میں نے جس عورت کو دیہاتی کہہ کر چھوڑا وہی میری تقدیر بن کر سامنے آ گئی
تعارف
یہ ایک سبق آموز اور جذباتی کہانی ہے جس میں ایک شخص کی زندگی کا اہم موڑ بیان کیا گیا ہے۔ اس نے ایک عورت کو دیہاتی سمجھ کر نظر انداز کیا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہی عورت اس کی تقدیر کا حصہ بن گئی۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جلد بازی میں فیصلے نہیں کرنے چاہئیں اور کسی کو اس کی سادگی یا پس منظر کی وجہ سے کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ زندگی میں اکثر وہی لوگ کامیابی اور سکون کا سبب بنتے ہیں جنہیں ہم ابتدا میں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں احترام، عاجزی اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
آج آپ یہ سٹوری ضرور دیکھیں
میرا نام حمزہ تھا اور میں ایک ایسے گھر میں پیدا ہوا تھا جہاں خواب پالنے کی اجازت تو تھی مگر سچ قبول کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ میں نے میٹرک کے فوراً بعد یہ طے کر لیا تھا کہ مجھے اس گاؤں میں نہیں رہنا۔ مجھے بیرون ملک جانا تھا۔ مجھے پڑھنا تھا۔ مجھے ایک ایسی زندگی چاہیے تھی جو کتابوں میں نظر آتی ہے۔ صاف ستھری۔ آزاد۔ جدید۔ میں خود کو اس مٹی سے الگ سمجھتا تھا جس میں میں پیدا ہوا تھا۔
اسی دوران میرے والد نے ایک دن وہ فیصلہ سنایا جس نے میری زندگی کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا نکاح شازیہ سے طے کر دیا گیا ہے۔ شازیہ میری پھپھو کی بیٹی تھی۔ غریب۔ دیہاتی۔ سادہ۔ وہی کھردرا لہجہ۔ وہی بھاری جسم۔ وہی نظریں جو زمین پر جمی رہتی تھیں۔ مجھے لگا جیسے میرے خوابوں پر کسی نے مٹی ڈال دی ہو۔
میں نے اسی دن شازیہ کو ایک لیبل دے دیا۔ جاہل۔ دیہاتی۔ رکاوٹ۔ میں نے اسے کبھی انسان کی طرح نہیں دیکھا۔ وہ میرے لیے ایک دیوار تھی جو میرے راستے میں کھڑی کر دی گئی تھی۔ نکاح ہو گیا مگر دل نے انکار کر دیا۔ میں اس گھر میں ایسے رہتا تھا جیسے وہ موجود ہی نہ ہو۔ میں اس کے کمرے کے دروازے سے ایسے گزرتا جیسے وہ کسی اجنبی کا کمرہ ہو۔
شازیہ خاموش تھی۔ حد سے زیادہ خاموش۔ وہ شکایت نہیں کرتی تھی۔ وہ سوال نہیں کرتی تھی۔ وہ بس دیکھتی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ وہ چیخے۔ لڑے۔ اپنے حق کا مطالبہ کرے۔ تاکہ مجھے اسے چھوڑنے کا جواز مل جائے۔ مگر اس کی خاموشی میری نفرت کو اور گہرا کر دیتی تھی۔
ایک دن میں نے غصے میں اس سے کہا کہ میرے خواب بہت بڑے ہیں اور وہ ان خوابوں کے سامنے ایک بوجھ ہے۔ اس نے سر جھکا کر کہا کہ وہ جانتی ہے کہ میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں۔ اس نے کہا کہ وہ میرے راستے میں کبھی نہیں آئے گی۔ اس ایک جملے نے مجھے اندر سے توڑ دیا مگر میں نے اسے اپنی انا کے نیچے دبا دیا۔
میں نے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کر لیا۔ والد خاموش تھے۔ ان کی آنکھوں میں افسوس تھا۔ جیسے وہ جانتے ہوں کہ میں ایک غلط راستے پر چل پڑا ہوں۔ روانگی کے دن میں نے آخری بار اس گھر کو دیکھا۔ شازیہ کھڑکی کے پاس کھڑی نہیں تھی۔ شاید وہ اندر کہیں رو رہی تھی۔ شاید وہ اب بھی میرا انتظار کر رہی تھی۔
جہاز فضا میں بلند ہوا تو میرے دل میں کوئی خلش نہ تھی۔ میں خود کو آزاد سمجھ رہا تھا۔ امریکہ پہنچ کر میں نے ایک نئی دنیا دیکھی۔ وہاں میری ملاقات ایما سے ہوئی۔ وہ پڑھی لکھی تھی۔ جدید تھی۔ اس کی ہنسی میں بے فکری تھی۔ وہ میرے خوابوں جیسی تھی۔ میں نے شازیہ کو اپنے ماضی کا ایک غیر ضروری باب سمجھ کر بند کر دیا۔
