بھائی نے بہن کو ظلم سے نکالا اور عزت کا سہارا دیا
علی نے اپنی بہن کو مشکل وقت میں بچایا۔
یہ کہانی ہمت اور وفاداری کی عکاسی کرتی ہے۔
ہر شخص کے لیے سبق آموز پیغام رکھتی ہے۔
شادی کے بعد جب علی پردیس جانے لگا تو اُس نے اپنی چھوٹی بہن حنا کا ہاتھ اپنی بیوی فرحہ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا:
"اب یہ تمہاری بھی بیٹی ہے، اس کا خیال رکھنا جیسے ایک ماں رکھتی ہے۔"
فرحہ نے مسکراتے ہوئے کہا: "تم فکر نہ کرو، یہ میری اپنی بہن کی طرح رہے گی۔"
علی اطمینان سے چلا گیا۔ لیکن فرحہ کے دل میں وہ نرمی زیادہ دیر نہ رہی۔ شروع شروع میں حنا ہر کام میں اُس کی مدد کرتی، فرحہ کے ساتھ کھانا پکاتی، صفائی کرتی اور گھر کا ماحول خوشگوار رکھنے کی کوشش کرتی۔ لیکن جلد ہی فرحہ نے اپنی اصلیت دکھانی شروع کر دی۔
وہ خود تازہ کھانا کھاتی اور حنا کو باسی روٹی دے دیتی۔ اگر حنا کہتی کہ وہ بھائی سے بات کرنا چاہتی ہے تو فرحہ جھوٹ بول دیتی:
"وہ بہت مصروف ہے، مجھ سے بھی کم بات کرتا ہے۔"
آہستہ آہستہ فرحہ نے اُس کی پڑھائی بھی بند کروا دی۔ دن رات کام کروانا اُس کا معمول بن گیا۔ حنا خاموشی سے سہتی رہی، صرف کبھی کچن میں برتن دھوتے ہوئے آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔
ایک دن محلے کی عورت نسرین بیگم آئی۔ وہ عورتیں جو دوسروں کے گھریلو معاملات میں ناک ڈالتی ہیں۔ اُس نے فرحہ سے کہا:
"ایک جاننے والا ہے، بیوی مر گئی ہے، بڑا آدمی ہے۔ گھر ہے، گاڑی ہے، نوکر چاکر ہیں۔ عمر ذرا زیادہ ہے لیکن سہارا چاہیے۔ کیوں نہ تم حنا کی شادی وہیں کر دو؟"
فرحہ نے اندر ہی اندر حساب لگایا۔ دس لاکھ علی نے اپنی بہن کی شادی کے لئے دیے تھے تاکہ کسی عزت دار اور خوشحال گھرانے میں اُس کی زندگی سنور جائے۔ لیکن فرحہ نے طمع میں آکر فیصلہ کر لیا کہ یہ رقم اپنے کام میں لگائے گی اور بہن کی زندگی کسی بھی بوڑھے کے حوالے کر دے گی۔
اگلے دن اُس نے حنا کو بٹھایا اور کہا:
"تمہاری قسمت چمکنے والی ہے، ایک بہت اچھا رشتہ آیا ہے۔"
حنا نے ہچکچاتے ہوئے کہا:
"بھائی نے تو کہا تھا میری شادی وہ خود کریں گے۔"
فرحہ نے ہنس کر جواب دیا:
"یہ اُن کی خوشی ہے، سرپرائز سمجھو۔ جب وہ واپس آئیں گے تو خوش ہو جائیں گے۔"
حنا نے سر جھکا لیا، بس اتنا کہا:
"اگر آپ کو اچھا لگتا ہے تو ٹھیک ہے۔"
کچھ دنوں بعد نکاح ہو گیا۔ نہ کوئی دھوم دھام، نہ خاندان کے لوگ۔ بس چند گواہ اور محلے کی وہی عورت۔ بوڑھا دلہا، ساٹھ سال کا، اور سامنے ایک خاموش لڑکی۔ نکاح نامے پر دستخط ہوتے ہی فرحہ نے سکون کا سانس لیا جیسے اُس نے اپنے سر سے بوجھ اتار دیا ہو۔
شادی کے بعد علی فون پر بار بار پوچھتا:
"میری بہن کیسی ہے؟ خوش تو ہے نا؟"
فرحہ ہر بار یہی کہتی:
"ہاں! بہت خوش ہے، بہت اچھے گھر میں گئی ہے۔ اُس کا شوہر بڑا بزنس مین ہے۔ عزت کی زندگی گزار رہی ہے۔"
علی کی آنکھوں میں سکون آجاتا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ حنا پھٹے پرانے کپڑوں میں، غمگین آنکھوں کے ساتھ، فرحہ کے دروازے پر کبھی کبھی مانگنے آتی۔ اور فرحہ اُس کی حالت دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہوتی کہ اُس نے سب کچھ اپنے قابو میں کر رکھا ہے۔
