لالچ اور محبت کی کہانی دل کو چھو لینے والی کہانی
میرا نام حنا ہے میں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی ہم تین بہن بھائی تھے میرے والد بہت پہلے انتقال کر گئے تھے والد کی وفات کے بعد ہماری زندگی غربت اور مسائل میں ڈوب گئی تھی ماں لوگوں کے گھروں میں صفائی کرتی تھی اور میں اس کے ساتھ جاتی تھی چھوٹی تھی تو اسکول کا خواب بس خواب ہی لگتا تھا لیکن میرا دل چاہتا تھا کہ میں پڑھوں اور اپنی زندگی بدلوں میں امیر گھروں میں جا کر ان کے بچوں کو دیکھتی تھی جو اچھے سکولوں میں جاتے تھے اور صاف ستھری یونیفارم پہنتے تھے میرے اندر بھی تعلیم کا شوق جاگا اور میں نے ماں سے ضد کر کے اسکول داخلہ لے لیا ماں نے پہلے تو انکار کیا لیکن آخرکار مان گئی میں نے چھوٹے چھوٹے خواب دل میں رکھ کر پڑھائی شروع کر دی میں اسکول جاتی اور شام کو ماں کے ساتھ کام کرتی میرا ایک کزن عامر تھا جو ہمارے حالات سمجھتا تھا وہ محلے کا ایک شریف لڑکا تھا اور میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی عامر سے ہو جائے لیکن میرے دل میں ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ کوئی ایسا آئے جو مجھے غربت سے نکال کر بہتر زندگی دے سکے میں چاہتی تھی کہ میری زندگی کا معیار وہی ہو جو ان امیر لوگوں کا ہے جن کے گھروں میں ہم کام کرتے تھے میں نے عامر کو کبھی برا نہیں سمجھا لیکن مجھے لگتا تھا کہ اگر میں اس سے شادی کروں گی تو وہی غربت کا چکر چلے گا اس لیے میں نے اپنی پڑھائی جاری رکھی اور عامر سے فاصلہ بڑھا لیا
جب میں جوان ہوئی تو ایک دن محلے کی ایک خاتون نے بتایا کہ میرے آفس کا مالک جو ساٹھ پینسٹھ سال کا ہے وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے پہلے تو مجھے حیرت ہوئی لیکن پھر دل میں ایک لالچ آیا اگر میں اس سے شادی کر لوں تو وہ اپنی ساری دولت میرے نام کر دے گا اور میں غربت سے نکل آؤں گی میں نے سوچے سمجھے بغیر عامر سے رشتہ توڑ دیا اور اس بڑے آدمی سے شادی کر لی شادی کے بعد میرا دل چاہتا تھا کہ میری زندگی بدل جائے لیکن حقیقت کچھ اور تھی شادی کے کچھ دن بعد مجھے پتہ چلا کہ اس بڑے آدمی نے اپنی ساری جائیداد اپنی بیٹی کے نام کر دی ہے میں شاک میں آ گئی میرا خواب ٹوٹ گیا میری امیدیں مٹی ہو گئیں میرے پاس کچھ نہیں تھا میں نے سوچا تھا شادی کر کے میں سب کچھ حاصل کر لوں گی لیکن میرے ہاتھ کچھ نہ آیا میں ہر وقت اندر سے کڑھتی رہتی تھی
میرا شوہر اپنی بیٹی سے بے حد محبت کرتا تھا اور میں دل ہی دل میں اس بیٹی سے نفرت کرنے لگی مجھے لگتا تھا کہ میری خوشیوں کا راستہ وہی بیٹی روکے بیٹھی ہے میں نے اپنے دل کی کڑواہٹ کسی سے نہیں بتائی میں ایک دن اس لالچ میں اتنی اندھی ہو گئی کہ اس بیٹی کو راستے سے ہٹانے کا سوچا میرے دل میں براہ راست گناہ کا خیال آیا اور میں نے اس کی بیٹی کو زہر دے کر مار دیا مجھے لگا اب ساری جائیداد میری ہو جائے گی میں نے سکون کا سانس لیا لیکن یہ سکون بہت تھوڑے دنوں کا تھا کیونکہ کچھ ہی دنوں