بیٹے نے ماں کو سڑک پر اکیلا چھوڑ دیا، مگر ایک اجنبی کی محبت نے سب کو رُلا دیا
میرا نام امجد حسین ہے اور میں گجرات سے لاہور جانے والی پرانی سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی پرچون کی دکان چلاتا ہوں جہاں آٹا، چینی، چائے، بسکٹ، اور روزمرہ کی چیزیں ملتی ہیں اور دن بھر مسافر رکتے ہیں، کچھ لیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ میں بچپن سے اس سڑک کو دیکھتا آ رہا ہوں کیونکہ یہ دکان پہلے میرے ابا کی تھی، ابا کے جانے کے بعد میری ہو گئی، اور اب پندرہ سال سے میں یہاں ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ شہر میں جا کر کوئی بڑا کام کرو، مگر میں جانتا ہوں کہ یہ سڑک، یہ درخت، یہ مسافر — یہ سب میری زندگی کا حصہ ہیں اور میں انہیں چھوڑ نہیں سکتا۔ میری امی کو گئے چار سال ہو گئے ہیں اور اب میں اکیلا رہتا ہوں — چھوٹے سے گھر میں جو دکان کے بالکل پیچھے ہے — مگر اکیلا ہونے کے باوجود کبھی تنہائی نہیں لگی کیونکہ یہ سڑک ہمیشہ آباد رہتی ہے اور کوئی نہ کوئی مسافر ہمیشہ پاس ہوتا ہے۔ اس دن جنوری کی سرد صبح تھی، کہرا اتنا گھنا تھا کہ پانچ قدم آگے کی چیز بھی دھندلی نظر آتی تھی، میں نے چولہا جلایا، چائے چڑھائی اور دکان کھولی تو پہلی گاڑی ایک پرانی ویگن تھی جو آ کر میرے سامنے رکی اور اس میں سے ایک نوجوان نکلا جس کی عمر تیس کے قریب تھی اور اس کے پیچھے ایک بوڑھی عورت نکلی جس نے سر پر سفید چادر لے رکھی تھی اور جس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی گٹھڑی تھی۔ نوجوان نے بوڑھی عورت کو اتارا اور کہا کہ اماں یہاں بیٹھو میں ذرا آگے گاؤں میں کسی کام سے جاتا ہوں اور جلدی واپس آتا ہوں، بوڑھی عورت نے بغیر کچھ کہے ہاں کر دی اور آہستہ آہستہ چل کر میری دکان کے باہر رکھی بنچ پر بیٹھ گئی۔ نوجوان ویگن میں بیٹھا اور چلا گیا — ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں نے اس بوڑھی عورت کو چائے کا پوچھا تو اس نے کہا کہ بیٹا پلا دو ٹھنڈ بہت ہے، میں نے گرم چائے بنائی اور اس کے ہاتھ میں پکڑا دی، اس نے دونوں ہاتھوں سے کپ تھاما اور چائے پینے لگی اور میں اپنی دکان پر واپس آ گیا اور سوچا کہ تھوڑی دیر میں وہ نوجوان آ جائے گا مگر آدھا گھنٹہ گزرا، ایک گھنٹہ گزرا، دو گھنٹے گزرے اور وہ نہیں آیا۔
بوڑھی عورت ہر آنے والی گاڑی کو دیکھتی تھی، گردن اٹھاتی تھی، اور جب وہ گاڑی کوئی اور نکلتی تھی تو واپس سر جھکا لیتی تھی، یہ سلسلہ گھنٹوں چلتا رہا اور میں دور سے یہ سب دیکھتا رہا اور میرے دل میں ایک بے چینی بڑھتی رہی جو مجھے چین نہیں لینے دے رہی تھی۔ دوپہر ہوئی تو میں نے اس کے لیے کھانا بنوایا — دال اور روٹی — اور اس کے سامنے رکھ دیا، اس نے پہلے انکار کیا مگر میں نے کہا کہ اماں خالی پیٹ انتظار اور بھاری لگتا ہے تو اس نے بسم اللہ پڑھی اور کھانے لگی اور کھاتے کھاتے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جو وہ بار بار دوپٹے سے پونچھتی رہی مگر جتنا پونچھتی اتنے اور نکلتے رہے۔ میں نے آہستہ سے پوچھا کہ اماں بیٹے کا نمبر ہے تو اس نے کپڑے میں بندھا ایک کاغذ نکالا جس پر نمبر لکھا تھا، میں نے فون ملایا تو پہلی بار بند تھا، دوبارہ ملایا تو بند تھا، تیسری بار بھی بند تھا اور اس وقت میری سمجھ میں سب کچھ آ گیا مگر میں نے اس بوڑھی عورت کو کچھ نہیں بتایا کیونکہ جو درد اسے تھوڑی دیر بعد ہوتا وہ ابھی کیوں دیتا۔ اس نے بتایا کہ اس کا نام سکینہ بی بی ہے، وہ جہلم کی رہنے والی ہے، بیٹے کا نام وقار ہے اور وہ اکلوتا بیٹا ہے جس کے لیے اس نے ساری زندگی محنت کی، شوہر کا سایہ جلد اٹھ گیا تھا مگر اس نے اکیلے بیٹے کو پالا، پڑھایا اور بڑا کیا، مگر جب سے بہو آئی ہے تب سے گھر میں اس کے لیے جگہ کم ہو گئی ہے اور وقار بھی اب ماں سے زیادہ بیوی کی سنتا ہے۔ یہ سن کر میرے منہ سے کچھ نہ نکلا کیونکہ کچھ باتوں پر خاموش رہنا ہی بہتر ہوتا ہے اور میں چپ چاپ بیٹھا رہا اور اس بوڑھی عورت کو دیکھتا رہا جو ابھی بھی سڑک کی طرف نظریں لگائے بیٹھی تھی۔ رات کے آٹھ بج گئے، سردی بڑھ گئی، اندھیرا ہو گیا، اور وہ نوجوان پھر بھی نہیں آیا تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ آج رات اس عورت کو یہاں اکیلا نہیں چھوڑوں گا چاہے کچھ بھی ہو۔
میں نے دکان بند کی، سکینہ بی بی کو کہا کہ اماں آج رات آپ میرے گھر چلیں گی، انہوں نے پہلے انکار کیا اور کہا کہ بیٹا وقار آتا ہوگا مگر میں نے کہا کہ اماں رات بہت ہو گئی ہے اور ٹھنڈ میں یہاں بیٹھنا ٹھیک نہیں، کل صبح آیا تو ٹھیک ہے، نہ آیا تو راستہ دیکھیں گے۔ وہ اٹھیں، گٹھڑی اٹھائی اور میرے ساتھ چل دیں اور ہم گھر کی طرف چلنے لگے جو دکان کے بالکل پیچھے تھا اور پانچ منٹ میں پہنچ گئے۔ میں نے انہیں اندر لے جا کر بٹھایا، گرم پانی لایا، کمبل دیا اور رات کا کھانا بنایا — چاول اور آلو کا سالن — اور جب کھانا سامنے رکھا تو سکینہ بی بی بولیں کہ بیٹا تو میرے اپنے بیٹے سے بہتر نکلا، یہ سن کر میری آنکھیں بھر آئیں کیونکہ کوئی ماں جب کسی غیر کو اپنے بیٹے سے بہتر کہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ اندر سے کتنی ٹوٹی ہوئی ہے۔ رات کو میں باہر صحن میں بیٹھا رہا اور سوچتا رہا کہ کیا کروں کیونکہ اس بوڑھی عورت کو یوں ہمیشہ نہیں رکھ سکتا تھا، کوئی اپنا ہونا چاہیے تھا، کوئی جو اسے گھر لے جائے، کوئی جو اس کا ہو۔ میں نے سکینہ بی بی سے پوچھا تھا کہ کوئی اور رشتہ دار ہے تو انہوں نے بتایا کہ ایک بھتیجی ہے — نسرین — جو گجرات میں رہتی ہے، شوہر کے ساتھ، مگر اس سے برسوں سے رابطہ نہیں تھا کیونکہ درمیان میں کوئی ناراضگی ہو گئی تھی جس کی تفصیل انہیں یاد نہیں تھی مگر رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ میں نے گجرات والا نام اور علاقہ ذہن میں رکھ لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا تاکہ کچھ کر سکوں کیونکہ اس بوڑھی عورت کو کسی اپنے کے پاس پہنچانا میری ذمہ داری لگ رہی تھی اور میں یہ ذمہ داری اٹھانا چاہتا تھا۔
