قسمت کا فیصلہ اور اللہ کی حکمت
تعارف:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان جتنا بھی منصوبہ بنا لے، اصل فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
کبھی کبھی جو ہمیں برا لگتا ہے، وہی ہمارے لیے بہتر ہوتا ہے۔
یہ ایک سبق آموز اور ایمان کو مضبوط کرنے والی کہانی ہے۔
میرا نام سعدیہ ہے اور میں اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی میری زندگی میں سب کچھ تھا مگر قسمت نے بچپن میں ہی مجھ سے سب کچھ چھین لیا تھا ایک حادثے میں میرے ماں باپ دنیا سے چلے گئے اور میں اکیلی رہ گئی تھی میرے والدین نے اپنی زندگی میں ہی اپنی ساری جائیداد میرے نام کر دی تھی شاید انہیں اپنے انجام کا اندازہ ہو گیا تھا ان کی وفات کے بعد میری سوتیلی خالہ مجھے اپنے گھر لے آئیں شروع میں وہ مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھتی تھیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی نیت بدلنے لگی ان کی نظریں میری جائیداد پر تھیں اور وہ چاہتی تھیں کہ میری شادی ان کے بیٹے سے ہو جائے تاکہ سب کچھ ان کے قبضے میں آ جائے
خالہ کے تین بیٹے تھے جن میں سب سے بڑا فہد تھا وہ شروع سے ہی بہت نرم دل اور سمجھدار تھا وہ میرے دکھ کو محسوس کرتا تھا اور ہمیشہ میرا خیال رکھتا تھا وقت گزرتا گیا اور ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے خالہ چاہتی تھیں کہ میری شادی ان کے دوسرے بیٹے سے ہو جو ایک ٹانگ سے معذور تھا مگر فہد نے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ مجھے کسی لالچ کا حصہ نہیں بننے دے گا اور وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے خالہ نے بہت ہنگامہ کیا مگر آخرکار فہد کے سامنے ہار مان لی اور ہماری شادی ہو گئی
نکاح کے وقت فہد نے ایسا کام کیا جس نے مجھے حیران کر دیا اس نے اپنے حصے کی ساری جائیداد اور یہ گھر میرے نام کر دیا تاکہ میں ہمیشہ محفوظ رہوں اس نے کہا سعدیہ تم نے بچپن میں بہت دکھ سہے ہیں اب میں تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا اس کی باتوں میں سچائی تھی اور اس کے ساتھ گزارا ہر دن میرے لیے جنت جیسا تھا وہ میرے لیے شوہر سے بڑھ کر ایک محافظ اور دوست تھا وہ میری ہر خوشی کا خیال رکھتا تھا اور مجھے کبھی احساس نہیں ہونے دیتا تھا کہ وہ معذور ہے بلکہ وہ اپنے حوصلے سے ہر مشکل کو آسان بنا دیتا تھا
ہماری زندگی سکون سے گزر رہی تھی مگر شاید یہ خوشیاں زیادہ دیر کے لیے نہیں تھیں ایک رات فہد اپنی ڈیوٹی پر گیا ہوا تھا کہ اچانک فون آیا اور میری دنیا اندھیرے میں ڈوب گئی مجھے بتایا گیا کہ فہد ایک حادثے میں شدید زخمی ہو گیا ہے میں بھاگتی ہوئی ہسپتال پہنچی مگر وہاں پہنچ کر مجھے جو خبر ملی اس نے میری روح تک ہلا دی فہد مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا چکا تھا
میرے لیے وہ لمحہ قیامت سے کم نہیں تھا میرا سہارا میری دنیا میرا سب کچھ مجھ سے چھن گیا تھا میں کئی دن تک اس صدمے سے باہر نہیں آ سکی مگر اصل امتحان ابھی باقی تھا فہد کی وفات کو چالیس دن بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ میری ساس اور دیور نے اپنا اصل رنگ دکھا دیا انہوں نے مجھے دھوکے سے کاغذات پر انگوٹھا لگوا لیا اور ساری جائیداد اپنے نام کر لی میں کچھ سمجھ بھی نہ سکی اور ایک دن انہوں نے مجھے گھر سے دھکے دے کر نکال دیا
