Begharz Pyar Ki Dastaan | Romantic Emotional Novel | Sachi Kahani - Sachi Kahani Umair

Sachi Kahani Umair ek behtareen Urdu blog hai jahan aapko milengi asli zindagi se li gayi sachi kahaniyan, jin mein mohabbat, wafadari, dard aur jazbaat chhupe hain. Rozana naye topics aur dil ko choo lene wali kahaniyan sirf yahan.

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Thursday, November 6, 2025

Begharz Pyar Ki Dastaan | Romantic Emotional Novel | Sachi Kahani


 "دل ٹوٹا مگر احساس زندہ رہا"

احمد ڈاکٹر کی بات سن کر پریشان ہو  دو دن شادی کو ہوئے ماہم تین  ماہ کے حمل سے ہے


“مبارک ہو، آپ کی بیوی تین ماہ کی حاملہ ہیں۔”
ڈاکٹر کے لبوں سے نکلے یہ الفاظ جیسے احمد کے وجود پر بجلی بن کر گرے۔ اس نے سامنے بیٹھی لڑکی کی طرف دیکھا، جو نظریں جھکائے خاموش بیٹھی تھی۔
“یہ… یہ کیسے ممکن ہے؟ ہماری شادی کو تو دو ہی دن ہوئے ہیں؟”
اس کی آواز میں کانپ تھی، چہرے پر غصہ اور حیرانی دونوں تھے۔
ماہم نے آہستگی سے آنکھیں اٹھائیں، ان میں نمی چمک رہی تھی۔ “میں خود نہیں جانتی احمد، خدا کی قسم مجھے کچھ یاد نہیں…”

احمد نے میز پر رکھا فائل اٹھایا، جیسے یقین نہ آ رہا ہو۔ “جھوٹ مت بولو، یہ کس کا بچہ ہے؟”
“احمد، پلیز، ایسا مت کہو، میں بے قصور ہوں…”
لیکن احمد کے اندر جیسے کوئی طوفان ابل پڑا تھا۔ اس نے تیزی سے کرسی پیچھے دھکیلی اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
“میری زندگی میں تمہاری کوئی جگہ نہیں، آج کے بعد تم میرے لیے مر چکی ہو!”

دروازہ زور سے بند ہوا اور ماہم کی سانس جیسے رک گئی۔ آنسو رخساروں سے بہہ کر دوپٹے میں جذب ہو گئے۔ وہ زمین پر بیٹھ گئی، اپنی کلائیوں کو تھام کر سسکنے لگی۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھلا، احمد کی ماں اندر آئی۔ ان کے چہرے پر غصے اور شرم کا امتزاج تھا۔
“ہم نے تجھے اپنی عزت سمجھ کر اس گھر میں لایا تھا، اور تُو نے وہی عزت خاک میں ملا دی! نکل جا اس گھر سے، ابھی کے ابھی!”

ماہم نے التجا کی، “خدا کے لیے آنٹی، میری بات سن لیں…”
“ہم نے کافی سن لیا، اب یہاں ایک پل بھی رکنا مت!”
دھکے کے ساتھ وہ دروازے کے باہر جا گری۔ محلے کی عورتوں کی نظریں اس پر جا پڑیں، کوئی ترس کھا رہا تھا، کوئی طنز کر رہا تھا۔
وہ ننگے قدم سڑک پر چلتی گئی، جیسے ہوش باقی نہ رہا ہو۔

رات کے کسی پہر وہ اپنی ماں کے دروازے پر پہنچی۔ دروازہ کھلا تو بوڑھی ماں کے چہرے پر حیرت اور درد پھیل گیا۔
“ماہم بیٹی، یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟”
ماہم نے ماں کے سینے سے لگ کر روتے ہوئے کہا، “امی، میں برباد ہو گئی…”
ماں نے کچھ نہ پوچھا، بس بیٹی کو بانہوں میں لے کر چپ کرانے لگی۔

دن گزرتے گئے، لیکن احمد نے پلٹ کر خبر نہ لی۔
وہ سب کچھ بھلا کر پردیس چلا گیا۔
اس کے دل میں زہر بھر چکا تھا، وہ سمجھتا تھا کہ ماہم نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔

وقت گزرتا گیا، تین سال بیت گئے۔
ایک دن احمد کے قدم اچانک پاکستان کی سرزمین پر پڑے۔
ایئرپورٹ سے نکلتے ہی ایک چھوٹا سا لڑکا سڑک کے کنارے کھیل رہا تھا۔ اچانک وہ لڑکھڑا کر احمد کی گاڑی کے سامنے آ گیا۔
گاڑی کا بریک چرچراتا ہوا رکا۔ احمد کے دل کی دھڑکن رک گئی۔
وہ بھاگ کر باہر آیا، لڑکے کو اٹھایا، اور جیسے ہی اس کے چہرے پر نظر پڑی —
احمد کی سانس رک گئی۔
وہ چہرہ، وہ آنکھیں، وہ مسکراہٹ —
وہ بالکل اس کے بچپن کی کاپی تھا۔

