حمل کے دوران ساس کا ظلم اور شوہر کی بے حسی – ایک دردناک اردو کہانی
میرا نام نایاب ہے۔ میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی اور تین بھائیوں کی لاڈلی۔ میری ایک مسکراہٹ پر سب کے چہرے کھل جاتے تھے۔ اگر کبھی بخار ہو جاتا تو امی ساری رات میرے سرہانے بیٹھتیں، اور بھائی شور مچاتے کہ نایاب کو کچھ نہ ہو۔ میں سچ کہوں تو میں نے کبھی دکھ کا مطلب نہیں جانا تھا۔
میرے ابا ہمیشہ کہا کرتے تھے، “میری بیٹی نایاب ہے، اس کے نصیب میں صرف خوشیاں ہوں گی۔”
لیکن قسمت شاید ہنستی ہے ان باتوں پر۔
میری تعلیم مکمل ہوئی تو ابا نے فخر سے کہا، “اب ہم اپنی نایاب کے لیے ایسا رشتہ ڈھونڈیں گے جس میں عزت ہو، پیار ہو، سکون ہو۔”
کچھ ہی دنوں بعد ایک رشتہ آیا۔ لڑکے کا نام حاشر تھا۔ سعودی عرب میں ملازمت کرتا تھا، ماں اور دو بہنوں کا اکلوتا بیٹا۔
امی کو رشتہ پسند آ گیا، اور میرے بھائیوں نے بھی کہا، “بہن کے لیے اچھا ہے، نیک خاندان لگتا ہے۔”
میں نے کبھی ضد نہیں کی۔ ہمیشہ والدین کی خوشی میں اپنی خوشی دیکھی۔
شادی ہوئی تو دل میں عجیب سا خوف بھی تھا۔ نیا گھر، نئے لوگ، اور نئے رشتے۔
پہلی رات ہی حاشر نے کہا، “امی اور بہنوں کی باتوں کا برا مت ماننا، وہ کبھی کبھی سخت بات کہہ دیتی ہیں۔”
میں نے مسکرا کر کہا، “کوئی بات نہیں، میں سب سمجھ جاؤں گی۔”
لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ یہی جملہ میری زندگی کی سب سے بڑی آزمائش بن جائے گا۔
شادی کے چند دن بعد ہی ساس نے کہنا شروع کر دیا، “اسے گھر کے کام آتے ہی نہیں، سارا دن آئینہ دیکھتی رہتی ہے۔”
نندیں بھی چپ نہ رہتیں، ایک کہتی “امی صحیح کہہ رہی ہیں، بھابی تو نازک شہزادی لگتی ہیں۔”
میں خاموش رہتی، بس یہی سوچ کر کہ شاید کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ایک دن ساس نے کھانے کی میز پر سب کے سامنے کہا، “حاشر، تمہاری بیوی کو دیکھو، ہمارے گھر کی عزت ختم کر دی۔”
میرا دل جیسے رک گیا، حاشر خاموش رہا، سر جھکا کر چلا گیا۔
وہ دن میری زندگی کا پہلا دن تھا جب میں نے اپنے ہی گھر میں خود کو اجنبی محسوس کیا۔
شادی کو چند مہینے ہی گزرے تھے کہ حاشر کی کمپنی سے کال آئی، اسے دوبارہ سعودی عرب جانا پڑا۔ وہ کہہ رہا تھا، “نایاب، فکر نہ کرنا، میں چند مہینوں میں واپس آ جاؤں گا۔ امی اور بہنیں تمہارے ساتھ ہیں، تم تنہا نہیں ہو۔”
میں نے صرف اتنا کہا، “اللہ تمہیں اپنی امان میں رکھے۔”
لیکن دل میں جیسے کچھ ٹوٹ گیا تھا۔
حاشر کے جانے کے بعد گھر کا ماحول بدل گیا۔
ساس کا لہجہ بدل گیا، نندوں کی باتیں بدل گئیں۔
اب وہ دن میں کئی بار مجھے طعنے دیتیں،
“کتنی قسمت والی ہو کہ ہمارا بیٹا تمہارے جیسی نکمی کے ساتھ رہتا ہے!”
