💔 محبت کی کہانی جہاں دل ملے اور خواب بچھڑ جائیں
"اندھی ہو کیا؟ کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتی؟"
حمید کی آواز کمرے میں گونج اُٹھی اور ہانیہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اُس نے گھبراہٹ میں اپنی ضروری فائلیں سنبھالنے کی کوشش کی جو حمید کے غصے میں ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر پڑی تھیں۔
"سوری… غلطی سے ہو گیا۔" ہانیہ نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، لیکن حمید کا جواب اور بھی زہر سے بھرا تھا:
"غلطی؟ تمہاری غلطی؟ اصل غلطی تو میری ہے جو تم جیسی کم عقل اور ناسمجھ لڑکی سے شادی کر لی!"
ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ شادی سے پہلے وہ حمید کو ایک سلجھے ہوئے اور نرم گو انسان کے طور پر جانتی تھی۔ رشتے کے وقت سب نے یہی کہا تھا کہ وہ پڑھا لکھا اور خوش اخلاق ہے۔ لیکن شادی کے بعد اُس نے ایک اور ہی چہرہ دیکھا — حمید کا شدید غصّہ، اُس کی سخت طبیعت اور ایسے الفاظ جو دل کو چھلنی کر دیتے تھے۔
ہانیہ دن رات بس یہی سوچتی رہتی کہ کس طرح شوہر کو راضی کرے، کس طرح اُس کے موڈ کے مطابق رہے۔ کبھی کھانے میں ذرا نمک کم ہوتا تو طوفان کھڑا ہو جاتا، کبھی فون پر بات کرنے میں دیر ہو جائے تو طعنے شروع ہو جاتے۔ وہ برداشت کرتی رہی، خاموشی سے سب سہتی رہی، لیکن اندر ہی اندر ٹوٹتی جا رہی تھی۔
ایک دن تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حمید نے برسرِ عام اُس پر چیخنا شروع کر دیا۔ گلی کے بچے، محلے کی عورتیں سب سن رہے تھے۔ ہانیہ کا چہرہ شرم اور خوف سے جھک گیا۔ اُس رات جب وہ اپنے کمرے میں گئی تو اُس نے روتے روتے دل میں فیصلہ کیا: "اب اور نہیں۔"
اگلی صبح، گلی کے کونے پر، اُس کی بڑی بہن رمین نے ڈانٹتے ہوئے کہا:
"ہانیہ! ذرا خود کو سنبھالو۔ آج رشتے والے آرہے ہیں۔ وقار سے رہو، ورنہ سب ہنسیں گے۔"
ہانیہ نے بس ایک ہلکی سی مسکراہٹ دی۔ دل کے اندر وہ جانتی تھی کہ یہ سب دکھاوا ہے۔ ماں روحی بیگم بھی چپ چاپ تھیں، لیکن اُن کی آنکھوں میں بیٹی کے لیے فکر صاف جھلک رہی تھی۔
شام کو جب رشتے والے آئے تو ہانیہ کے دل کی دھڑکنیں تیز تھیں۔ اُس نے خاموشی سے چائے کے کپ تیار کیے اور سب کے سامنے رکھی۔ لیکن جیسے ہی ایک کپ میز پر رکھا گیا، لڑکے کے ہاتھ سے ٹکرا کر چائے کا چھینٹا اُس کے ہاتھ پر گر گیا۔
"اوہ سوری! میں نے دیکھا نہیں۔" لڑکے نے فوراً معذرت کی۔
ہانیہ نے ایک لمحے کو اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔ یہ معذرت بھرے لہجے نے اُسے چونکا دیا، کیونکہ وہ روز حمید کے سخت جملوں کی عادی ہو چکی تھی۔ لیکن وہ فوراً نظریں جھکا کر کچن میں واپس چلی گئی۔
