💔 "محبت، جدائی اور احساس کی وہ کہانی جو دل کو چھو جائے
"
احسن پانچ سال بعد وطن آیا تو دل ایک عجیب کشمکش میں گم تھا وہ ہوائی اڈے سے سیدھا اپنے گھر آیا تھا جہاں اس کی والدہ ساغر بیگم اور دادا صاحب اس کا منتظر تھے مگر دل میں وہی ادھورا سا احساس تھا جیسے کسی چیز کا حساب ادھورا چھوڑ آیا ہو گھر کے صحن میں وہی روائتی خوش آمدید ہوئی لوگ مسکراتے رہے مگر احسن کے ذہن میں پانچ سال کی یادیں ایک فلم کی طرح چل رہی تھیں وہ دیکھ رہا تھا کہ پہاڑی وادی کے بیچ جس ہسپتال میں وہ بطور سینیئر ڈاکٹر نامزد ہوا تھا وہاں کے لوگ کیسے اسے سلام دے رہے تھے اس نے بڑے نرم انداز میں سب کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب میں واپس رہوں گا مگر اندر کی گہرائی میں ایک اضطراب تھا جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل تھا وہ اپنے کمرے میں گیا اور فوراً خود کو تازہ کر کے ہسپتال کے کام کی طرف روانہ ہو گیا وادی کی ہوا میں ایک الگ سی مہک تھی درختوں کی چھاؤں اور دور بہتے چشمے کی سرگوشی میں ہسپتال کا گزرگاہ ایک نئی زندگی سمیٹے ہوئی محسوس ہوتی تھی ہسپتال کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی عملہ اور جونیئر ڈاکٹرز نے استقبال کیا ان میں سفید دوپٹے میں لپٹی ہوئی ایک لڑکی کھڑی تھی اس کا نام نور تھا وہ نو عمر مگر پختہ طبی صلاحیتوں والی جونیئر ڈاکٹر تھی اس کے چہرے پر سنجیدگی اور نرم لہجہ تھا نور نے احسن کو ایک جھلک میں پہچان لیا مگر خود کو قابو رکھا اس کے چھوٹے قدموں میں ایک خاموشی تھی جیسے وہ کسی درد کو دل میں چھپائے بیٹھی ہو احسن کی آنکھوں میں جب نور کی تصویر واضح ہوئی تو اس کے اندر بھی ایک جھٹکا سا لگا وہی لڑکی تھی جس کے ساتھ اس کا ماضی بندھے ہوئے تھا پانچ سال پہلے ایک غلط فہمی نے ان کے رستے جدا کر دیے تھے اور آج قسمت نے انہیں ایک جگہ ملا دیا تھا احسن نے قدم بڑھائے اور عملے کے سامنے ادب سے سر ہلایا نور کے لبوں پر مسکراہٹ تھی مگر اس کی آنکھوں میں کچھ اور تھا وہ اندرونی جھنجھلاہٹ تھی جسے نظروں نے چھپایا ہوا تھا عملے نے تعارف کرایا اور احسن نے اپنا تعارف مختصر ادا کیا پھر اس کی نظریں نور پر جمی رہیں نور کے وجود میں ایک ایسی کیفیت تھی جو احسن کو پچھلے درد کی تمام یادیں تازہ کر گئی وہ لمحہ ٹکراؤ کا تھا مگر دونوں نے پیشہ ورانہ وقار برقرار رکھا کچھ دیر بات چیت ہوئی اور نور نے فائلیں پکڑیں اسی دوران دادا صاحب کے قدم ہسپتال کے لاون میں آگئے اور انہوں نے بلند آواز میں کہا کہ یہ نوجوان میرا پوتا ہے اور میری نواسی اس کی بیوی تھی ان الفاظ نے فضا کو ہلکا سا جھنجھوڑ دیا احسن کے قدم گر پڑے اور نور کا رنگ شاد ہو گیا وہ سیج سے اٹھ کر گیلی آنکھوں کے ساتھ فورا فائل پکڑ کر وہاں سے ہٹ گئی احسن کو اندر ہی اندر ایسی تکلیف پہنچی جو الفاظ میں کم ہی کہی جاتی ہے لوگوں نے ماحول کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر دلوں میں ایک طوفان جاگ اٹھا اس رات احسن کے دل میں کئی سوال چمٹ گئے تھے اور نور کے دل میں خاموشی کی گہرائی بڑھ گئی تھی یہ وہ لمحہ تھا جب ماضی اور حال کے بیچ کا پُل جھٹکتے نظر آ رہا تھا اور آنے والے دنوں میں وہ پل ٹوٹے گا یا مضبوط ہوگا یہ فیصلہ ہونا باقی تھا