بعد میرا شوہر رات کے وقت مجھے ایک عجیب ویران کمرے میں لے گیا اس نے کہا میرے پاس تمہارے لیے ایک تحفہ ہے میں نے تحفہ کھولا تو میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور میرے ہوش اڑ گئے مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب کیا ہونے والا ہے میں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن میرا شوہر مجھے روک چکا تھا اس کی آنکھوں میں ایک عجب سختی تھی
جب اس نے ڈبہ کھولا تو میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر تھا جس نے میری سانسیں روک دیں میں نے سوچا تھا شاید کوئی زیور یا پیسے ہوں گے مگر وہاں ایک چھوٹی سی ڈیوائس تھی اور ایک لیپ ٹاپ بندھا ہوا تھا عرفان نے مسکرا کر کہا کھولو اور دیکھو میں نے دل میں امید کی کوئی کرن محسوس کی اور لیپ ٹاپ آن کیا تو سکرین پر وہی کمرہ اور وہی میز دکھائی دی جہاں میں نے بیٹی کے لیے جوس تیار کیا تھا میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا یہ کیا ہے یہ غلط فہمی ہے مگر اسی لمحے سکرین پر میری حرکتیں چلنے لگیں وہ لمحہ جب میں نے جوس میں دو بار تھوڑا سا ڈال دیا تھا پھر دودھ میں ایک اور بار میں نے آنکھیں بند کر کے دعا مانگی اور سوچا کہ یہ سب میری قسمت بدل دے گا سکرین پر میری ہر حرکت اتنی واضح تھی کہ میں خود کو دیکھ کر کانپ اٹھی میں نے بھاگنے کی کوشش کی مگر عرفان نے دروازہ لاک کر دیا اور دوستانہ مگر سخت لہجے میں بولا یہ وہ وقت ہے جب تمہیں اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا میری آواز کانپ رہی تھی میں نے کہا عرفان تم یہ کیا کر رہے ہو تمہیں میرے دل کا کسی کو پتا نہیں تھا تم نے کہا تم سمجھتی ہو میں اندھا ہوں میں نے سارے ثبوت ایک ماہ پہلے جمع کر لیے تھے تم نے میری بیٹی کو اتنے دن تک آہستگی سے زہر دیا میں نے تمہارے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور کہا نہیں یہ سچ نہیں ہو سکتا مگر سچ سر اور جا کر میرے کانوں میں گوشت کی طرح گونجا سنا دو سرکاری آدمی کمرے میں داخل ہوئے اور ایک نے کہا حنا بی بی آپ کو گرفتار کرنا پڑے گا آپ نے جرم قبول کیا یا نہیں میں نے چیخ کر کہا میں نے کچھ نہیں کیا مگر لیپ ٹاپ پر چلنے والی ویڈیو اور خالص تحقیق نے میری ہر بات دفن کر دی فوراً پولیس اہلکاروں نے مجھے ہاتھکڑیاں پہنا دیں میری جان نکل گئی جیسے زمین میرے پاؤں تلے سے کھسک گئی میں رو پڑی عرفان نے سرد آنکھوں سے دیکھا اور بولا تم نے جو انجام چاہا خود بھی وہی دیکھو میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا مگر عرفان نے کوئی رحم نہیں دکھایا کچھ دنوں کے اندر افسران نے تمام ثبوت عدالت میں پیش کر دیے تھے گواہوں نے بیان دیا اور ویڈیوز نے واضح کر دیا کہ میں نے واقعی جوس اور دودھ میں زہر ملایا تھا عدالت نے مجھے سخت سزائیں سنائیں مجھ پر مقدمہ چلنے لگا میں اس وقت پہلی بار سمجھ سکی کہ لالچ اور جھوٹ کا انجام کیا ہوتا ہے عدالتی کاروائی نے میری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ سنا دیا مجھے عدالت نے بارہ تا چوبیس سال تک قید کی سزا سنائی دی اور میرے پاس اب کوئی راستہ نہیں تھا میں جیل کی سرد دیواروں میں جاگری میں نے ہر رات اپنے کیے کے بارے میں سوچا اور پچھتاوے کے آنسو بہائے میرے اندر ایک خالی پن رہ گیا تھا عرفان نے عدالت میں کہا تھا کہ اس کا مقصد انصاف ہے میری بیٹی کی بے گناہی واپس لانا ہے اور وہ انصاف ملا میں جیل کے دنوں میں جب رات کو آنکھ کھلتی تو ساری غلطیاں میری نظروں کے سامنے کھڑی ہوتی تھیں میں نے خود سے وعدہ کیا کہ اگر کبھی باہر نکلا تو زندگی بدل دوں گا مگر جیل کی زندگی نے مجھے ہر چیز سے محروم کر دیا تھی باہر عرفان کی بیٹی کے گھر میں سکون تھا اور وہ پڑھائی میں آگے بڑھ کر کامیاب ہو گئی اس کی مسکان دیکھ کر کبھی کبھی میرا دل ٹوٹ جاتا تھا میری عمر میں وہ دن بہت تیزی سے بدل گئے میں نے اپنے کیے پر سیکھا اور سزا بھگتی اس کہانی نے شہر میں سب کو خاموش کر دیا جو لوگ پہلے میرے بارے میں اچھے کہہ رہے تھے وہ بھی رُک گئے تھے میری سزا نے مجھے سکھایا کہ دولت اور آسائش کا لالچ انسان کو کس گہرے اندھیرے میں لے جاتا ہے اور بے عزتی کتنی جلدی آتی ہے میں نے اندھیرے میں بیٹھ کر خود سے پوچھا کیا میری زندگی پھر واپس آئے گی ہوتا شاید نہ ہو مگر جب عدالت نے صبح عدالت سے فیصلہ سنا کر واپس بھیجا تو عرفان کی بیٹی نے مجھے ایک بار دیکھا اور آنکھوں میں حوصلہ اور سکون تھا وہ اب آزاد تھی اور اس کی زندگی واپس پلٹ چکی تھی میں نے جیل کی کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھتے ہوئے ایک بار پھر سوچا کہ صبر کے ساتھ سچ کا راستہ چھوٹا نہیں ہوتا مگر اس سچ کے لئے کتنے لوگ جھیلا کرتے ہیں یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی مگر یہ باب میرے لیے سکھ اور عبرت بن گیا تھا
قید کے دن گزرتے رہے۔ میں نے ہر رات اپنے کیے کا حساب کیا اور آنکھوں میں آنسو لیے اللہ سے معافی مانگی۔ ایک صبح وہ خبر آئی جس نے میرے اندر کی امید کو ہلکا سا جگایا — میرے وکیل نے کہا کہ اپیل منظور ہو گئی ہے اور رہأ ئی کے امکانات روشن ہیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی مگر خوف بھی تھا، کہیں باہر نکل کر کونسی دنیا ملے گی
آخری دن جب قیدیوں کی فہرست میں میرا نام آیا تو میرے سینے میں ایسی لہر دوڑی جیسے کئی سال کا بوجھ اتر گیا ہو۔ باہر نکل کر پہلی بار میں نے آسمان کو دیکھا تو آنکھوں میں نم تھی مگر دل میں ایک عجیب سی تکلیف بھی تھی۔ لوگ میری طرف دیکھ رہے تھے، میرے اندر شرم اور ندامت کی لہر تھی۔ میں نے گھر کا راستہ لیا، قدم ہلکے مگر دل بوجھل تھے۔ گھر پہنچ کر ماں کی جھکی ہوئی شکل اور بھائی کی خاموش آنکھیں دیکھ کر میری زبان بند ہو گئی۔ ماں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تو میں بے اختیار رونے لگ گئی۔ گھر کی دہلیز پر کھڑے ہو کر میں نے اپنا سارا قصہ سنا دیا، ہر ظلم، ہر پچھتاؤ، ہر وہ لمحہ جو میری روح چیر گیا تھا۔ ماں نے مجھے آنکھوں میں دیکھا اور بس اتنا کہا، آؤ بیٹی گھر میں سب کو معاف کر کے نیا آغاز کریں گے