احمد کی آنکھیں پھیل گئیں، ہاتھ کانپنے لگے۔
“یہ… یہ بچہ کون ہے…؟”
احمد کے ہاتھ کانپ رہے تھے اس نے لڑکے کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اس کے چہرے کو غور سے دیکھا جیسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آ رہا ہو وہ بچہ بلکل احمد کے بچپن جیسا لگ رہا تھا اس کی آنکھوں میں وہی روشنی تھی وہی بھولپن وہی معصوم مسکراہٹ جو کبھی احمد کے والد کہا کرتے تھے کہ میرے بیٹے کی پہچان یہی مسکراہٹ ہے احمد کا دل کسی انجانی دھڑکن سے بھر گیا جیسے کسی نے اس کے اندر دبی ہوئی محبتوں کو اچانک جگا دیا ہو

بچے کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا احمد نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور سیدھا ہسپتال کی طرف دوڑ پڑا راستے بھر اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا یہ بچہ کون ہے یہ مجھ جیسا کیوں لگتا ہے یہ کہاں سے آیا ہے خدا یہ کیسا اتفاق ہے اس کے دل میں طوفان مچا ہوا تھا مگر چہرے پر خوف اور حیرت کی تہیں جمی ہوئی تھیں

ہسپتال پہنچ کر اس نے بچے کو ڈاکٹر کے حوالے کیا ڈاکٹر نے کہا فکر نہ کریں معمولی چوٹ ہے احمد نے اطمینان کی سانس لی مگر دل ابھی بھی کانپ رہا تھا اس نے بچے سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے اس نے مسکرا کر جواب دیا میرا نام اذلان ہے احمد نے حیرت سے پوچھا تمہاری امی کہاں ہیں اس نے معصوم لہجے میں کہا وہ باہر دوائی لینے گئی ہیں احمد کا دل جیسے رک سا گیا اذلان کی امی کا نام سنتے ہی شاید وہ سچ کے قریب پہنچ جائے گا

کچھ ہی دیر میں ایک عورت دوڑتی ہوئی اندر آئی احمد نے جیسے ہی اس عورت کی جھلک دیکھی اس کے قدم زمین میں گڑ گئے اس کا سانس جیسے سینے میں اٹک گیا وہ ماہم تھی وہی چہرہ وہی آنکھیں مگر چہرے پر تھکن کے سائے تھے آنکھوں میں دکھ کی گہرائی تھی احمد نے نظریں ہٹانے کی کوشش کی مگر ہٹا نہ سکا اس کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ رہا تھا

ماہم نے اپنے بچے کو گود میں لیا اس کے زخم کو دیکھا اور آہستہ سے کہا شکر ہے کچھ زیادہ نہیں ہوا پھر اس نے احمد کی طرف دیکھا اور ایک لمحے کے لیے دنیا رک گئی دونوں کی نظریں ملی وہ خاموشی جو تین سال سے ان کے درمیان زندہ تھی وہ آج بھی ویسی ہی تھی

احمد نے دھیرے سے کہا تم یہاں کیا کر رہی ہو ماہم نے نظریں نیچی کر کے کہا زندگی گزار رہی ہوں احمد نے ایک قدم آگے بڑھایا تم نے کہا تھا کہ تم بے قصور ہو لیکن تم نے مجھے یقین دلانے کی کوشش کیوں نہیں کی ماہم کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اس نے کہا میں نے کوشش کی تھی احمد مگر تم نے دروازہ میرے منہ پر بند کر دیا تھا میں نے اپنی بے گناہی کے ثبوت دینے چاہے لیکن تم نے میری ایک بھی بات نہیں سنی

احمد نے اذلان کی طرف دیکھا اس کے دل میں عجیب سی خلش اٹھی اس نے پوچھا یہ بچہ کس کا ہے ماہم نے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے جواب دیا احمد یہ تمہارا بیٹا ہے احمد پیچھے ہٹ گیا جیسے کسی نے اس کے پیروں تلے زمین کھینچ لی ہو وہ بولنے کے قابل نہیں رہا اس کے ہونٹوں سے صرف ایک لفظ نکلا میرا بیٹا