اگلی صبح سورج کی نرم کرنیں پہاڑوں کے پیچھے سے نکل کر ہسپتال کے لان میں بکھر رہی تھیں۔ احسن کی آنکھیں پوری رات نہیں لگی تھیں، وہ اپنے ماضی کے بوجھ تلے دبا ہوا جاگا تھا۔ سامنے رکھی فائلیں کھولنے کے باوجود اس کا دھیان بار بار ایک ہی چہرے پر جا ٹھہرتا — نور کا۔
اس نے گہری سانس لی اور سوچا کہ اب وقت آ گیا ہے سب کچھ صاف کرنے کا، مگر دل پھر ڈر گیا، جیسے ابھی بھی وہی رات دوہرائی نہ جائے جس نے سب کچھ بدل دیا تھا۔
دوسری طرف نور ہسپتال کے دوسرے وارڈ میں مریضوں کے درمیان تھی۔ اس کا چہرہ پرسکون لگتا تھا مگر آنکھوں کے نیچے ہلکے نیند کے سائے صاف نظر آ رہے تھے۔ اندر سے وہ ٹوٹ چکی تھی، مگر ظاہر میں مضبوط دکھائی دیتی تھی۔ ثنا، اس کی قریبی ساتھی، خاموشی سے بولی:
"نور، کل رات تمہارے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ سب ٹھیک ہے نا؟"
نور نے ایک لمحے کو رُک کر مصنوعی مسکراہٹ دی، "ہاں سب ٹھیک ہے ثنا، بس تھوڑی سی تھکن ہے۔"
لیکن دل میں وہ جانتی تھی کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
دوپہر کا وقت تھا۔ ڈاکٹر احسن میٹنگ روم میں بیٹھا کچھ کاغذات دیکھ رہا تھا جب دروازہ کھلا، اور نور ہاتھ میں فائل لیے اندر آئی۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے رُکی، جیسے فیصلہ کر رہی ہو کہ بولے یا خاموش رہے۔
“سر، یہ کیس رپورٹ سائن کر دیجیے۔”
احسن نے سر اٹھایا۔ لمحہ بھر کو دونوں کی نظریں ملیں، جیسے وقت رک گیا ہو۔ وہ خاموشی جو پانچ سال پہلے ان کے درمیان رہ گئی تھی، اب پھر زندہ ہو چکی تھی۔
“نور…” احسن نے آہستہ سے کہا۔
“ڈاکٹر نور، پلیز۔” نور نے سخت لہجے میں جواب دیا۔
“تم اب بھی اتنی ضدی ہو جتنی پہلے تھیں۔”
“اور آپ اب بھی ویسے ہی ہیں، صرف نام بدل گیا ہے۔”
ہوا کا جھونکا کھڑکی سے اندر آیا، جیسے دونوں کے درمیان کی خاموشی کو چیرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اسی وقت دروازہ کھلا اور دادا صاحب اندر آئے۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔
“احسن بیٹا، نور، دونوں ذرا میرے ساتھ چلیں۔”
لان میں پہنچ کر انہوں نے ایک گہری نظر دونوں پر ڈالی۔
“پانچ سال پہلے تم دونوں نے اپنی ضد سے رشتے کی عزت مٹی میں ملائی۔ میں نے تمہیں الگ ہونے دیا، شاید وقت تمہیں سمجھا دے۔ مگر اب قسمت نے تمہیں ایک ہی چھت کے نیچے پھر ملا دیا ہے۔ کیا تمہیں نہیں لگتا یہ اللہ کا فیصلہ ہے؟”
نور کے ہونٹ کانپنے لگے۔ “دادا جان، کچھ فیصلے صرف نصیب نہیں، زخم بھی ہوتے ہیں۔”
احسن نے نظریں جھکالیں۔ “میں نے غلطی کی تھی دادا جان، مگر شاید میں اب بھی وقت کو پلٹ نہیں سکتا۔”
دادا صاحب نے دونوں کو دیکھا، ان کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے۔
“اگر دل میں ابھی بھی تھوڑا سا احساس باقی ہے تو کوشش کرو کہ زخم کو مرہم میں بدل دو۔ ورنہ زندگی تم دونوں سے یہ موقع چھین لے گی۔”
یہ کہہ کر وہ آہستہ سے واپس مڑ گئے۔ لان میں صرف ہوا باقی تھی اور وہ دو دل جو کبھی ایک تھے، مگر اب احساسات کے بوجھ تلے دبے ہوئے کھڑے تھے۔
نور نے آہستہ سے کہا،
“احسن، ماضی کے زخم آسانی سے نہیں بھرتے، اور میں اب وہ نور نہیں رہی جو تمہارے خوابوں میں تھی۔”
