مزدور کی بیوی پر ظلم ہوا مگر پرس میں موجود تصویر نے سب کو حیران کر دیا
تعارف
آج کی اس سبق آموز اور جذباتی کہانی میں ایک غریب مزدور کی زندگی کا ایسا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جو سننے والے کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک دن ایک مشکل صورتحال پیدا ہوتی ہے جس میں ایک عورت کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے اور لوگ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ مگر جب ایک پرس سے نکلی ہوئی تصویر سامنے آتی ہے تو ساری حقیقت بدل جاتی ہے۔ وہاں موجود ہر شخص حیران اور شرمندہ ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور انسانیت کا ساتھ دینا کتنا ضروری ہے۔
میرا نام عائشہ تھا اور میں کراچی شہر میں ایک چھوٹے سے گھر میں اپنے شوہر ذوالفقار کے ساتھ رہتی تھی۔ ذوالفقار ایک معمولی ملازم تھا جو شہر کی ایک بڑی کمپنی میں اکاؤنٹس کا کام کرتا تھا۔ اس کی تنخواہ زیادہ نہیں تھی لیکن ہماری زندگی سادہ اور پرسکون تھی۔ میں اپنی تعلیم مکمل کر رہی تھی اور کالج میں اچھی کارکردگی دکھا رہی تھی۔ ہمارے پاس کوئی اولاد نہیں تھی لیکن ہم ایک دوسرے کے ساتھ خوش تھے۔
میرے والد کا نام اللہ رکھا تھا۔ وہ بہت سخت مزاج لیکن غیرت مند انسان تھے۔ انہوں نے ابتدا میں میری تعلیم کو ضروری نہیں سمجھا تھا اور کہا تھا کہ لڑکی کا اصل مقام اس کے شوہر کا گھر ہوتا ہے۔ جب میں صرف سترہ سال کی تھی تو انہوں نے میری شادی ذوالفقار سے کر دی تھی جو میرا چچا زاد بھائی تھا۔ میری والدہ صفیہ نے ہلکا سا احتجاج کیا تھا کہ میں ابھی پڑھ رہی ہوں لیکن والد صاحب نے غصے سے کہا تھا کہ بس ایک بار کہہ دیا نا اب آگے بہت مت کرو۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔
ذوالفقار میرے خوابوں کا شہزادہ نہیں تھا لیکن اس میں ایک خوبی ضرور تھی۔ وہ انتہائی نرم دل اور محبت کرنے والا انسان تھا۔ شادی کے بعد جب میں سسرال آئی تو ذوالفقار نے پہلی رات ہی مجھ سے کہا تھا کہ اگر تم پڑھنا چاہتی ہو تو میں تمہیں منع نہیں کروں گا۔ بس میری ایک بات یاد رکھنا۔ میرے پاس پیسہ بہت کم ہے لیکن ہاں میرا دل بہت بڑا ہے۔ میرے لیے یہی بات کافی تھی۔ اس نے میرے دل کو چھو لیا تھا۔
ذوالفقار نے ہر ممکن کوشش کی کہ میں اپنی تعلیم مکمل کر سکوں۔ وہ صبح جلدی اٹھ کر کام پر جاتا اور شام کو واپس آ کر میری کہانیاں سنتا۔ میں اسے بتاتی کہ آج کالج میں کیا ہوا۔ آج ہماری میڈم نے کہا کہ جو لڑکی کالج میں اول آئے گی اس کا نام اخبار میں آئے گا۔ ذوالفقار مسکرا کر کہتا کہ تو پھر تیاری کر لو کیونکہ تمہارا نام ہی آئے گا۔
وقت گزرتا گیا اور میں دن بہ دن نکھرتی گئی۔ میرا انداز بات کرنے کا طریقہ سب بدل رہا تھا۔ میں صرف خوبصورت نہیں تھی بلکہ باوقار بھی بنتی جا رہی تھی۔ سسرال میں سادگی سے وقت گزرتا رہا لیکن میرے خواب بڑے ہوتے گئے۔
کالج میں سالانہ تقریب کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ ہال کی دیواریں رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا رہی تھیں۔ اسٹیج پر کالج کی پرنسپل اساتذہ اور چند معزز مہمانوں کے لیے کرسیاں لگ چکی تھیں۔ ہر طرف طلبہ کی ہلچل تھی۔ میں دوسری لڑکیوں سے الگ نظر آ رہی تھی۔ نہ میں زیادہ بات کر رہی تھی نہ تصویروں کی فکر تھی۔ بس میرے ہاتھ میں وہی پرانی فائل تھی جس میں میرا نام اور رول نمبر لکھا تھا۔