صبح میں نے گجرات کے اپنے ایک جاننے والے کو فون کیا جو وہاں پرچون کا کام کرتا ہے اور اس علاقے کو اچھی طرح جانتا ہے، اسے نام بتایا تو اس نے آدھے گھنٹے میں نسرین کے شوہر کا نمبر نکال دیا اور میں نے فوری فون ملایا۔ فون نسرین نے اٹھایا، میں نے اپنا تعارف کرایا اور پوری بات بتائی کہ ان کی پھوپھی سکینہ بی بی میرے گھر ہیں اور وہ اکیلی ہیں اور انہیں کسی اپنے کی ضرورت ہے، یہ سنتے ہی نسرین کی آواز کانپ گئی اور وہ بولی کہ بھائی پھوپھی کہاں ہیں کیا ہوا انہیں، میں نے تسلی دی کہ بالکل ٹھیک ہیں مگر اکیلی ہیں اور آپ کو ضرورت ہے۔ نسرین نے کہا کہ بھائی میں ابھی نکلتی ہوں اور دو گھنٹے میں پہنچتی ہوں، فون رکھا اور میں سکینہ بی بی کے پاس آیا اور بولا کہ اماں نسرین آ رہی ہے، سکینہ بی بی نے میری طرف دیکھا اور بولیں کہ نسرین؟ میری نسرین؟ میں نے کہا ہاں اماں، آ رہی ہے، یہ سن کر ان کی آنکھوں میں ایک چمک آئی جو رات سے نہیں تھی۔ ٹھیک دو گھنٹے بعد باہر گاڑی رکی اور نسرین دوڑتی ہوئی اندر آئی، سکینہ بی بی کو دیکھا اور لپٹ گئی اور دونوں روئیں — خاموشی سے، مگر دل سے — اور میں دروازے پر کھڑا تھا اور میری آنکھیں بھی خشک نہیں رہیں۔ نسرین کے شوہر نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ بھائی آپ نے ہماری پھوپھی کو سنبھالا اللہ آپ کو اجر دے، میں نے کہا کہ بھائی یہ سب اللہ کا کام تھا میں تو بس وہاں کھڑا تھا۔ سکینہ بی بی جاتے وقت میرے پاس آئیں اور میرا سر اپنے ہاتھوں میں لے کر دعا دی — لمبی، دل سے، آنکھیں بند کر کے — اور جب انہوں نے آنکھیں کھولیں تو ان میں وہ خالی پن نہیں تھا جو کل سے تھا بلکہ ایک سکون تھا جو دیکھ کر دل بھر آیا۔ گاڑی گئی، میں اپنی دکان پر واپس آ گیا اور وہی کام، وہی سڑک، وہی مسافر — مگر اندر سے کچھ بھرا بھرا تھا۔ اے مسافر جو یہ پڑھ رہے ہو، ماں باپ کو کبھی بوجھ مت سمجھو کیونکہ وہ بوجھ نہیں بلکہ دعا ہیں اور جب وہ ہوں تو ان کی قدر کرو اور جب کوئی بوڑھا اکیلا نظر آئے تو ایک قدم آگے بڑھو کیونکہ اللہ نے تمہیں اسی لمحے کے لیے وہاں بھیجا ہوتا ہے۔
Disclaimer
Is video aur kahani ka maqsad sirf taleem aur naseehat dena hai. Is ka maqsad kisi shakhs, khandan ya idaray ki dil azari karna nahi hai. Agar kahani ka kisi haqeeqi waqia ya shakhs se mushabihat ho jaye to ise sirf ittefaq samjha jaye.
https://www.umairkahaniblog.uk/2025/10/zameendar-ki-beti-aur-faqeer-ka-beta.html

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."