رات کو سب لوگ رخصت ہوئے تو ہانیہ اپنے کمرے میں آ کر ٹوٹ گئی۔ اُس نے سوچا: "کیا میری زندگی بس ایسے ہی تماشوں میں گزرے گی؟" اُس کے آنسو تکیے کو بھگو رہے تھے۔
مگر اُس کی تعلیم اور ہنر یاد آیا — کپڑوں کی ڈیزائننگ، چھوٹے ہینڈ میڈ کام جو وہ کبھی شوقیہ کرتی تھی۔ اُس کے دل میں ایک روشنی سی جاگ اٹھی۔ اُس نے ایک بیگ نکالا، اُس میں چند کپڑے اور کتابیں ڈالیں، اور بہن کے نام ایک چٹھی لکھ دی:
"میں اپنی زندگی خود بنانے جا رہی ہوں۔ دعا کرنا، بہن۔"
چاندنی رات تھی، سب سوئے ہوئے تھے۔ ہانیہ دبے پاؤں، آہستہ آہستہ گھر سے نکل گئی۔ اُس کے دل میں خوف بھی تھا اور عزم بھی۔ یہ پہلا قدم تھا — اپنی آزادی کی تلاش میں۔
گلی سنسان تھی۔ سرد ہوا کے جھونکے اُس کے دوپٹے سے کھیل رہے تھے، مگر اُس کے دل میں عجیب سی ہمت پیدا ہو چکی تھی۔ ہانیہ نے زندگی میں پہلی بار اپنے لیے کوئی فیصلہ کیا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی گئی اور مین روڈ پر آ کر رک گئی۔
پاس ہی سے رکشہ گزرا تو اُس نے ہاتھ دے کر روکا۔ "بیٹا کہاں جانا ہے؟" رکشے والے نے پوچھا۔
ہانیہ نے کچھ لمحے سوچا اور پھر بولا: "ریلوے اسٹیشن۔"
اُس کی جیب میں چند سو روپے تھے جو وہ اکثر اپنی جیب خرچ سے بچا کر رکھتی تھی۔ ریلوے اسٹیشن پہنچ کر وہ ایک بنچ پر بیٹھ گئی۔ اردگرد شور تھا — گاڑیوں کی سیٹیاں، ریڑھی والوں کی آوازیں، اور مسافروں کی دوڑ۔ مگر ہانیہ کے اندر خاموشی تھی۔
اچانک اُس کی نظر سامنے لگی ایک بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا: "ہنر مند خواتین کے لیے سلائی سینٹر میں داخلہ جاری ہے"۔ اُس کے دل میں جیسے بجلی سی کوندی۔ وہ تیزی سے اُس طرف بڑھی۔
سینٹر چھوٹا سا تھا، لیکن وہاں عورتیں کپڑے کاٹ رہی تھیں، ڈیزائن بنا رہی تھیں اور خوش دلی سے باتیں کر رہی تھیں۔ ہانیہ نے جھجکتے ہوئے اندر قدم رکھا۔ "جی بی بی؟ آپ کو کچھ چاہیے؟" ایک درمیانی عمر کی عورت نے مسکرا کر پوچھا۔
"میں… میں سلائی اور ڈیزائننگ سیکھنا چاہتی ہوں۔" ہانیہ کی آواز کمزور تھی مگر عزم سے بھری ہوئی۔
عورت نے شفقت سے کہا: "یہاں کسی سفارش کی ضرورت نہیں، صرف محنت چاہیے۔ آ جاؤ، ہم تمہیں سکھائیں گے۔"
یوں ہانیہ نے اپنی نئی زندگی کی شروعات کر دی۔ دن بھر وہ کپڑوں کی کٹنگ، سلائی اور ڈیزائننگ سیکھتی۔ شام کو اسٹیشن کے قریب ایک چھوٹے ہوسٹل میں رہنے لگی جہاں اور بھی طالبات رہتی تھیں۔ اُس نے گھر والوں کو کوئی اطلاع نہیں دی تھی، بس دل ہی دل میں ماں کی دعاؤں کا سہارا تھا۔
کچھ دنوں بعد، ہانیہ کا ہنر سب کی نظروں میں آنے لگا۔ وہ نئے نئے ڈیزائن سوچتی، کپڑوں پر خوبصورت نقش و نگار بناتی۔ سینٹر کی استاد نے ایک دن اُس سے کہا:
