ایک بیٹی کا صبر اور سلطان کا بے مثال انصاف
تعارف
یہ کہانی ایک ایسی معصوم لڑکی کی ہے جس کی زندگی ایک لمحے میں بدل جاتی ہے۔ ظلم کا شکار ہونے کے باوجود وہ ہمت نہیں ہارتی اور اپنے باپ کے ساتھ انصاف کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ صبر، حوصلے اور سچائی کی ایک بڑی مثال ہے جو دل کو چھو لیتی ہے۔
قدیم شہر حمیر کے ایک کچے سے محلے میں عبدالرحمن نام کا ایک بوڑھا شخص اپنی اکلوتی بیٹی عائشہ کے ساتھ رہتا تھا وقت نے اس کے جسم کو جھکا دیا تھا مگر اس کی غیرت اور خودداری آج بھی قائم تھی اس کی بیوی کئی سال پہلے دنیا چھوڑ چکی تھی اور اس دن کے بعد اس نے اپنی بیٹی کو ماں اور باپ دونوں بن کر پالا تھا وہ دن رات محنت کرتا رہا مگر بڑھاپے نے اس کے ہاتھوں سے طاقت چھین لی تھی اب وہ پہلے جیسا کام نہیں کر سکتا تھا اور حالات دن بدن مشکل ہوتے جا رہے تھے
عائشہ ایک سادہ مگر باہمت لڑکی تھی اس نے بچپن سے ہی تنگی دیکھی تھی مگر اس کے چہرے پر کبھی شکوہ نہیں آیا وہ اپنے باپ کی خدمت کرتی اور چھوٹے موٹے کام کر کے گھر کا سہارا بنتی مگر اب حالات اس حد تک خراب ہو چکے تھے کہ ان کے گھر میں کئی دن سے چولہا نہیں جلا تھا نہ اناج تھا نہ پیسے اور نہ کوئی ایسا ذریعہ جس سے وہ کچھ حاصل کر سکیں
ایک شام عبدالرحمن گھر کے کونے میں بیٹھا گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا اس کی آنکھوں میں بے بسی صاف نظر آ رہی تھی وہ بار بار اپنی بیٹی کی طرف دیکھتا اور دل ہی دل میں ٹوٹ جاتا کہ وہ اپنی اولاد کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں دے پا رہا عائشہ نے اپنے باپ کی حالت دیکھی تو اس کا دل بھر آیا مگر اس نے خود کو مضبوط رکھا اور آہستہ سے کہا ابا جان آپ فکر نہ کریں اللہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالے گا
کچھ لمحے خاموشی کے بعد عائشہ نے ہمت کر کے کہا ابا جان شہر کے باہر جو بڑے زمیندار کا کھیت ہے وہاں گندم تیار کھڑی ہے مزدوروں کی ضرورت ہے اگر ہم وہاں جا کر کام مانگیں تو شاید ہمیں کچھ اناج مل جائے عبدالرحمن نے اس کی بات سنی تو اس کے دل میں امید کی ایک کرن جاگی مگر ساتھ ہی اس نے اپنی کمزوری محسوس کی اور کہا بیٹی یہ کام بہت سخت ہے تم اکیلی کیسے سنبھالو گی
عائشہ نے مسکرا کر کہا ابا جان آپ میرے ساتھ چلیں آپ بس سائے میں بیٹھ جانا میں کام کر لوں گی آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہوں گی تو سب آسان ہو جائے گا عبدالرحمن اپنی بیٹی کی ہمت دیکھ کر خاموش ہو گیا وہ جانتا تھا کہ حالات نے اس معصوم لڑکی کو وقت سے پہلے ہی مضبوط بنا دیا ہے
اگلی صبح وہ دونوں شہر کے باہر کھیتوں کی طرف نکل پڑے سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہیں تھا مگر گرمی کا احساس شروع ہو چکا تھا عائشہ نے ہاتھ میں درانتی لی اور کام شروع کر دیا وہ مسلسل جھک کر گندم کاٹتی رہی جبکہ عبدالرحمن ایک درخت کے نیچے بیٹھا اسے دیکھتا رہا اس کی آنکھوں میں فخر بھی تھا اور درد بھی کہ اس کی بیٹی اس کی خاطر اتنی محنت کر رہی ہے
دن گزرتا گیا اور عائشہ پسینے میں بھیگ گئی مگر اس نے ہمت نہیں ہاری وہ ہر بالی کو کاٹتی اور ایک طرف جمع کرتی رہی اسے امید تھی کہ شام تک کچھ اناج مل جائے گا اور ان کے گھر کا چولہا جل سکے گا مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس دن اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان اس کا انتظار کر رہا ہے
جب سورج ڈھلنے لگا اور کھیتوں میں خاموشی چھانے لگی تو عائشہ اکیلی رہ گئی باقی مزدور جا چکے تھے اور عبدالرحمن بھی تھکن کی وجہ سے سو گیا تھا عائشہ ابھی بھی کام میں مصروف تھی کہ اچانک اس کے پیچھے قدموں کی آہٹ ہوئی اس نے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی مگر اس سے پہلے ہی ایک سیاہ سایہ اس کے قریب آیا اور اس کے بعد سب کچھ اندھیرے میں ڈوب گیا
اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ لمحہ اس کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا اور اس کے بعد شروع ہونے والی کہانی صرف اس کی نہیں بلکہ ایک ایسے انصاف کی ہوگی جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا
جب عائشہ کو ہوش آیا تو سورج ڈوب چکا تھا اور کھیتوں میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی اس کا جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا اور ذہن جیسے سن ہو چکا تھا چند لمحوں تک وہ سمجھ ہی نہ سکی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے مگر جیسے جیسے یادیں واپس آئیں اس کی سانس رکنے لگی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور دل میں ایک ایسا زخم جاگ اٹھا جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہ تھا
وہ کانپتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو اس کی نظر قریب پڑے ایک مٹکے پر گئی جس پر کوئلے سے کچھ لکھا ہوا تھا اس نے لرزتے ہاتھوں سے اسے پڑھا تو اس کے قدموں تلے زمین نکل گئی اس پر بے حسی سے لکھا تھا کہ ایک گھنٹے کے لطف کا شکریہ اور معاوضہ ساتھ رکھ دیا ہے ساتھ ہی چند سکے رکھے تھے جیسے اس کی عزت کو قیمت میں تول دیا گیا ہو عائشہ نے وہ سکے اٹھا کر زور سے زمین پر پھینک دیے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
اسی دوران عبدالرحمن کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنی بیٹی کو اس حالت میں دیکھا وہ گھبرا کر اس کے پاس آیا اور بار بار پوچھنے لگا کیا ہوا مگر عائشہ کچھ بول نہ سکی وہ صرف اپنے آنسوؤں میں ڈوبی رہی آخرکار اس نے ہمت کر کے اپنے باپ کو سب کچھ بتا دیا یہ سن کر عبدالرحمن پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور آنکھوں میں خون اتر آیا مگر اس کی کمزور حالت اسے کچھ کرنے کے قابل نہ چھوڑتی تھی
کچھ دیر بعد عبدالرحمن نے اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑا اور کہا بیٹی ہم خاموش نہیں رہیں گے ہم انصاف مانگیں گے چاہے کچھ بھی ہو جائے عائشہ نے آنسو صاف کیے اور اپنے باپ کے ساتھ شہر کی طرف چل پڑی ان کے قدم بھاری تھے مگر دل میں ایک امید تھی کہ شاید انہیں انصاف مل جائے
وہ سیدھا سلطان کی عدالت میں پہنچے جہاں لوگ اپنے مسائل لے کر آتے تھے عدالت میں داخل ہوتے ہی عبدالرحمن نے بلند آواز میں فریاد کی اور اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ذکر کیا دربار میں خاموشی چھا گئی اور سب کی نظریں عائشہ پر جم گئیں جو سر جھکائے کھڑی تھی سلطان نے سنجیدگی سے پوری بات سنی اور فوراً حکم دیا کہ مجرم کو تلاش کیا جائے
سپاہیوں نے شہر اور آس پاس کے علاقوں میں تلاش شروع کر دی مگر کئی دن گزر گئے کوئی سراغ نہ ملا نہ کوئی گواہ تھا نہ کوئی پہچان صرف ایک ظلم تھا جو اندھیرے میں ہوا تھا اور اس کے نشان بھی دھندلے ہو چکے تھے عبدالرحمن کی امیدیں ٹوٹنے لگیں اور عائشہ کی آنکھوں سے آنسو خشک ہونے لگے جیسے وہ اندر سے پتھر بن گئی ہو
سلطان یہ سب دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا کہ یہ صرف ایک لڑکی کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا سوال ہے اگر آج انصاف نہ ہوا تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا کئی دن سوچنے کے بعد اس نے ایک عجیب مگر حکمت بھرا فیصلہ کیا اس نے حکم دیا کہ اسی کھیت میں جہاں یہ واقعہ ہوا تھا ایک بڑا گڑھا کھودا جائے اور اس کے اردگرد پہرہ بٹھایا جائے
لوگ حیران تھے کہ سلطان کیا کرنا چاہتا ہے مگر حکم پر عمل ہوا گڑھا تیار کیا گیا اور سلطان نے اعلان کروایا کہ جو بھی شخص اس واقعے کا ذمہ دار ہے وہ خود کو چھپا نہیں سکے گا کیونکہ سچ کو چھپانا ممکن نہیں ہوتا اب دیکھنا یہ تھا کہ اس حکمت کے پیچھے کیا راز ہے اور کیسے وہ ظالم خود سامنے آئے گا