اس دوران وہ جھوٹا رشتہ، وہ بوڑھا شوہر، جس نے مجھے دھوکے میں جکڑا تھا اس نے عدالت میں طلاق کی درخواستیں دستخط کر دیں — وہی آدمی جو پہلے میری قسمت بدلنے کا عہد لے کر آیا تھا آج خالی ہاتھ نکل گیا۔ جب عدالتی کاغذات میرے ہاتھ میں آئے تو ایک عجیب سکون ہوا، جیسے قید کے زنجیروں کے بعد روح کو آزادی ملی ہو۔ میں نے سوچا اب میں واپس جا کر اپنی زندگی دوبارہ سنواروں گی مگر دل میں ایک نام بار بار گونج رہا تھا — کاظم
کاظم وہ تھا جو بچپن سے مجھے جانتا تھا، میری ہر کمزوری اور ہر ہنسی کو دل میں بسا کر رکھا تھا۔ جب میں جیل میں تھی تب بھی اس کے فون کی کئی بار کالیں ریکارڈ پر تھیں مگر میں نے کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔ باہر آ کر ایک شام جب میں نے بازار کا رخ کیا تو اچانک ایک شکیلی سی آواز نے کہا حنا کیا تم ٹھیک ہو؟ میرا دل دھڑک اٹھا، وہی چشمِ وفا، وہی نرم لہجہ — کاظم تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی پرانی چمک تھی مگر اس کے چہرے پر عمر کی سنجیدگی بھی آئی تھی۔ اس نے میری آنکھوں میں دیکھا اور خاموشی سے کہا میں نے تمہارے لیے ہر روز دعا کی، میں نے تمہیں کبھی بھلایا نہیں
اس کی باتوں میں سچائی تھی، اس کے ہاتھوں کی وہ گرفت میرے دل کو سہارا دیتی تھی۔ میں نے اپنی ساری لاچاری اور ندامت اس کے سامنے کھول دی۔ اس نے مجھے تسلی دی، نہ ملامت کی، بس میرے زخموں پر مرہم رکھا۔ کاظم نے اپنے والدین سے بات کی، انھوں نے پہلے تو خاموشی اختیار کی مگر کاظم کے آنسو اور احساس نے سب کو بدل دیا۔ محلے والوں نے بھی میری ماضی کی کہانیاں گونگا سمجھ کر سنیں اور کسی نے داد نہ دی مگر کاظم نے ثابت کیا کہ محبت وہ قوت ہے جو ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ دیتی ہے
ایک دن کاظم میرے گھر کے صحن میں آیا، اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پیکٹ تھا۔ وہ بولا میں نے تمہارے بارے میں ہر دن سوچا ہے میں نے اپنی ماں باپ سے بات کی ہے اگر تم چاہو تو میں تمہیں اپنی زندگی میں لے لوں گا میں تمہیں عزت دوں گا اور تمہاری حفاظت کروں گا میں نے اس کے چہرے پر جھلکتی سچائی دیکھی اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ میں نے سر ہلا کر کہا مجھے وقت دو، مگر دل نے پہلے ہی ہاں کہہ دی تھی۔
قید کے دن گزرتے رہے۔ میں نے ہر رات اپنے کیے کا حساب کیا اور آنکھوں میں آنسو لیے اللہ سے معافی مانگی۔ ایک صبح وہ خبر آئی جس نے میرے اندر کی امید کو ہلکا سا جگایا — میرے وکیل نے کہا کہ اپیل منظور ہو گئی ہے اور رہأ ئی کے امکانات روشن ہیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی مگر خوف بھی تھا، کہیں باہر نکل کر کونسی دنیا ملے گی۔