احسن نے دھیرے سے جواب دیا،
“شاید میں بھی وہ احسن نہیں رہا جو تمہارے دل میں تھا، مگر چاہت کبھی مرتی نہیں، بس خاموش ہو جاتی ہے۔”
نور نے نظریں چرائیں اور دھیرے سے ہسپتال کی طرف چل دی۔
احسن چند لمحے وہیں کھڑا رہا، ہوا میں بکھرتی روشنی کو دیکھتا ہوا۔
یہ ملاقات ایک نئے طوفان کی شروعات تھی — محبت کا نہیں، احساسِ پچھتاوے کا۔
رات کے سناٹے میں ہسپتال کی لائٹس مدھم پڑ رہی تھیں وارڈ کے باہر ہوا میں ٹھنڈک گھل چکی تھی نور اپنی فائلوں میں کھوئی ہوئی تھی مگر دل کے اندر ایک طوفان برپا تھا ہر صفحے کے پیچھے احسن کی تصویر جھلکنے لگتی تھی وہ جتنا بھولنا چاہتی تھی یادیں اتنی ہی شدت سے واپس آتی تھیں اچانک دروازہ کھلا احسن خاموشی سے اندر آیا اور ایک کرسی پر بیٹھ گیا دونوں کے درمیان چند لمحوں کی خاموشی رہی پھر احسن نے آہستہ سے کہا نور کیا کبھی تم نے سوچا کہ اگر اس دن سب کچھ مختلف ہوتا تو آج ہماری زندگی کیسی ہوتی نور نے قلم ہاتھ سے رکھا اور گہری سانس لی سب کچھ بدل جاتا احسن لیکن قسمت کا لکھا کون بدل سکتا ہے تم نے جو فیصلہ کیا وہی ہمارے درمیان دیوار بن گیا احسن نے نظریں جھکا لیں اس کے دل میں وہ سب منظر پھر گھوم گئے جب اس نے غصے میں نور پر الزام لگا کر اسے چھوڑ دیا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے وہ دن پھر زندہ ہو گیا جب نور خاموشی سے گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی وہ خود کو مظلوم سمجھتا رہا مگر درحقیقت وہ ظالم بن گیا تھا آج وہ اسی ظلم کے بوجھ تلے دب کر آیا تھا اس نے ہلکی آواز میں کہا نور میں نے تمہیں بہت دکھ دیا ہے لیکن ان پانچ سالوں میں میں نے ایک لمحہ بھی سکون کا سانس نہیں لیا اگر میں ماضی بدل سکتا تو سب کچھ تمہارے قدموں میں رکھ دیتا نور نے اس کی آنکھوں میں جھانکا وہاں پچھتاوے کا سمندر تھا مگر اس کا دل ابھی بھی زخمی تھا اس نے نرم مگر ٹوٹے لہجے میں کہا احسن تمہارے لفظ خوبصورت ہیں لیکن دل کے زخم لفظوں سے نہیں بھرتے جو بھروسہ ایک بار ٹوٹ جائے وہ دوبارہ ویسا نہیں رہتا احسن نے سر جھکا لیا اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی وہ بولا میں تمہیں صرف معافی نہیں دینا چاہتا میں تمہارے لیے خود کو بدلنا چاہتا ہوں لیکن اگر تم چاہو تو میں ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا نور نے نظریں جھکائیں دل چاہا کہ وہ سب کچھ بھول جائے لیکن اندر کا درد اسے اجازت نہیں دے رہا تھا کچھ لمحے بعد وہ بولی احسن شاید ابھی وقت نہیں آیا اللہ جب چاہے گا سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن ابھی مجھے کام کرنا ہے اور تمہیں اپنے دل سے لڑنا ہے وہ اٹھ کر باہر چلی گئی احسن کچھ لمحے ساکت بیٹھا رہا جیسے کسی نے اس کے اندر کی سانس روک لی ہو باہر چاندنی پھیل چکی تھی ہوا درختوں کو ہلا رہی تھی مگر اس کے اندر ایک خلا تھا جو کسی دعا سے بھی نہیں بھر سکتا تھا لان میں جا کر وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگا اور دل ہی دل میں بولا یا اللہ اگر یہ محبت گناہ نہیں تو اسے عبادت بنا دے