میں سڑک پر کھڑی تھی میرے پاس نہ گھر تھا نہ سہارا نہ کوئی اپنا تھا صرف ایک چیز میرے پاس تھی وہ ڈبہ جو فہد نے اپنی موت سے کچھ دن پہلے مجھے دیا تھا اور کہا تھا کہ اسے سنبھال کر رکھنا میں نے اس ڈبے کو اپنے سینے سے لگا لیا اور بے بسی کے عالم میں سڑک پر چلنے لگی مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری زندگی اب کس طرف جانے والی ہے مگر مجھے یہ احساس ضرور تھا کہ اس ڈبے میں میری قسمت کا کوئی بڑا راز چھپا ہوا ہے جو ابھی سامنے آنا باقی تھا
میں سڑکوں پر بے سہارا بھٹک رہی تھی ہاتھ میں وہی چھوٹا سا ڈبہ تھا جو فہد نے مجھے دیا تھا اور دل میں ایک عجیب سا خوف اور بے بسی تھی رات گہری ہو رہی تھی اور میرے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا میں نے ایک پارک کے کونے میں بنچ پر بیٹھ کر آنکھیں بند کر لیں اور خود سے سوال کرنے لگی کہ آخر میری زندگی میں یہ سب کیوں ہو رہا ہے کبھی ماں باپ کا سایہ چھن گیا کبھی شوہر جیسا سچا انسان مجھ سے جدا ہو گیا اور اب گھر بھی چھن گیا میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور آنسوؤں کے ساتھ اللہ سے مدد مانگی
چند گھنٹے اسی حالت میں گزر گئے صبح ہوئی تو میں نے خود کو سنبھالا اور سوچا کہ مجھے ہمت نہیں ہارنی چاہیے فہد ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ مشکل وقت میں انسان کا اصل امتحان ہوتا ہے میں نے فیصلہ کیا کہ میں ہار نہیں مانوں گی اور کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی دوبارہ سنبھالوں گی میں نے شہر کے ایک کونے میں ایک چھوٹے سے مکان میں کرائے پر رہنا شروع کر دیا وہ مکان بہت پرانا اور خستہ حال تھا مگر میرے لیے وہی ایک پناہ گاہ تھی میں نے گھر گھر جا کر کام مانگنا شروع کیا کہیں برتن دھوتی کہیں کپڑے دھوتی اور کہیں بچوں کی دیکھ بھال کرتی بس کسی طرح دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہو جاتا تھا
ہر رات سونے سے پہلے میں وہ ڈبہ اپنے سامنے رکھ کر بیٹھ جاتی اور اسے کھولنے کا سوچتی مگر پھر فہد کی بات یاد آتی کہ اسے سنبھال کر رکھنا اور میں خود کو روک لیتی تھی میرے دل میں عجیب سا یقین تھا کہ جب صحیح وقت آئے گا تب ہی یہ ڈبہ کھولنا چاہیے دن گزرتے جا رہے تھے مگر میرے دل کا بوجھ کم نہیں ہو رہا تھا ایک طرف غربت اور تنہائی تھی دوسری طرف اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا دکھ تھا
ایک دن میں کام سے واپس آ رہی تھی کہ راستے میں میری ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی وہ ایک مسجد کے باہر بیٹھے تھے اور بہت کمزور لگ رہے تھے میں نے ان کے پاس جا کر پوچھا کہ کیا آپ کو کسی مدد کی ضرورت ہے انہوں نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا بیٹی اللہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا تم نے اپنے دکھوں کے باوجود کسی اور کا درد محسوس کیا میں نے انہیں کچھ کھانا دیا اور تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھ گئی نہ جانے کیوں ان کی باتوں سے میرے دل کو سکون مل رہا تھا
