بیوی حیران رہ گئی کہ یہ سچ کیسے ہو سکتا ہے
صبح کا دھندلکا تھا اور آسمان پر ابھی تک رات کی سیاہی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی کہ میری آنکھ فجر کی اذان سے کچھ لمحے پہلے ہی کھل گئی اور کمرے میں پھیلی ہوئی وہی پرانی اور جانی پہچانی سیلن کی بو، بچوں کے پرانے کپڑوں کی بو، اور گھر کی بوسیدگی کی بو میرے نتھنوں میں گھس کر مجھے اپنی بے بسی اور مجبوری کا احساس دلانے لگی کیونکہ یہ بو اب میری سانسوں کا مستقل حصہ بن چکی تھی اور میں چاہ کر بھی اس سے کسی طرح پیچھا نہیں چھڑا سکتی تھی۔
پھر میں نے اپنی بغل میں لیٹے ہوئے اپنے شوہر جمیل کی طرف دیکھا جو گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا سکون اور اطمینان تھا، ایک ایسا سکون جو مجھے بالکل سمجھ نہیں آتا تھا کیونکہ ہمارے گھر میں قرضوں کا ڈھیر تھا، قرض خواہ ہر روز دروازے پر دستک دیتے تھے اور ہمارے پاس کھانے کے لیے بھی بمشکل کچھ ہوتا تھا مگر جمیل کے ماتھے پر کبھی کوئی شکن تک نہیں آتی تھی اور وہ ایسے سوتے تھے جیسے وہ کسی بڑے محل کے بادشاہ ہوں اور انہیں دنیا کی کوئی بھی پریشانی یا فکر نہ ہو۔
میں آہستہ سے بستر سے اٹھی تاکہ ان کی نیند میں خلل نہ پڑے اور ننگے پاؤں ٹھنڈے اور چٹخے ہوئے فرش پر چلتی ہوئی باورچی خانے کی طرف بڑھی جہاں رات کی بچی ہوئی دو سوکھی روٹیاں اور تھوڑی سی چائے کی پتی میری منتظر تھی تاکہ میں اپنے شوہر کو وہ معمولی سا ناشتہ دے سکوں جو شاید کسی عام مزدور کے لیے بھی بالکل ناکافی ہوتا ہے لیکن ہمارے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔
چولہا جلانے کی کوشش میں دیا سلائی کی کئی تیلیاں ضائع ہو گئیں اور جب آخر کار مشکل سے آگ جلی تو اس سے اٹھنے والے تیز دھوئیں نے میری آنکھوں میں پانی بھر دیا لیکن یہ پانی صرف دھوئیں کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ان آنسوؤں کا بھی تھا جو میں نے پچھلے چھ مہینوں سے اپنی پلکوں کے پیچھے روک رکھے تھے اور جو اب بے اختیار بہنے لگے تھے کیونکہ میں اس زندگی سے تھک چکی تھی۔
میرا نام سمیرا ہے اور میری شادی جمیل سے چھ سال پہلے ہوئی تھی جو ایک عام سا مزدور تھا اور دہاڑی پر کام کرتا تھا، کبھی کسی تعمیراتی سائٹ پر مٹی اٹھاتا، کبھی کسی کے گھر میں پینٹنگ کرتا، کبھی سڑک کنارے بوریاں اٹھانے کا کام کرتا اور اس کی روزانہ کی آمدنی بمشکل پانچ سو سے چھ سو روپے ہوتی تھی جس میں ہمارا گھر بالکل مشکل سے چلتا تھا اور ہم بمشکل دو وقت کی روٹی کا انتظام کر پاتے تھے۔
محلے کی عورتیں اکثر مجھے طعنے دیتیں اور کہتیں کہ سمیرا بی بی، تمہارا شوہر تو صرف پانچ سو روپے کماتا ہے، تم لوگ کیسے گزارہ کر لیتے ہو؟ کیا تم بھی کہیں کام کرتی ہو؟ یا پھر کوئی اور خفیہ ذریعہ آمدن ہے؟ ان کی یہ باتیں میرے دل میں چھری کی طرح چبھتیں لیکن میں ہمیشہ خاموش رہتی اور سر جھکا کر اپنے گھر چلی جاتی کیونکہ میرے پاس ان کے جواب میں کچھ کہنے کو نہیں ہوتا تھا اور میں اپنی غربت پر شرمندہ ہوتی تھی۔
جمیل ہر روز صبح چار بجے اٹھتے، وضو کر کے نماز پڑھتے، اور پھر اپنے میلے کچیلے کام والے کپڑے پہن کر کام پر چلے جاتے اور شام کو تھکے ہارے، مٹی اور پینٹ سے اٹے ہوئے واپس آتے اور بس کھانا کھا کر سو جاتے، ان کی زندگی میں کوئی خواب نہیں تھا، کوئی تمنا نہیں تھی، بس روز کا یہی معمول تھا جو مجھے بہت تکلیف دیتا تھا۔