“ہمارے گھر کی عورتیں صبح سے شام تک کام کرتی ہیں، یہ تو چائے کا کپ بھی سیدھا نہیں پکڑ سکتی۔”
میں ہر بات برداشت کرتی رہی، لیکن ظلم کی شدت بڑھتی گئی۔
ایک دن ساس نے کہا، “کل میری بیٹی اور داماد آ رہے ہیں، سارا کھانا تم نے پکانا ہے۔”
میں نے کہا، “امی جی، میری طبیعت ٹھیک نہیں، چکر آ رہے ہیں۔”
انہوں نے غصے سے کہا، “تو کیا ہوا؟ تمہارا شوہر کماتا ہے، تمہارے سر پر تاج رکھیں کیا؟”
میں خاموش ہو گئی۔ اگلے دن صبح سے شام تک چولہے کے پاس کھڑی رہی۔
میں چھ ماہ کی حاملہ تھی، مگر کسی کو ذرا سا رحم نہ آیا۔
جب سب کھانا کھا کر ہنس رہے تھے، میں پیچھے کچن میں بیٹھی تھی، پسینہ چہرے پر چمک رہا تھا اور ہاتھ جل چکے تھے۔
اسی وقت نند کا بیٹا آیا اور بولا، “چائے بنا دو!”
میں نے آہستہ کہا، “بیٹا، ذرا دادی سے کہو، میں ابھی تھوڑی دیر میں بناتی ہوں۔”
اس نے اونچی آواز میں کہا، “دادی! بھابی چائے نہیں بنا رہی!”
اگلے لمحے نند دروازے سے آئی، چہرے پر غصہ، ہاتھ میں دوپٹہ مروڑتے ہوئے۔
“ہماری بات کا انکار کرتی ہے؟ نکل جا ہمارے گھر سے، بڑی آئی رانی بننے والی!”
میں وضاحت دینے لگی تو اس نے میرے بال پکڑے اور زور سے دھکا دیا۔
میں زمین پر گرنے سے پہلے بس اتنا کہہ سکی، “میں ماں بننے والی ہوں، خدا کا خوف کرو!”
لیکن کسی کو پرواہ نہیں تھی۔
جیسے ہی دروازے کی چوکھٹ پار کی، کسی نے پیچھے سے آواز دی،
“نکل جا بدبخت! اس گھر میں تیرے لیے جگہ نہیں۔”
میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔
زمین پر گرنے سے پہلے کسی نے مجھے تھام لیا۔
میں نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں تو سامنے ایک مانوس چہرہ تھا۔
وہ میرا چھوٹا بھائی حامد تھا۔
وہ بولا، “با جی… آپ کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟”
میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی،
اور بس اتنا کہا، “حامد، تمہارے گھر کی لاڈلی آج کسی کے در سے نکالی گئی ہے…”
ں نے حامد کے کندھے پر سر رکھا تو لگا جیسے برسوں کے دکھ آنسوؤں میں بہہ گئے ہوں، حامد نے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہا، “چلو باجی، گھر چلتے ہیں، امی انتظار کر رہی ہیں۔” میں نے آہستہ سے کہا، “امی کو کچھ مت کہنا، وہ برداشت نہیں کر پائیں گی۔” مگر جب گھر پہنچی تو امی دروازے پر ہی کھڑی تھیں، چہرے پر حیرت، آنکھوں میں سوال۔ انہوں نے مجھے گلے لگا لیا اور بولیں، “کیا ہوا بیٹی؟ کہاں گئی تھی تو؟” میں کچھ بول ہی نہیں پائی، بس رو دی، اور حامد نے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ امی کی سانس رک گئی، ابا خاموش کھڑے تھے، جیسے کسی نے ان کے دل پر وار کیا ہو۔
امی بولیں، “میں نے اپنی بیٹی کو دعاؤں میں رخصت کیا تھا، یہ لوگ اتنا ظلم کیسے کر سکتے ہیں؟” ابا نے گہری سانس لی، “بیٹی، ہم نے تمہیں صبر سکھایا، مگر یہ برداشت اب حد سے آگے ہے۔ کل میں خود اس گھر جاؤں گا۔” رات بھر نیند نہیں آئی۔ میں نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا اور آہستہ کہا، “میرے بچے، تیری ماں کمزور نہیں، بس بہت ٹوٹ گئی ہے۔” اگلی صبح جب سورج نکلا تو آنگن میں عجیب سی خاموشی تھی۔ امی بار بار آنسو پونچھ رہی تھیں، اور ابا تیار ہو کر سسرال جانے لگے۔ میں نے روکتے ہوئے کہا، “ابا مت جاؤ، وہاں صرف نفرت ہے، عزت نہیں۔” مگر وہ بولے، “میں اپنی بیٹی کا حق لینے جا رہا ہوں، خاموشی اب گناہ لگتی ہے۔”