میری سہیلی سمیرا نے میرے پاس آ کر کہا کہ عائشہ اس بار تمہارا نام پہلے نمبر پر ہے۔ تمہیں ہی ٹرافی ملنے والی ہے۔ خوش ہو۔ میں نے مختصر جواب دیا کہ خوش ہوں بس کوشش تھی کہ محنت رنگ لائے۔ اب بس تقریب ختم ہو تو گھر جاؤں۔ سمیرا نے کہا کہ ارے واہ تم تو بالکل ہی بور لگ رہی ہو۔ آج کا مہمان خصوصی بہت بڑا ہے۔ فاروق خان زادہ آ رہا ہے۔ وہ خود ایک ادارہ ہے۔
میں نے کہا کہ ادارہ ہو یا سلطنت مجھے ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں نے بات کو ہنسی میں اڑا دیا۔ اسی وقت پرنسپل نے اسٹیج پر مائیک سنبھالا اور کہا کہ آج ہمارے درمیان ایک نہایت محترم نوجوان اور کامیاب بزنس مین موجود ہیں۔ جنہوں نے اپنی محنت سے نہ صرف اپنا نام بلکہ پورے شہر کا فخر بڑھایا ہے۔ خوش آمدید کہتے ہیں جناب فاروق خان زادہ کو۔
تالیاں گونج اٹھیں۔ فاروق کالے تھری پیس سوٹ میں انتہائی اعتماد کے ساتھ اسٹیج پر چڑھا۔ اس کا چہرہ سنجیدہ تھا لیکن آنکھیں متجسس تھیں۔ اسے رسمی تقاریر سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ جب اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے مجھے غور سے دیکھا۔ میں نے نظریں جھکا لیں کیونکہ مجھے اس کی نظروں میں کچھ عجیب لگا۔ ایک عجیب سی بے چینی میرے دل میں پیدا ہوئی۔
تقریب ختم ہوئی اور میں گھر آ گئی۔ لیکن میرے دل میں ایک خوف سا بیٹھ گیا تھا۔
تقریب کے بعد کچھ دن گزرے تو کالج کی طرف سے ایک ٹرسٹ کے لیے چیک لینے کا کام مجھے اور میری دو سہیلیوں نذیرہ اور سمیرا کو دیا گیا۔ ہمیں فاروق خان زادہ کے دفتر جانا تھا۔ سمیرا نے ہنستے ہوئے کہا کہ بس تم جا کر بات کرنا۔ تمہیں دیکھ کر شاید جلدی چیک سائن ہو جائے۔ ہم تینوں دفتر پہنچیں۔ استقبالیہ پر اطلاع دی گئی کہ فاروق صاحب کچھ دیر میں میٹنگ سے فارغ ہوں گے۔ سیکرٹری نے ہمیں ایک کمرے میں بٹھا دیا۔
کمرے میں خاموشی تھی۔ صرف دیوار پر لگے بڑے سے گھڑیال کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔ میں نے اپنے بیگ سے فائل نکالی اور دیکھنے لگی۔ تقریباً آدھا گھنٹہ گزر گیا تو دروازہ کھلا اور فاروق خان زادہ اندر آیا۔ اس نے ہم سب کو دیکھا لیکن اس کی نظریں مجھ پر ٹھہر گئیں۔
ہم نے کھڑے ہو کر سلام کیا۔ فاروق نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے پوچھا کہ کس کام سے آئی ہیں؟ سمیرا نے جواب دیا کہ سر ہم کالج کی طرف سے ٹرسٹ کے چیک کے لیے آئے ہیں۔ فاروق نے کہا کہ ٹھیک ہے مجھے فائل دکھائیں۔
میں نے فائل آگے بڑھائی۔ فاروق نے فائل لی لیکن اس کی نظریں بار بار میرے چہرے پر جا کر رکتی تھیں۔ میں بے چین ہو گئی اور نظریں جھکا لیں۔ اس نے چیک پر دستخط کیے اور واپس کر دیے۔ پھر اس نے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے کہا کہ عائشہ۔ اس نے کہا کہ بہت اچھا نام ہے۔ کالج میں کیا پڑھ رہی ہیں؟ میں نے مختصر جواب دیا کہ ماسٹرز۔
فاروق مسکرایا اور کہا کہ بہت اچھا۔ محنت سے پڑھیں۔ مستقبل روشن ہے۔ ہم نے شکریہ ادا کیا اور وہاں سے نکل آئے۔ لیکن مجھے فاروق کی نظروں میں کچھ اور ہی نظر آیا تھا۔ کچھ ایسا جو مجھے پریشان کر رہا تھا۔
اس دن شام کو جب میں گھر پہنچی تو ذوالفقار پہلے سے موجود تھا۔ کھانے پر وہ چپ چاپ بیٹھا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کالج میں کچھ نیا؟ ذوالفقار نے کہا۔ میں نے کہا کہ ٹرسٹ کے لیے چیک لینے گئی تھی۔ فاروق خان زادہ نے سائن کر دیا۔ وہی جس کا فنکشن میں ذکر تھا؟ ہاں وہی۔ بڑا آدمی ہے ویسے۔ ذوالفقار نے کہا اور چائے کا کپ اٹھایا۔ ہو گا۔ ہمیں کیا لینا دینا۔ میں نے مختصر جواب دیا۔