مجھے معلوم نہ تھا کہ جو باب میں نے بند کیا ہے وہی ایک دن میری زندگی کا سب سے بڑا سوال بن کر میرے سامنے کھڑا ہوگا۔ یہ کہانی ابھی شروع ہوئی تھی۔
امریکہ پہنچ کر میں نے خود کو ایک نئی زندگی میں جھونک دیا۔ پڑھائی۔ کام۔ آزادی۔ سب کچھ میری مرضی کے مطابق تھا۔ میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ شازیہ کا نام میرے لیے ایک بوجھ تھا جسے میں نے دل کے کسی کونے میں دفن کر دیا تھا۔ میں ایما کے ساتھ رہنے لگا۔ اس کی دنیا الگ تھی۔ اس کے اصول الگ تھے۔ اسے کسی رشتے کی ذمہ داری کا بوجھ پسند نہیں تھا اور یہی بات مجھے اچھی لگتی تھی۔
مہینے سالوں میں بدل گئے۔ میں نے شازیہ کی کوئی خبر لینے کی کوشش نہیں کی۔ میں یہ مان چکا تھا کہ وہ میری زندگی کا حصہ نہیں رہی۔ ایک دن اچانک ابو کی کال آئی۔ ان کی آواز میں وہ گرمی نہیں تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ شازیہ حاملہ ہے۔
یہ سنتے ہی میرے اندر ایک طوفان اٹھا۔ میں نے غصے میں کہا کہ یہ بچہ میرا نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ میں نے شازیہ کو کبھی چھوا تک نہیں تھا۔ میں نے الزام لگا دیا۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے اس کے کردار پر سوال اٹھا دیا۔ ابو خاموش ہو گئے۔ اس خاموشی میں نفرت بھی تھی اور ٹوٹا ہوا یقین بھی۔
میں نے فون بند کر دیا۔ میں نے خود کو حق پر سمجھا۔ میں نے ایما کو بتایا کہ میرے گھر والے مجھ پر ایک جھوٹا الزام لگا رہے ہیں۔ اس نے ہنس کر کہا کہ ماضی کو چھوڑ دو۔ میں نے یہی کیا۔
گاؤں میں شازیہ اکیلی تھی۔ میں وہاں موجود نہیں تھا مگر مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ میرے ایک جملے نے اس کی زندگی کو جہنم بنا دیا تھا۔ ابو نے غصے اور شرمندگی میں اسے بدکردار کہہ کر گھر سے نکال دیا تھا۔ وہ حاملہ تھی۔ بے سہارا تھی۔ دروازے اس کے لیے بند ہو چکے تھے۔
میں یہاں ایک نئی شادی کی تیاری کر رہا تھا۔ میں نے ایما سے نکاح کر لیا۔ ایک بڑی تقریب ہوئی۔ دوست۔ موسیقی۔ خوشیاں۔ مجھے لگا میں جیت گیا ہوں۔ میں نے وہ سب حاصل کر لیا تھا جو میں چاہتا تھا۔
کئی سال گزر گئے۔ میں ایک کامیاب زندگی گزار رہا تھا۔ مگر رات کے کسی پہر ایک سوال مجھے سونے نہیں دیتا تھا۔ اگر وہ بچہ میرا نہ تھا تو پھر شازیہ کہاں گئی۔ اس نے کیا کیا۔ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ میں ان سوالوں کو شراب اور مصروفیت کے نیچے دبا دیتا تھا۔
ایک دن ابو کی دوسری کال آئی۔ اس بار ان کی آواز میں غرور نہیں تھا۔ صرف تھکن تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجھے معاف نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ شازیہ نے کبھی میرے خلاف ایک لفظ نہیں کہا۔ وہ خاموش رہی۔ ہر الزام سہہ گئی۔
میں نے فون رکھ دیا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میں نے صرف ایک عورت کو نہیں بلکہ ایک انسان کو توڑا تھا۔ مگر ابھی بھی میرا ضمیر پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔
میں نہیں جانتا تھا کہ تقدیر میرے لیے ایک ایسا دن لکھ چکی ہے جہاں مجھے اسی خاموش عورت کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہونا پڑے گا۔ اور وہ دن اب زیادہ دور نہیں تھا۔