وقت گزرتا گیا۔ علی پردیس میں دن رات محنت کرتا رہا، دل میں یہی سکون لے کر کہ اُس کی بہن اپنے نئے گھر میں خوش ہے۔ لیکن دوسری طرف حنا کی زندگی ایک ایسے اندھیرے میں ڈوب گئی تھی جہاں نہ امید کی روشنی تھی، نہ سہارا۔
بوڑھا شوہر نہ اُس کے جذبات سمجھتا تھا، نہ ضرورت۔ صرف ایک ملازمہ کی طرح اُس سے گھر کا کام لیتا اور جب دل چاہتا ڈانٹ دیتا۔ اُس کے اپنے بیٹے بیٹی بھی حنا کو قبول نہ کرتے تھے۔ وہ اکثر کہتے:
"یہ ہمارے باپ کی دولت کے پیچھے آئی ہے۔"
حنا دن رات روتی۔ اُس کے دل میں بار بار بھائی کی باتیں گونجتیں:
"میری بہن کا خیال رکھنا، اُس کو اپنی بیٹی کی طرح رکھنا۔"
لیکن حقیقت یہ تھی کہ اُس کی زندگی برباد ہو چکی تھی۔
ایک دن وہ شدید بیمار ہو گئی۔ شوہر نے پرواہ نہ کی۔ اُسے پرانی چارپائی پر ڈال کر کہا:
"دوائی کی ضرورت نہیں، آرام کر لو۔"
پڑوس کے ایک نوکر، جس کا نام عارف تھا، اکثر حنا کو پانی پلاتا اور حال پوچھتا۔ وہی واحد انسان تھا جو اُس کی حالت دیکھ کر دل ہی دل میں تڑپ جاتا۔ عارف ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا، لیکن دل کا بہت صاف اور ایمان والا تھا۔
ایک دن اُس نے حنا سے کہا:
"آپ کیوں برداشت کر رہی ہیں یہ سب؟ آپ کے بھائی کو سب کچھ بتا دینا چاہیے۔"
حنا نے نم آنکھوں سے جواب دیا:
"میرا بھائی محنت کر کے ہمارے لیے سب کچھ کر رہا ہے۔ میں اُس کا دل نہیں توڑ سکتی۔ اگر اُسے سچ معلوم ہو گیا تو وہ ٹوٹ جائے گا۔"
اسی دوران علی کو ایک دن ایک پرانا دوست ملا جو پاکستان سے واپس آیا تھا۔ اُس نے باتوں باتوں میں کہا:
"یار، تمہاری بہن کو تو میں نے دیکھا تھا… بڑی مشکل میں ہے۔"
علی چونک گیا: "کیسی مشکل؟ میری بیوی تو کہتی ہے وہ خوش ہے۔"
دوست نے صاف صاف کہا:
"تمہیں دھوکا دیا جا رہا ہے۔ تمہاری بہن ایک بوڑھے آدمی کے ساتھ رہتی ہے۔ اُس کے کپڑے پھٹے پرانے ہوتے ہیں۔ وہ اکثر رو رہی ہوتی ہے۔"
یہ سن کر علی کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اُس نے فوراً اپنی بیوی کو فون کیا:
"سچ بتاؤ، حنا کی کیا حالت ہے؟"
فرحہ نے پہلے تو جھوٹ بولا لیکن جب علی نے سختی دکھائی تو وہ گھبرا گئی۔ اُس کے ہاتھ سے موبائل گر گیا اور وہ خاموش ہو گئی۔
علی نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب وہ فوراً واپس آئے گا اور سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔
دوسری طرف، عارف روز بہ روز حنا کے قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ اُسے اللہ پر صبر رکھنے کی تلقین کرتا اور کہتا:
"اللہ کبھی کسی مظلوم کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ ایک دن ضرور انصاف ہو گا۔"
حنا اُس کی باتیں سن کر تھوڑا سکون پاتی، لیکن دل میں ایک خوف بھی تھا کہ اگر اُس کے شوہر یا اُس کی بیوی کو خبر ہو گئی تو عارف کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