شام تک ابا واپس آئے، ان کے ہاتھ خالی تھے اور چہرے پر درد کی لکیریں۔ بولے، “انہوں نے کہا، تمہاری بیٹی بدزبان ہے، گھر کی عزت نہیں رکھ سکی، اور ہم ایسے رشتے دار نہیں چاہتے۔” میں زمین پر بیٹھ گئی، جیسے کسی نے میرے پاؤں سے زمین کھینچ لی ہو۔ امی نے میرا سر اپنی گود میں رکھا، “رو مت بیٹی، وقت سب دیکھتا ہے، ظلم دیر سے گرتا ہے مگر گرتا ضرور ہے۔”
دن گزرتے گئے، مہینے بدل گئے۔ میں اکیلی ماں بننے والی تھی۔ اس دوران حاشر کا ایک فون آیا۔ میں نے کپکپاتی آواز میں کہا، “کیا آپ کو پتا ہے آپ کی ماں نے مجھے گھر سے نکال دیا؟” وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا، “امی ایسا نہیں کر سکتیں، تم ضرورت سے زیادہ حساس ہو گئی ہو۔” میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، “اگر میں حساس ہوں تو زخم بھی انہی کے دیے ہوئے ہیں۔”
کال بند ہو گئی، مگر دل کے دروازے ٹوٹ گئے۔ رات کے سناٹے میں جب سب سو گئے، میں نے تکیے میں چہرہ چھپا لیا اور دل ہی دل میں کہا، “یا اللہ، اگر میرا قصور صبر ہے تو مجھے اتنی طاقت دے کہ میں ٹوٹ کر بھی جیتی رہوں۔”
اسی لمحے میرے پیٹ میں جنبش ہوئی، جیسے میرا بچہ کہہ رہا ہو، “امی، ہارنا نہیں…”
میں نے آنکھیں بند کر کے شکر ادا کیا۔
ں نے آنکھیں بند کر کے آنسو پونچھے اور خود سے وعدہ کیا، “اب کسی کے رحم کی محتاج نہیں رہوں گی۔” اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر آئی تو مجھے لگا جیسے اللہ نے ایک نیا حوصلہ بھیجا ہے۔ میں نے امی سے کہا، “امی، میں نوکری کروں گی۔”
امی چونک گئیں، “بیٹی، ابھی تو تیری حالت…”
میں نے ان کے ہاتھ تھام لیے، “امی، مجھے اپنے بچے کے لیے جینا ہے۔ اگر میں رک گئی تو میرا بچہ بھی رک جائے گا۔”
حامد نے میرا حوصلہ بڑھایا۔ بولا، “باجی، میں دوست کے اسکول میں بات کرتا ہوں، آپ وہاں پڑھا سکتی ہیں۔”
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ اگلے ہفتے ہی میں اسکول میں پڑھانے لگی۔ شروع میں سب کچھ اجنبی سا لگتا تھا، لیکن جب پہلی بار کسی بچے نے آ کر کہا، “ٹیچر، آپ بہت پیاری ہیں”، تو لگا جیسے میرے ٹوٹے ہوئے دل پر مرہم رکھ دیا گیا ہو۔
دن گزرتے گئے، اور میرے اندر زندگی سانس لینے لگی۔ میرا پیٹ اب نمایاں ہو گیا تھا۔ جب میں کلاس میں پڑھاتی تو بچے حیرت سے پوچھتے، “ٹیچر، آپ کے پیٹ میں کیا ہے؟”
میں ہنس کر کہتی، “ایک ننھا سا فرشتہ آنے والا ہے۔”
لیکن جب رات کو تنہائی آتی، وہی آنسو، وہی درد، وہی یادیں پھر دل میں اتر آتیں۔ حاشر کی بے رخی ہر دھڑکن میں گونجتی۔ میں سوچتی، “کیا اسے احساس نہیں کہ اس کا بچہ بھی سانس لے رہا ہے؟”