"بیٹی، تم میں بہت ٹیلنٹ ہے۔ چاہو تو ہم تمہیں ایک مقابلے میں شامل کر سکتے ہیں جو شہر کے بڑے ہوٹل میں ہونے والا ہے۔"
ہانیہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ "میں؟… مگر اگر میں ناکام ہو گئی تو؟"
"ناکامی سے ڈرنے والے کبھی آگے نہیں بڑھتے،" استاد نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
رات کو ہوسٹل کے کمرے میں، ہانیہ نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ "کیا میں واقعی کچھ کر سکتی ہوں؟ کیا میری زندگی بدل سکتی ہے؟" اُس کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آ گئے، لیکن اس بار وہ کمزوری کے نہیں بلکہ امید کے آنسو تھے۔
چند ہفتے بعد مقابلے کا دن آ گیا۔ بڑے ہال میں روشنیوں کی بہار تھی۔ مشہور ڈیزائنرز، میڈیا اور شائقین سب موجود تھے۔ ہانیہ نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی کلیکشن پیش کی۔ رنگوں کی جاذبیت اور کٹ ورک کی باریکی دیکھ کر سب دنگ رہ گئے۔
آخرکار جب نتائج کا اعلان ہوا تو پہلی پوزیشن ہانیہ کے نام نکلی۔ تالیاں گونج اٹھیں، فلیش لائٹس چمکنے لگیں، اور ہانیہ کے لبوں پر پہلی بار سچی مسکراہٹ آئی۔
اُس لمحے اُس نے دل میں کہا:
"حمید نے چاہا تھا مجھے توڑ دینا، لیکن میں نے خود کو بنانے کا فیصلہ کیا۔ اب میں صرف ہانیہ ہوں — آزاد، مضبوط اور اپنی پہچان کے ساتھ۔"
ہانیہ کے جیتنے کی خبر اگلے ہی دن اخبارات اور سوشل میڈیا پر چھا گئی۔ مختلف چینلز پر اُس کی تصویریں چل رہی تھیں۔ وہ اپنے کپڑوں کے نئے ڈیزائن کے ساتھ ایک کامیاب ڈیزائنر کے طور پر ابھر چکی تھی۔ ہر کوئی اُس کی تعریف کر رہا تھا، مگر ایک شخص ایسا تھا جس کے دل میں آگ بھڑک اٹھی تھی — حمین۔
دفتر میں بیٹھا ہوا اُس کے ایک کولیگ نے ہنستے ہوئے موبائل دکھایا:
"ارے حمین صاحب، یہ دیکھیں! آپ کی بیوی کا تو بڑا نام بن گیا۔ آج کل تو ہر طرف اسی کی بات ہو رہی ہے۔"
حمین نے چونک کر موبائل اس کے ہاتھ سے لیا۔ اسکرین پر ہانیہ کی مسکراتی تصویر تھی جس پر کیپشن لکھا تھا:
"ہانیہ — وہ لڑکی جس نے حالات کے اندھیروں سے نکل کر روشنی کو گلے لگایا۔"
اُس کے ماتھے کی رگیں پھول گئیں۔ "یہ… یہ کیسے ممکن ہے؟" اُس نے بے یقینی سے کہا۔ یادوں کا سیلاب ایک دم سے اُس کے ذہن پر چھا گیا — وہ لمحہ جب اُس نے ہانیہ کو فائل پر کافی گرنے پر ذلیل کیا تھا، وہ وقت جب اُس نے اُسے کم عقل کہا تھا، اور وہ رات جب وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔
حمین نے تب سب کو یہی بتایا تھا کہ ہانیہ ناراض ہو کر ماں کے گھر چلی گئی ہے۔ لیکن اب سچ سب کے سامنے تھا۔
گھر واپس آتے ہی وہ بیقرار سا ٹہلنے لگا۔ "میں نے اُسے ہمیشہ کمزور سمجھا۔ یہ کیسے ہو گیا کہ وہ آج سب کی نظروں کی شہزادی بن گئی؟" اُس کا غرور چکنا چور ہو رہا تھا۔
