"جب عربی نے زینت کو 10000 ریال کی پیشکش کی، اُس کا ایمان لرز گیا...
دبئی کی روشنیاں ہر کسی کے لیے خوابوں کا جہاں تھیں مگر زینت کے لیے وہ خواب ایک بوجھ بن چکا تھا وہ اپنے شوہر حمزہ کے ساتھ دبئی کے ایک چھوٹے سے علاقے البراحہ میں رہتی تھی جہاں دن دھوپ کی تپش میں گم ہو جاتے اور راتیں شور اور تھکن میں لپٹی رہتی تھیں حمزہ ایک پرانے ورکشاپ میں مکینک کا کام کرتا تھا اور ہر دن اس کے جسم سے پسینہ یوں بہتا جیسے وہ اپنے وجود کو نچوڑ کر زندگی کی قیمت ادا کر رہا ہو ان کی زندگی میں سکون کم اور تھکن زیادہ تھی ایک چھوٹا سا فلیٹ جس کی دیواروں پر نمی نے قبضہ کر رکھا تھا کم تنخواہ جو ہر مہینے ختم ہونے سے پہلے ہی ادھار میں بدل جاتی تھی اور قرض کا بوجھ جو سانس کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا تھا زینت جب آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی تو خود سے کہتی کاش کبھی قسمت بدل جائے ایک رات ہی سہی زندگی آسان لگے مگر ہر صبح جب سورج کی روشنی پردے کے پار آتی تو حقیقت کی سختی پھر اس کے سامنے کھڑی ہو جاتی ایک دن حمزہ سخت بیمار پڑ گیا اس کے چہرے کی رنگت زرد ہو گئی اور جسم کمزور ہونے لگا ورکشاپ کا کام رک گیا دوا کے پیسے بھی نہ تھے زینت نے اپنے اردگرد سے مدد مانگی مگر ہر در بند ملا تب اس کی پاکستانی ہمسائی شازیہ نے کہا زینت میں ایک عربی شیخ کے گھر کام کرتی ہوں وہ نیک دل آدمی ہے عورتوں کی عزت کرتا ہے اگر چاہو تو تمہیں بھی نوکری دلا سکتی ہوں بس برتن دھونا اور کھانے میں مدد کرنی ہوگی اور اس کے بدلے میں وہ تمہیں دس ہزار ریال دے گا یہ سن کر زینت کی سانس رک گئی دس ہزار ریال اتنے پیسے کہ وہ مہینوں کا خرچ نکال سکے حمزہ کا علاج کرا سکے مگر دل میں ایک ڈر بھی تھا کہیں بے عزتی نہ ہو جائے کہیں یہ سب دھوکہ نہ نکلے شازیہ نے اسے تسلی دی کہ شیخ عبداللہ اندھا ہے صرف تسبیح پڑھتا رہتا ہے کبھی کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا زینت نے رات بھر سوچا دعا کی اور پھر فیصلہ کیا کہ وہ یہ موقع نہیں کھو سکتی اگلی صبح وہ شازیہ کے ساتھ اس عربی کے محل جیسے گھر پہنچی گھر کی شان و شوکت دیکھ کر وہ دنگ رہ گئی سنگ مرمر کے فرش سے خوشبو اٹھ رہی تھی اور ہر کمرے میں خاموش روشنی پھیلی ہوئی تھی جب وہ شیخ عبداللہ کے سامنے پہنچی تو وہ صوفے پر بیٹھا تسبیح پڑھ رہا تھا اس کی آنکھوں میں اندھیرا گہرا تھا مگر چہرے پر سکون تھا وہ بولا بیٹی تم نئی ہو اللہ تمہیں رزق میں برکت دے یہ سن کر زینت کا دل پگھل گیا اس نے سجدے میں دل سے شکر ادا کیا کہ شاید قسمت نے آخرکار اس پر مہربانی کر دی وہ دن بھر کام میں مصروف رہی شیخ کے گھر کی بچی مریم جلد ہی اس سے مانوس ہو گئی زینت کو لگا جیسے زندگی نے تھوڑا سا سکون واپس دے دیا ہے مگر قسمت کے کھیل ہمیشہ سیدھے نہیں ہوتے کیونکہ اگلی رات ایک ایسا پیغام آنے والا تھا جو زینت کی پوری زندگی بدل کر رکھ دے گا