ہم دونوں خاموشی سے کھانا ختم کرنے لگے۔ لیکن میرے دل میں ایک بے چینی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ بے چینی کیوں ہے۔
کچھ دن گزرے۔ ایک دن ذوالفقار دفتر سے بہت پریشان ہو کر آیا۔ اس کا چہرہ سفید تھا اور ماتھے پر پسینہ تھا۔ میں نے گھبرا کر پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس نے کچھ نہیں کہا بس خاموشی سے بیٹھ گیا۔ میں نے پانی دیا اور پھر سے پوچھا کہ بات کیا ہے؟
ذوالفقار نے آہستہ سے کہا کہ آج دفتر میں مالک نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا تھا۔ میں گھبرا گئی اور پوچھا کہ کیا بات ہوئی؟ ذوالفقار نے کہا کہ فاروق خان زادہ نے مجھے بلایا تھا۔ میرا دل دھڑکنے لگا۔
ذوالفقار نے آگے بتایا کہ فاروق نے کہا ہے کہ تمہاری بیوی مجھے پسند ہے۔ میں اسے چاہتا ہوں۔ تم آج رات اپنی بیوی کو میرے بنگلے پر لاؤ گے۔ تمہیں منہ مانگی قیمت ملے گی۔ اگر انکار کیا تو سیدھا جیل جاؤ گے۔
میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ میں نے چونک کر پوچھا کہ کیا؟ یہ کیسی بات ہے؟ یہ کیسا آدمی ہے؟ ذوالفقار نے کہا کہ وہ بہت طاقتور ہے۔ اس کے پاس پیسہ اور اثر و رسوخ ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اگر میں نے انکار کیا تو وہ مجھے جھوٹے کیسز میں پھنسا دے گا۔ مجھے نوکری سے نکال دے گا۔
میں رونے لگی۔ میں نے کہا کہ میں نہیں جاؤں گی۔ میں اپنی عزت اس طرح نہیں بیچ سکتی۔ لیکن ذوالفقار نے کہا کہ اگر ہم نے انکار کیا تو وہ ہمیں برباد کر دے گا۔ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔
رات بھر ہم دونوں سوچتے رہے کہ کیا کریں۔
بالآخر مجبوری میں ہمیں فیصلہ کرنا پڑا۔ رات کو میں اور ذوالفقار فاروق کے بنگلے پر گئے۔ میرا دل بیٹھا ہوا تھا اور میں بہت ڈری ہوئی تھی۔ ذوالفقار کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ جب ہم بنگلے پہنچے تو فاروق نے دروازہ کھولا۔ اس نے ذوالفقار سے کہا کہ تم باہر انتظار کرو۔ یہ سن کر ذوالفقار کی آنکھوں میں آنسو آ گئے لیکن وہ کچھ نہ کہہ سکا۔
میں اندر گئی تو فاروق نے دروازہ بند کر دیا۔ اس کا چہرہ سنجیدہ تھا لیکن آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا۔ میں نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس کی پکڑ بہت مضبوط تھی۔ میں روتے ہوئے اپنی عزت کی بھیک مانگنے لگی۔ میں نے کہا کہ مجھے چھوڑ دیں۔ میں شادی شدہ عورت ہوں۔ میرا شوہر باہر ہے۔ اللہ کے لیے مجھے جانے دیں۔ میں آپ کے قدموں میں گر جاتی ہوں۔ مجھ پر رحم کریں۔
لیکن فاروق نے میری ایک نہ سنی۔ اس نے کہا کہ مت کرو یہ ڈرامہ۔ تم جیسی لڑکیاں صرف سامنے معصوم ہوتی ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں میں واقعی معصوم ہوں۔ میں نے کبھی کسی کا برا نہیں سوچا۔ میں اپنے شوہر سے محبت کرتی ہوں۔ مجھے جانے دیں۔
لیکن فاروق نے زبردستی میری عزت لوٹ لی۔ میں بس روتی رہی اور اللہ سے فریاد کرتی رہی۔ میں نے چیخنا چاہا لیکن اس نے میرا منہ بند کر دیا۔ میری زندگی کی سب سے بری رات تھی۔ جب اس کا دل بھر گیا تو اس نے کہا کہ اب تم جا سکتی ہو۔