ادھر ہانیہ کے پاس کامیابی کے نئے دروازے کھلنے لگے۔ اُسے مختلف برانڈز کی طرف سے آفرز آنے لگیں۔ مگر وہ اب بھی زمین سے جڑی ہوئی تھی۔ ایک دن سینٹر کی استاد نے اُس سے کہا:
"ہانیہ، تمہاری ہمت اور محنت نے نہ صرف تمہاری زندگی بدلی بلکہ بہت سی لڑکیوں کو حوصلہ دیا۔"
ہانیہ نے مسکرا کر کہا:
"میں چاہتی ہوں کہ اب میرا کام صرف میرے لیے نہ ہو، بلکہ ہر اُس لڑکی کے لیے ہو جو حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔"
حمین نے کئی دن سوچ بچار کے بعد ہانیہ سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے ایک پروگرام کے لیے اسپیشل پاس لیا جہاں ہانیہ کو مہمانِ خصوصی کے طور پر بلایا گیا تھا۔
ہال میں جیسے ہی ہانیہ اسٹیج پر آئی، سب کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگے۔ وہ پُراعتماد لہجے میں اپنی کہانی سنا رہی تھی۔ عین اُس وقت، حمین کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اُسے اپنی سختی، اپنے الفاظ اور اپنی زیادتیاں یاد آئیں۔
پروگرام ختم ہونے کے بعد وہ ہانیہ کے قریب آیا۔
"ہانیہ…" اُس کی آواز کانپ رہی تھی۔
ہانیہ نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا، جیسے برسوں بعد کسی پرانے خواب سے آنکھ کھلی ہو۔
"میں… میں نے بہت غلطیاں کیں۔ تمہیں توڑنے کی کوشش کی، تمہیں کمزور کہا۔ لیکن آج مجھے سمجھ آیا کہ اصل کمزور تو میں تھا،" وہ آہستہ آہستہ بولا۔
ہانیہ نے گہری سانس لی۔ "حمین، تمہاری سختی نے ہی مجھے مضبوط بنایا۔ اگر وہ دن نہ آتے تو شاید یہ دن بھی نہ آتا۔ لیکن اب میری زندگی میری ہے۔ میں اپنی پہچان کسی کے غصے یا کمزوری پر قربان نہیں کر سکتی۔"
یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی۔ حمین اُس کے پیچھے دیکھتا رہ گیا، ٹوٹے ہوئے غرور اور بےبسی کے ساتھ۔
ہانیہ کے قدم مضبوط تھے لیکن دل کے اندر ایک بھاری پن موجود تھا۔ اُس نے حمین کی آنکھوں میں وہ شکست دیکھ لی تھی جس کا سامنا ہر ظالم انسان کو ایک نہ ایک دن ضرور کرنا پڑتا ہے۔ مگر اُس کے دل میں کہیں نہ کہیں ایک نرم گوشہ اب بھی موجود تھا۔
رات کو جب وہ اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی، کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی، تو ماضی کی یادیں ایک ایک کر کے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔ وہ لمحہ جب پہلی بار حمین نے مسکرا کر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا… وہ شام جب وہ دونوں پارک میں بیٹھے مستقبل کے خواب دیکھ رہے تھے… لیکن پھر سب کچھ بکھر گیا تھا۔
ہانیہ کی آنکھوں سے بےاختیار آنسو بہنے لگے۔