انہوں نے اچانک مجھ سے کہا بیٹی تمہارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے مگر اللہ انصاف ضرور کرتا ہے تمہارے شوہر نے تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا اس نے تمہارے لیے کچھ ایسا چھوڑا ہے جو تمہاری تقدیر بدل دے گا میں یہ سن کر حیران رہ گئی کیونکہ میں نے اپنے حالات کسی کو نہیں بتائے تھے میں نے گھبرا کر پوچھا آپ کو یہ سب کیسے معلوم ہے تو وہ مسکرا کر خاموش ہو گئے اور کہا جب وقت آئے گا سب خود سمجھ آ جائے گا
ان کی باتیں میرے دل میں اتر گئی تھیں اس دن کے بعد میں نے اس ڈبے کے بارے میں اور زیادہ سوچنا شروع کر دیا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ شاید یہی وہ راز ہے جو میری زندگی کو بدل سکتا ہے میں نے خود کو مضبوط کیا اور فیصلہ کیا کہ اب میں ڈرنے کے بجائے حقیقت کا سامنا کروں گی
اس رات میں نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور وہ ڈبہ اپنے سامنے رکھ لیا میرے ہاتھ کانپ رہے تھے دل تیزی سے دھڑک رہا تھا جیسے کوئی بہت بڑا راز کھلنے والا ہو میں نے آہستہ سے ڈبہ کھولا اور جیسے ہی میری نظر اندر پڑی تو میری سانس رک گئی میرے ہاتھ سے ڈبہ تقریباً گر ہی گیا کیونکہ اس کے اندر جو کچھ تھا وہ میری سوچ سے بھی زیادہ حیران کن تھا اور اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ فہد نے میرے لیے صرف ایک ڈبہ نہیں چھوڑا بلکہ ایک ایسا سچ چھوڑا تھا جو میری پوری زندگی کا رخ بدلنے والا تھا
ڈبہ کھلتے ہی میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور سانس جیسے سینے میں ہی رک گئی تھی اس کے اندر صرف کوئی عام چیز نہیں تھی بلکہ ایک فائل تھی کچھ کاغذات تھے ایک چھوٹی سی ڈائری تھی اور ایک ویڈیو ریکارڈنگ والی یو ایس بی رکھی ہوئی تھی میرے ہاتھ کانپ رہے تھے میں نے سب سے پہلے وہ کاغذات اٹھائے اور انہیں غور سے دیکھنا شروع کیا چند لمحوں میں ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ وہی جائیداد کے اصل کاغذات تھے جن پر میرے نام کی واضح تحریر موجود تھی اور ان پر قانونی مہر بھی لگی ہوئی تھی یعنی جو کچھ میری ساس اور دیور نے مجھ سے چھینا تھا وہ سب جھوٹ اور دھوکہ تھا اصل حق ابھی بھی میرا تھا
میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مگر اس بار یہ کمزوری کے نہیں بلکہ ایک عجیب سی طاقت کے آنسو تھے میں نے فوراً وہ ڈائری کھولی جس کے پہلے صفحے پر فہد کی صاف اور پہچانی ہوئی لکھائی تھی اس نے لکھا تھا سعدیہ اگر تم یہ ڈبہ کھول رہی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں مگر میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر کبھی نہیں جا سکتا تھا اس لیے میں نے تمہارے لیے سب کچھ پہلے سے محفوظ کر دیا ہے مجھے معلوم تھا کہ میرے بعد میرے اپنے ہی تمہارے ساتھ ظلم کریں گے اس لیے میں نے ساری جائیداد کے اصل کاغذات الگ رکھ دیے ہیں اور باقی جعلی کاغذات ان کے حوالے کر دیے ہیں تاکہ وہ خود اپنے جال میں پھنس جائیں