اگلی رات زینت نے سوچا تھا کہ آج جلدی سو جائے تاکہ صبح پھر وقت پر جا سکے مگر رات کے پچھلے پہر جب وہ نیند کے دہانے پر تھی تو فون کی گھنٹی بجی نمبر شازیہ کا تھا زینت نے گھبرا کر فون اٹھایا تو دوسری طرف سے شازیہ کی آواز میں عجب سا سکوت تھا اس نے آہستہ کہا زینت شیخ عبداللہ تمہیں بلانا چاہتا ہے وہ کہتا ہے تم سے ضروری بات کرنی ہے زینت کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اس نے کہا اس وقت کیوں بلایا ہے کوئی مسئلہ تو نہیں شازیہ نے کہا نہیں وہ تم سے کچھ کہنا چاہتا ہے اور وہ بہت نرم دل آدمی ہے ڈرنا نہیں زینت نے چادر اوڑھی اور خاموشی سے باہر نکل گئی جب وہ محل جیسے گھر کے دروازے پر پہنچی تو رات کے آسمان پر دبئی کی روشنیوں کے باوجود ایک عجیب سا اندھیرا محسوس ہو رہا تھا دروازہ کھلا تھا اور اندر سے ہلکی سی خوشبو آ رہی تھی وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس کمرے تک پہنچی جہاں شیخ عبداللہ بیٹھا تھا وہ ہمیشہ کی طرح تسبیح پڑھ رہا تھا مگر اس کی آواز میں آج کچھ مختلف تھا وہ بولا بیٹی بیٹھو مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے زینت آہستہ سے کرسی پر بیٹھی اور نظریں جھکا لیں شیخ نے گہری سانس لی اور بولا زینت میں تمہاری محنت اور وفاداری سے بہت متاثر ہوں تم نے میری بیٹی مریم کا خیال رکھا میری خدمت کی مگر میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ میں اندھا ضرور ہوں مگر دل سے اندھا نہیں ہوں میں محسوس کر سکتا ہوں کہ تمہارا دل دکھ سے بھرا ہے تمہارے شوہر کی بیماری نے تمہیں توڑ دیا ہے میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی زندگی بدل لو زینت کے ہاتھ کانپ گئے اس نے کہا حضور میں صرف کام کے لیے آتی ہوں مجھے کچھ نہیں چاہیے شیخ عبداللہ نے کہا نہیں بیٹی میں تمہیں عزت سے پیشکش کر رہا ہوں اگر تم چاہو تو تمہارے شوہر کا علاج میں کرواؤں گا تمہیں اپنا ذاتی گھر دوں گا تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دوں گا مگر ایک شرط ہے زینت نے سر اٹھا کر کہا شرط؟ اس کی آواز ہلکی تھی مگر اندر لرزہ طاری تھا شیخ بولا شرط یہ ہے کہ تم کچھ دن میرے ساتھ رہو گے میرے قریب رہو گے میں تمہیں تکلیف نہیں دوں گا تمہارے ہاتھ سے قرآن کی تلاوت سننا چاہتا ہوں اور تمہارے وجود کی سکون دہ خوشبو سے اپنے اندھیرے دل کو روشن کرنا چاہتا ہوں زینت کا دل پھٹنے لگا اس کے کانوں میں شور گونجنے لگا وہ کھڑی ہوئی اور بولی حضور آپ نیک ہیں مگر یہ پیشکش میرے لیے آزمائش ہے میں گناہ کے قریب نہیں جا سکتی میں غریب ضرور ہوں مگر بے غیرت نہیں شیخ نے خاموشی سے سر جھکا لیا اور کہا تم نے وہ جواب دیا جو ایک پاک دل عورت دے سکتی ہے جاؤ بیٹی تمہاری عزت میری ذمہ داری ہے زینت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے وہ باہر نکلی تو دبئی کی وہی روشنیاں آج اسے کانٹے کی طرح چبھنے لگیں کیونکہ اس نے جان لیا تھا کہ دنیا کی چمک کبھی کبھی ایمان کا امتحان بن جاتی ہے اور انسان کی اصل روشنی اس کے ضمیر میں چھپی ہوتی ہے