ماہم نے آہستہ سے کہا ہاں تمہارا بیٹا جس پر تم نے کبھی یقین نہیں کیا جسے تم نے آنے سے پہلے ہی ٹھکرا دیا احمد کی آنکھوں میں پچھتاوے کے سمندر اتر آئے اس کے ذہن میں تین سال پہلے کا ہر منظر گونجنے لگا جب اس نے بغیر سنے فیصلہ کیا تھا جب اس نے اپنے ہی نصیب پر خود ظلم کیا تھا
احمد کے اندر ایک طوفان برپا تھا وہ ماہم کے سامنے کھڑا تھا لیکن بولنے کے لیے الفاظ ساتھ چھوڑ چکے تھے دل جیسے پتھرا گیا تھا نظریں ماہم کے چہرے سے ہٹ نہیں رہی تھیں اس کی آنکھوں میں دکھ کا سمندر تھا مگر کہیں نہ کہیں ایک چھپی ہوئی نرمی بھی تھی جسے احمد برسوں بعد محسوس کر رہا تھا اس نے دھیرے سے کہا ماہم میں نے جو تمہارے ساتھ کیا وہ ظلم تھا میں تمہاری سچائی پر یقین نہیں کر سکا میں نے اپنے غصے میں سب کچھ کھو دیا

ماہم نے روتے ہوئے کہا احمد جب تم گئے تھے تو میں نے ہر روز تمہارے لوٹ آنے کی دعا کی میں نے اپنے رب سے کہا کہ اگر میرا دل سچا ہے تو ایک دن تم ضرور پلٹو گے میں نے اس امید پر اذلان کو جنم دیا کہ وہ تمہاری پہچان بنے گا میں نے اسے کبھی تم سے نفرت نہیں سکھائی میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ تم سفر پر گئے ہو اور ایک دن واپس آؤ گے

احمد کے قدم لڑکھڑانے لگے وہ بیڈ کے پاس آ کر بیٹھ گیا اذلان سو گیا تھا اور اس کے چہرے پر سکون تھا احمد نے آہستہ سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے وہ بولا یہ بچہ میرا فخر ہے مگر میں اس کے بچپن میں کہاں تھا میں نے اسے پہلے قدم چلتے نہیں دیکھا میں نے اسے بولتے نہیں سنا میں نے اپنی ہی خوشیوں کو خود سے چھین لیا

ماہم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر لہجہ مضبوط تھا احمد کچھ زخم وقت نہیں بھر سکتا تم نے مجھے صرف شک دیا تم نے مجھے تڑپایا اور پھر چھوڑ دیا میں ٹوٹی ضرور تھی مگر ختم نہیں ہوئی میں نے خود کو سنبھالا میں نے اپنے بچے کو باپ کے نام کے بغیر پالا اور آج جب تم سامنے ہو تو دل چاہتا ہے کہ تمہیں معاف کر دوں مگر دل کا بوجھ اجازت نہیں دیتا

احمد نے دھیرے سے کہا ماہم تم جو سزا دوگی میں قبول کروں گا مگر مجھے ایک موقع دو میں اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہوں میں نے تمہیں صرف رلایا مگر آج میں خود ٹوٹ چکا ہوں میں نے تمہیں کھو کر سمجھا کہ محبت صرف پاس ہونے کا نام نہیں بلکہ تڑپنے کا احساس ہے جو ہر سانس کے ساتھ جیتا ہے

ماہم نے خاموشی سے اس کی طرف دیکھا لمحہ بھر کو دونوں کے درمیان وہی پرانا سکون اتر آیا جس میں نہ نفرت تھی نہ الزام صرف احساس تھا احمد نے آہستہ سے کہا ماہم میں تمہیں وہ سب لوٹا دوں گا جو تم نے مجھ سے چھین لیا تھا تمہارا مان تمہارا سکون تمہاری عزت میں واپس لانا چاہتا ہوں

ماہم کے لب کپکپائے اس نے کہا احمد کچھ رشتے وقت کے ہاتھوں بکھر جاتے ہیں ان کے ٹکڑے جوڑنا آسان نہیں ہوتا میں نے تمہیں معاف تو کر دیا ہے مگر میں اب وہ ماہم نہیں رہی جو کبھی تمہارے انتظار میں راتیں جاگتی تھی