آخری دن جب قیدیوں کی فہرست میں میرا نام آیا تو میرے سینے میں ایسی لہر دوڑی جیسے کئی سال کا بوجھ اتر گیا ہو۔ باہر نکل کر پہلی بار میں نے آسمان کو دیکھا تو آنکھوں میں نم تھی مگر دل میں ایک عجیب سی تکلیف بھی تھی۔ لوگ میری طرف دیکھ رہے تھے، میرے اندر شرم اور ندامت کی لہر تھی۔ میں نے گھر کا راستہ لیا، قدم ہلکے مگر دل بوجھل تھے۔ گھر پہنچ کر ماں کی جھکی ہوئی شکل اور بھائی کی خاموش آنکھیں دیکھ کر میری زبان بند ہو گئی۔ ماں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تو میں بے اختیار رونے لگ گئی۔ گھر کی دہلیز پر کھڑے ہو کر میں نے اپنا سارا قصہ سنا دیا، ہر ظلم، ہر پچھتاؤ، ہر وہ لمحہ جو میری روح چیر گیا تھا۔ ماں نے مجھے آنکھوں میں دیکھا اور بس اتنا کہا، "آؤ بیٹی، گھر میں سب کو معاف کر کے نیا آغاز کریں گے۔"
اس دوران وہ جھوٹا رشتہ، وہ بوڑھا شوہر، جس نے مجھے دھوکے میں جکڑا تھا، اس نے عدالت میں طلاق کی درخواست پر دستخط کر دیے — وہی آدمی جو پہلے میری قسمت بدلنے کا وعدہ لے کر آیا تھا، آج خالی ہاتھ نکل گیا۔ جب عدالتی کاغذات میرے ہاتھ میں آئے تو ایک عجیب سکون ہوا، جیسے قید کے زنجیروں کے بعد روح کو آزادی ملی ہو۔ میں نے سوچا اب میں واپس جا کر اپنی زندگی دوبارہ سنواروں گی مگر دل میں ایک نام بار بار گونج رہا تھا — عامر۔
عامر وہ تھا جو بچپن سے مجھے جانتا تھا، میری ہر کمزوری اور ہر ہنسی کو دل میں بسا کر رکھا تھا۔ جب میں جیل میں تھی تب بھی اس کے فون کی کئی بار کالیں ریکارڈ پر تھیں مگر میں نے کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔ باہر آ کر ایک شام جب میں نے بازار کا رخ کیا تو اچانک ایک شکیلی سی آواز نے کہا "حنا، کیا تم ٹھیک ہو؟" میرا دل دھڑک اٹھا، وہی چشمِ وفا، وہی نرم لہجہ — عامر تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی پرانی چمک تھی مگر اس کے چہرے پر عمر کی سنجیدگی بھی آئی تھی۔ اس نے میری آنکھوں میں دیکھا اور خاموشی سے کہا، "میں نے تمہارے لیے ہر روز دعا کی، میں نے تمہیں کبھی بھلایا نہیں۔"
اس کی باتوں میں سچائی تھی، اس کے ہاتھوں کی وہ گرفت میرے دل کو سہارا دیتی تھی۔ میں نے اپنی ساری لاچاری اور ندامت اس کے سامنے کھول دی۔ اس نے مجھے تسلی دی، نہ ملامت کی، بس میرے زخموں پر مرہم رکھا۔ عامر نے اپنے والدین سے بات کی، انھوں نے پہلے تو خاموشی اختیار کی مگر عامر کے آنسو اور احساس نے سب کو بدل دیا۔ محلے والوں نے بھی میری ماضی کی کہانیاں گونگا سمجھ کر سنیں، کسی نے داد نہ دی، مگر عامر نے ثابت کیا کہ محبت وہ قوت ہے جو ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ دیتی ہے۔
ایک دن عامر میرے گھر کے صحن میں آیا، اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پیکٹ تھا۔ وہ بولا، "میں نے تمہارے بارے میں ہر دن سوچا ہے۔ میں نے اپنی ماں باپ سے بات کی ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اپنی زندگی میں لے لوں گا۔ میں تمہیں عزت دوں گا اور تمہاری حفاظت کروں گا۔" میں نے اس کے چہرے پر جھلکتی سچائی دیکھی اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ میں نے سر ہلا کر کہا، "مجھے وقت دو۔" مگر دل نے پہلے ہی ہاں کہہ دی تھی۔