یہی حالات تھے جب ایک دن اچانک علی گھر آ گیا۔ اُس کی آنکھوں میں غصہ اور دل میں آگ تھی۔
علی نے جب پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا تو اُس کا دل کانپ رہا تھا۔ ہر لمحہ یہ سوچ کھائے جا رہی تھی کہ اُس کی بہن کے ساتھ کیا ظلم ہوا ہوگا۔ آنکھوں میں غصہ تھا، لیکن دل اندر سے ٹوٹا ہوا تھا۔
وہ سیدھا گاؤں پہنچا۔ جیسے ہی گھر کے قریب پہنچا، اُس نے اپنی بہن حنا کو دیکھا۔ وہ پرانی ساڑھی میں، دھندلے چہرے کے ساتھ، جھکی ہوئی کمر کے ساتھ صحن میں برتن دھو رہی تھی۔ علی کے قدم رک گئے۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"یہ کیا حال بنا دیا میری بہن کا؟" علی کے دل نے چیخ کر کہا۔
حنا نے جب بھائی کو دیکھا تو ہاتھ سے برتن گر گئے۔ وہ دوڑ کر اُس کے پاس آئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی:
"بھائی… تم کیوں آئے؟ میں نہیں چاہتی تھی تم میرا یہ حال دیکھو۔"
علی نے اُسے سینے سے لگا لیا اور بولا:
"بس کر دے بہن… آج کے بعد تیرے آنسو نہیں نکلیں گے۔ اب میں تجھے انصاف دلا کر رہوں گا۔"
اسی لمحے وہ بوڑھا شوہر آیا۔ اُس کے ساتھ علی کی بیوی بھی تھی۔ دونوں نے علی کو دیکھ کر چونکا۔ بوڑھے نے غرور سے کہا:
"یہ میری بیوی ہے، اس پر تمہارا کوئی حق نہیں۔"
علی نے تڑپ کر جواب دیا:
"حق؟ تم نے میری بہن کی زندگی برباد کی ہے۔ ایک معصوم لڑکی کو خرید لیا دولت کے لالچ میں، اور تم کہہ رہے ہو یہ تمہارا حق ہے؟"
بوڑھا ہنسنے لگا:
"یہ سب تمہاری بیوی کی مرضی سے ہوا تھا۔ اُس نے کہا تھا کہ لڑکی دے دو اور بدلے میں روپے لے لو۔"
یہ سن کر علی کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔ اُس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا:
"کیا یہ سچ ہے؟"
بیوی نے نظریں جھکا لیں، ہونٹ کپکپانے لگے، لیکن آخرکار وہ بول پڑی:
"ہاں، میں نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ مجھے دولت چاہیے تھی۔ مجھے تمہاری بہن کی فکر نہیں تھی۔"
یہ سن کر علی کا دل ٹوٹ گیا۔ اُس نے زور سے کہا:
"تم نے میرے اعتبار کو توڑا ہے۔ لیکن یاد رکھو، اللہ مظلوم کے ساتھ ہے۔ آج کے بعد میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں۔"
پورا گاؤں یہ منظر دیکھنے لگا۔ لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ کچھ نے کہا:
"واقعی علی کی بہن کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے۔"
اسی وقت نوکر عارف آگے بڑھا۔ اُس نے سب کے سامنے گواہی دی:
"میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ حنا پر کیسے ظلم کیا جاتا ہے۔ اُس کو کھانے کو بھی نہیں دیا جاتا، اور کام مشقت کے جانور کی طرح لیا جاتا ہے۔"
گاؤں کے لوگ علی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے بوڑھے سے کہا:
"یہ ظلم ہم برداشت نہیں کریں گے۔"
علی نے بہن کا ہاتھ پکڑا اور کہا:
"اب تُو میرے ساتھ ہے۔ تجھے اس جہنم میں مزید نہیں رہنا۔"
بوڑھا کچھ بولنے ہی والا تھا کہ گاؤں کے چند بزرگوں نے اسے روک دیا۔ انہوں نے کہا:
"بس! اب یہ لڑکی یہاں نہیں رہے گی۔ اس کا فیصلہ اب علی کرے گا۔"
