Ghreeb Bhai Behn Ki Shadi Par Purane Kapre Pehn Kar Gaya | Dil Ko Chhoo Lene Wali Kahani | Sachi Kahani


 وہ بھائی جسے پھٹے کپڑوں میں پہچاننے سے انکار کر دیا گیا

غربت صرف جیب کو خالی نہیں کرتی بلکہ انسان کے چہرے سے وقار بھی چھین لیتی ہے مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس دولت نہ ہونے کے باوجود بھی دل اتنے امیر ہوتے ہیں کہ زمانہ ان کے سامنے فقیر لگتا ہے شفیق بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا جس کی زندگی نے بچپن ہی میں اسے یتیمی کا ذائقہ چکھا دیا تھا باپ کے انتقال کے بعد ماں بھی زیادہ دن ساتھ نہ دے سکی اور یوں شفیق کے کندھوں پر اپنی چھوٹی بہن نازیہ کی ذمہ داری آن پڑی جسے اس نے باپ بھی بن کر پالا اور ماں بھی بن کر سنبھالا اس نے اپنی جوانی کی خواہشات کو ایک پرانے صندوق میں بند کر کے رکھ دیا اور دن رات محنت کر کے بس ایک ہی دعا مانگتا رہا کہ اس کی بہن کی زندگی اس جیسی نہ ہو

وقت گزرتا گیا نازیہ کی قسمت جاگ اٹھی اس کی شادی ایک مالدار تاجر کے گھر ہو گئی اور یوں وہ محلات جیسے گھر کی مالکن بن گئی جہاں قیمتی قالین تھے چمکتے فانوس تھے اور ایسے رشتے تھے جن کی زبانیں میٹھی مگر دل پتھر کے تھے ادھر شفیق وہیں کا وہیں رہ گیا وقت نے اس کے کپڑوں کو پرانا کر دیا اس کے ہاتھوں کو کھردرا اور اس کی آنکھوں کو خاموش بنا دیا مگر بہن کی محبت اس کے دل میں آج بھی ویسی ہی زندہ تھی

آج نازیہ کی بیٹی کی شادی تھی اور شفیق کئی دنوں سے اسی دن کا انتظار کر رہا تھا اس نے الماری کے کونے میں رکھا وہی واحد کرتا شلوار نکالا جو وقت کے ساتھ ماند پڑ چکا تھا مگر اس نے بڑے پیار سے اسے جھاڑا دھویا اور پہن لیا پاؤں میں پرانی چپل تھی جس پر اس نے خود تار باندھ رکھی تھی آئینے میں خود کو دیکھ کر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بس اتنا کہا کہ ماموں خالی ہاتھ نہیں جاتا دعاؤں کا تحفہ سب سے قیمتی ہوتا ہے

وہ شادی ہال کے گیٹ پر پہنچا تو رنگ برنگی لائٹس اور قہقہوں کی آوازوں نے اس کے قدم روک لیے ایک لمحے کو اس نے اپنے کپڑوں کو دیکھا اور پھر گہرا سانس لے کر اندر جانے کی کوشش کی مگر گیٹ پر کھڑے گارڈز نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور ہنستے ہوئے کہا کہ پیچھے ملازمین کا راستہ ہے مہمانوں کا نہیں شفیق نے آہستہ سے بتایا کہ وہ دلہن کا ماموں ہے اور بس دعا دے کر چلا جائے گا مگر اس کی بات کو مذاق سمجھ کر اس کے ہاتھ میں جوتوں کا برش تھما دیا گیا

شفیق نے کچھ کہے بغیر سر جھکا لیا کیونکہ اس کی نظر دور ہال کے اندر اپنی بہن پر پڑ چکی تھی جو ریشمی لباس میں ملبوس قیمتی زیورات سے لدی ہوئی اجنبی لگ رہی تھی اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے التجا ابھری مگر پھر اس نے خود کو سمجھایا کہ آج خوشی کا دن ہے اور ماموں کا فرض ہے کہ ہر حال میں خوشی کو بچائے چاہے اس کی اپنی عزت ہی کیوں نہ کچلی جائے

وہ جھکا ہوا جوتے صاف کرتا رہا اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے بھوک اس کے پیٹ میں آگ کی طرح جل رہی تھی اور اندر سے آنے والے کھانوں کی خوشبو اس کے صبر کا امتحان لے رہی تھی مگر اس کے لبوں پر کوئی شکوہ نہ تھا کیونکہ اس کے دل میں بس ایک ہی خیال تھا کہ اس کی بہن کی بیٹی ہنستی رہے اور اس کی خوشی پر کوئی آنچ نہ آئے

