دل کو چھو لینے والی سبق آموز اسلامی کہانی
تعارف
یہ ایک خوبصورت اور سبق آموز اسلامی کہانی ہے جو ہمیں صبر، ایمان اور اچھے اخلاق کی اہمیت سکھاتی ہے۔ اس کہانی میں ایسے واقعات بیان کیے گئے ہیں جو انسان کو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہر کردار کے ذریعے ایک مضبوط پیغام دیا گیا ہے جو دل پر اثر چھوڑتا ہے۔
میرا نام ماریہ ہے۔ میری زندگی کی کہانی شاید آپ کو عجیب لگے، مگر یہ سچ ہے۔ میں نے سلمان سے محبت کی، اپنے گھر والوں سے لڑی، اپنے ابو کے آنسو دیکھے، اپنی ماں کی التجائیں سنیں، مگر پھر بھی اپنی پسند پر ڈٹی رہی۔ مجھے یقین تھا کہ سلمان مجھ سے محبت کرتا ہے اور یہی محبت ہماری زندگی کو خوبصورت بنائے گی۔ شادی کی تیاریاں ہوئیں، رسمیں ہوئیں، مہندی لگی، اور پھر وہ رات آئی جس کا مجھے برسوں سے انتظار تھا۔
شادی کی رات میں نے سرخ جوڑا پہنا تھا۔ آئینے میں خود کو دیکھا تو دل بھر آیا۔ ماں نے آنکھوں میں آنسو لیے مجھے رخصت کیا۔ ابو نے میرا ہاتھ تھاما اور صرف اتنا کہا کہ بیٹا خوش رہنا۔ میں گاڑی میں بیٹھی تو دل میں ہزار ارمان تھے، ہزار خواب تھے۔ سوچ رہی تھی کہ اب ایک نئی زندگی شروع ہو گی، ایک نیا گھر ہو گا، ایک نیا رشتہ ہو گا۔
مگر جب سلمان کمرے میں آیا تو اس کے چہرے پر خوشی نہیں تھی۔ وہ خاموش تھا، سنجیدہ تھا، جیسے کوئی بوجھ اٹھائے ہو۔ میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا مگر اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ میں نے پوچھا کیا ہوا، طبیعت ٹھیک نہیں؟ اس نے لمبی سانس لی اور بولا ماریہ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔
میرا دل ڈوبا۔ شادی کی رات ضروری بات؟
اس نے بتایا کہ رخسانہ آپا نے خواب دیکھا ہے۔ خواب میں انہیں بتایا گیا ہے کہ اگر ہم نے ایک سال سے پہلے میاں بیوی کا تعلق قائم کیا تو ہم دونوں میں سے کسی ایک کی جان چلی جائے گی۔ اس لیے ایک سال تک ہم الگ الگ کمروں میں رہیں گے اور ایک دوسرے کے قریب نہیں آئیں گے۔
میں حیران رہ گئی۔ میں پڑھی لکھی لڑکی تھی، سائنس کی طالبہ رہی تھی، ان باتوں پر یقین نہیں کرتی تھی۔ میں نے سلمان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں، خواب سے زندگی نہیں چلتی، ہمارا اپنا ذہن، اپنی عقل ہوتی ہے۔ مگر سلمان کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو عقل سے نہیں جاتا۔ اس نے کہا ماریہ رخسانہ آپا کے خواب ہمیشہ سچ ہوتے ہیں، میں ان سے بڑھ کر کسی کو نہیں جانتا، وہ میری ماں کی جگہ ہیں۔
اس رات میں اکیلی بیٹھی رہی اور سوچتی رہی۔ یہ رخسانہ آپا کون ہیں جن کا اتنا اثر ہے؟
اگلے دن میں نے انہیں دیکھا۔ وہ ہمیشہ کالے لباس میں رہتی تھیں۔ ہاتھ میں تسبیح، چہرہ صاف شفاف، بڑی بڑی آنکھیں، اور ایک عجیب سا رعب جو کمرے میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوتا تھا۔ ناک میں بس ایک چھوٹی سی لونگ تھی۔ وہ بہت کم بولتی تھیں مگر جب بولتی تھیں تو سب خاموش ہو جاتے تھے۔ سلمان اور اس کا چھوٹا بھائی حمزہ ہمیشہ ان کے قدموں میں بیٹھتے تھے جیسے دو چھوٹے بچے اپنی ماں کے پاس بیٹھتے ہیں۔
