جب دل ٹوٹ جائے: ایک بیوی کی قربانی جس نے سب کچھ بدل دیا
یہ کہانی ایک عورت کی خاموش قربانی کو بیان کرتی ہے۔
کچھ درد الفاظ کے بغیر بھی محسوس ہوتے ہیں۔
رشتوں کی حقیقت وقت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
شادی میری ماں کی مرضی سے ہوئی تھی میں نے دلہن کو پہلے کبھی دیکھا نہ تھا ماں نے خوشی سے کہا یہ تمہارے لئے بہترین ہے وہ نماز پڑھتی ہے وہ گھربار سنبھالے گی میں نے ماں کی خوشی میں ہاں کر دی شادی کی تیاریاں ہوئیں گھر میں رونق تھی مگر میرے دل میں ایک بے چینی تھی میں نے سوچا اپنی مرضی سے شادی کروں گا مگر قسمت نے کچھ اور لکھ دیا بارات آئی دلہن آئی میں نے اس کی شکل صورت کا تصور دل میں بنا رکھا تھا پہلی رات جب کمرے میں گھونگٹ اٹھایا گیا تو جو چہرہ سامنے آیا وہ میری توقع سے مختلف تھا وہ سیاہ کلوٹی تھی مگر اس کے چہرے پر ایک عاجز سی مسکان تھی وہ نظر سے شرمیلی تھی میں نے اسے دیکھ کر سختی محسوس کی ایسے لگا جیسے میرے اندر کوئی دیوار کھڑی ہو گئی میں نے ٹھہرا کر اسے دیکھا اور بیچ میں ایک گستاخی سی آواز نکلی یہ ماں نے تجھے بھیجا ہے میری نہیں میں نے سختی سے کہا اس کے لب کانپ گئے مگر اس نے کچھ نہ کہا وہ خاموشی سے پیچھے ہٹی اور آنسو چپکے چپکے بہنے لگے رات گزری اور ہمارے درمیان فاصلہ بڑھ گیا وہ دن رات کھانا پکاتی گھر سنبھالتی مگر میرے دل کی سختی کم نہ ہوئی ایک دن میں نے طلاق دینے کا ارادہ کیا میں نے سوچا شاید یہی بہتر ہے مگر جب میں نے اس کے سامنے یہ بات رکھی تو وہ میرے قدموں میں گر گئی اور روتی ہوئی کہنے لگی اگر آپ چاہیں تو دوسری شادی کر لیں مگر مجھے اسی گھر میں رہنے دے میں گھر کے کسی کونے میں پڑی رہوں گی مگر مجھے باہر نہ نکالیں میں نے اس کے آنسو دیکھے اس کی عاجزی نے میرے اندر ایک ہلکا سا ہلچل پیدا کر دی مگر میرا غرور کام کر گیا میں نے دوسری شادی کر لی میں نے ایک حسین لڑکی سے نکاح کیا وہ جدید تھی وہ میری پسند کی تھی اس نے جب گھر آنا شروع کیا تو سب خوش تھے کیونکہ گھر میں ایک نئی رونق آ گئی تھی دوسری بیوی نے جلد ہی اپنی طاقت دکھانی شروع کر دی وہ میرے سامنے بولتی تھی اور صفیہ کو وہ نوکرانی سمجھ کر ٹھہراتی تھی پہلے وہ خاموش رہتی تھی مگر اس کے چہرے پر اب تھکن اور سناٹا تھا ایک رات جب گھر میں شور تھا اور میں تھک کر واپس آیا تو دوسری بیوی نے دروازہ بند کر دیا اور اس نے مجھے جھنجھوڑا اس کے الفاظ نے میرے اندر خلش پیدا کی میں نے دیکھا کہ جو عورت میں نے حقیر سمجھا وہی میری یاد بن کر رہ گئی تھی اس کی آنکھوں میں وہی عاجزی اور وہی وفا تھی میں نے پہلی بیوی صفیہ کو یاد کیا اور اس کی خاموش قربانی میرے دل کو چیر گئی میں نے ایسا محسوس کیا کہ جو میں نے کھویا وہ میری اصل دولت تھی میں نے اس وقت سمجھا کہ خوبصورتی صورت کی نہیں دل کی ہوتی ہے میں نے غلطی کی تھی میں نے اپنے غرور کو اپنی زندگی پر حاوی کر لیا تھا اور اب اس غلطی کا صلہ مجھے جینا تھا یہ پہلا پرام ختم ہوتا ہے اور اگلے پرام میں کہانی وہ موڑ لے گی جہاں پچھتاوا اور ندامت پیار میں بدلیں گے