اس نے کچھ پیسے لیے اور میرے پرس میں ڈالنے لگے تاکہ میں چپ ہو جاؤں اور گھر چلی جاؤں۔ لیکن جب اس نے میرا پرس کھولا تو اس میں پڑی ایک تصویر کو دیکھ کر وہ چونک گیا۔ اس کے ہوش اڑ گئے۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور اس کا چہرہ سفید ہو گیا۔ وہ تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔
وہ تصویر میری والدہ صفیہ کی تھی جو میں نے اپنے پرس میں رکھی ہوئی تھی۔ یہ ان کی جوانی کی تصویر تھی جب وہ بہت خوبصورت تھیں۔
فاروق نے تصویر کو ہاتھ میں لیا اور مجھ سے کانپتی آواز میں پوچھا کہ یہ کون ہے؟ میں نے رو رو کر کہا کہ یہ میری والدہ ہیں۔ فاروق نے کہا کہ تمہاری والدہ کا نام کیا ہے؟ میں نے کہا کہ صفیہ۔
یہ سنتے ہی فاروق کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ اس نے کہا کہ نہیں... یہ نہیں ہو سکتا... تم صفیہ کی بیٹی ہو؟ وہ زمین پر بیٹھ گیا اور اپنا سر پکڑ لیا۔
میں نے حیرت سے پوچھا کہ آپ میری والدہ کو جانتے ہیں؟ فاروق نے کہا کہ جانتا ہوں؟ میں اس سے محبت کرتا تھا۔ وہ میری زندگی تھی۔
فاروق نے مجھے بتایا کہ تیس سال پہلے جب وہ نوجوان تھا تو اس نے صفیہ سے محبت کی تھی۔ وہ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ لیکن صفیہ کے والدین نے ان کی شادی سے انکار کر دیا تھا کیونکہ فاروق اس وقت غریب تھا۔ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ صفیہ کی شادی اللہ رکھا سے کر دی گئی تھی جو ایک اچھے گھرانے سے تھے۔
فاروق نے بتایا کہ وہ اپنی محبت کو کبھی نہیں بھولا۔ اس نے خود کو کام میں لگا دیا اور دن رات محنت کی۔ اس نے دولت کمائی اور ایک بڑا بزنس مین بن گیا۔ لیکن اس کے دل میں ہمیشہ صفیہ کی یاد رہی۔ وہ کبھی شادی نہیں کر سکا کیونکہ اس کے دل میں صرف صفیہ تھی۔
اب جب اس نے مجھے دیکھا تو اسے صفیہ کی جھلک نظر آئی۔ میری آنکھیں میری والدہ سے ملتی جلتی تھیں۔ اس نے مجھ پر نظر ڈالی اور مجھے پانا چاہا۔ لیکن اب جب اسے پتا چلا کہ میں صفیہ کی بیٹی ہوں تو وہ شرمندہ ہو گیا۔
فاروق روتے ہوئے کہنے لگا کہ میں نے کیا کر دیا۔ میں نے بہت بڑا گناہ کر دیا۔ میں نے اپنی محبت کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی۔ میں اس قابل نہیں کہ زندہ رہوں۔
میں بھی روتی رہی۔ میرا دل ٹوٹ چکا تھا۔ میری عزت لٹ چکی تھی۔ میں کیسے اپنے شوہر کو منہ دکھاؤں؟ میں کیسے اپنی والدہ کو بتاؤں کہ ان کی محبت کرنے والے نے ان کی بیٹی کے ساتھ کیا کیا؟ میں بے بس تھی۔
کچھ دن بعد فاروق نے ذوالفقار کو دفتر میں بلایا۔ اس نے کہا کہ سنو ذوالفقار میں تمہاری بیوی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ تم اسے طلاق دے دو۔ میں تمہیں جو مانگو گے دوں گا۔ اگر تم نے انکار کیا تو میں تمہیں جھوٹے کیسز میں پھنسا دوں گا۔ تم جیل جاؤ گے۔
ذوالفقار کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ ایک طرف اس کی بیوی سے محبت تھی اور دوسری طرف نوکری اور جان کا خوف۔ فہرست ملی رقم کا خیال، روزگار کا خوف اور فاروق کی طاقت یہ سب مل کر اسے اس فیصلے کے قریب لے جا رہے تھے۔
کچھ دنوں بعد فاروق نے میرے والد اللہ رکھا کو بھی بلایا۔ اس نے ان سے بڑی عزت سے پیش آتے ہوئے کہا کہ میں تمہاری بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ رکھا کو بہت خوشی ہوئی کہ ایک امیر اور بااثر آدمی ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ یہ ان کے لیے فخر کی بات تھی۔