وقت نے اچانک کروٹ لی اور وہ زندگی جس پر مجھے ناز تھا آہستہ آہستہ میرے ہاتھوں سے پھسلنے لگی۔ ایما کی طبیعت بدلنے لگی۔ پہلے تھکن پھر درد پھر وہ رپورٹ جس نے میرے پیروں تلے زمین کھینچ لی۔ کینسر۔ یہ لفظ سن کر مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ طاقت اور پیسہ سب بے معنی ہیں۔ میں اسے ہسپتال لے کر بھاگتا رہا۔ بڑے شہر۔ بڑے ڈاکٹر۔ مہنگا علاج۔ مگر ایک دن ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا کہ اب کچھ ممکن نہیں رہا۔
میں ہسپتال کی راہداری میں بیٹھا رو رہا تھا۔ وہ آنسو جو میں نے شازیہ کے لیے کبھی نہیں بہائے تھے آج خود میرے لیے بہہ رہے تھے۔ میں خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا۔ اسی لمحے ایک لڑکا تیزی سے میری طرف آیا۔ اس کی آنکھیں میری آنکھوں جیسی تھیں۔ اس کا قد میرا سا تھا۔ اس نے کہا کہ اس کی ماں ڈاکٹر ہے اور وہ علاج کر سکتی ہے۔ میں نے اس کی بات پر بغیر سوچے یقین کر لیا۔ شاید اس لیے کہ مجھے کسی سہارے کی ضرورت تھی۔
وہ مجھے ایک کلینک لے گیا۔ راستے بھر وہ خاموش رہا۔ میں اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ دل میں ایک عجیب سا کھنچاؤ تھا۔ جیسے کوئی جانا پہچانا احساس ہو۔ جب ہم کلینک کے کمرے میں داخل ہوئے تو سامنے ایک باوقار عورت بیٹھی تھی۔ نیلا کوٹ۔ ہلکا سا حجاب۔ سر جھکا ہوا۔ اس نے میری آواز سنی تو اس کی انگلیاں رک گئیں۔
جیسے ہی اس نے نظر اٹھائی میرا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ وہ شازیہ تھی۔ مگر وہ شازیہ نہیں تھی جسے میں چھوڑ آیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کمزوری نہیں تھی۔ اس کے چہرے پر وقار تھا۔ اس کی خاموشی میں اب شکست نہیں تھی۔ میرے سامنے ایک مضبوط عورت بیٹھی تھی۔
میرے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ میں نے صرف اتنا کہا کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو۔ اس نے گہری سانس لی اور کہا کہ وہ یہاں کام کرتی ہے۔ وہ ڈاکٹر بن چکی تھی۔ میرے اندر سب کچھ ٹوٹ گیا۔ مجھے یاد آیا کہ میں نے اسے جاہل کہا تھا۔ دیہاتی کہا تھا۔ بوجھ کہا تھا۔
اسی لمحے وہ لڑکا کمرے میں آیا۔ اس نے شازیہ کو ماں کہا۔ اس لفظ نے میرے جسم میں آگ لگا دی۔ میں سمجھ گیا تھا۔ وہ میرا بیٹا تھا۔ وہ بچہ جسے میں نے ناجائز کہا تھا۔ جس کی ماں کو میں نے بدنام کیا تھا۔
شازیہ نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا۔ صرف ایک گہرا دکھ تھا۔ اس نے کہا کہ وہ برسوں خاموش رہی۔ اس نے پڑھائی کی۔ اس نے اپنے بچے کو پالا۔ اس نے کبھی میرے خلاف کسی سے ایک لفظ نہیں کہا۔ اس نے کہا کہ کچھ زخم چیخ مانگتے ہیں مگر کچھ زخم انسان کو خاموش بنا دیتے ہیں۔
میں نے اس دن خود کو پہلی بار بہت چھوٹا محسوس کیا۔ مجھے لگا کہ میری ساری کامیابی اس ایک لمحے کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ مگر ابھی کہانی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اصل فیصلہ ابھی باقی تھا۔
کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی تھی۔ وہ خاموشی جس میں لفظوں کی گونج دل پر ہتھوڑے کی طرح پڑتی ہے۔ میں کرسی سے اٹھا بھی نہیں تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے اندر کی ساری طاقت ختم ہو چکی ہو۔ شازیہ میرے سامنے بیٹھی تھی مگر اس کے اور میرے درمیان صرف میز نہیں تھی بلکہ برسوں کا ظلم کھڑا تھا۔ وہ ظلم جو میں نے اپنی انا اپنی خواہشات اور اپنے خوابوں کی خاطر اس پر کیا تھا۔