اور وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ خاموشی اس کی زندگی کی آخری خاموشی ثابت ہونے والی ہے

رات گہری ہو چکی تھی شادی ہال کی روشنیاں اب بھی جگمگا رہی تھیں مگر شفیق کے لیے ہر روشنی اندھیرے میں بدل چکی تھی اس کے ہاتھ مسلسل جوتے صاف کرتے کرتے سن ہو چکے تھے انگلیوں میں درد اتر آیا تھا اور کمر میں ایسا کھنچاؤ تھا جیسے ہڈیاں بوجھ کا بوجھ نہ اٹھا پا رہی ہوں کسی نے اس کی طرف پانی بڑھانے کی زحمت نہ کی کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ وہ کب سے بھوکا ہے سب کے لیے وہ بس ایک ایسا چہرہ تھا جس کا وجود صرف خدمت کے لیے تھا انسان ہونے کے لیے نہیں

کبھی کبھار وہ سر اٹھا کر اندر کی طرف دیکھ لیتا جہاں قہقہے گونج رہے تھے موسیقی کی آوازیں تھیں اور اس کی بہن نازیہ اپنی بیٹی کے پاس بیٹھی مسکرا رہی تھی اس لمحے شفیق کے دل میں عجیب سا سکون اتر آتا تھا جیسے اس کی ساری تذلیل اسی ایک مسکراہٹ پر قربان ہو مگر یہ سکون زیادہ دیر نہ ٹک سکا جب ایک نوکر نے اس کے سامنے کھانے کی پلیٹ رکھی اور فوراً ہی چھین کر کہا کہ یہ مہمانوں کے لیے ہے تم جیسے لوگوں کے لیے نہیں

یہ الفاظ اس کے کانوں میں گونجتے رہے مگر شفیق نے صرف نظریں جھکا لیں اور دل ہی دل میں دعا مانگی کہ اللہ کسی کو اس طرح محتاج نہ کرے کہ وہ اپنے ہی خون کے سامنے بے آواز ہو جائے رات کا آخری پہر تھا جب کسی نے اسے دھکے دے کر گیٹ سے باہر نکال دیا اس نے پیچھے مڑ کر ہال کی طرف دیکھا جہاں سے روشنی اور موسیقی اب بھی آ رہی تھی اور آہستہ آہستہ وہ روشنی اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی چلی گئی

سڑک سنسان تھی ہوا سرد تھی اور اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے بھوک اور کمزوری نے اس کے جسم سے طاقت چھین لی تھی وہ ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور جیب سے ایک پرانی ڈائری نکالی جسے وہ برسوں سے اپنے دل کی باتیں سونپتا آیا تھا اسی ڈائری کے اندر ایک چیک بک بھی تھی جو اس نے بہت سوچ سمجھ کر آج اپنے ساتھ رکھی تھی اس نے کانپتے ہاتھوں سے قلم اٹھایا اور لکھنے لگا جیسے ہر لفظ اس کی سانسوں کے ساتھ جڑا ہو

اس نے لکھا کہ میں نے اپنی بہن کو باپ بن کر پالا میں نے اس کی خوشیوں کے لیے اپنی زندگی قربان کی اور آج میں خوش ہوں کہ وہ خوش ہے اگر میری تذلیل اس کی عزت بچا سکتی ہے تو مجھے کوئی افسوس نہیں اس نے آخر میں بس اتنا لکھا کہ نازیہ میں نے تمہیں معاف کیا کیونکہ شاید دولت نے تمہیں مجھے پہچاننے سے روک دیا

ڈائری بند کرتے ہوئے اس نے آسمان کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر عجیب سا اطمینان تھا جیسے وہ اپنے حصے کا قرض ادا کر چکا ہو اس نے خاموشی سے سڑک پار کرنے کی کوشش کی مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ایک تیز روشنی اس کی آنکھوں کے سامنے چمکی ایک زور دار آواز آئی اور پھر ہر چیز خاموش ہو گئی