"کیا واقعی وہ انسان بدل سکتا ہے؟" اُس نے خود سے سوال کیا۔
"یا پھر یہ سب محض وقتی احساس ہے؟"
ادھر حمین گھر آ کر ٹوٹ سا گیا تھا۔ اُس نے کئی بار ہانیہ کو کال کرنے کی کوشش کی مگر ہانیہ نے جواب نہ دیا۔ اُس کی راتیں بے سکونی میں گزرنے لگیں۔ اُس کے کمرے کی دیواریں، اُس کے کاغذ، اُس کی زندگی سب اُسے ہانیہ کی یاد دلاتے۔
ایک دن اُس نے ہمت کی اور ہانیہ کے گھر کے دروازے پر جا کھڑا ہوا۔ دروازہ کھلا تو اُس نے ہانیہ کو دیکھا۔ اُس کے چہرے پر اب خوف نہیں، بلکہ اعتماد اور سکون کی روشنی تھی۔
"ہانیہ…" اُس نے دھیمی آواز میں کہا۔
ہانیہ نے خاموشی سے اُس کی طرف دیکھا۔
"میں نے تمہیں ہمیشہ کمزور سمجھا۔ لیکن آج جانا کہ تم ہی اصل میں مضبوط ہو۔ میں نے تمہیں رلایا، زخمی کیا، مگر تم نے وہ سب برداشت کر کے اپنے آپ کو سنوارا۔ مجھے معاف کر دو ہانیہ…" اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
ہانیہ نے ایک لمحے کو اُس کی طرف دیکھا، پھر آہستہ سے بولی:
"حمین، زخم چاہے بھر بھی جائیں لیکن اُن کے نشان کبھی نہیں مٹتے۔ تمہاری سختی نے مجھے بدل دیا، لیکن اُس بدلاؤ نے مجھے سکھایا کہ عورت کی عزت سب سے پہلے اُس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔"
حمین گھٹنے کے بل بیٹھ گیا۔ "میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا… پلیز ایک موقع اور دے دو۔"
ہانیہ کے دل میں طوفان برپا تھا۔ ایک طرف وہ برسوں کی تکلیف تھی، دوسری طرف اُس کا نرم دل تھا جو محبت کو ہمیشہ اہمیت دیتا تھا۔ اُس نے گہری سانس لی اور کہا:
"اگر تم واقعی بدلنا چاہتے ہو، تو بدل جاؤ۔ لیکن میرا راستہ اب الگ ہے۔ میں نے اپنی پہچان ڈھونڈ لی ہے، اور اب میں کسی کے غصے یا کمزوری کا شکار نہیں بن سکتی۔"
یہ کہتے ہوئے ہانیہ نے دروازہ آہستہ سے بند کر دیا۔ حمین کے آنسو دروازے کے اس پار بہتے رہے، اور ہانیہ کے آنسو اندر خاموشی سے بہہ گئے۔
اس دن کے بعد ہانیہ نے اپنا کام مزید بڑھا دیا۔ اُس نے خواتین کے لیے ایک ادارہ کھولا جہاں مظلوم بیویوں اور کمزور لڑکیوں کو ہنر سکھایا جاتا۔ اُس نے اپنی کہانی کو دوسروں کے لیے روشنی کا چراغ بنا دیا۔
حمین… وہ اپنی غلطیوں کے ساتھ اکیلا رہ گیا۔ لیکن اُس کے دل میں یہ احساس ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا کہ اُس نے اپنی سب سے قیمتی چیز کو اپنے ہی ہاتھوں سے کھو دیا۔
💔 انجام:
یہ کہانی ایک پیغام دیتی ہے کہ محبت تبھی قائم رہ سکتی ہے جب عزت اور اعتماد ساتھ ہو۔ ورنہ زخم ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ یاد دلائیں کہ رشتے صرف جذبات سے نہیں، بلکہ رویوں سے جیتے ہیں۔


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."