میں نے کانپتی ہوئی آواز میں معافی مانگنے کی کوشش کی۔ میں نے کہا کہ میں نادان تھا۔ میں نے کہا کہ میں نے غلطی کی۔ میں نے کہا کہ میں آج بھی اس کا حق دینے کو تیار ہوں۔ الفاظ میرے منہ سے نکل رہے تھے مگر مجھے خود معلوم تھا کہ وہ الفاظ بہت دیر سے آئے تھے۔ شازیہ نے میری بات سنی۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے صرف اپنے بیٹے کی طرف دیکھا جو خاموشی سے کھڑا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
اس نے کہا کہ وہ مجھ سے نفرت نہیں کرتی۔ نفرت انسان کو جلا دیتی ہے اور وہ جلنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے کہا کہ اس نے مجھے بہت پہلے معاف کر دیا تھا مگر معافی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سب کچھ ویسا ہی ہو جائے جیسا پہلے تھا۔ اس نے کہا کہ کچھ فیصلے زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں اور پھر راستے کبھی دوبارہ نہیں ملتے۔
میں نے ایما کا ذکر کیا۔ میں نے بتایا کہ وہ بیمار ہے۔ میں نے امید بھری نظروں سے شازیہ کی طرف دیکھا۔ اس نے بہت خاموشی سے کہا کہ وہ ایک ڈاکٹر ہے اور وہ اپنا فرض ادا کرے گی۔ اس نے علاج کا بندوبست کر دیا۔ مگر اس کی آنکھوں میں کوئی نرمی نہیں تھی۔ صرف پیشہ ورانہ وقار تھا۔
علاج شروع ہوا۔ میں روز ہسپتال آتا۔ میں ایما کے بستر کے پاس بیٹھا رہتا۔ مگر میری نظریں بار بار اس عورت کو ڈھونڈتی تھیں جسے میں نے کبھی انسان نہیں سمجھا تھا۔ ایک دن ایما نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ وہ جانتی ہے کہ میرا دل کہیں اور ہے۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے روکنا نہیں چاہتی۔ کچھ دن بعد وہ دنیا سے چلی گئی۔ خاموشی سے۔ جیسے کسی نے میرا غرور مجھ سے چھین لیا ہو۔
میں ٹوٹ چکا تھا۔ میں نے شازیہ کے سامنے دوبارہ سر جھکایا۔ میں نے کہا کہ میں اس کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ شازیہ نے گہری سانس لی۔ اس نے کہا کہ اس کی زندگی اب مکمل ہے۔ اس نے کہا کہ اس نے خود کو دوبارہ جوڑا ہے اور وہ اب کسی کے سہارے نہیں جینا چاہتی۔
اس نے کہا کہ بیٹا میرا ہے مگر وہ مجھے مجھ سے دور نہیں کرے گی۔ میں اس سے مل سکتا ہوں۔ میں اس کا باپ ہوں مگر اس کا مالک نہیں۔ یہ سن کر مجھے پہلی بار باپ ہونے کا مطلب سمجھ آیا۔
میں اس دن کلینک سے باہر نکلا تو آسمان صاف تھا۔ مگر میرے اندر ایک اندھیرا تھا جو شاید کبھی ختم نہ ہو۔ میں نے بہت کچھ حاصل کیا تھا مگر اصل دولت بہت پہلے کھو دی تھی۔ یہ کہانی محبت کی نہیں۔ یہ کہانی انجام کی ہے۔ جہاں انسان کو آخر میں وہی ملتا ہے جو وہ بانٹتا ہے۔
Disclaimer
Is website par mojood Sachi Kahani – Real Life Love & Moral Stories sirf maloomati aur tafreehi maqsad ke liye share ki jati hain. In kahaniyon ka maqsad logon tak ek acha paigham pohanchana aur zindagi ke moral sabak bayan karna hai.
Kuch kahaniyan asal waqiat se mutasir ho sakti hain jabke kuch kahaniyan taleemi aur ibarti maqsad ke liye likhi jati hain. Agar kisi kahani ka kisi shakhs ya waqia se mushabihat ho to ye sirf ittefaq ho sakta hai.
Is website ka maqsad kisi ki dil azari karna nahi hai. Website par mojood tamam content sirf readers ki rehnumai aur positive soch ko farogh dene ke liye hai.
https://www.blogger.com/u/9/blog/post
/edit/preview/2729899281674296463
/1630795504269489257


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."