ایک سبق آموز اسلامی کہانی جو دل کو جھنجھوڑ دے
تعارف
یہ ایک ایسی سبق آموز اسلامی کہانی ہے جو انسان کو اپنی زندگی پر غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اس کہانی میں صبر، ایمان اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ بعض اوقات انسان مشکل حالات میں گھبرا جاتا ہے مگر اللہ کی رحمت ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ کہانی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ ہر حال میں صبر اور شکر اختیار کرنا چاہیے۔ امید ہے یہ کہانی آپ کے دل کو ضرور چھو جائے گی۔
میرا نام نادیہ ہے اور میری کہانی ایسی ہے جو شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ میری زندگی کی حقیقت ہے، میرے والد کا نام اسلم تھا اور وہ اسلام آباد میں ایک چھوٹا سا کاروبار کرتے تھے، میری تین بڑی بہنیں تھیں اور میں سب سے چھوٹی تھی، میرے والد ایک بہت نیک دل انسان تھے لیکن انہیں بیٹا نہیں ہوا تھا اس لیے لوگ اکثر ان سے کہتے تھے کہ اسلم تمہاری قسمت میں بیٹا نہیں ہے لیکن میرے والد کبھی مایوس نہیں ہوئے، وہ کہتے تھے کہ بیٹیاں بھی اللہ کی نعمت ہیں اور میں اپنی بیٹیوں سے بہت خوش ہوں، لیکن پھر بھی ان کے دل میں ایک بیٹے کی تمنا تھی۔
میرے والد نے بہت دعائیں مانگیں اور صدقے دیے تاکہ اللہ انہیں ایک بیٹا دے، اور آخرکار اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور میری والدہ ایک بیٹے کو جنم دیا، میرے والد کی خوشی کی کوئی حد نہیں رہی، انہوں نے پورے محلے میں مٹھائیاں بانٹیں اور اپنے بیٹے کا نام حسان رکھا، حسان کی پیدائش کے بعد میرے والد کا کاروبار بھی بہت اچھا چلنے لگا، وہ کہتے تھے کہ میرے بیٹے نے میرے گھر میں برکت لائی ہے، کچھ سالوں میں میرے والد نے بہت ترقی کی، انہوں نے ایک بڑا مکان بنوایا، گاڑیاں خریدیں، اور ایک کامیاب آدمی بن گئے۔
لیکن جیسے جیسے حسان بڑا ہوتا گیا، میرے والد کا رویہ بدلنے لگا، وہ حسان سے بہت محبت کرتے تھے اور ہم چاروں بہنوں کو نظر انداز کرنے لگے، میری بڑی بہنوں کی شادیاں ہو گئیں لیکن میرے والد نے ان کے جہیز میں بہت کم خرچ کیا، وہ کہتے تھے کہ میں اپنی دولت اپنے بیٹے کے لیے بچا رہا ہوں، میری بہنوں کو بہت تکلیف ہوئی لیکن وہ خاموش رہیں، پھر جب میں سولہ سال کی ہوئی تو میرے والد کا انتقال ہو گیا، انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اچانک چل بسے، ہمارے گھر میں ماتم چھا گیا۔
میرے والد کی موت کے بعد سب کچھ بدل گیا، حسان اس وقت صرف گیارہ سال کا تھا لیکن میرے والد نے اپنی ساری جائیداد اس کے نام کر دی تھی، میری والدہ نے حسان کو پالنا شروع کیا، وہ اسے بہت لاڈ پیار کرتیں اور اس کی ہر خواہش پوری کرتیں، حسان بڑا ہو کر ایک بہت لالچی اور خود غرض آدمی بن گیا، جب وہ اکیس سال کا ہوا تو اس نے کہا کہ اب یہ مکان میرا ہے اور تمام جائیداد میری ہے، میری والدہ نے کہا کہ بیٹا یہ سب تمہارا ہی ہے لیکن میں اور تمہاری بہن نادیہ بھی تو یہیں رہتے ہیں۔
حسان نے کہا کہ میں اب شادی کرنا چاہتا ہوں اور مجھے اس مکان میں اپنی بیوی کے ساتھ رہنا ہے، تم لوگ کہیں اور چلے جاؤ، میری والدہ یہ سن کر بہت روئیں اور کہا کہ بیٹا یہ کیا کہہ رہے ہو؟ ہم کہاں جائیں گے؟ حسان نے کہا کہ یہ میری مرضی ہے، تم لوگ یہاں نہیں رہ سکتے، میری والدہ نے بہت منتیں کیں لیکن حسان نہیں مانا، آخرکار میری والدہ نے کہا کہ ٹھیک ہے، ہم چلے جائیں گے لیکن نادیہ کی شادی کر دو، حسان نے کہا کہ ٹھیک ہے میں نادیہ کی شادی کر دوں گا۔