تین مہینے گزر گئے تھے موسم بدل چکا تھا مگر احسن اور نور کے درمیان وہ خاموش فاصلہ ابھی بھی قائم تھا ہسپتال کے لان میں بہار کی رنگینیاں چھا گئی تھیں مگر ان دونوں کے دلوں میں ابھی خزاں کا سایہ تھا احسن ہر روز نور کے سامنے کسی نہ کسی بہانے آتا کبھی مریض کی رپورٹ پوچھتا کبھی فائل مانگتا مگر اصل مقصد ایک ہی تھا کہ شاید نور ایک بار مسکرا دے مگر وہ ہر بار نظریں چرا لیتی تھی اس کی خاموشی احسن کے دل کو چیر دیتی تھی مگر وہ ہار نہیں مان رہا تھا اس نے خود کو بدل لیا اب وہ وہی ضدی شخص نہیں رہا تھا اب وہ نرم لہجے میں بات کرتا تھا ہر مریض کے ساتھ خلوص سے پیش آتا تھا ہسپتال کے سب لوگ حیران تھے کہ احسن میں یہ تبدیلی کیسے آگئی نور بھی یہ محسوس کرتی تھی مگر دل کا زخم ابھی تازہ تھا ایک دن ہسپتال میں شدید بارش شروع ہو گئی پہاڑوں کے بیچ بادل گرج رہے تھے بجلی چمک رہی تھی نور ڈیوٹی پر تھی کہ اچانک ایک زخمی بچہ لایا گیا اس کے ساتھ اس کی ماں رو رہی تھی احسن فوراً آپریشن تھیٹر میں پہنچا نور بھی وہیں تھی دونوں نے مل کر بچے کو بچا لیا جب آپریشن ختم ہوا تو دونوں کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر دل مطمئن تھا احسن نے پہلی بار ہمت کر کے کہا نور یہ زندگی کتنی نازک ہے پتہ نہیں کب ختم ہو جائے میں نہیں چاہتا کہ اپنی باقی زندگی پچھتاوے میں گزاروں نور نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا اور کچھ کہے بغیر چلی گئی مگر اس رات وہ سو نہ سکی اس کے دل میں پہلی بار احساس جاگا کہ شاید احسن واقعی بدل گیا ہے اگلے دن ہسپتال کی عمارت روشنیوں سے سجی ہوئی تھی احسن نے لان میں بڑی محنت سے سرخ گلابوں سے ایک لفظ بنایا تھا جس پر لکھا تھا سوری اور نیچے سفید پھولوں سے لکھا تھا مائی لائف مائی نور دادا صاحب سیمی بیگم اور ڈاکٹر فرقان بھی وہاں موجود تھے سب حیران تھے احسن کے چہرے پر وہی پرانا اعتماد مگر آنکھوں میں نرمی تھی کچھ دیر بعد نور آئی سفید لباس میں وہ جیسے روشنی بن کر آئی ہو احسن آگے بڑھا اور دھیرے سے بولا نور میں نے تمہیں کھو کر جانا کہ محبت کوئی کھیل نہیں ہوتی میں نے سیکھا ہے کہ عزت اور احساس سب سے قیمتی تحفے ہیں آج میں تم سے کچھ مانگنے نہیں آیا میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم دل سے مجھے معاف کر دو اگر تم چاہو تو میں اپنی باقی زندگی تمہارے بغیر بھی گزار لوں گا مگر معاف کر دو تاکہ میرے دل کا بوجھ اتر جائے نور کے آنسو بہنے لگے وہ آگے بڑھی اور آہستہ سے بولی احسن جب دل بدل جائے تو ماضی مٹ جاتا ہے میں نے تمہیں معاف کیا وہ لمحہ جیسے دعا بن گیا احسن کے آنسو اس کے ہاتھوں پر گرے اور اس کے ہونٹوں سے ایک ہی لفظ نکلا الحمد للہ دادا صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر دل مطمئن تھا زندگی کا ایک سخت باب ختم ہو چکا تھا اور ایک نیا آغاز ہو رہا تھا کچھ دیر بعد سب لوگ اندر چلے گئے لان خالی رہ گیا صرف روشنیوں کی مدھم چمک باقی تھی احسن اور نور ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے احسن نے کہا اب تم میری نہیں میری دعا ہو نور مسکرا دی اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا محبت جب عبادت بن جائے تو انجام نہیں رہتا بس سکون رہ جاتا ہے


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."