احمد نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی اس کی روح جیسے سسک اٹھی تھی اس نے اذلان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا اگر تم واپس نہیں بھی آئیں گی تب بھی میں تم دونوں کے سائے کی طرح رہوں گا میں اب خود کو تم سے الگ نہیں کر سکتا میں نے جو کھویا ہے وہ دنیا کا سب سے قیمتی رشتہ تھا
رات کے کسی سنسان لمحے میں ہسپتال کے کمرے کی کھڑکی سے چاندنی اندر اتر رہی تھی ماہم کرسی پر بیٹھی تھی اذلان اس کی گود میں سو رہا تھا احمد تھوڑے فاصلے پر کھڑا تھا جیسے دل چاہ رہا ہو کہ قریب آ جائے مگر ایک دیوار تھی جو تین سالوں کے فاصلے سے بن چکی تھی دونوں کے درمیان خاموشی تھی مگر اس خاموشی میں برسوں کی کہانیاں دفن تھیں

احمد نے دھیرے سے کہا ماہم میں چاہتا ہوں تم واپس آ جاؤ میں چاہتا ہوں کہ اذلان کے بچپن میں وہ کمی نہ رہے جو اس کے باپ کی غیر موجودگی نے پیدا کی میں چاہتا ہوں کہ ہم وہ سب ٹھیک کر دیں جو وقت نے بگاڑ دیا ہے ماہم نے آہستہ سے آنکھیں اٹھائیں اور کہا احمد کچھ ٹوٹنے کے بعد واپس نہیں جڑا کرتے میں نے وہ لمحے جیتے ہیں جب میں نے تمہیں بد دعا دینے کی ہمت بھی نہیں کی میں نے اذلان کو ہر رات سونے سے پہلے تمہارا نام لے کر دعا کرنا سکھایا کیونکہ میں چاہتی تھی کہ وہ نفرت کے بغیر بڑھے

احمد نے قدم آگے بڑھائے اس کے چہرے پر وہی درد تھا جو ماہم کے دل میں برسوں سے جمع تھا اس نے کہا میں نہیں جانتا ماہم کہ میں دوبارہ تمہیں اپنا سکوں گا یا نہیں مگر میں یہ جانتا ہوں کہ میں اب تمہارے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتا میں نے اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت احساس کو اپنے ہی ہاتھوں دفنا دیا تھا

ماہم کے لب کپکپا گئے اس نے کہا احمد میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے مگر میرا دل اب اس بوجھ کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا میں تھک گئی ہوں ان زخموں سے جنہیں میں نے سالوں سینے کے اندر چھپایا ہے میں چاہتی ہوں کہ اذلان کے لیے تم مضبوط رہو کیونکہ وہ تمہارا سایہ ہے اس نے دنیا سے صرف محبت سیکھی ہے نفرت نہیں

احمد کے چہرے سے آنسو بہہ نکلے اس نے کہا ماہم تم یہ کیا کہہ رہی ہو تمہارے بغیر میرا وجود ادھورا ہے ماہم نے دھیرے سے اذلان کی پیشانی پر بوسہ دیا پھر کہا احمد میری زندگی کا وقت مکمل ہو چکا ہے تم میرے لیے دعا کرنا میں نے اپنا سب کچھ تمہیں سونپ دیا ہے اذلان تمہارا امانت ہے

اچانک ماہم کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے اذلان کے سر سے اس کا لمس ہٹ گیا احمد نے گھبرا کر اسے سنبھالا مگر اس کے چہرے پر سکون اتر چکا تھا اس کی سانس رک چکی تھی احمد کی چیخ نے خاموش رات کو چیر دیا وہ بار بار کہہ رہا تھا ماہم اٹھو دیکھو میں تمہیں مانتا ہوں میں تمہیں چاہتا ہوں میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا مگر وقت کسی کی فریاد نہیں سنتا

احمد زمین پر بیٹھ گیا اذلان اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے احمد کے آنسو صاف کیے اور معصوم لہجے میں کہا بابا امی سو گئی ہیں احمد نے ٹوٹے دل کے ساتھ اذلان کو سینے سے لگا لیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر بولا ہاں بیٹا تمہاری امی سو گئی ہیں مگر انہوں نے ہمیں جگا دیا ہے انہوں نے ہمیں سکھا دیا کہ محبت کبھی ختم نہیں ہوتی وہ صرف روپ بدلتی ہے


صبح کی روشنی جب کمرے میں داخل ہوئی تو احمد نے اذلان کو گود میں لیا اور دل میں عہد کیا کہ اب وہ اس محبت کی حفاظت کرے گا جو ایک عورت نے اپنی آخری سانسوں میں اسے سونپ دی تھی ماہم چلی گئی مگر اپنی محبت کی خوشبو ہمیشہ کے لیے احمد اور اذلان کی زندگی میں چھوڑ گئی تھی اس دن کے بعد احمد کے گھر میں خاموشی ضرور تھی مگر اس خاموشی میں ماہم کی دعاوں کی گونج باقی رہ گئی تھی







No comments:

Post a Comment

"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."

Post Bottom Ad