اسی خاموشی میں ایک گواہ پیدا ہوا وہ ڈائری جو اس کے سینے سے لگی رہی اور وہ چیک بک جس پر اس کے ہاتھوں کی حرارت آخری لمحے تک قائم رہی اور کسی کو خبر نہ تھی کہ اگلی صبح یہی خاموش کاغذ ایک سچ کو چیخ چیخ کر دنیا کے سامنے لے آنے والے ہیں
صبح کی روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہ تھی کہ نازیہ کے گھر کے سامنے ایک پولیس کی گاڑی آ کر رکی نیلی بتی کی خاموش چمک نے محلے کی فضا میں ایک انجانی سی بے چینی گھول دی نازیہ جو رات کی تھکن کے باوجود بیٹی کی رخصتی کی تیاریوں میں مصروف تھی اچانک دروازے پر دستک سن کر ٹھٹھک گئی دل کے کسی کونے میں ایک انجانا سا خوف جاگ اٹھا جس کا وہ نام نہ دے سکی اس نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک سنجیدہ چہرے والا انسپکٹر کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں ایک ڈائری اور ایک چیک بک تھی

انسپکٹر نے نرمی سے پوچھا کہ کیا آپ شفیق کی بہن ہیں یہ نام سنتے ہی نازیہ کے ہاتھوں سے دروازے کا کنڈا چھوٹ گیا وہ ایک لمحے کو بول نہ سکی کیونکہ برسوں بعد یہ نام اس کے کانوں سے ٹکرا کر دل کے اندر کہیں دھنس گیا تھا اس نے خشک ہونٹوں سے ہاں کہا تو انسپکٹر نے بتایا کہ گزشتہ رات ایک حادثے میں ایک شخص جان سے گیا ہے اور اس کی شناخت ان چیزوں سے ہوئی ہے جو اس کے پاس تھیں نازیہ کے قدم لڑکھڑا گئے اور وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گئی

اس نے کانپتے ہاتھوں سے ڈائری لی جیسے وہ کسی زندہ چیز کو چھو رہی ہو جیسے ہر صفحہ سانس لے رہا ہو پہلا صفحہ کھولا تو اس کی آنکھوں کے سامنے شفیق کا چہرہ گھوم گیا وہی چہرہ جو اس نے کل رات پہچاننے سے انکار کر دیا تھا وہ پڑھتی گئی اور ہر لفظ اس کے سینے میں تیر کی طرح پیوست ہوتا گیا اسے یاد آنے لگا کہ کیسے اس نے بچپن میں بخار میں تپتی ہوئی نازیہ کو ساری رات جگ کر پانی پلایا تھا کیسے اپنی پہلی کمائی سے اس کے لیے جوتے خریدے تھے اور کیسے اس نے اس کے خوابوں کے لیے اپنے خواب دفن کر دیے تھے

ہر صفحے کے ساتھ نازیہ کے آنسو بے قابو ہوتے گئے اور جب وہ آخری صفحے تک پہنچی تو اس کی سسکیاں چیخوں میں بدل گئیں کیونکہ وہاں معافی لکھی تھی شکایت نہیں وہاں دعا لکھی تھی الزام نہیں وہاں محبت لکھی تھی نفرت نہیں اس نے ڈائری کو سینے سے لگا لیا جیسے وہ اپنے بھائی کو گلے لگا رہی ہو اور اس لمحے اسے احساس ہوا کہ اس نے دولت کے آئینے میں خود کو تو پہچان لیا تھا مگر اپنے سگے بھائی کو بھلا دیا تھا

انسپکٹر نے خاموشی سے چیک بک اس کے سامنے رکھی اور بتایا کہ یہ حادثے سے کچھ دیر پہلے اس کی جیب میں تھی نازیہ نے جب رقم دیکھی تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں کیونکہ وہ رقم اس کے وہم و گمان سے کہیں زیادہ تھی یہ وہ پیسہ تھا جو شفیق نے برسوں کی محنت سے جمع کیا تھا اپنی بیماری اپنی بھوک اور اپنی خواہشات کو قربان کر کے اور وہ رقم اس نے اپنی بہن کی بیٹی کے نام لکھنے کا ارادہ کیا تھا

اس لمحے نازیہ کے اندر کچھ ٹوٹ گیا غرور کا محل زمین بوس ہو گیا اور وہ عورت جو کل رات اپنی دولت پر نازاں تھی آج اپنے بھائی کی خاموش عظمت کے سامنے بے بس کھڑی تھی اس نے روتے ہوئے انسپکٹر کی طرف دیکھا اور بس اتنا کہا کہ میں نے اسے نہیں پہچانا میں نے اپنے بھائی کو نہیں پہچانا

