Dukh Bhari Islamic Kahani | Maa Ki Qurbani Aur Imaan Ka Imtihaan | Sachi Kahani - Sachi Kahani Umair

Sachi Kahani Umair ek behtareen Urdu blog hai jahan aapko milengi asli zindagi se li gayi sachi kahaniyan, jin mein mohabbat, wafadari, dard aur jazbaat chhupe hain. Rozana naye topics aur dil ko choo lene wali kahaniyan sirf yahan.

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Wednesday, November 5, 2025

Dukh Bhari Islamic Kahani | Maa Ki Qurbani Aur Imaan Ka Imtihaan | Sachi Kahani


 “اُس رات میں نے سب کچھ کھو دیا… مگر سکون نہیں ملا”

میرا نام حنا ہے کبھی سوچا نہ تھا کہ زندگی ایک دن مجھے اس موڑ پر لے آئے گی جہاں سانس لینا بھی گناہ لگے میرے شوہر نعمان کو فالج ہوا تو دنیا نے ہم سے منہ موڑ لیا رشتہ دار جن کے ساتھ ہم نے سالوں کا رشتہ نبھایا وہ بھی یوں غائب ہوگئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں گھر کا خرچ بڑھتا گیا شوہر چارپائی پر پڑا تھا اور دو بچے بھوک سے تڑپتے تھے میں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا کسی نے کام دینے سے انکار کر دیا کہنے لگے تم کمزور عورت ہو یہ کام نہیں کر سکو گی میں نے سوچا کوئی کپڑے دھونے کا یا صفائی کا کام کر لوں مگر سب نے دروازہ بند کر لیا ایک رات بیٹے کا بخار حد سے بڑھ گیا میں نے سارا گھر چھان مارا ایک سکہ تک نہ ملا میں نے شوہر کی آنکھوں میں دیکھا وہ آنکھیں جو کبھی میرا غرور تھیں آج مجھ سے سوال کر رہی تھیں میں نے بیٹی کو سوتے دیکھا تو دل پھٹ گیا اس رات میں نے فیصلہ کر لیا کہ کچھ بھی ہو میں اپنے بچوں کو بھوکا نہیں سونے دوں گی


شہر کی سڑکوں پر اندھیرا پھیلا تھا میں نے چادر لپیٹی اور باہر نکل گئی قدم لڑکھڑا رہے تھے دل چیخ رہا تھا مگر آنسو جیسے خشک ہو چکے تھے میں سڑک کے کنارے کھڑی ہو گئی گاڑیاں گزرتی رہیں لوگ دیکھتے مگر کوئی رکا نہیں کچھ دیر بعد ایک گاڑی رکی کھڑکی نیچے ہوئی اور ایک مرد نے مجھ سے پوچھا کتنے پیسے چاہئیں میں نے نگاہ جھکائی اور ہلکی آواز میں کہا پانچ ہزار وہ ہنسا اور بولا چلو بیٹھ جاؤ میں نے خود کو پتھر بنا لیا گاڑی چل پڑی میرا وجود کانپ رہا تھا مگر دماغ خالی تھا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہو جب واپسی ہوئی تو ہاتھ میں چند نوٹ تھے اور دل میں ہزاروں زخم میں نے گھر کا دروازہ کھولا شوہر سو رہا تھا بچوں کے چہرے پر سکون تھا میں نے آہستہ سے پیسے تکیے کے نیچے رکھے اور اندھیرے میں بیٹھ گئی اپنی سانسوں کی آواز بھی گناہ لگ رہی تھی


اگلی صبح بیٹی نے مسکرا کر کہا اماں آج ناشتہ مل جائے گا میں نے زبردستی مسکرا کر کہا ہاں بیٹی آج ناشتہ ملے گا وہ خوشی سے تالیاں بجانے لگی میں نے نظریں چرا لیں کہیں وہ میری آنکھوں میں چھپا درد نہ دیکھ لے شام کو شوہر نے پوچھا کہاں جا رہی ہو میں نے کہا کام پر جا رہی ہوں اس نے آہستہ سے کہا بہت تھک جاتی ہو چھوڑ دو یہ کام میں نے جواب دیا اگر چھوڑ دوں تو بچوں کا کیا ہوگا وہ خاموش ہوگیا اس کی خاموشی نے میری روح چھلنی کر دی میں نے چادر اوڑھی اور باہر نکل گئی ہر رات اب میری مجبوری بن چکی تھی ہر راستہ ایک زخم دے کر گزرتا مگر میں خود کو روک نہ سکی کیونکہ غربت اور بھوک نے میرے احساسات کو قید کر دیا تھا