میری جیٹھانی ثمرہ مجھ سے پہلے اس گھر میں آئی تھی۔ پہلے دن ہی اس نے مجھے ایک طرف لے جا کر آہستہ سے کہا ماریہ اس گھر میں اپنی عقل مت چلانا، رخسانہ آپا کی بات مانتی رہنا، ورنہ تمہاری زندگی مشکل ہو جائے گی۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ وہ خود ڈری ہوئی تھی، اس کی آنکھوں میں ایک تھکاوٹ تھی جو مہینوں کی نہیں بلکہ سالوں کی تھی۔
گھر کی نوکرانی پروین بھی عجیب تھی۔ وہ رخسانہ آپا کی خاص تھی اور اس وجہ سے پورے گھر میں من مانی کرتی تھی۔ ہمیں ایسے دیکھتی جیسے ہم مہمان ہوں اور وہ اس گھر کی مالکن ہو۔ میں نے پہلے ہفتے میں ہی سمجھ لیا کہ اس گھر میں میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔
مگر میں نے صبر کیا۔ سوچا کہ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ سلمان مجھ سے محبت کرتا ہے، یہ کافی ہے۔ مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ تو صرف شروعات تھی، اصل آزمائش ابھی آنی تھی۔
ایک مہینہ گزر گیا۔ میں اس گھر میں رہتی تھی مگر اجنبی کی طرح۔ سلمان صبح اٹھتا، ناشتہ کرتا، اور دفتر چلا جاتا۔ شام کو آتا تو رخسانہ آپا کے کمرے میں چلا جاتا۔ رات کو تھکا ہوا اپنے کمرے میں سو جاتا۔ میں بس انتظار کرتی رہتی۔ کبھی کبھی وہ مجھ سے بات کرتا تو دل کو سکون ملتا مگر وہ لمحے بہت کم تھے۔
رخسانہ آپا کے پاس روز عورتیں آتی تھیں۔ دوپہر تک گھر میں عجیب سا ماحول رہتا۔ کوئی دم کروانے آتی، کوئی تعویذ لینے آتی، کوئی اپنا دکھ سنانے آتی۔ رخسانہ آپا سب کو جواب دیتیں، سب کو تسلی دیتیں، سب کا کام کرتیں۔ لوگ انہیں بہت مانتے تھے۔ میں دور سے دیکھتی رہتی اور سوچتی کہ آخر اس عورت میں ایسا کیا ہے جو سب اس کے آگے جھکتے ہیں۔
ایک رات مجھے نیند نہیں آئی۔ میں بستر پر لیٹی تھی کہ اچانک ایک عجیب آواز آئی۔ پہلے لگا شاید وہم ہے مگر آواز بار بار آتی رہی۔ میں اٹھی اور دروازے کے پاس کھڑی ہو گئی۔ آواز باہر سے آ رہی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو باہر اندھیرا تھا۔ میرا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ میں نے سلمان کو جگایا اور اس آواز کے بارے میں بتایا۔ اس نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا ماریہ یہ تمہارا وہم ہے، سو جاؤ۔ وہ پلٹ کر سو گیا اور میں اکیلی بیٹھی رہی۔
اگلے دن میں نے ثمرہ سے بات کی۔ اس نے میری بات سنی اور چاروں طرف دیکھا جیسے کوئی سن نہ لے۔ پھر آہستہ سے بولی ماریہ اس گھر میں بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو سمجھ نہیں آتا۔ میں نے پہلے تمہاری طرح سوالات کیے تھے مگر اب نہیں کرتی۔ بس خاموش رہو۔ میں نے پوچھا کیوں؟ اس نے صرف آنکھیں جھکا لیں اور چلی گئی۔