حنا کے آنسو تھمتے نہ تھے، لیکن دل میں ایک ہلکی سی روشنی جاگ اٹھی۔ پہلی بار اُس نے محسوس کیا کہ شاید اُس کی قسمت بدلنے والی ہے۔
علی نے بہن کا ہاتھ تھاما اور گاؤں کے بزرگوں کے سامنے اعلان کیا:
"آج سے میری بہن اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہے گی۔ میں اسے واپس اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں۔"
بوڑھا غصے میں آگے بڑھا، مگر لوگ بیچ میں آ گئے۔ گاؤں کے نمبردار نے کہا:
"بس! اب یہ لڑکی تیرے ساتھ نہیں رہے گی۔ تم نے جو ظلم کیا ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔"
حنا کے آنسو تھم نہ رہے تھے۔ وہ بھائی کے ساتھ قدم ملا رہی تھی لیکن قدم بار بار ڈگمگا رہے تھے۔ جیسے برسوں کے دکھ ایک ساتھ اُس کے جسم پر بوجھ بن گئے ہوں۔
علی اُسے اپنے شہر لے آیا۔ وہاں اس نے وکیل سے رابطہ کیا اور عدالت میں کیس دائر کیا کہ اس کی بہن کی شادی دھوکے سے کی گئی تھی۔ عدالت میں جب ثبوت پیش ہوئے، نوکر عارف کی گواہی اور محلے کی عورتوں کی شہادت سامنے آئی تو سب کچھ کھل کر سامنے آ گیا۔
جج نے فیصلہ سنایا:
"یہ نکاح زبردستی اور دھوکے سے کیا گیا تھا، لہٰذا یہ نکاح کالعدم ہے۔ لڑکی کو مکمل آزادی دی جاتی ہے۔"
یہ سن کر حنا کی آنکھوں سے برسوں بعد خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ علی نے بہن کو سینے سے لگایا اور کہا:
"اب کوئی تجھے باندھ نہیں سکتا۔ تُو آزاد ہے۔"
ادھر علی کی بیوی کے لئے دن بدلنے لگے۔ گاؤں کے لوگ اُس سے نفرت کرنے لگے۔ اُس کے اپنے ماں باپ نے بھی اُس سے منہ موڑ لیا۔ تنہائی اور پچھتاوے نے اُس کی زندگی کو جہنم بنا دیا۔ وہ بار بار سوچتی:
"میں نے اگر لالچ نہ کیا ہوتا، تو آج سب کچھ میرا ہوتا۔"
لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ علی نے عدالت کے بعد اُس سے بھی علیحدگی اختیار کر لی۔
کچھ عرصے بعد، حنا نے دوبارہ پڑھائی شروع کی۔ علی نے اُسے ایک تعلیمی ادارے میں داخل کروایا۔ وہ دن رات محنت کرنے لگی۔ اُس کا مقصد اب صرف ایک تھا: ایسی لڑکیوں کی مدد کرنا جو زبردستی اور ظلم کا شکار بنتی ہیں۔
وقت گزرتا گیا۔ حنا نے اپنی محنت اور لگن سے تعلیم مکمل کی اور ایک فلاحی ادارہ بنایا جس کا نام رکھا "نئی روشنی"۔ یہ ادارہ غریب اور بے سہارا لڑکیوں کو سہارا دینے لگا۔ گاؤں کے وہی لوگ جو پہلے تماشائی تھے، اب اُس پر فخر کرنے لگے۔
ایک تقریب میں جب حنا نے اپنی کہانی سنائی تو سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے کہا:
"میں نے ظلم سہا، لیکن میں نے سیکھا کہ سچ اور ہمت کبھی ہارتے نہیں۔ اگر بھائی نہ ہوتا تو شاید میں آج بھی قید ہوتی۔ لیکن آج میں ان سب کے لئے روشنی بننا چاہتی ہوں جو اندھیرے میں پھنسی ہوئی ہیں۔"
آخرکار حنا کی زندگی بدل گئی۔ وہ اب دوسروں کی امید تھی۔ علی اُس پر ناز کرتا تھا۔
کہانی کا اختتام اس جملے پر ہوا:
"ظلم وقتی ہوتا ہے، لیکن سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔"


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."