وہ رات بھی عام راتوں جیسی تھی مگر دل کے اندر طوفان برپا تھا سڑک پر کھڑی تھی ہوا تیز تھی مگر میرے دل کی دھڑکن اس سے زیادہ شور مچا رہی تھی ہر گزرتی گاڑی میری مجبوری کا تماشا تھی میں نے خود سے کہا حنا اب یہ سب معمول ہے مگر دل کہاں مانتا ہے انسان جب درد سہنے لگے تو اس کا دل بھی زندہ رہتے ہوئے مر جاتا ہے ایک کار آ کر رکی اندر چار لڑکے بیٹھے تھے ان میں سے ایک نے شیشے سے جھانک کر کہا کتنے پیسے چاہئیں میں نے وہی پرانا جملہ دہرایا پانچ ہزار وہ ہنس پڑے اور بولے چلو ہمارے ساتھ میں خاموشی سے بیٹھ گئی گاڑی ہوٹل کے سامنے رکی دل جیسے دھڑکنا بھول گیا وہ چاروں مجھ سے ہنس کر باتیں کر رہے تھے مگر ان کی نظریں میرے اندر کے خوف کو پڑھ رہی تھیں میں نے خود کو تیار کیا کہ اب جو ہونا ہے ہو جائے مگر دل اندر سے کانپ رہا تھا کمرے میں داخل ہوئی تو میری نظریں دیوار پر جا ٹھہری جہاں ایک شیشے میں میرا عکس نظر آ رہا تھا میں نے خود سے کہا بس ایک رات اور پھر سب ٹھیک ہو جائے گا


وہ سب میرے سامنے بیٹھ گئے میں نے مصنوعی مسکراہٹ اوڑھ لی تاکہ کوئی میرے اندر کے طوفان کو نہ دیکھ سکے میں آہستہ آہستہ ان کے قریب ہوئی تو ایک نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا ہمیں تمہارا جسم نہیں چاہیے میں حیران رہ گئی دل میں خوف کی لہر دوڑ گئی مجھے لگا شاید وہ میرا مذاق اڑا رہے ہیں مگر پھر اس نے سنجیدگی سے کہا ہمیں تمہاری کہانی چاہیے تمہارے دکھ کا سچ ہم جاننا چاہتے ہیں میں گم سم ہو کر ان کی طرف دیکھتی رہی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور دل میں ایک طوفان اٹھا جو برسوں سے دبایا ہوا تھا میں نے پوچھا تمہیں میرے دکھ سے کیا ملے گا اس نے کہا شاید سکون کیونکہ ہم نے اپنی زندگیوں میں صرف خوشیاں دیکھی ہیں کبھی تم جیسے لوگوں کا درد نہیں سمجھا تمہاری کہانی ہمیں انسان بنا سکتی ہے


میں نے وہ جملہ سنا تو اندر کچھ ٹوٹ گیا وہ ٹوٹنا ایسا تھا جس نے میری ساری کمزوری ختم کر دی میں زمین پر بیٹھ گئی ہاتھ چہرے پر رکھ کر رو پڑی وہ خاموش کھڑے رہے میری چیخیں اس کمرے کی دیواروں میں گونجنے لگیں برسوں کا بوجھ ایک لمحے میں ہلکا ہو گیا مگر دل خالی ہو گیا میں نے کہا تم جاننا چاہتے ہو تو سنو میرا شوہر فالج زدہ ہے میرا بیٹا ہسپتال میں موت اور زندگی کے بیچ لٹک رہا ہے میری بیٹی بھوک سے روتی ہے اور میں ماں ہوں جو اپنی عزت کا سودا اس کے نوالے کے لیے کرتی ہے ایک لمحے کو وہ سب خاموش ہو گئے ان کے چہرے بدل گئے جیسے کسی نے ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا ہو


انہوں نے میرے سامنے پیسے رکھے اور کہا یہ تمہاری عزت کی قیمت نہیں یہ تمہارے حوصلے کا سلام ہے میں نے آنکھیں بند کر لیں دل چاہا زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں ان کے قدموں کی آواز مدھم پڑی دروازہ بند ہوا اور میں تنہا رہ گئی ایک لمحے کے لیے لگا شاید میں مر گئی ہوں پھر ہاتھ میں پانچ ہزار کا نوٹ دیکھا تو احساس ہوا کہ میں ابھی بھی زندہ ہوں مگر اندر سے ختم ہو چکی ہوں میں سڑک پر نکلی ہوا ٹھنڈی تھی مگر میرے بدن پر پسینہ تھا میں آسمان کی طرف دیکھ کر بولی خدا اگر یہ زندگی ہے تو موت کیسی