کچھ دن بعد میں اپنی ماں کے گھر گئی۔ ماں نے مجھے دیکھا تو فوراً سمجھ گئی کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اس نے میرا چہرہ ہاتھوں میں لیا اور پوچھا بیٹا سب ٹھیک ہے؟ میں نے مسکرانے کی کوشش کی مگر آنسو نکل آئے۔ ماں نے مجھے گلے لگا لیا اور میں بچوں کی طرح رو دی۔ میں نے سب کچھ بتایا، رخسانہ آپا کا خواب، سلمان کا رویہ، اس گھر کا عجیب ماحول۔ ماں خاموشی سے سنتی رہی۔ پھر بولی بیٹا صبر کرو، اللہ سب ٹھیک کرے گا۔
مگر ابھی اور آزمائشیں باقی تھیں۔
ایک رات میں پانی لینے اٹھی اور غلطی سے حمزہ کے کمرے کے سامنے سے گزری۔ دروازہ تھوڑا کھلا تھا۔ میں نے اندر جھانکا نہیں مگر آواز آئی۔ میں سمجھ گئی کہ کمرے میں کوئی اور بھی ہے۔ میں جلدی سے واپس آ گئی۔ مگر اگلی صبح رخسانہ آپا نے مجھے بلایا اور سب کے سامنے کہا کہ تم رات کو جان بوجھ کر حمزہ کے کمرے کے سامنے گئی تھیں۔ میرا منہ کھلا رہ گیا۔ میں نے کہا آپا میں پانی لینے گئی تھی۔ مگر انہوں نے میری بات نہیں سنی۔ سلمان بھی خاموش رہا۔ میرا دل چاہا کہ سب کچھ چھوڑ کر چلی جاؤں مگر پاؤں نہیں اٹھے۔
اس رات سلمان نے مجھ سے بات نہیں کی۔ میں اکیلی بیٹھی سوچتی رہی کہ میری غلطی کیا ہے؟ میں نے اپنے گھر والوں کو چھوڑا، ان کی خوشی کو ٹھکرایا، سب کچھ اس آدمی کے لیے کیا۔ مگر آج وہ آدمی میری بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ میں نے جائے نماز بچھائی اور دو رکعت نماز پڑھی۔ سجدے میں جا کر بس اتنا مانگا کہ یا اللہ مجھے راستہ دکھا۔
کچھ دن بعد سلمان نے ایک ایسی بات بتائی جس نے سب کچھ بدل دیا۔ وہ کہنے لگا کہ ایک دن وہ اپنے کلائنٹ کے ساتھ لنچ پر گیا تھا۔ وہاں اس نے رخسانہ آپا کو ایک انجان مرد کے ساتھ دیکھا۔ وہ مرد کوئی اجنبی نہیں لگتا تھا۔ دونوں بہت قریب بیٹھے تھے۔ سلمان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ بول رہا تھا مگر لفظ اٹک رہے تھے۔ اس نے کہا ماریہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیا تھا۔ رخسانہ آپا تو ہمیشہ کہتی ہیں کہ وہ ایک دینی سینٹر میں درس دینے جاتی ہیں۔
میں نے سلمان کا ہاتھ تھاما۔ پہلی بار اس نے میرا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ وہ روتا رہا اور میں اسے سنبھالتی رہی۔ مجھے اس وقت احساس ہوا کہ سلمان بھی ایک شکار ہے، وہ بھی اس جال میں پھنسا ہوا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسے اپنے جال کا احساس نہیں۔
اس رات میں نے سوچا کہ اب کچھ کرنا ہو گا۔ خاموش بیٹھنے کا وقت گزر چکا تھا۔
اگلے کچھ دن میں نے خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہنے کا فیصلہ کیا۔ میں سمجھ چکی تھی کہ شور مچانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ رخسانہ آپا کا جادو اس گھر پر اتنا گہرا تھا کہ کوئی بھی میری بات نہیں مانتا۔ سلمان کو بھی میں اچانک کچھ نہیں سمجھا سکتی تھی۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ پہلے سب کچھ جانوں گی، پھر بولوں گی۔ میں نے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں، کان کھلے رکھے، اور زبان بند رکھی۔