میں نے کئی بار ان سے کہا کہ کوئی بہتر کام تلاش کریں، کوئی چھوٹا سا کاروبار شروع کریں، یا پھر کسی فیکٹری میں مستقل ملازمت کر لیں، لیکن وہ ہمیشہ مسکرا کر کہتے کہ سمیرا، اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے اسی پر شکر ہے، ہم خوش ہیں اور الحمدللہ ہمارے پاس کھانے کو ہے اور میں ان کی یہ باتیں سن کر حیران ہوتی کہ آخر یہ کیسے اتنے خوش رہ لیتے ہیں جب ہمارے پاس دنیا میں کچھ بھی نہیں ہے۔
چائے تیار ہو گئی اور میں نے ایک پرانے ٹوٹے ہوئے کپ میں ڈال کر سوکھی روٹیوں کے ساتھ ایک ٹرے میں رکھ دیا اور کمرے میں واپس آئی۔
جمیل اب بیدار ہو چکے تھے اور نماز کی تیاری کر رہے تھے، انہوں نے مجھے دیکھا تو مسکرا کر سلام کیا اور پھر باہر صحن میں جا کر نماز پڑھنے لگے جبکہ میں نے اپنے دونوں بچوں، پانچ سالہ حمزہ اور تین سالہ فاطمہ کو جگانا شروع کیا جو ابھی گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے معصوم چہروں کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا کیونکہ میں انہیں وہ زندگی نہیں دے پا رہی تھی جو ہر بچے کا حق ہوتا ہے۔
نماز کے بعد جمیل واپس آئے اور بستر پر بیٹھ گئے، میں نے ان کے سامنے ناشتے کی ٹرے رکھ دی اور انہوں نے بسم اللہ پڑھ کر چائے کا گھونٹ لیا اور پھر سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا توڑ کر منہ میں ڈالا، ان کے چہرے پر کوئی شکایت نہیں تھی، کوئی ناخوشی نہیں تھی، وہ ایسے کھا رہے تھے جیسے دنیا کی بہترین دعوت کھا رہے ہوں اور یہ بات مجھے مزید پریشان کر دیتی تھی۔
ناشتہ ختم کرنے کے بعد جمیل نے اپنے کام والے کپڑے پہنے جو مٹی اور پینٹ کے داغوں سے بھرے ہوئے تھے اور پھر مجھ سے کہا کہ سمیرا، میں چلتا ہوں، تم بچوں کا خیال رکھنا اور اللہ پر بھروسہ رکھنا، سب ٹھیک ہو جائے گا، میں نے سر ہلایا اور دروازے تک انہیں چھوڑنے آئی اور انہیں جاتے ہوئے دیکھتی رہی جب تک وہ گلی کے موڑ پر غائب نہ ہو گئے۔
دن بھر میں گھر کے کام نمٹاتی رہی، بچوں کو سنبھالتی رہی، اور شام ہونے کا انتظار کرتی رہی جب جمیل واپس آئیں گے اور اپنی دن بھر کی کمائی سے کچھ سودا سلف لائیں گے، یہی ہماری روزمرہ کی زندگی تھی جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی اور نہ ہی آنے کی کوئی امید تھی۔
شام کے چھ بج گئے تھے لیکن جمیل ابھی تک واپس نہیں آئے تھے حالانکہ وہ عام طور پر پانچ بجے تک واپس آ جاتے تھے، میں پریشان ہونے لگی اور بار بار دروازے کی طرف دیکھنے لگی، سات بجے، آٹھ بجے، لیکن کوئی خبر نہیں، میرا دل بیٹھنے لگا اور میں نے سوچا کہ شاید کوئی مسئلہ ہو گیا ہے یا پھر انہیں کام میں دیر ہو گئی ہے۔
رات کے نو بج گئے تھے اور میں بہت زیادہ پریشان ہو چکی تھی کہ اچانک دروازے پر زور سے دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا تو باہر ایک اجنبی شخص کھڑا تھا جس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ جمیل صاحب کی بیوی ہیں؟ میں نے گھبراتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، کیا بات ہے؟ کیا کچھ ہو گیا ہے؟
اس شخص نے کہا کہ جی، جمیل صاحب کا ایک بہت بڑا روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، وہ ابھی سٹی ہسپتال میں ہیں، آپ کو فوری طور پر وہاں پہنچنا ہوگا، میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، میری سانسیں رک گئیں، اور میں نے فوری طور پر اپنا دوپٹہ سنبھالا اور بچوں کو پڑوسن کے پاس چھوڑ کر اس شخص کے ساتھ ہسپتال کی طرف بھاگی۔