 ہوگی

رات کے اندھیرے میں جب میں گھر لوٹی تو گلیوں کی خاموشی میرے دل کے شور سے بھر گئی تھی ہاتھ میں وہی نوٹ تھے جن کے بدلے میں میں نے اپنے وجود کا ایک اور حصہ بیچ دیا تھا دروازہ کھولا تو شوہر کی کھانسی کی آواز آئی بیٹی نیند میں بڑبڑا رہی تھی ماں کب آئے گی میں نے آہستہ سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور دل سے ایک آہ نکلی کہ کاش اسے کبھی معلوم نہ ہو کہ اس کی ماں راتوں کو کہاں جاتی ہے شوہر نے نیم جاگتے ہوئے کہا تم تھک گئی ہو آرام کر لو میں نے جواب دیا بس کچھ دیر کے لیے باہر گئی تھی وہ خاموش ہو گیا اس کی خاموشی میں اعتماد بھی تھا اور بے بسی بھی میں نے آنکھیں بند کر کے سوچا یہ زندگی کب تک چلے گی مگر پھر وہ چہرے یاد آئے جو میرے پیٹ سے نکلے تھے اور میں نے خود سے کہا ابھی نہیں رکنا ابھی نہیں ہارنا


اگلی صبح بیٹے کی حالت بگڑ گئی میں اسے لے کر اسپتال پہنچی ڈاکٹر نے کہا فوری دوائیاں لاؤ ورنہ دیر ہو جائے گی میں نے پرس کھولا تو چند سو روپے تھے باقی رقم وہ تھی جو کل رات کے بدلے ملی تھی دل نے کہا یہ دوائیاں ان نوٹوں سے خریدنا گناہ ہے مگر عقل نے کہا اگر دوائی نہ ملی تو بیٹا مر جائے گا میں نے خاموشی سے نوٹ آگے بڑھا دیے دل چیخا مگر زبان خاموش رہی ڈاکٹر نے دوائی دی اور بیٹے کو لگائی میں نے اس کا چہرہ دیکھا سانسیں آہستہ آہستہ بحال ہو رہی تھیں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے میں نے خدا کا شکر ادا کیا مگر دل میں ایک زخم اور بڑھ گیا کہ میرا بچہ میری ماں ہونے کی قیمت نہیں جانتا

دن گزرتے گئے شوہر کی حالت جوں کی توں رہی بیٹی بڑی ہو رہی تھی اور میں ہر رات اپنے اندر کے خوف کو دفن کرتی جا رہی تھی کبھی کبھی آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خود سے پوچھتی کون ہوں میں وہ حنا جو شوہر کے ساتھ خواب دیکھتی تھی یا وہ عورت جو اندھیری راتوں میں خود کو مٹی کرتی ہے جواب ہمیشہ خاموشی میں گم ہو جاتا ایک دن شوہر نے کہا حنا کبھی سوچا ہے تم کب تک ایسے جیو گی میں نے نگاہ جھکائی اور کہا جب تک سانس ہے تب تک مجبوری بھی ہے اس نے آہستہ سے کہا تم بدل گئی ہو میں نے جواب دیا ہاں نعمان غربت انسان کو بدل دیتی ہے میں نے تمہیں بچانے کے لیے خود کو کھو دیا مگر تم سمجھ نہ سکے

رات کو جب میں سڑک پر نکلی تو دل میں عجیب سا بوجھ تھا گاڑیاں گزر رہی تھیں مگر آج میں کسی گاڑی کا انتظار نہیں کر رہی تھی میں بس آسمان کو دیکھ رہی تھی اور دل میں کہہ رہی تھی خدا اب مجھ پر رحم کر لے ایک لمحے کو سوچا کسی گاڑی کے آگے آ جاؤں مگر پھر بیٹی کا چہرہ یاد آیا جو ہمیشہ کہتی تھی اماں تم سب سے بہادر ہو میں نے خود سے کہا حنا تم مر نہیں سکتیں کیونکہ تیرے جینے سے ہی ان کا سانس قائم ہے میں نے سر اٹھایا چادر ٹھیک کی اور ایک قدم آگے بڑھایا جیسے ہر زخم کے ساتھ ایک نئی جنگ شروع کر ر