فاروق نے سب کو سمجھایا کہ ذوالفقار نے عائشہ کو طلاق دے دی ہے کیونکہ ان کی مرضیاں نہیں ملتی تھیں۔ اب عائشہ آزاد ہے۔ عدت کے بعد میں اس سے شادی کروں گا۔ میں اسے ہر خوشی دوں گا۔
میری والدہ صفیہ نے میرے ہاتھ تھامے اور کہا کہ بیٹی ہم تمہاری خوشی چاہتے ہیں۔ اگر تم سمجھتی ہو کہ وہ تمہیں سنبھال سکتا ہے تو مان جاؤ۔ اب تو تمہاری عدت بھی پوری ہونے والی ہے۔ زندگی ایک موقع اور دیتی ہے بعض اوقات۔
میں سب کچھ دیکھ رہی تھی لیکن خاموش تھی۔ میری زبان پر تالا لگا ہوا تھا۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتی تھی۔ تین دن بعد احمد دین نے فاروق کو اجازت دے دی۔
بالآخر عدت کے بعد فاروق نے مجھ سے شادی کر لی۔ رخصتی کے وقت ماں کی آنکھیں نم تھیں مگر میری آنکھوں میں آنسو تک نہ تھے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سارا منظر دھندلا لگ رہا تھا جیسے یہ سب میرے ساتھ نہیں کسی اور کے ساتھ ہو رہا ہو۔
شادی کے بعد میں فاروق کے بنگلے میں رہنے لگی۔ لیکن میرا دل ہمیشہ روتا رہتا تھا۔ ایک دن میں نے فاروق سے کہا کہ تم نے مجھے پیسے اور طاقت سے خریدا ہے۔ تم نے صرف اپنے غرور سے فیصلہ سنایا۔ اگر تم کہو کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو میں کہوں گی کہ محبت میں اختیار چھینا نہیں دینا ہوتا ہے۔
فاروق نے سر جھکا لیا اور کہا کہ میں نے تمہیں کھونا نہیں چاہا تھا۔ میں نے کہا کہ تم نے مجھے کبھی پایا ہی نہیں خان زادہ صاحب۔
کچھ دن بعد فاروق نے گاڑی نکالنے کا حکم دیا۔ اس کا موڈ بہت خراب تھا۔ وہ اکیلا گاڑی میں بیٹھ کر شہر سے باہر چلا گیا۔ اس نے سیکرٹری کے پیغامات کو نظر انداز کیا۔
شام کو مجھے ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی۔ میں نے فون اٹھایا تو ہسپتال کے عملے کی آواز تھی۔ فاروق خان زادہ کا ٹریفک ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ حالت تشویشناک ہے۔ آپ فوراً پہنچیں۔
میں فوراً ہسپتال پہنچی۔ پوری رات اس کے بستر کے پاس بیٹھی رہی۔ صبح جب فاروق نے آنکھیں کھولیں تو اس نے کہا کہ عائشہ میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا۔ میں تمہیں آزاد کرتا ہوں۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ تم جاؤ اور ذوالفقار کے پاس واپس چلی جاؤ۔
کچھ دن بعد میں ذوالفقار سے ملی۔ اس نے کہا کہ میں تمہارا انتظار کر رہا تھا۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ ہم نے دوبارہ شادی کر لی۔
یہ کہانی سکھاتی ہے کہ زبردستی کی محبت کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔
آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہے تو ہماری ایک اور دلچسپ اور جذباتی کہانی پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر ضرور جائیں۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/03/ghareeb-bhai-ka-lifafa-emotional-urdu.html
Disclaimer
یہ کہانی صرف تعلیمی اور سبق آموز مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس میں بیان کیے گئے کردار اور واقعات کا کسی حقیقی شخص یا واقعے سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ اگر کسی کی زندگی سے مشابہت ہو جائے تو اسے محض اتفاق سمجھا جائے۔

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."