ایک دوپہر رخسانہ آپا کے پاس آنے والی عورتیں چلی گئیں تو گھر میں سناٹا چھا گیا۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی کہ اچانک مجھے باہر دبی دبی آواز سنائی دی۔ میں نے کتاب رکھی اور غور سے سنا۔ آواز رخسانہ آپا کے کمرے سے آ رہی تھی۔ وہ فون پر بات کر رہی تھیں اور آواز میں وہ رعب نہیں تھا جو عام طور پر ہوتا تھا، بلکہ آواز میں ایک نرمی تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ میں دروازے کے قریب آ گئی اور الفاظ سمجھنے کی کوشش کی مگر صاف نہیں سنائی دیا۔ تھوڑی دیر بعد آواز بند ہو گئی۔
میں واپس اپنے کمرے میں آ گئی اور سوچنے لگی۔ سلمان نے جو بات بتائی تھی وہ میرے ذہن میں گھوم رہی تھی۔ وہ مرد کون تھا جس کے ساتھ رخسانہ آپا کو دیکھا گیا تھا؟ اور وہ آواز فون پر کس سے بات کر رہی تھیں؟ میرے ذہن میں سوال تھے مگر جواب نہیں تھے۔
اس رات سلمان گھر آیا تو معمول سے زیادہ خاموش تھا۔ کھانا کھاتے وقت بھی کچھ نہیں بولا۔ میں نے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے کہا کچھ نہیں، بس تھکا ہوا ہوں۔ مگر میں جانتی تھی کہ بات صرف تھکاوٹ کی نہیں ہے۔ اس کی آنکھوں میں وہی کشمکش تھی جو اس دن تھی جب اس نے مجھے رخسانہ آپا والی بات بتائی تھی۔
اگلے دن صبح رخسانہ آپا نے اعلان کیا کہ وہ تین دن کے لیے باہر جا رہی ہیں۔ کسی نے نہیں پوچھا کہاں جا رہی ہیں۔ بس سب نے سر جھکا لیا۔ پروین نوکرانی ان کا سامان تیار کرنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ایک گاڑی آئی اور رخسانہ آپا چلی گئیں۔
اس دن گھر کا ماحول بالکل بدل گیا۔ جیسے کوئی بھاری پتھر اٹھ گیا ہو۔ ثمرہ پہلی بار کھل کر ہنسی۔ حمزہ نے اونچی آواز میں گانا لگایا۔ یہاں تک کہ پروین بھی کچھ نرم ہو گئی۔ سلمان شام کو جلدی گھر آیا اور پہلی بار مجھ سے لمبی بات کی۔ ہم دونوں نے چھت پر بیٹھ کر چائے پی۔ وہ مسکرا رہا تھا اور میرا دل بھر آیا۔ کاش ہمیشہ ایسا ہو۔
اسی رات ثمرہ میرے کمرے میں آئی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور کہا ماریہ میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا بتاؤ۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اور بولی رخسانہ آپا کے بارے میں جو تم سوچتی ہو وہ سب غلط نہیں ہے۔ میں بھی پہلے سے جانتی ہوں مگر کبھی بولنے کی ہمت نہیں کر پائی۔ میں نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک فیصلے کی چمک تھی۔
ثمرہ نے بتایا کہ کچھ مہینے پہلے وہ رخسانہ آپا کی الماری سے ان کا دوپٹہ لینے گئی تھی۔ آپا نے خود کہا تھا کہ لے آؤ۔ الماری کھولی تو اندر ایک بند لفافہ تھا جو غلطی سے کھل گیا۔ اس میں کچھ تصویریں تھیں اور ایک نکاح نامہ تھا۔ نکاح نامے پر رخسانہ آپا کا نام تھا اور ساتھ میں ایک مرد کا نام تھا جو اس گھر کا کوئی فرد نہیں تھا۔ ثمرہ کے ہاتھ کانپے، اس نے سب واپس رکھا اور کسی کو نہیں بتایا۔