راستے بھر میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، میں صرف اللہ سے دعا کر رہی تھی کہ میرے شوہر کو کچھ نہ ہوا ہو، وہ ٹھیک ہوں، میرے بچوں کے باپ کو بچا لیں، میں ان کے بغیر کیسے زندہ رہوں گی، میرے بچے کیسے پلیں گے، میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے اور دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔
ہسپتال پہنچی تو میں نے دیکھا کہ ہسپتال کے مین گیٹ پر بہت بھیڑ تھی، پولیس کی گاڑیاں کھڑی تھیں، اور بڑے بڑے افسران نظر آ رہے تھے، میں سمجھ نہیں پائی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے اور میرے شوہر کے ایکسیڈنٹ سے اس کا کیا تعلق ہے، میں دوڑتی ہوئی اندر گئی اور ایمرجنسی وارڈ میں پہنچی جہاں ایک ڈاکٹر اور کئی نرسیں کسی مریض کے گرد کھڑے تھے۔
میں نے ایک نرس سے پوچھا کہ جمیل صاحب کہاں ہیں؟ مجھے ان سے ملنا ہے، نرس نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا اور پھر ڈاکٹر کو بلایا، ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ میں جمیل کی بیوی ہوں، براہ کرم مجھے بتائیں کہ ان کی حالت کیسی ہے؟ ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا کہ آپ میرے ساتھ آئیں، مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔
ڈاکٹر مجھے ایک الگ کمرے میں لے گیا اور دروازہ بند کر دیا، پھر اس نے مجھ سے کہا کہ بی بی جی، آپ کے شوہر کی حالت مستحکم ہے، وہ خطرے سے باہر ہیں لیکن ان کی ٹانگ میں فریکچر ہے اور سر پر بھی چوٹ آئی ہے، ہم نے ابھی فرسٹ ایڈ کر دی ہے اور کل آپریشن ہوگا، میں نے راحت کی سانس لی اور کہا کہ الحمدللہ، کیا میں ان سے مل سکتی ہوں؟
ڈاکٹر نے کہا کہ ہاں ضرور، لیکن اس سے پہلے مجھے آپ کو ایک بات بتانی ہے، آپ جانتی ہیں کہ آپ کے شوہر کون ہیں؟ میں نے حیرت سے کہا کہ جی ہاں، وہ ایک مزدور ہیں، دہاڑی پر کام کرتے ہیں، ڈاکٹر نے سر ہلایا اور کہا کہ نہیں بی بی جی، آپ غلط جانتی ہیں، آپ کے شوہر کوئی معمولی مزدور نہیں ہیں۔
میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ڈاکٹر نے کہا کہ جب یہ ایکسیڈنٹ ہوا تو لوگوں نے پولیس کو فون کیا اور جب پولیس نے ان کی شناختی کارڈ چیک کی تو پتہ چلا کہ یہ ملک کے ایک بہت بڑے خفیہ ایجنٹ ہیں جو پچھلے دس سالوں سے ایک خفیہ مشن پر کام کر رہے ہیں اور ایک عام مزدور کی شکل میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔
میری سانسیں تھم گئیں، میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ میرے شوہر تو واقعی ایک مزدور ہیں، وہ روز کام پر جاتے ہیں اور صرف پانچ چھ سو روپے کماتے ہیں، ڈاکٹر نے کہا کہ یہ سب ان کے کور کا حصہ تھا، اصل میں وہ حکومت کی طرف سے ایک بہت اہم شخصیت ہیں اور ان کی اصل تنخواہ لاکھوں میں ہے جو وہ خفیہ طور پر لیتے ہیں، اسی وجہ سے ابھی باہر پولیس کمشنر، آئی جی، اور کئی حکومتی افسران موجود ہیں۔
میں سکتے میں آ گئی، مجھے یقین نہیں آ رہا تھا، میں نے کہا کہ لیکن انہوں نے مجھے کبھی نہیں بتایا، ہم نے اتنی غربت میں زندگی گزاری، ہمارے بچے بھوکے رہے، میں نے اتنی تکلیفیں سہیں، ڈاکٹر نے کہا کہ یہ ان کی مجبوری تھی، انہیں اپنا کور مینٹین رکھنا تھا، اگر کسی کو پتہ چل جاتا کہ وہ کون ہیں تو ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا اور ان کا مشن ناکام ہو جاتا۔