دوسری شادی کے بعد میرا گھر روشنیوں سے بھر گیا میں خود کو ایک کامیاب انسان سمجھنے لگا میرے دوست مجھے رشک بھری نظروں سے دیکھتے تھے کہتے تھے یاسر تو تو قسمت والا ہے تجھے خوبصورتی بھی ملی اور دولت بھی مگر مجھے کیا خبر تھی کہ قسمت کے فیصلے کبھی انسان کے فخر کو خاک میں ملا دیتے ہیں نئی بیوی فریحہ واقعی حسین تھی اس کے انداز نخرے اور باتوں میں کشش تھی مگر کچھ ہی دنوں میں میں نے محسوس کیا کہ اس کے اندر ایک غرور ہے وہ خود کو سب سے برتر سمجھتی تھی وہ اکثر صفیہ پر چیختی چلّاتی اسے نیچا دکھاتی اور میں خاموش رہتا میں سمجھتا تھا صفیہ کی قسمت میں یہی لکھا ہے مگر اندر ہی اندر میں ہر دن خود کو کھو رہا تھا ایک رات فریحہ نے صفیہ کو ڈانٹ کر کہا تم جیسی عورتیں نوکری کے لائق بھی نہیں ہوتیں تمہیں تو میرے قدموں میں بیٹھنا چاہیے صفیہ خاموش رہی اس کی آنکھوں میں وہی پرانی نمی تھی مگر چہرے پر کوئی شکوہ نہیں تھا اس نے بس اتنا کہا میں بدقسمت نہیں ہوں بی بی بدقسمت وہ ہوتی ہے جو غرور میں رب کو بھول جائے اس جملے نے جیسے میرا دل ہلا دیا فریحہ ہنس پڑی مگر میں گہری سوچ میں ڈوب گیا اس رات دیر تک جاگتا رہا مجھے لگا میری زندگی میں کچھ کھو گیا ہے اگلی صبح صفیہ نے میرے کپڑے استری کر کے رکھے اور خاموشی سے کچن میں چلی گئی میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کی موجودگی گھر کو برکت دیتی ہے جہاں وہ ہو وہاں سکون ہوتا ہے میں دفتر گیا مگر دل الجھا ہوا تھا شام کو لوٹا تو فریحہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ پارٹی میں جانے کی تیاری کر رہی تھی میں نے کہا کھانا کہاں ہے تو وہ بولی نوکرانی ہے نا وہ بنائے گی میں نے غصے سے کہا تمہاری زبان سنبھالو مگر اس نے میری بات کا مذاق اڑا دیا میں اٹھ کر صحن میں آیا وہاں صفیہ کھانا بنا رہی تھی چولہے کی روشنی میں اس کا چہرہ چمک رہا تھا پسینے کے قطرے جیسے ستاروں کی طرح اس کے ماتھے پر جگمگا رہے تھے میں چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا اور میرے دل میں ایک عجیب سا سکون اترتا گیا مجھے لگا یہی عورت میرے گھر کی روح ہے مگر میں نے کبھی اس کا مقام سمجھا ہی نہیں اگلی رات جب میں کمرے میں آیا تو فریحہ فون پر کسی سے ہنس ہنس کر بات کر رہی تھی میں نے کچھ نہ کہا مگر میرے دل میں درد کی لہر دوڑ گئی میں نے خاموشی سے دروازہ بند کیا اور باہر چلا گیا صحن میں صفیہ نماز پڑھ رہی تھی سجدے میں اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اس نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی یا اللہ میرے شوہر کو سیدھی راہ دکھا دے وہ مجھ سے نفرت کرے مگر اس کے دل سے کینہ مٹا دے اس لمحے مجھے لگا جیسے زمین میرے قدموں تلے سے نکل گئی میں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دروازہ تھاما اور آسمان کی طرف دیکھا میں سوچنے لگا میں نے اس عورت کو کیا دیا جس نے مجھے دعاؤں میں یاد رکھا مجھے احساس ہوا کہ خوبصورتی صرف چہرے کی نہیں بلکہ دل کی ہوتی ہے اور صفیہ کا دل سچ میں پاک تھا