میں نے ثمرہ کی بات سن کر گہری سانس لی۔ سلمان نے جو دیکھا تھا اور ثمرہ نے جو پایا تھا، دونوں باتیں ایک ہی سمت اشارہ کر رہی تھیں۔ رخسانہ آپا کا نیک پن، ان کا رعب، ان کے خواب، یہ سب ایک ایسا جال تھا جو انہوں نے اپنے بھائیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بنایا تھا تاکہ کوئی ان کے اصلی راز تک نہ پہنچ سکے۔
مگر سوال یہ تھا کہ اب کیا کیا جائے؟
میں نے ثمرہ سے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کرنا، صبر کرو۔ وقت آنے دو۔ ثمرہ نے کہا کتنا انتظار کریں ماریہ؟ میں نے کہا بس تھوڑا۔ اللہ خود راستہ نکالے گا۔
تین دن بعد رخسانہ آپا واپس آئیں۔ مگر اس بار ان کے ساتھ ایک مرد بھی تھا۔ انہوں نے سب کو بتایا کہ یہ ان کے پرانے جاننے والے ارسلان بھائی ہیں، دینی کام کے سلسلے میں آئے ہیں۔ سلمان اور حمزہ نے احترام سے سلام کیا۔ مگر میں نے غور سے دیکھا۔ رخسانہ آپا کی آنکھوں میں ارسلان کے لیے جو محبت تھی وہ کسی پرانے جاننے والے کی نہیں تھی۔
اس رات میں نے سلمان سے کہا کہ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ سلمان نے کہا کیا بات ہے؟ میں نے کہا ثمرہ نے جو دیکھا تھا وہ بتایا، اور تم نے جو دیکھا تھا وہ یاد دلایا۔ سلمان کا چہرہ سفید ہو گیا۔ اس نے کہا ماریہ یہ بہت بڑی بات ہے، ہم غلطی پر بھی ہو سکتے ہیں۔ میں نے کہا ہاں ہو سکتے ہیں، اس لیے کچھ کرنے سے پہلے یقین کر لینا ضروری ہے۔
اگلے دن ارسلان بھائی کے جانے کے بعد میں نے رخسانہ آپا کے کمرے کے باہر وہ آواز دوبارہ سنی۔ اس بار صاف سنائی دی۔ وہ رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ مجھے ڈر ہے کہ ایک دن سب جان جائیں گے۔
میرا دل بھاری ہو گیا۔ میں نے سوچا تھا کہ رخسانہ آپا ایک چالاک عورت ہیں مگر اس لمحے انہیں سنا تو لگا کہ وہ بھی کسی نہ کسی طرح پھنسی ہوئی ہیں۔ شاید ان کی اپنی کہانی بھی اتنی آسان نہیں تھی۔
اب سچ سامنے آنے کا وقت قریب تھا۔
وہ رات بہت لمبی تھی۔ میں بستر پر لیٹی تھی مگر نیند نہیں آ رہی تھی۔ ذہن میں بس ایک ہی سوال گھوم رہا تھا کہ اب کیا ہو گا۔ رخسانہ آپا کا رونا، ان کی وہ آواز جو میں نے سنی تھی، وہ مجھے بار بار یاد آ رہی تھی۔ میں نے جائے نماز بچھائی اور دیر تک سجدے میں پڑی رہی۔ آنسو بہتے رہے اور میں مانگتی رہی کہ یا اللہ جو بھی ہو سچائی کے ساتھ ہو، کسی کو ناحق تکلیف نہ ہو۔
صبح ہوئی تو گھر میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ سلمان ناشتے کی میز پر بیٹھا تھا مگر کھانا نہیں کھا رہا تھا۔ حمزہ بھی چپ تھا۔ رخسانہ آپا ابھی تک اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھیں۔ ثمرہ نے مجھے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ کچھ ہونے والا ہے۔