یہ پڑھ کر میرے دل میں فہد کے لیے محبت اور بھی بڑھ گئی اس نے اپنی زندگی میں بھی میرا ساتھ دیا اور مرنے کے بعد بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑا تھا میں نے اگلا صفحہ کھولا تو اس میں ایک وکیل کا نام اور نمبر لکھا تھا اور ساتھ ہدایت تھی کہ اگر کبھی تمہیں انصاف کی ضرورت ہو تو اس شخص سے رابطہ کرنا وہ تمہاری مدد کرے گا اس کے بعد میں نے یو ایس بی کو دیکھا میرے دل میں عجیب سا خوف اور تجسس تھا میں نے فوراً ایک چھوٹا سا لیپ ٹاپ ادھار لے کر وہ ویڈیو چلائی
ویڈیو میں فہد میرے سامنے تھا زندہ اور مسکراتا ہوا مگر اس کی آنکھوں میں ایک گہری سنجیدگی تھی وہ کہہ رہا تھا سعدیہ اگر تم یہ ویڈیو دیکھ رہی ہو تو سمجھ لو کہ میرا خدشہ سچ ثابت ہوا ہے مجھے اپنے گھر والوں کی نیت پر کبھی اعتبار نہیں تھا مگر میں تمہیں ڈرانا نہیں چاہتا تھا اس لیے خاموش رہا میں نے ہر چیز قانونی طور پر تمہارے نام کر دی ہے اور اس کی مکمل ثبوت اس ڈبے میں رکھ دی ہے تمہیں صرف ہمت کرنی ہے اور اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا ہے یاد رکھنا ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے
یہ الفاظ میرے دل میں بجلی کی طرح گرے تھے میں نے اسی لمحے فیصلہ کر لیا کہ اب میں مزید خاموش نہیں رہوں گی میں نے اگلے ہی دن اس وکیل سے رابطہ کیا جس کا ذکر فہد نے کیا تھا وہ ایک نہایت ایماندار اور تجربہ کار شخص تھا اس نے میرے تمام کاغذات دیکھے اور کہا کہ تمہارے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے مگر فکر نہ کرو ہم یہ کیس جیت سکتے ہیں بس تمہیں ہمت رکھنی ہوگی
کچھ ہی دنوں میں عدالت میں کیس دائر کر دیا گیا میری ساس اور دیور کو جب اس بات کا پتہ چلا تو وہ پہلے تو ہنسے اور مجھے کمزور سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے مگر جب انہیں اصل کاغذات اور ثبوت دکھائے گئے تو ان کے چہروں کا رنگ اڑ گیا تھا عدالت میں ہر پیشی میرے لیے ایک امتحان تھی مگر فہد کی باتیں مجھے حوصلہ دیتی تھیں میں ہر بار مضبوط ہو کر کھڑی ہوتی اور سچ کے ساتھ ڈٹی رہتی
آخرکار وہ دن آ گیا جب فیصلہ سنایا جانا تھا میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور آنکھیں دروازے پر جمی ہوئی تھیں جیسے ہی جج نے فیصلہ سنایا تو میرے قدموں تلے زمین ہل گئی کیونکہ یہ فیصلہ نہ صرف میرے حق میں تھا بلکہ اس میں ایک ایسا موڑ تھا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا اور میری زندگی ایک نئے راستے پر چل پڑی تھی
جج کی آواز عدالت میں گونجی اور ہر لفظ میرے دل پر اثر کر رہا تھا فیصلہ میرے حق میں سنایا گیا تھا عدالت نے واضح طور پر کہا کہ جائیداد کے اصل کاغذات سعدیہ کے نام ہیں اور ساس اور دیور نے دھوکہ دہی اور جعل سازی کی ہے اس لیے نہ صرف ساری جائیداد مجھے واپس دی جائے بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مگر اس بار یہ آنسو دکھ کے نہیں بلکہ سکون کے تھے جیسے برسوں کا بوجھ میرے دل سے اتر گیا ہو