عائشہ ہر روز اس جگہ کو دیکھتی اور دل میں دعا کرتی کہ اللہ سچ کو ظاہر کر دے کیونکہ اب اس کے پاس صبر کے سوا کچھ نہیں بچا تھا مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ آنے والے دن میں ایک ایسا انکشاف ہونے والا ہے جو سب کو حیران کر دے گا اور انصاف کا دروازہ خود بخود کھل جائے گا
سلطان کے حکم کے بعد پورے شہر میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں لوگ حیران تھے کہ آخر ایک گڑھا کھودنے سے مجرم کیسے پکڑا جائے گا مگر سلطان خاموش تھا جیسے وہ کسی گہرے راز کو جانتا ہو اور وقت کا انتظار کر رہا ہو اس نے اپنے خاص سپاہیوں کو خفیہ طور پر ہدایت دی کہ وہ اس جگہ پر نظر رکھیں اور ہر آنے جانے والے شخص پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ سچ اکثر خود اپنے قدموں سے سامنے آتا ہے
چند دن تک کچھ نہ ہوا لوگ آتے جاتے رہے مگر کوئی خاص بات نظر نہ آئی عائشہ بھی روز وہاں جاتی اور خاموشی سے اس جگہ کو دیکھتی جہاں اس کی زندگی بدل گئی تھی اس کی آنکھوں میں اب آنسو کم اور خاموش دعا زیادہ تھی وہ ہر لمحہ اللہ سے یہی مانگتی کہ اس ظالم کو بے نقاب کر دے تاکہ اس کے دل کو سکون مل سکے
چوتھے دن ایک عجیب واقعہ پیش آیا ایک شخص جو بظاہر عام سا لگ رہا تھا بار بار اس جگہ کے قریب آ کر رکتا اور پھر واپس چلا جاتا اس کے چہرے پر بے چینی تھی اور نظریں ادھر ادھر گھوم رہی تھیں جیسے وہ کسی خوف میں مبتلا ہو سپاہیوں نے اسے غور سے دیکھا مگر وہ کچھ کیے بغیر چلا گیا اسی رات وہ شخص دوبارہ آیا اور اس بار وہ آہستہ آہستہ گڑھے کے قریب پہنچا
اس نے اردگرد دیکھا جیسے یقین کرنا چاہتا ہو کہ کوئی اسے دیکھ نہیں رہا پھر وہ جھک کر گڑھے کے کنارے مٹی کو ہاتھ سے کریدنے لگا اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور سانس تیز ہو رہی تھی جیسے وہ کسی چھپی ہوئی چیز کو تلاش کر رہا ہو اچانک چھپے ہوئے سپاہی حرکت میں آئے اور اسے دبوچ لیا وہ گھبرا کر چیخنے لگا اور بھاگنے کی کوشش کرنے لگا مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی
اسے فوراً سلطان کے سامنے پیش کیا گیا دربار میں اسے دیکھ کر سب کی نظریں اس پر جم گئیں اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا اور آنکھوں میں خوف صاف نظر آ رہا تھا سلطان نے سخت لہجے میں پوچھا کہ وہ وہاں کیا کر رہا تھا پہلے تو وہ بہانے بناتا رہا مگر جب سپاہیوں نے بتایا کہ وہ مٹی میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا تو اس کے حوصلے ٹوٹ گئے
سلطان نے حکم دیا کہ اس کی مکمل تلاشی لی جائے جب اس کے کپڑوں کی تلاشی لی گئی تو اس کی جیب سے وہی سکے برآمد ہوئے جو عائشہ کے پاس چھوڑے گئے تھے اور ان پر خاص نشان بنا ہوا تھا جو شہر کے ایک مخصوص تاجر کے لین دین میں استعمال ہوتا تھا یہ دیکھ کر دربار میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں اور عائشہ نے کانپتی ہوئی نظروں سے اس شخص کو دیکھا
سلطان نے دوبارہ سوال کیا تو اس بار وہ شخص ٹوٹ گیا اس نے روتے ہوئے اعتراف کر لیا کہ اسی نے عائشہ کے ساتھ ظلم کیا تھا اس نے بتایا کہ وہ ایک امیر تاجر کا بیٹا ہے اور اسے یقین تھا کہ کوئی اسے پہچان نہیں سکے گا اس نے سوچا تھا کہ چند سکے دے کر وہ اس جرم کو چھپا لے گا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی اپنی بے چینی اسے پکڑوا دے گی
دربار میں خاموشی چھا گئی عبدالرحمن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر اس بار یہ آنسو درد کے نہیں بلکہ اس سچ کے سامنے آنے کے تھے جس کا وہ انتظار کر رہا تھا عائشہ کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی جیسے ایک بوجھ ہلکا ہو گیا ہو مگر زخم ابھی بھی تازہ تھا