پھر اچانک سلمان نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور کہا آج مجھے رخسانہ آپا سے بات کرنی ہے۔ حمزہ نے چونک کر بھائی کی طرف دیکھا۔ سلمان کی آواز میں وہ کمزوری نہیں تھی جو پہلے ہوتی تھی۔ آواز میں ایک درد تھا مگر ساتھ میں ایک فیصلہ بھی تھا۔ میرا دل زور سے دھڑکا۔
تھوڑی دیر بعد رخسانہ آپا کمرے سے نکلیں۔ ہمیشہ کی طرح کالا لباس، ہاتھ میں تسبیح، چہرے پر رعب۔ مگر آج ان کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ لگتا تھا رات بھر روئی ہیں۔ انہوں نے سب کو دیکھا اور اپنی کرسی پر بیٹھ گئیں۔
سلمان نے آہستہ سے کہا آپا مجھے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔ رخسانہ آپا نے تسبیح کے دانے گھماتے ہوئے کہا پوچھو۔ سلمان نے گہری سانس لی اور بولا آپا وہ مرد کون تھے جن کے ساتھ میں نے آپ کو ہوٹل میں دیکھا تھا؟ اور ارسلان بھائی کون ہیں جو کل آئے تھے؟
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ پروین نوکرانی جو باہر کھڑی تھی وہ بھی رک گئی۔ رخسانہ آپا کے ہاتھ میں تسبیح رک گئی۔ ایک لمحے کے لیے ان کا چہرہ بالکل خالی ہو گیا، پھر انہوں نے آنکھیں اٹھائیں اور سلمان کو دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں۔
حمزہ نے کہا بھائی کیا ہو رہا ہے؟ سلمان نے کہا حمزہ ثمرہ نے آپا کی الماری میں نکاح نامہ دیکھا ہے، ارسلان بھائی کے ساتھ۔ حمزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔ اس نے رخسانہ آپا کی طرف دیکھا۔ رخسانہ آپا کی تسبیح ہاتھ سے گر گئی اور دانے فرش پر بکھر گئے۔
پھر جو ہوا وہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
رخسانہ آپا نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور اس طرح رونے لگیں جیسے برسوں کا بوجھ ایک ساتھ اتر رہا ہو۔ ان کے کندھے ہل رہے تھے، سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ وہ رعب دار رخسانہ آپا جن کے سامنے سب سر جھکاتے تھے، آج ایک کمزور عورت کی طرح رو رہی تھیں۔
میں اپنی جگہ سے اٹھی۔ سلمان نے مجھے روکنے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر میں آگے چلی گئی۔ میں نے رخسانہ آپا کے سامنے بیٹھ کر آہستہ سے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔ انہوں نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں حیرت تھی کہ جس عورت کو میں نے اتنا ستایا وہ آج میرا ہاتھ تھام رہی ہے۔
میں نے کہا آپا آپ رو کیوں رہی ہیں؟ انہوں نے کانپتے لبوں سے کہا ماریہ میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا، سب کے ساتھ غلط کیا۔ میں نے کہا آپا غلطی آپ نے کی مگر غلطی ان لوگوں نے بھی کی جنہوں نے آپ کی اپنی ضروریات کبھی نہیں سوچیں۔ آپ بھی ایک انسان ہیں، آپ کو بھی ایک زندگی چاہیے تھی۔