میری ساس اور دیور کے چہرے زرد پڑ چکے تھے وہ لوگ جو مجھے کمزور سمجھتے تھے آج عدالت میں سر جھکائے کھڑے تھے انہیں اپنی حرکتوں کا جواب مل چکا تھا مگر اس لمحے میرے دل میں بدلہ لینے کی آگ نہیں تھی بلکہ ایک عجیب سا سکون تھا کیونکہ مجھے میرا حق مل چکا تھا اور فہد کی امانت محفوظ ہو گئی تھی میں نے عدالت سے باہر نکلتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں فہد کا شکریہ ادا کیا جس نے مرنے کے بعد بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا تھا
میں واپس اسی گھر میں آئی جہاں سے مجھے ذلیل کر کے نکالا گیا تھا مگر آج حالات بدل چکے تھے یہ گھر اب واقعی میرا تھا ہر دیوار ہر کمرہ مجھے فہد کی یاد دلا رہا تھا میں نے اس گھر کو دوبارہ سنبھالنا شروع کیا مگر اس بار میرے اندر ایک نئی سوچ پیدا ہو چکی تھی میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس گھر کو صرف اپنے لیے نہیں رکھوں گی بلکہ اسے ان لوگوں کے لیے بھی کھولوں گی جو میرے جیسے حالات کا شکار ہوتے ہیں
چند ہی مہینوں میں میں نے اس گھر کو ایک چھوٹے سے فلاحی مرکز میں بدل دیا جہاں بے سہارا عورتوں کو پناہ دی جاتی تھی انہیں ہنر سکھایا جاتا تھا تاکہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں میں ہر اس عورت میں اپنا عکس دیکھتی تھی جو ظلم کا شکار ہو کر ٹوٹ چکی تھی اور میں انہیں یہ سکھاتی تھی کہ کمزوری نہیں بلکہ ہمت ہی انسان کو زندہ رکھتی ہے
ایک دن وہی بزرگ دوبارہ مجھے ملے جو مسجد کے باہر بیٹھے تھے میں نے انہیں اپنے گھر بلایا اور ساری کہانی سنائی وہ مسکرا کر بولے بیٹی میں نے کہا تھا نا اللہ انصاف ضرور کرتا ہے تم نے صبر کیا اور اللہ نے تمہیں تمہارا حق بھی دیا اور ایک مقام بھی دیا آج تم صرف ایک مظلوم عورت نہیں بلکہ کئی عورتوں کی امید بن چکی ہو ان کی باتیں سن کر میرے دل میں ایک عجیب سی روشنی پھیل گئی
اسی دوران میری ساس ایک دن میرے دروازے پر آئی وہ بہت کمزور اور ٹوٹی ہوئی لگ رہی تھی اس کی آنکھوں میں پچھتاوا تھا وہ میرے قدموں میں بیٹھ گئی اور روتے ہوئے بولی مجھے معاف کر دو میں نے لالچ میں آ کر بہت بڑا ظلم کیا ہے میں نے اسے اٹھایا اور کہا کہ میں نے تمہیں معاف کیا کیونکہ اگر میں بھی نفرت میں ڈوب جاتی تو میں بھی تم جیسی بن جاتی معافی دینا ہی اصل جیت ہے
اس دن کے بعد میری زندگی ایک نئی سمت میں چل پڑی تھی میں نے سیکھ لیا تھا کہ دکھ انسان کو توڑتے نہیں بلکہ مضبوط بناتے ہیں اگر انسان ہمت نہ ہارے فہد کی محبت اور اس کی دور اندیشی نے مجھے نہ صرف میرا حق دلایا بلکہ مجھے ایک مقصد بھی دیا تھا آج بھی جب میں رات کو سونے سے پہلے اس ڈبے کو دیکھتی ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے فہد کہیں نہ کہیں سے مجھے دیکھ کر مسکرا رہا ہے
یہ کہانی صرف میری نہیں بلکہ ہر اس عورت کی ہے جو ظلم کا شکار ہوتی ہے مگر اگر وہ ہمت نہ ہارے تو ایک دن سچ ضرور جیتتا ہے اور یہی اس کہانی کا اصل نچوڑ ہے کہ اللہ دیر کرتا ہے مگر اندھیر نہیں کرتا اور جو صبر کے ساتھ اپنے حق کے لیے کھڑا ہو جائے وہ کبھی ہار نہیں سکتا
Disclaimer:
یہ کہانی صرف نصیحت اور سبق کے مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کا کسی حقیقی واقعے یا شخصیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کسی سے مماثلت ہو تو وہ محض اتفاقیہ ہے۔

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."