تبھی دروازہ کھلا اور پولیس کمشنر اندر آئے، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ بی بی جی، ہم آپ کے شوہر کے لیے بہت معذرت خواہ ہیں، انہوں نے ملک کی بہت بڑی خدمت کی ہے، ان کی وجہ سے ہم نے ایک بہت بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کو پکڑا ہے، وہ ایک حقیقی ہیرو ہیں، میں نے روتے ہوئے کہا کہ لیکن مجھے کچھ نہیں معلوم تھا۔
پولیس کمشنر نے کہا کہ بی بی جی، یہ ضروری تھا، ان کی اور آپ کے بچوں کی حفاظت کے لیے، اب ان کا مشن مکمل ہو چکا ہے، اب وہ اپنی اصل زندگی میں واپس آ سکتے ہیں، انہوں نے ایک لفافہ میرے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ یہ ان کی پچھلے دس سالوں کی بچی ہوئی تنخواہ ہے جو انہوں نے آپ کے اور بچوں کے مستقبل کے لیے بچائی ہے۔
میں نے لفافہ کھولا تو اندر لاکھوں روپے کے چیک تھے، میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ خوش ہوں یا غصہ ہوں، میرے شوہر نے یہ سب کچھ میرے اور بچوں کے لیے کیا لیکن ہمیں کبھی بتایا نہیں، ہم نے اتنی مشکلوں میں زندگی گزاری۔
ڈاکٹر نے کہا کہ اب آپ ان سے مل سکتی ہیں، میں کمرے میں داخل ہوئی تو جمیل بستر پر لیٹے تھے، ان کا سر پٹیوں میں لپٹا ہوا تھا اور ٹانگ میں پلاسٹر لگا ہوا تھا، انہوں نے مجھے دیکھا تو مسکرا دیے، میں ان کے پاس گئی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر زور زور سے رونے لگی۔
جمیل نے آہستہ سے کہا کہ سمیرا، معاف کر دینا، میں نے تمہیں بہت تکلیف دی، لیکن یہ میری مجبوری تھی، میں نے کہا کہ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ ہم نے اتنی غربت میں زندگی گزاری، انہوں نے کہا کہ اگر میں تمہیں بتا دیتا تو تمہاری زندگی کو خطرہ ہو سکتا تھا، دہشت گرد ہمیشہ میری تلاش میں تھے، اگر انہیں پتہ چل جاتا کہ میں کون ہوں تو وہ تمہیں اور بچوں کو نشانہ بنا سکتے تھے۔
میں نے کہا کہ لیکن آپ نے یہ سب میرے لیے کیا، محلے کی عورتیں مجھے طعنے دیتی تھیں، میں شرمندہ ہوتی تھی، جمیل نے کہا کہ سمیرا، اصل عزت اللہ کے نزدیک ہے، لوگوں کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں نے اپنا فرض ادا کیا اور اپنے ملک کی خدمت کی، یہی سب سے بڑی عزت ہے۔
چند ہفتوں بعد جمیل ٹھیک ہو گئے اور ہسپتال سے رخصت ہو گئے، حکومت نے انہیں ایک بہت بڑا ایوارڈ دیا اور ان کی خدمات کو سراہا، اخبارات میں ان کی تصویریں چھپیں اور وہ ایک قومی ہیرو بن گئے، ہمیں ایک بہتر گھر دیا گیا اور ہماری زندگی بدل گئی۔
لیکن جمیل کی عادات نہیں بدلیں، وہ اب بھی سادہ زندگی گزارتے ہیں، اب بھی نماز کا پابند ہیں، اور اب بھی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، انہوں نے مجھے سکھایا کہ اصل دولت اللہ کا خوف اور قناعت ہے، دنیا کی دولت آتی جاتی رہتی ہے لیکن نیک نیتی اور ایمانداری ہمیشہ رہتی ہے۔
اب جب محلے کی عورتیں مجھ سے ملتی ہیں تو شرمندہ ہوتی ہیں، لیکن میں نے انہیں معاف کر دیا ہے کیونکہ میرے شوہر نے مجھے سکھایا ہے کہ معافی اور صبر سب سے بڑی طاقت ہے، آج میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ میرا شوہر صرف ایک مزدور نہیں بلکہ ایک حقیقی ہیرو ہے جس نے اپنے ملک کی خدمت کی اور اپنے اصولوں پر قائم رہا۔
اختتام - صبر، قناعت اور ایمانداری سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/02/ek-sachchi-kahani-dil-ko-chhoo-jane.html

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."