رخسانہ آپا پھر رونے لگیں۔ انہوں نے ہچکیوں کے درمیان بتایا کہ ارسلان ان کا شوہر ہے۔ انہوں نے چند سال پہلے نکاح کیا تھا۔ مگر وہ کسی کو نہیں بتا سکتی تھیں کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ بھائی ناراض ہوں گے، گھر چھوڑنا پڑے گا، اور پھر وہ اکیلی ہو جائیں گی۔ اس ڈر نے انہیں ایک جھوٹی زندگی میں قید کر دیا تھا۔ خواب والی باتیں، تعویذ والی باتیں، یہ سب انہوں نے اس لیے بنائی تھیں تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کرے، کوئی ان کی زندگی میں جھانکنے کی کوشش نہ کرے۔
سلمان کھڑا سن رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ حمزہ نے دیوار کا سہارا لیا جیسے اچانک طاقت چلی گئی ہو۔ ثمرہ چپ چاپ رو رہی تھی۔
سلمان نے کانپتی آواز میں کہا آپا آپ کو صرف ایک بار بتانا تھا۔ رخسانہ آپا نے کہا بیٹا مجھے ڈر تھا کہ تم مجھے چھوڑ دو گے۔ تمہاری ماں کے جانے کے بعد تم دونوں ہی میری زندگی تھے۔ میں ڈر گئی تھی کہ اگر میں نے اپنی زندگی بنائی تو تم بھی مجھ سے دور ہو جاؤ گے۔
یہ الفاظ سنتے ہی سلمان آگے بڑھا اور آپا کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس نے کہا آپا آپ نے ہمیں اتنا کمزور سمجھا؟ ہم آپ کو کبھی نہیں چھوڑتے۔ حمزہ بھی آگے بڑھا اور آپا کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ تینوں رو رہے تھے۔ برسوں کی دیواریں ایک لمحے میں ڈھے گئیں۔
اس دن رخسانہ آپا کو ارسلان بھائی کے ساتھ باعزت رخصت کیا گیا۔ جاتے وقت ان کے پاؤں کانپ رہے تھے۔ انہوں نے دروازے پر رک کر پلٹا اور مجھے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں شکریے کے آنسو تھے۔ میں نے مسکرا دیا۔
اس رات سلمان نے پہلی بار میرا ہاتھ تھاما اور کہا ماریہ مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہارے ساتھ ظلم کیا، تمہاری بات نہیں سنی، تمہیں اکیلا چھوڑتا رہا۔ میری آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے کہا سلمان ظلم تم نے نہیں کیا، ڈر نے کیا۔ آج سے کوئی ڈر نہیں، کوئی خواب نہیں، کوئی تعویذ نہیں۔ بس ہم دونوں ہیں اور ہمارا گھر ہے۔
سلمان نے میری طرف دیکھا اور پہلی بار اس کی مسکراہٹ میں وہ سکون تھا جو میں شادی کی پہلی رات سے ڈھونڈ رہی تھی۔
کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا آئی اور دور سے اذان کی آواز گونجی۔
میں نے آنکھیں بند کیں اور دل میں کہا۔۔۔
یا اللہ شکر ہے، تو نے میری سن لی۔
اور سچ یہ ہے کہ جو عورت ٹوٹتی نہیں، جو عورت صبر کرتی ہے، جو عورت دوسروں کو بھی معاف کرنا جانتی ہے، اللہ اسے وہ گھر دیتا ہے جو اس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا ہوتا۔
Disclaimer
یہ کہانی صرف تعلیمی اور اخلاقی مقصد کے لیے پیش کی گئی ہے۔ اس کا کسی حقیقی شخص یا واقعہ سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ یہ مواد فیملی فرینڈلی ہے اور صرف رہنمائی اور سبق حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."