چند دنوں بعد میری زندگی ایک عجیب سا موڑ لینے لگی میں نے محسوس کیا کہ فریحہ کی حسین صورت اور نخرے مجھے جتنا خوش کرتے ہیں اتنا ہی میرے دل میں خالی پن بھی بڑھاتے ہیں ہر دن میں زیادہ فریحہ کے ساتھ وقت گزارنے لگا مگر ہر بار جب میں صفیہ کو دیکھتا تو دل کے اندر ایک عجیب سی سکون اور نرمی اترتی تھی ایک شام جب میں دفتر سے واپس آیا تو گھر میں عجیب سا سکوت تھا فریحہ کسی دوست کے ساتھ باہر گئی ہوئی تھی اور صفیہ اپنے کاموں میں مصروف تھی میں نے صحن میں بیٹھ کر اسے دیکھنا شروع کیا وہ پھولوں کی خوشبو سونگھتی ہوئی باغیچے میں چہل قدمی کر رہی تھی اور چھوٹے چھوٹے پودوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی میں نے سوچا کہ یہ عورت اپنی خاموشی اور عاجزی کے ساتھ بھی کتنی بڑی طاقت رکھتی ہے میں نے دل میں سوچا کہ شاید میں نے اس کی قدر ہی نہیں کی صفیہ نے جیسے ہی میری طرف دیکھا مسکرائی مگر اس کی مسکان میں کوئی شکایت نہیں تھی بس ایک نرم سی محبت تھی جس نے میرے دل کو چھو لیا اگلے دن میں نے محسوس کیا کہ فریحہ کی باتیں اور نخرے میرے اندر بے چینی پیدا کرتے ہیں میں نے خود کو روکا اور سوچا شاید صفیہ کے بغیر میرا دل ادھورا ہے میں نے اسے ایک کمرے میں بلا کر بات کی اور کہا میں نے تمہاری قربانی کو کبھی نہیں سمجھا تم ہمیشہ خاموش رہ کر سب سہہ جاتی رہی مگر میں اب جانتا ہوں تم میری اصل دولت ہو اس کے آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر وہ مسکرائی اور بولی میں ہمیشہ جانتی تھی کہ تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا میں تمہاری بھلائی چاہتی ہوں میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ اب میں فریحہ کے نخرے برداشت نہیں کر سکتا میں نے اپنی زندگی میں صفیہ کی اہمیت پہچان لی اگلی رات جب فریحہ گھر آئی میں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ہمیں الگ ہونا ہوگا تمہاری خوبصورتی یا نخرے میرے دل کو سکون نہیں دیتے میں چاہتا ہوں میری زندگی میں وہ عورت ہو جو واقعی میرا دل جیتے اور صفیہ میری زندگی کی روشنی ہے فریحہ نے غصے میں کہا تم پاگل ہو گئے ہو میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گی مگر میں نے حتمی فیصلہ کر لیا تھا میں نے فریحہ سے طلاق کی بات کی اور اس نے جب دیکھا کہ میری آنکھوں میں فیصلہ ہے تو خاموشی اختیار کر لی وہ رات میں نے صفیہ کے کمرے میں بیٹھ کر گزارا اس کی آنکھوں میں وہی پرانی عاجزی اور محبت دیکھی جس نے میرا دل جیت لیا میں نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں میں رکھے اور کہا میں نے اپنی غلطیوں کا احساس کیا ہے اب میں تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا صفیہ نے سر ہلایا اور مسکرا کر کہا میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گی اس رات میں نے پہلی بار دل سے محسوس کیا کہ حقیقی حسن صرف چہرے کا نہیں دل کا ہوتا ہے میں نے رب سے دعا کی کہ وہ صفیہ کو ہر دکھ سے محفوظ رکھے اور ہماری محبت کو ہمیشہ قائم رکھے میں نے اپنے اندر ایک مضبوط عزم پیدا کیا کہ میں صفیہ کے ساتھ اپنی زندگی گزاروں گا اور کبھی اپنی غلطیوں کو دہرانے نہیں دوں گا
