکے کی نہیں، بھروسہ توڑنے کی نہیں۔ تم نے قرآن کے نام پر میرے گھر کی بنیاد ہلا دی۔”
پولیس افسر نے سختی سے کہا،
“قاری صاحب، آپ کی باتیں عدالت میں ہوں گی۔ فی الحال آپ کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔”
قاری نے سر جھکا لیا۔ نادیا چیخی،
“نہیں! انہیں کچھ نہ کہو! میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتی۔”
پولیس نے دونوں کو الگ کر دیا۔
نادیا کی ماں زمین پر گر گئی۔ اس کے الفاظ دل چیر دینے والے تھے:
“یا اللہ! میں نے قرآن سکھانے بھیجا تھا، مگر شیطان کے ہاتھوں کھو دیا…”
رات بھر وہ روتی رہی، اور صبح جب سورج نکلا تو اس کے چہرے پر وقت کی لکیر مزید گہری ہو چکی تھی۔ محلے والے بھی حیران تھے، جنہیں کبھی یقین نہیں آتا تھا کہ وہی امام الدین جس کی تسبیح کے چرچے تھے، اس کے دل میں اتنا اندھیرا چھپا ہو گا۔
کچھ دنوں بعد پولیس تفتیش سے پتہ چلا کہ قاری امام الدین نہ صرف نادیا بلکہ اس سے پہلے بھی دو لڑکیوں کے ساتھ غلط تعلقات رکھ چکا ہے۔ وہ نیکی کے لبادے میں گناہ چھپانے کا ماہر تھا۔
یہ خبر پورے علاقے میں پھیل گئی۔ مسجد کے دروازے بند کر دیے گئے، لوگ چپ ہو گئے، اور ہر ماں کی آنکھ میں ایک نیا خوف جاگ اٹھا۔
نادیا کی ماں اب کمزور ہو گئی تھی۔ وہ ہر وقت قرآن کھول کر بیٹھتی، آنسوؤں سے صفحے بھیگ جاتے،
“یا رب، میری نادیا کو ہدایت دے… اسے وہ معصومیت لوٹا دے جو شیطان نے چھین لی…”
مہینے گزرتے گئے۔ ایک دن خبر آئی کہ نادیا نے اپنے شوہر امام الدین کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ واپس اپنی ماں کے پاس آ گئی تھی — مگر وہ نادیا اب پہلے جیسی نہیں تھی۔ اس کے چہرے پر ندامت تھی، دل پر بوجھ، اور آنکھوں میں خاموشی۔
ماں نے اسے دیکھا تو سینے سے لگا لیا، روتے ہوئے کہا،
“بیٹی، میں نے تجھے معاف کیا۔ مگر وعدہ کر، اب خود کو سنبھال لے۔ اللہ سے لو لگا، قرآن سے نہیں، اس کے خالق سے رشتہ جوڑ۔”
نادیا نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا،
“امی، میں نے بہت بڑی غلطی کی۔ میں نے چہرے کو دیکھا، دل کو نہیں۔ میں نے علم دینے والے کو خدا سمجھ لیا۔ مگر اب سمجھ آئی، ہر داڑھی والے دل میں ایمان نہیں ہوتا۔”
ماں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا،
“بیٹی، اللہ معاف کرنے والا ہے۔ مگر یاد رکھ، جب دین تجارت بن جائے، تو ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔”
اس دن کے بعد نادیا مسجد نہیں، گھر میں بیٹھ کر قرآن پڑھنے لگی۔ وہ جب بھی سجدے میں جاتی، تو کہتی،
“یا اللہ! مجھے معاف کر، اور ہر اس ماں کو بچا لے، جو اپنی بیٹی پر بھروسہ کر کے کسی جھوٹے عالم کے سپرد کر دیتی ہے…”
اور اس طرح ایک دردناک کہانی ختم ہوئی، مگر اس کا سبق ہمیشہ کے لیے زندہ رہ گیا —
“دین کے نام پر دھوکہ سب سے بڑا گناہ ہے، اور ایمان کی حفاظت سب سے بڑی عبادت۔”

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."