ایک رات امی میرے پاس آئیں، بولیں، “بیٹی، میں نے خواب میں دیکھا تمہارے ہاتھ میں ایک روشن چراغ ہے، اور وہ چراغ تمہیں اندھیروں سے نکال رہا ہے۔”
میں مسکرا دی، “امی، وہ چراغ میرا بچہ ہے۔”
وقت گزرا، اور وہ دن بھی آ گیا جب میری تکلیفوں کا سفر نئے جنم سے جڑ گیا۔ اسپتال کے کمرے میں میری چیخوں کے بیچ اذان کی آواز گونجی، اور نرس نے میرے ہاتھ میں ایک ننھا سا وجود دیا۔ میں رو پڑی — لیکن اس بار یہ آنسو کمزوری کے نہیں، شکر کے تھے۔
“میرا بیٹا…” میں نے آہستہ سے کہا، “میرا اللہ سچا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔”
امی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا، “دیکھا بیٹی، رب نے تیرے صبر کا پھل دے دیا۔”
میں نے بچے کو سینے سے لگا لیا، “امی، میں اسے ایسا انسان بناؤں گی جو کبھی کسی عورت کو رلائے نہیں، بلکہ اس کے آنسو پونچھے۔”
کچھ مہینے بعد میں دوبارہ اسکول جانے لگی۔ اب میں صرف ایک ٹیچر نہیں تھی — میں ایک ماں، ایک مجاہدہ تھی۔ میرے ہر لفظ میں طاقت تھی، ہر مسکراہٹ میں داستان۔
ایک دن چھٹی کے وقت باہر نکلی تو دروازے پر ایک مانوس چہرہ کھڑا تھا — حاشر۔
میرے قدم رک گئے۔ اس کے چہرے پر پچھتاوے کی لکیر تھی، ہاتھ میں کچھ کاغذات۔ بولا، “میں واپس آ گیا ہوں، مجھے سب سچ پتہ چل گیا۔ امی نے مان لیا کہ انہوں نے تمہیں غلط سمجھا۔”
میں چپ رہی۔ وہ بولا، “میں تمہیں لینے آیا ہوں، مناہل۔”
میرے لب کپکپائے، “لیکن جو زخم تمہارے لفظوں نے دیے، وہ اب کسی مرہم سے نہیں بھریں گے۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ عورت اگر چاہے تو اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔”
وہ جھک گیا، “مجھے ایک موقع دے دو، اپنے بیٹے کے لیے، اپنے دل کے لیے۔”
میں نے بچے کی طرف دیکھا، اس کے معصوم چہرے نے مجھے جواب دے دیا۔ میں بولی، “میرا دل اب صرف اسی کے لیے دھڑکتا ہے، اور اگر تم واقعی بدل گئے ہو، تو ثابت کرو۔”
حاشر کے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ بولا، “میں وعدہ کرتا ہوں، اب تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔”
میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا،
“یا اللہ، تو نے جو چھین لیا، اس سے بہتر لوٹا دیا۔ میں نے صبر کیا، اور تُو نے میری دنیا بدل دی۔”
رات کو جب میرا بیٹا میری بانہوں میں سویا تو میں نے اس کے ماتھے کو چوم کر کہا،
“میرا بیٹا، تیری ماں نے ہار نہیں مانی، اور نہ کبھی مانے گی۔ کیونکہ صبر کرنے والی عورت کبھی ہارتی نہیں — وہ وقت کے آگے جیت جاتی ہے۔”
نایاب اپنی زندگی کے سب سے مشکل لمحات سے گزر رہی تھی۔ چھ ماہ کی حاملہ، لیکن سسرال میں اسے کوئی قدر نہ دی گئی، روزانہ بہنیں اور ساس اس پر چھوٹے چھوٹے ظلم ڈھاتے، اسے ہر کام کے لیے مجبور کرتے اور کبھی بھی اس کے جذبات کو نہ سمجھتے۔ اس کا شوہر حاشر سعودی عرب میں تھا، وہ دور سے فون پر ہلکی سی بات کر سکتا تھا مگر عملی مدد نہ کر سکتا تھا۔ ایک دن جب نایاب کی نند کا بیٹا بولا، "چائے بنا دو"، تو نایاب نے انکار کیا، اور نند نے اس کے بال پکڑ کر دھکے دے دیے، جیسے وہ کسی کا حق نہ رکھتی ہو۔ وہ زمین پر گر گئی، مگر حامد نے فوراً اسے تھام لیا، اور اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، دل جیسے ٹوٹ رہا ہو۔ نایاب کے والد نے بھی جب یہ حالت دیکھی تو خاموش ہو کر واپس چلے گئے، دل میں درد اور شرمندگی لیے۔ نایاب نے ان کے جانے کے بعد اپنے بھائیوں کو فون کیا اور بتایا کہ وہ اب مزید اس سسرال میں نہیں رہ سکتی۔ وہ اپنے بھائیوں کی محبت اور تحفظ کے بغیر تو زندہ نہیں رہ سکتی تھی۔
نایاب نے حاشر کو فون کیا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے کہا، "تمہیں سب کچھ معلوم ہے، میرا دل ٹوٹ چکا ہے، اب میں تمہارے ساتھ بھی نہیں رہنا چاہتی، مجھے اپنی عزت چاہیے، میری زندگی کا مذاق بن چکا ہے۔ تم کہاں تھے جب میں روزانہ بے عزتی سہ رہی تھی؟ میرا بچہ، چھ ماہ کا، اس سب کا گواہ ہے۔" حاشر نے خاموشی سے سنا، اور پھر ہلکی سی آواز میں بولا، "نایاب، اگر تم چاہو تو میں تمہارے حق کے لیے لڑوں گا، تمہیں یہ سب برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔"
نایاب نے فیصلہ کیا کہ وہ حاشر کے ساتھ نہیں، بلکہ اپنے والدین کے پاس جائے گی، وہاں اسے سکون ملے گا اور بچے کے لیے محفوظ ماحول ہوگا۔ سسرال میں ظلم کرنے والوں نے پہلے تو مایوسی ظاہر کی، مگر بعد میں پچھتایا، خاص طور پر نند اور بھابھی، جنہوں نے سمجھا کہ اللہ نے انصاف کر دیا۔ انہوں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اور خود محسوس کیا کہ نایاب ایک شریف اور صبور لڑکی تھی جس کی عزت کا کوئی حق نہ مارا جا سکتا۔
حاشر نے نایاب سے وعدہ کیا کہ وہ عدالت اور قانونی راستے سے اسے مکمل حق دلائے گا، تاکہ نایاب نہ صرف اپنے حقوق حاصل کرے بلکہ بچے کے لیے بھی محفوظ ماحول یقینی ہو۔ عدالت کے بعد، نایاب نے اپنے والدین کے گھر میں سکون محسوس کیا، بچوں کے مستقبل اور اپنے لیے امن پایا۔ حاشر نے اسے یقین دلایا کہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا، اور کسی بھی ظلم یا ناجائز الزام سے بچائے گا۔
نایاب کی سسرال کی عورتیں، جنہوں نے پہلے اسے روزانہ ذلیل کیا، اب شرمندہ اور پچھتائی ہوئی تھیں۔ وہ بولتی تھیں، "ہم نے ایک شریف اور معصوم لڑکی کو تکلیف دی، اللہ نے ہمارے گھر میں طوفان بھیج دیا۔" نایاب نے انہیں معاف کر دیا، مگر اپنا فیصلہ اور اپنی عزت کبھی نہیں بدلی۔ وہ اپنے والدین کے گھر، اپنے بچوں کے ساتھ ایک محفوظ اور محبت بھری زندگی گزارنے لگی، اور سچ، صبر، اور ہمت کی مثال بن گئی۔
کہانی کا انجام یہ ہوا کہ نایاب کی زندگی میں امن اور سکون آیا، ظلم کرنے والے لوگ اپنی غلطیوں پر پچھتانے لگے، اور حاشر کی مدد اور محبت نے نایاب کو وہ حوصلہ دیا کہ وہ دوبارہ کبھی اپنے حق اور عزت سے سمجھوتہ نہ کرے۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ صبر، محبت، اور اپنے اصولوں پر قائم رہنا ہر ظلم پر فتح پاتا ہے، اور اللہ ہمیشہ مظلوم کی مدد کرتا ہے۔
---


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."