اور اسی اعتراف کے ساتھ نازیہ کے دل میں ایک ایسا عہد جنم لے چکا تھا جو اب اس کہانی کو اس کے انجام تک لے جانے والا تھا
نازیہ نے ڈائری کو بند نہیں کیا بلکہ اسے اپنے سینے سے اس طرح لگا لیا جیسے برسوں بعد کسی مردہ رشتے کو زندگی مل گئی ہو اس کا وجود لرز رہا تھا سانس ٹوٹ ٹوٹ کر آ رہی تھی اور آنکھوں کے سامنے کل رات کے مناظر ایک ایک کر کے کھلنے لگے وہی دروازہ وہی ہال وہی روشنی اور وہی شخص جسے اس نے میلے کپڑوں میں دیکھ کر اپنا بھائی ماننے سے انکار کر دیا تھا اب اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اصل میل تو اس کے دل پر جم چکی تھی

انسپکٹر کی آواز کمرے میں گونجی مگر نازیہ جیسے کسی اور دنیا میں تھی اسے بتایا گیا کہ شفیق سڑک پار کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا اور جائے حادثہ سے جو چیزیں ملی ہیں وہ یہی ڈائری اور چیک بک ہیں نازیہ نے آنکھیں بند کر لیں اس کے کانوں میں بس ایک ہی جملہ گونج رہا تھا کہ وہ خاموش رہا اس نے شکایت نہیں کی وہ بھوکا تھا مگر شرمندہ نہیں وہ ذلیل ہوا مگر بددعا نہیں دی

وہ اچانک کھڑی ہوئی اور لرزتی آواز میں بولی کہ مجھے وہاں لے چلو جہاں وہ گرا تھا جہاں اس کا آخری سانس ٹوٹا تھا انسپکٹر نے سر ہلا دیا اور کچھ ہی دیر میں وہ اسی سڑک پر کھڑی تھی جہاں کل رات شفیق نے آسمان کی طرف دیکھ کر اپنی بہن کے لیے دعا مانگی تھی وہاں اب بھی سڑک پر ایک مدھم سا نشان تھا جو کسی کو کچھ نہیں بتاتا تھا مگر نازیہ کے لیے وہ اس کے بھائی کے خون کی گواہی تھا

وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی نہ اس نے اپنے قیمتی کپڑوں کی پروا کی نہ لوگوں کی نظریں اس نے سڑک کو چھو کر روتے ہوئے کہا کہ بھائی میں اندھی ہو گئی تھی میں نے تیرے پھٹے کپڑے دیکھے مگر تیرا زخمی دل نہیں دیکھا میں نے تجھے نوکر سمجھا حالانکہ تو میرا محافظ تھا تو میرا سایہ تھا تو میرا باپ تھا

اسی لمحے اس کے ہاتھ میں وہ چیک بک آ گئی اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر وہ رقم اپنی بیٹی کے نام وقف کرنے کا اعلان کر دیا مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ رقم اس شادی کی خوشی نہیں بلکہ ایک بھائی کی قربانی کی نشانی ہے جو عمر بھر سنبھال کر رکھی جائے گی تاکہ ہر خوشی سے پہلے شفیق کا نام لیا جائے

شام کو جب گھر میں سب جمع تھے نازیہ نے سب کے سامنے وہ ڈائری کھولی اور شفیق کے الفاظ اونچی آواز میں پڑھے کمرہ خاموش ہو گیا ہر آنکھ نم تھی ہر دل بوجھل تھا اور وہ لوگ جو کل رات اس کے جوتے صاف کروا رہے تھے آج اپنی نظریں اٹھانے کے قابل نہیں تھے نازیہ نے بھاری آواز میں کہا کہ جسے تم نے نوکر سمجھا وہ تم سب سے بڑا انسان تھا اور جسے تم نے عزت دی وہ صرف لباس کی عزت تھی

کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی کیونکہ شفیق مر کر بھی جیت گیا اور نازیہ زندہ ہو کر ہار گئی مگر یہ ہار اسے انسان بنا گئی اس نے اپنے گھر کے دروازے پر شفیق کی تصویر لگوائی اور نیچے لکھوایا کہ یہاں وہ شخص رہتا ہے جس نے بدلے میں بددعا نہیں دی صرف دعا دی

اور یوں ایک غریب بھائی خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گیا مگر اپنی بہن کے دل میں وہ شور چھوڑ گیا جو عمر بھر کبھی خاموش نہ ہو سکا

https://www.blogger.com/u/9/blog/post

/edit/preview/2729899281674296463

/236701317741573677







تبصرے

New Urdu Stories

ماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانیماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

فاطمہ اور عمران کی موٹر وے پر آخری ملاقات — ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

امتحان کی گزرگاہ: ایک مخلص انسان کی کہانی"