لیکن حسان کے ارادے بہت برے تھے، وہ میری جائیداد میں سے حصہ نہیں دینا چاہتا تھا، اس نے سوچا کہ اگر میری شادی کسی ایسے آدمی سے کر دی جائے جو کچھ نہیں کر سکتا تو وہ میری جائیداد پر قبضہ کر لے گا، اس لیے اس نے میری شادی ایک ایسے شخص سے کرنے کا فیصلہ کیا جو گونگا اور ذہنی طور پر کمزور تھا، اس شخص کا نام کامران تھا اور وہ ہمارے محلے میں ہی رہتا تھا، لوگ اسے پاگل کہتے تھے کیونکہ وہ بول نہیں سکتا تھا اور عجیب حرکتیں کرتا تھا۔
حسان نے کامران کے والد سے بات کی اور کہا کہ میں اپنی بہن کی شادی آپ کے بیٹے سے کرنا چاہتا ہوں، کامران کے والد حیران ہوئے اور کہا کہ لیکن میرا بیٹا تو گونگا ہے، وہ بول نہیں سکتا، حسان نے کہا کہ کوئی بات نہیں، میری بہن بھی بہت سادہ ہے، وہ خوش رہے گی، کامران کے والد نے خوشی سے ہاں کر دی کیونکہ انہیں لگا کہ ان کے بیٹے کی قسمت اچھی ہے، میری والدہ نے جب یہ بات سنی تو وہ بہت روئیں اور کہا کہ یہ کیا ظلم ہے؟ لیکن حسان نے نہیں سنا۔
شادی کا دن آ گیا، میں بہت ڈری ہوئی تھی، میں نہیں جانتی تھی کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے، شادی کی تقریب بہت سادہ تھی، کوئی خاص مہمان نہیں آئے، بس چند لوگ تھے، جب میری رخصتی ہوئی تو میری والدہ زار و قطار روئیں، میں نے ان سے کہا کہ امی، میں ٹھیک ہو جاؤں گی، آپ فکر نہ کریں، لیکن میرا دل کہہ رہا تھا کہ کچھ غلط ہونے والا ہے۔
جب میں کامران کے گھر پہنچی تو یہ ایک بہت چھوٹا سا مکان تھا جو ایک تنگ گلی میں تھا، کامران کے والدین نے مجھے اچھے سے استقبال کیا اور مجھے ایک کمرے میں لے گئے، انہوں نے کہا کہ بیٹی، یہ تمہارا کمرہ ہے، کامران ابھی آئے گا، میں بہت گھبرائی ہوئی تھی اور نہیں جانتی تھی کہ کیا ہونے والا ہے، میں بستر کے کونے میں بیٹھ گئی اور انتظار کرنے لگی، کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور کامران اندر آیا۔
کامران کو دیکھ کر میں اور زیادہ ڈر گئی، وہ بہت لمبا اور مضبوط جسم کا آدمی تھا، اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا، وہ میری طرف نہیں دیکھ رہا تھا بلکہ کمرے میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، میں نے سوچا کہ شاید وہ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے لیکن بول نہیں سکتا، لیکن پھر اس نے ایک عجیب کام کیا، اس نے اپنی جیب سے ایک پرانا اور بوسیدہ کاغذ نکالا اور اسے دیوار پر لگے آئینے پر چپکا دیا، میں حیرت سے دیکھتی رہی کہ وہ کیا کر رہا ہے۔
پھر کامران نے اپنی جیب سے ایک مارکر نکالا اور اس کاغذ پر کچھ لکھنا شروع کیا، میں نے دھیان سے دیکھا تو میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ اس نے جو نام لکھا وہ میرے والد کا نام تھا، اس نے لکھا تھا اسلم، میں سمجھ نہیں پائی کہ یہ کیا ہو رہا ہے، کیوں اس نے میرے والد کا نام لکھا؟ پھر اس نے مزید لکھا، میں آپ کا دوست تھا، میں نے کاغذ کو غور سے پڑھا تو اس میں لکھا تھا کہ میں کامران نہیں ہوں، میرا اصل نام فرحان ہے اور میں آپ کے والد کا بہترین دوست تھا۔