زینت اس رات گھر واپس آئی تو دل کے اندر ایک طوفان برپا تھا اس نے ساری رات کروٹیں بدلتے گزاری کبھی آنسو بہاتی اور کبھی سوچتی کہ اگر اس نے ہاں کہہ دی ہوتی تو آج اس کے پاس پیسوں کی کمی نہ رہتی مگر پھر دل کے کسی کونے سے آواز آتی نہیں زینت عزت کا سودا کبھی فائدہ نہیں دیتا وہ جانتی تھی کہ غربت وقتی ہے مگر گناہ کا داغ ہمیشہ کے لیے روح پر لگ جاتا ہے صبح جب سورج کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر داخل ہوئی تو زینت نے وضو کیا دو رکعت نفل ادا کیے اور اللہ سے دعا مانگی اے میرے رب تو ہی میرا سہارا ہے تو ہی میری مدد کر حمزہ کی حالت اب بھی خراب تھی دوا ختم ہو چکی تھی اور فیکٹری کا مالک کہہ چکا تھا کہ اگر حمزہ کچھ دنوں میں واپس نہ آیا تو اس کی نوکری کسی اور کو دے دی جائے گی زینت کے پاس اب کوئی راستہ نہ تھا مگر وہ ہمت نہیں ہاری اس نے دبئی کی ایک دوسری کمپنی میں صفائی کا کام ڈھونڈا جہاں دن رات کی محنت کے بعد بہت تھوڑے پیسے ملتے تھے مگر وہ حلال کے تھے زینت ہر روز پسینہ بہاتی مگر دل مطمئن رہتا ایک دن جب وہ کام پر تھی تو شازیہ بھاگتی ہوئی آئی اور کہا زینت تمہیں خبر نہیں شیخ عبداللہ کا انتقال ہو گیا زینت کے قدم رک گئے اس کے دل میں عجیب سا دکھ محسوس ہوا کیونکہ باوجود اس آزمائش کے وہ جانتی تھی کہ شیخ برا آدمی نہیں تھا وہ بس تنہا تھا اور اندھیرے میں روشنی ڈھونڈ رہا تھا اگلے دن زینت جنازے میں گئی مریم چیخ چیخ کر رو رہی تھی زینت نے اسے سینے سے لگایا اور دل ہی دل میں دعا کی کہ اللہ اس بچی کو صبر دے جب جنازہ ختم ہوا تو ایک عرب ملازم نے زینت کو ایک لفافہ دیا اس نے کہا یہ شیخ کا آخری پیغام ہے زینت نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا اندر ایک خط اور ایک چیک تھا خط میں لکھا تھا بیٹی زینت تم نے مجھے ایمان کی روشنی دکھائی تم نے ثابت کیا کہ عزت پیسے سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے یہ دس ہزار ریال میری طرف سے تمہارے شوہر کے علاج کے لیے ہیں تمہارے کردار نے مجھے مرنے سے پہلے سکون دیا زینت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا اے اللہ تو کتنا بڑا منصف ہے جس نے صبر کیا تو نے اس کے لیے کرم کے دروازے کھول دیے اسی دن شام کو زینت نے حمزہ کا علاج کروایا کچھ ہی دنوں میں وہ صحت یاب ہو گیا اور دونوں نے سجدہ شکر ادا کیا زندگی میں پہلی بار زینت کو محسوس ہوا کہ غربت سب کچھ چھین سکتی ہے مگر ایمان اور حیا انسان کو بادشاہ بنا دیتی ہے دبئی کی وہی روشنیاں آج اس کے دل میں ایمان کی روشنی بن کر اتر چکی تھیں