سلطان نے سنجیدگی سے سب کچھ سنا اور کہا کہ اب فیصلہ ہوگا ایسا فیصلہ جو نہ صرف اس لڑکی کو انصاف دے گا بلکہ آنے والے وقت کے لیے ایک مثال بھی بنے گا اب سب کی نظریں سلطان پر تھیں کہ وہ کیا حکم سنائے گا کیونکہ یہ لمحہ صرف ایک فیصلے کا نہیں بلکہ ایک تاریخ کا تھا جو لکھی جانے والی تھی
دربار میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی ہر نظر سلطان پر جمی ہوئی تھی اور ہر دل اسی فیصلے کا انتظار کر رہا تھا جو نہ صرف ایک بیٹی کے درد کا جواب ہوگا بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثال بھی بنے گا سلطان نے کچھ لمحے آنکھیں بند رکھیں جیسے وہ ہر پہلو کو تول رہا ہو پھر اس نے آنکھیں کھولیں اور اس کی آواز دربار میں گونج اٹھی
اس نے مجرم کی طرف دیکھا اور کہا تم نے صرف ایک لڑکی کے ساتھ ظلم نہیں کیا بلکہ انسانیت کو شرمندہ کیا ہے تم نے اس کی عزت کو قیمت میں تولنے کی کوشش کی اور یہ سب سے بڑا جرم ہے تم نے یہ سمجھا کہ دولت تمہیں بچا لے گی مگر آج تمہاری حقیقت سب کے سامنے ہے سلطان کے الفاظ ہر دل میں اتر رہے تھے اور مجرم کا سر شرم سے جھک چکا تھا
پھر سلطان نے حکم سنایا کہ اس شخص کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کا گناہ کرنے سے پہلے سو بار سوچے اس کے ساتھ ساتھ اس نے اعلان کیا کہ عائشہ کی عزت اور وقار کو مکمل تحفظ دیا جائے گا اور اسے معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کا حق دیا جائے گا اس فیصلے کے ساتھ ہی دربار میں ایک عجیب سا سکون پھیل گیا جیسے انصاف نے اپنا راستہ پا لیا ہو
عبدالرحمن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مگر اس بار یہ آنسو کمزوری کے نہیں بلکہ شکر کے تھے اس نے اپنی بیٹی کا ہاتھ تھاما اور آہستہ سے کہا بیٹی اللہ نے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا عائشہ نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور اس کے دل میں ایک نئی طاقت پیدا ہوئی وہ جان گئی تھی کہ صبر اور سچ کبھی ضائع نہیں جاتے
کچھ دنوں بعد شہر کے لوگوں کا رویہ بدلنے لگا پہلے جو نظریں سوال کرتی تھیں اب وہ عزت دینے لگیں لوگ اس کے صبر اور حوصلے کی مثال دینے لگے عائشہ نے بھی اپنے ماضی کے زخموں کو اپنے اندر دفن کر دیا اور ایک نئی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کیا وہ اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی تھی اس نے یہ سیکھ لیا تھا کہ انسان کا اصل مقام اس کی نیت اور صبر سے بنتا ہے نہ کہ لوگوں کی باتوں سے
عبدالرحمن بھی اب پہلے سے مطمئن تھا اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو چکا تھا وہ جانتا تھا کہ اس کی بیٹی نے ایک بہت بڑا امتحان صبر سے گزار لیا ہے اور اللہ نے اسے سرخرو کیا ہے اس نے عائشہ سے کہا بیٹی زندگی ہمیں آزماتی ضرور ہے مگر اگر ہم ہمت نہ ہاریں تو یہی آزمائش ہمیں مضبوط بنا دیتی ہے
وقت گزرتا گیا اور عائشہ کی زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آنے لگی مگر اس کے دل میں وہ سبق ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا کہ عزت کسی کی دی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو صبر کرتا ہے وہ کبھی خالی ہاتھ نہیں رہتا
کہانی کا نچوڑ یہی ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی چھپایا جائے ایک دن بے نقاب ضرور ہوتا ہے اور جو صبر کے ساتھ سچ کا ساتھ دیتا ہے اللہ اسے وہ عزت دیتا ہے جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا اصل کامیابی بدلہ لینے میں نہیں بلکہ انصاف اور صبر میں ہے
Disclaimer
Yeh kahani sirf taleemi aur samaji rehnumai ke liye likhi gayi hai. Is ka maqsad buraiyon ki nishاندہی aur insaf ki ahmiyat ko ujagar karna hai. Is mein kisi bhi ghalat amal ko promote karna maqsood nahi hai.

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."