میں حیران رہ گئی، میں نے کاغذ کی طرف دیکھا اور پھر کامران یعنی فرحان کی طرف دیکھا، اس نے پھر کچھ لکھا، میں گونگا نہیں ہوں، میں بول سکتا ہوں، لیکن میں نے اپنی شناخت چھپائی ہوئی ہے، میں نے پوچھا کہ لیکن کیوں؟ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے لکھا کہ آپ کے بھائی حسان نے آپ کو دھوکہ دیا ہے، اس نے آپ کی شادی مجھ سے اس لیے کی ہے تاکہ آپ کی جائیداد پر قبضہ کر سکے، لیکن وہ نہیں جانتا کہ میں کون ہوں۔
میں نے کہا کہ لیکن آپ کون ہیں؟ آپ میرے والد کے دوست کیسے ہو سکتے ہیں؟ فرحان نے لکھا کہ میں اور آپ کے والد بچپن کے دوست تھے، ہم نے ایک ساتھ کاروبار شروع کیا تھا، لیکن ایک دن ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا اور ہم الگ ہو گئے، آپ کے والد نے کاروبار میں بہت ترقی کی لیکن میں ناکام ہو گیا، میں نے بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوا، پھر میں بیمار ہو گیا اور میری آواز چلی گئی، ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ ایک عارضی مسئلہ ہے لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوا۔
فرحان نے لکھا کہ جب آپ کے والد کا انتقال ہوا تو میں نے سنا کہ ان کی بیٹی یتیم ہو گئی ہے اور اس کا بھائی اس کے ساتھ ظلم کر رہا ہے، میں نے فیصلہ کیا کہ میں آپ کی مدد کروں گا، اس لیے میں نے اپنی شناخت چھپائی اور خود کو گونگا اور ذہنی معذور ظاہر کیا تاکہ حسان مجھ سے آپ کی شادی کر دے، اور میری یہ چال کامیاب ہو گئی، اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے والد نے میرے نام پر بھی کچھ جائیداد چھوڑی تھی جو حسان نے چھپا لی ہے۔
میں یہ سب سن کر حیران رہ گئی، میں نے پوچھا کہ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ فرحان نے لکھا کہ آپ کے والد نے مرنے سے پہلے ایک وصیت لکھی تھی جس میں انہوں نے اپنی جائیداد کا کچھ حصہ میرے نام کیا تھا کیونکہ میں ان کا دوست تھا اور میں نے ان کے کاروبار میں مدد کی تھی، لیکن حسان نے وہ وصیت چھپا لی اور سب کچھ اپنے نام کر لیا، اب میں آپ کو اپنا حق دلوانا چاہتا ہوں۔
میں نے فرحان سے پوچھا کہ لیکن آپ کے پاس اس کا ثبوت کیا ہے؟ فرحان نے مسکرا کر اپنی جیب سے ایک اور کاغذ نکالا، یہ میرے والد کی اصل وصیت تھی جس میں صاف لکھا تھا کہ میری جائیداد کا ایک تہائی حصہ میری بیٹی نادیہ کا ہے، ایک تہائی میرے بیٹے حسان کا ہے، اور ایک تہائی میرے دوست فرحان کا ہے، میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی، میں نے کہا کہ لیکن حسان نے یہ وصیت کیوں چھپائی؟ فرحان نے لکھا کہ کیونکہ وہ لالچی ہے، وہ تمام جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔
فرحان نے مجھے بتایا کہ اس نے یہ وصیت میرے والد کے وکیل سے حاصل کی تھی جو میرے والد کا پرانا دوست تھا، وکیل نے فرحان کو بتایا کہ حسان نے ایک جعلی وصیت بنائی ہے اور اصل وصیت کو چھپا دیا ہے، فرحان نے کہا کہ اب ہم اس وصیت کو عدالت میں پیش کریں گے اور اپنا حق حاصل کریں گے، میں نے کہا کہ لیکن حسان بہت طاقتور ہے، وہ ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے، فرحان نے لکھا کہ فکر نہ کریں، میں نے سب کچھ پلان کر رکھا ہے۔
اگلے دن فرحان نے مجھے اپنے وکیل کے پاس لے جایا، وکیل نے ہمیں بتایا کہ ہمارے پاس مضبوط ثبوت ہیں اور ہم عدالت میں کیس جیت سکتے ہیں، ہم نے عدالت میں کیس دائر کیا، جب حسان کو پتہ چلا تو وہ بہت غصے میں آیا، اس نے مجھے فون کیا اور دھمکیاں دیں، اس نے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا؟ تم میرے خلاف کیس کیسے کر سکتی ہو؟ میں نے کہا کہ حسان، تم نے میرے ساتھ ظلم کیا، تم نے میری جائیداد چھین لی، اب میں اپنا حق لے کر رہوں گی۔