اگلی صبح زینت حسب معمول کام پر جانے کی تیاری کر رہی تھی کہ اچانک اس کے فون پر ایک نیا پیغام آیا
پیغام شازیہ کا تھا جس میں لکھا تھا کہ شیخ عبداللہ نے تمہیں دوبارہ اپنے گھر بلایا ہے اس نے کہا ہے کہ وہ تمہیں پہلے سے بہتر آفر دینا چاہتا ہے
زینت کے دل میں ایک لمحے کے لیے خوف سا پیدا ہوا مگر اگلے ہی لمحے اسے خیال آیا کہ شاید شیخ کو اپنی بیٹی کے لیے کسی مدد کی ضرورت ہو
اس نے اللہ کا نام لیا اور شازیہ کے ساتھ دوبارہ اس محل نما گھر کی طرف چل پڑی
گھر میں داخل ہوتے ہی ہر چیز خاموش تھی خوشبو ویسی ہی تھی مگر فضا میں عجیب سا سکوت پھیلا ہوا تھا
شیخ عبداللہ اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا تھا اس کے چہرے پر تھکن اور اداسی تھی
اس نے آہستہ سے کہا زینت تمہارے شوہر کے علاج کے لیے میں تمہیں ایک رات کے دس ہزار ریال دوں گا
بس مجھے اس رات کے اندھیرے میں کسی کے وجود کی ضرورت ہے
زینت کے جسم میں لرزہ سا طاری ہو گیا اس نے سوچا یہ وہی لمحہ ہے جہاں ایمان یا لالچ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے
دل کے اندر جنگ چھڑ گئی ایک طرف بیمار شوہر کی دوا کا انتظار دوسری طرف عزت کا دامن
شیخ کے الفاظ گونج رہے تھے دس ہزار ریال
یہی وہ رقم تھی جس سے وہ قرض بھی اتار سکتی تھی اور علاج بھی کروا سکتی تھی
زینت نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں اور خود سے کہا نہیں زینت تم وہ عورت نہیں جو اپنے شوہر کی بیماری کا علاج گناہ سے کرے
اس نے نرم لہجے میں کہا شیخ میں آپ کے احسان کی قدر کرتی ہوں مگر عزت کے بدلے پیسہ لینا میری تربیت نہیں اجازت دیں میں جا رہی ہوں
شیخ خاموش رہا جیسے کوئی اپنے گناہ پر شرمندہ ہو
زینت کے قدم دروازے سے باہر نکل گئے مگر دل کے اندر ایک عجیب سا سکون اتر گیا
اگلے دن جب وہ گھر پہنچی تو حمزہ نے خوشی سے کہا زینت اللہ نے کرم کر دیا ہے فیکٹری کے مالک نے مجھے واپس بلا لیا ہے اور علاج کے تمام اخراجات خود دینے کا وعدہ کیا ہے
زینت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے وہ جانتی تھی کہ یہ اللہ کا انصاف ہے جو کبھی دیر تو کرتا ہے مگر اندھیرا نہیں رہنے دیتا
چند دن بعد شازیہ پھر آئی اس کے ہاتھ میں ایک خط اور ایک چیک تھا
شیخ عبداللہ نے اپنے انتقال سے پہلے لکھا تھا کہ جس عورت نے میرے ایمان کو جگایا میں اس کے لیے اپنی جائیداد کا ایک حصہ چھوڑ کر جا رہا ہوں
لفافے میں دس ہزار ریال تھے بالکل وہی رقم جو آزمائش بن کر سامنے آئی تھی
زینت نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا یا رب تیرا شکر ہے تو نے مجھے عزت بھی دی اور رزق بھی
اب وہی دبئی کی روشنیاں جو کبھی اس کے لیے بوجھ تھیں آج سکون اور ایمان کی علامت بن چکی تھیں
زینت کے لبوں پر مسکراہٹ تھی اور دل میں یقین کہ حلال راستہ ہمیشہ دیر سے سہی مگر منزل تک ضرور پہنچاتا ہے


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."