عامر نے محلے والوں کے سامنے آنکھ اٹھا کر کہا کہ وہ میرے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اس کی والدہ نے آہستگی سے سر ہلایا اور دل ہی دل میں دعا کی۔ شادی کی تیاریوں میں سادگی تھی مگر دل کا جشن بہت بڑا تھا۔ میں نے سوچا تھا، کبھی روٹی سے بھری بھوک سے لڑتی لڑکی یہ شان نہیں پا سکے گی مگر آج میرے پاس وہ انسان تھا جو میری عزت کو سب سے اوپر رکھتا تھا۔
شادی کا دن آیا، ہم نے بڑے سادگی سے عقد کیا۔ عامر نے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور کہا، "حنا، تُو نے جو تکلیف اٹھائی میں نے وہ دیکھی ہے، مگر آج میں وعدہ کرتا ہوں کہ تیری آنکھوں میں جو آنسو آئیں گے وہ خوشی کے ہوں گے۔" میں نے اس کے کندھے پر سر رکھا اور رو رو کر کہا، "میں نے بہت گناہ کیے ہیں مگر تم نے مجھ کو قبول کیا ہے، تم نے مجھے نیا آغاز دیا ہے۔"
زندگی نے ہمیں چیلنجز دیے مگر عامر نے ہر بار میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ اس نے میری تعلیم جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی، میں نے دوبارہ کتابیں کھولیں اور پڑھائی کے جذبے کو زندہ کیا۔ محض ایک عورت کے طور پر میری ساری پہچان دوبارہ بننے لگی۔ جب بھی کوئی میرے بارے میں کچھ کہتا، عامر میرے لیے دیوار بن جاتا۔ وہ راتیں جب میں اٹھ کر روتی تو وہ خاموشی سے بیٹھ کر میری پیشانی پر ہاتھ رکھتا اور کہتا، "جو گزرا، اسے پیچھے چھوڑ دو۔"
ایک شام جب ہم بیٹھے تھے، عامر نے مجھ سے کہا، "تم نے جو مصیبتیں جھک کر برداشت کیں آج وہ کسی اور کے لیے سبق ہیں۔ تمہاری قربانی نے کسی اور کی قسمت بدل دی ہے۔ تم نے جو دکھ سہے وہ ہمیں مضبوط بنایا ہے۔" میں نے سر جھکایا اور کہا، "میری زندگی اب تمہارے سبب ہی مکمل ہے۔"
وقت نے زخم بھر دیے اور وہ سیاہ یادیں دھندلانے لگیں۔ میں نے اپنے اندر اپنے کیے کا پچھتاوا رکھا مگر عامر نے سچائی اور محبت کے ذریعے وہ پچھتاوا مٹایا۔ ہماری محنت نے نہ صرف ہماری ذاتی زندگی کو بہتر کیا بلکہ محلے کے لوگوں کی سوچ بدل دی۔ جو لوگ پہلے ہمیں گالی دیتے تھے، آج وہ ہماری عزت کرنے لگے تھے، کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ سچی محبت اور ایمانداری بکریں نہیں بلکہ انسان کی جان ہے۔
آخر کار جب میں نے اپنے والدین کے لیے چھوٹا سا گھر بنوا کر دیا تو ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ بھائی نے کہا، "تم نے ہمیں عزت دی"، اور عامر نے سر جھکا کر کہا، "میں نے ایک وعدہ پورا کیا۔" ہم نے مل کر دعا کی کہ بس زندگی میں ایمان اور محبت کے سائے رہیں۔
کہانی کا انجام یہ ہوا کہ وہ عورت جو کبھی لالچ اور غلط فیصلوں کی بھینٹ چڑھی تھی آج ایک نیک گھر کی بیوی بن چکی تھی۔ میں نے جو غلطیاں کیں ان کا بوجھ دل میں رکھا مگر اس بوجھ کو عامر نے محبت اور حوصلے سے ہلکا کیا۔ زندگی نے سکھایا کہ انسان کا اصل امتحان اس کی غلطیوں کے بعد کا راستہ ہوتا ہے اور جو سچائی کے ساتھ کھڑا رہے وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."