عدالتی کارروائی شروع ہوئی، دونوں طرف کے وکیلوں نے اپنے دلائل پیش کیے، حسان کے وکیل نے کہا کہ فرحان کی وصیت جعلی ہے، لیکن ہمارے وکیل نے ثابت کیا کہ حسان کی وصیت جعلی ہے، وکیل نے میرے والد کے دستخط کے ماہرین کو بلایا اور انہوں نے تصدیق کی کہ اصل وصیت فرحان والی ہے، عدالت نے حسان کی جعلی وصیت کو مسترد کر دیا اور فیصلہ ہمارے حق میں آیا، جائیداد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا، میرا حصہ، حسان کا حصہ، اور فرحان کا حصہ۔
حسان کو بہت غصہ آیا لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا، اس نے اپنا حصہ لیا اور الگ ہو گیا، میری والدہ بہت خوش ہوئیں کہ مجھے میرا حق مل گیا، فرحان نے اپنا حصہ لے کر ایک نیا کاروبار شروع کیا، اور مجھے بھی اپنے کاروبار میں شامل کیا، ہم نے مل کر محنت کی اور ہمارا کاروبار بہت اچھا چلنے لگا، فرحان نے اپنا علاج بھی شروع کیا اور کچھ مہینوں بعد اس کی آواز واپس آ گئی، جب میں نے پہلی بار اس کی آواز سنی تو میں بہت خوش ہوئی۔
فرحان نے مجھے بتایا کہ میرے والد اس کے بہترین دوست تھے اور انہوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کی تھی، لیکن جب ان میں اختلاف ہوا تو دونوں الگ ہو گئے، میرے والد نے فرحان کو معاف کر دیا تھا اور اپنی وصیت میں اسے حصہ دیا تھا، فرحان نے کہا کہ میں نے آپ کی مدد اس لیے کی کیونکہ یہ میرا فرض تھا، آپ کے والد میرے دوست تھے اور میں ان کی بیٹی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا، میں نے فرحان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ نے میری جان بچائی۔
وقت گزرتا گیا اور ہمارے درمیان محبت پیدا ہونے لگی، فرحان ایک بہت اچھا اور نیک دل انسان تھا، وہ میرا خیال رکھتا تھا اور مجھ سے بہت محبت کرتا تھا، میں بھی اس سے محبت کرنے لگی، ایک دن فرحان نے مجھ سے کہا کہ نادیہ، کیا ہم اپنی شادی کو ایک نئی شروعات دے سکتے ہیں؟ میں نے خوشی سے ہاں کہا، ہم نے دوبارہ شادی کی رسم ادا کی اور اب ہم واقعی شوہر اور بیوی تھے۔
آج ہم بہت خوش ہیں، ہمارا کاروبار اچھا چل رہا ہے، ہمارے دو پیارے بچے ہیں، اور ہم ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، میری والدہ بھی ہمارے ساتھ رہتی ہیں اور بہت خوش ہیں، حسان نے اپنا حصہ لے کر ایک اور شہر میں جا کر بس گیا، اس نے اپنی شادی کر لی اور اب وہ اپنی زندگی گزار رہا ہے، لیکن اس کا کاروبار اچھا نہیں چل رہا کیونکہ اس کی نیت برائی کی تھی۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ لالچ انسان کو برباد کر دیتا ہے، حسان نے لالچ میں اپنی بہن کے ساتھ ظلم کیا لیکن آخر میں اسے اپنا ہی نقصان ہوا، اور یہ بھی سکھاتی ہے کہ نیک دل لوگ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں، فرحان نے میری مدد کی حالانکہ اسے کوئی فائدہ نہیں تھا، وہ صرف دوستی کا حق ادا کرنا چاہتا تھا، آج میں بہت شکر گزار ہوں کہ اللہ نے مجھے فرحان جیسا شوہر دیا۔
اختتام - دوستی، ایمانداری اور نیک نیتی کا پھل اللہ ضرور دیتا ہے۔
Disclaimer
یہ کہانی صرف سبق اور رہنمائی کے لیے لکھی گئی ہے اس کا کسی حقیقی واقعے یا شخصیت سے کوئی تعلق نہیں اگر کسی سے مشابہت ہو تو یہ محض اتفاق ہے

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."