اب میں سمجھ چکا تھا کہ زندگی میں اصل سکون اور خوشی خوبصورتی میں نہیں بلکہ وفا، قربانی اور محبت میں ہے پہلی بیوی صفیہ کی خاموش قربانی نے مجھے ہر لمحہ اپنی قدر دکھائی تھی میں نے سوچا کہ میں نے فریحہ کی نخرے اور اپنی غرور میں اپنی اصلی دولت کو کھو دیا تھا اب میں اپنی غلطیوں کا صلہ بھگت رہا تھا میں نے فیصلہ کیا کہ صفیہ کے بغیر میری زندگی ادھوری ہے میں نے فریحہ کو طلاق دے دی اور اس نے بغیر کسی شور کے میری بات مان لی اس کے بعد میں نے صفیہ کو بتایا کہ میں نے اپنی غلطی سمجھ لی ہے اور اب ہمیشہ اس کے ساتھ رہوں گا صفیہ نے میری آنکھوں میں دیکھا اور اس کی مسکان میں وہی عاجزی اور محبت تھی جو پہلے دن تھی میں نے اسے گلے لگایا اور کہا میں نے اپنی زندگی کے سب قیمتی لمحات ضائع کر دیے مگر اب مجھے سب کچھ صحیح کرنے کا موقع ملا ہے ہم نے ساتھ بیٹھ کر رات بھر باتیں کیں اور ایک دوسرے کی خاموشی میں محبت کو محسوس کیا میں نے محسوس کیا کہ جو میں نے پچھلے دنوں میں محسوس کیا وہ صرف شکل و صورت کی جھلک تھی اصل حسن تو صفیہ کے دل کی صفائی میں تھا اگلے دن سے ہم نے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کی ہم نے ایک دوسرے کی قدر کی اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشیاں ڈھونڈیں ہر روز صفیہ کی موجودگی گھر میں روشنی اور سکون لے آتی ہم نے اپنی دعاؤں میں ہمیشہ ایک دوسرے کی بھلائی مانگی اور رب کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہمیں ایک دوسرے کے نصیب میں رکھا میں نے زندگی کے اس سبق کو یاد رکھا کہ غرور اور خودپسندی انسان کو اپنی اصل دولت سے دور کر دیتی ہے محبت، قربانی اور وفاداری ہی حقیقی دولت ہے دن گزرتے گئے ہم نے ماضی کی غلطیوں کو دل سے مٹا دیا اور ہر لمحہ ایک دوسرے کے لیے وقف کر دیا میں نے صفیہ کی ہر قربانی کو سمجھا اور ہر آنسو میں شامل درد کو دل سے محسوس کیا ہم نے زندگی کے ہر لمحے کو قیمتی بنایا اور یہ جانا کہ جو سکون اور خوشی واقعی دل میں اترتی ہے وہ صرف وفادار محبت سے آتی ہے اب میں ہر دن صفیہ کے ساتھ گزار کر شکر ادا کرتا ہوں ہر رات میں اس کے ساتھ بیٹھ کر دعا کرتا ہوں کہ ہماری زندگی ہمیشہ محبت، عزت اور سکون سے بھری رہے ہم نے اپنے دل کے ہر دکھ کو ایک دوسرے کے ہنسی اور قربانی سے دور کر دیا اور یہی ہماری اصل کامیابی اور انجام تھا کہ ہم نے ایک دوسرے کی قدر کی اور زندگی کے ہر لمحے میں محبت کو زندہ رکھا یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی حسن دل میں ہوتا ہے اور جو شخص دل سے محبت کرے اور قربانی دے وہ زندگی میں سکون اور خوشی پاتا ہے


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."