ہی ہوں

وہ دن میری زندگی کا سب سے بھاری دن تھا بیٹا اسپتال میں داخل تھا اس کے چہرے پر زندگی کے آثار کم اور کمزوری زیادہ تھی میں دن رات اس کے پاس بیٹھی رہتی تھی دل میں خوف تھا کہ کہیں وہ بھی مجھ سے دور نہ چلا جائے ایک صبح نرس نے کہا آپ کے بیٹے کو ہوش آ گیا ہے وہ آپ کو بلا رہا ہے میں بھاگتی ہوئی اندر گئی اس کی آنکھیں کھلی تھیں وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا اس نے کمزور آواز میں کہا اماں آپ تھک جاتی ہیں نا آپ کے ہاتھوں میں ہمیشہ کپکپی رہتی ہے میں نے ہونٹ کاٹ کر مسکراہٹ اوڑھ لی اور کہا نہیں بیٹا میں ٹھیک ہوں اس نے میری آنکھوں میں جھانکا اور بولا اماں کیا میں ایک سوال کر سکتا ہوں میں نے دل میں خوف محسوس کیا مگر کہا پوچھو بیٹا وہ بولا اماں لوگ کہتے ہیں کہ آپ راتوں کو باہر جاتی ہیں کیا یہ سچ ہے

وہ سوال میرے سینے میں خنجر بن کر لگا میں نے نظر جھکائی الفاظ حلق میں اٹک گئے میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر زبان نے ساتھ نہ دیا اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا اماں میں سب جان چکا ہوں میں نے وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے آپ کے قدموں کے نیچے جو مٹی ہے اس پر آنسوؤں کے نشان ہیں میں نے کچھ کہنا چاہا مگر آواز گم ہو گئی اس نے کہا آپ نے میرے لیے سب کچھ قربان کر دیا مگر اماں میں آپ کے دکھ کا وزن نہیں اٹھا سکتا آپ نے اپنے وجود کا سودا کیا تاکہ میں زندہ رہوں مگر اب میں اس زندگی کا حق دار نہیں ہوں میں نے چیخ کر کہا نہیں بیٹا ایسا مت کہو مگر وہ خاموش ہو گیا اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اور میرے اندر سب کچھ ٹوٹ گیا ڈاکٹر دوڑے آئے مگر میں جان گئی تھی کہ میری دنیا ختم ہو گئی ہے

میں وارڈ کے فرش پر بیٹھ گئی بیٹے کا چہرہ میری گود میں تھا میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا خدا تو نے سب کچھ لے لیا اب میرے اندر کچھ نہیں بچا شوہر اس کے کچھ دن بعد ہی چلا گیا بیٹی رو رو کر نڈھال ہو گئی وہ بولی اماں اب ہم اکیلے ہیں میں نے کمزور آواز میں کہا نہیں بیٹی تو ہے نا مگر دل جانتا تھا کہ میں اندر سے مر چکی ہوں میں نے بیٹی کا ہاتھ تھاما اور کہا یاد رکھنا کبھی ماں کی طرح زندگی نہ جینا کبھی خود کو بیچ کر کسی کو بچانے کی کوشش نہ کرنا وہ تڑپ اٹھی اور بولی اماں آپ ہی تو ہمارا سہارا ہیں میں نے اس کے آنسو پونچھے اور کہا سہارا وہ ہوتا ہے جس کے پاس خود کچھ ہو میرے پاس اب کچھ نہیں

رات کو جب سب سو گئے میں چھت پر گئی ہوا میں نمی تھی آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے میں نے آنکھیں بند کر کے بیٹے کا چہرہ یاد کیا اس کی آواز اب بھی کانوں میں گونج رہی تھی اماں میں سب جان چکا ہوں دل چاہا چیخوں مگر آواز باہر نہ آئی آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا خدا اگر میری کہانی ختم ہو گئی ہے تو اب مجھے اپنے پاس بلا لے پھر آہستہ سے بولی حنا نے آج ہار مان لی ہے صبح جب بیٹی نے دروازہ کھولا تو میں خاموش تھی چہرے پر سکون تھا جیسے برسوں کے بعد نیند نے گلے لگایا ہو میرے ہاتھ میں وہی پانچ ہزار کا نوٹ تھا جو میں نے پہلی رات کمائے تھے شاید قسمت چاہتی تھی کہ میں اسی جگہ واپس آ جاؤں جہاں سے سب شروع ہوا تھا




No comments:

Post a Comment

"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."

Post Bottom Ad