سلیم مسقط میں دن رات محنت کر کے دولت بھیجتا رہا
تعارف:
سلیم ایک غریب مگر باہمت انسان تھا جو دن رات اپنے مقصد کے لیے محنت مزدوری کرتا رہا۔ زندگی کی سختیاں اور غربت اس کے قدموں کو کبھی نہ روک سکیں کیونکہ اس کے دل میں اپنے گھر والوں کے لیے بہتر زندگی کا خواب تھا۔ وہ صبح سے شام تک پسینہ بہاتا مگر اس کے چہرے پر ہمیشہ امید کی ایک ہلکی سی مسکراہٹ رہتی۔ سلیم کو یقین تھا کہ مسلسل محنت ایک دن ضرور رنگ لائے گی اور اس کی زندگی بدل جائے گی۔ یہ کہانی ایک ایسے انسان کی جدوجہد صبر اور امید کی داستان ہے جو مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہارتا۔
سلیم پچھلے آٹھ سال سے مسقط کی ایک کنسٹرکشن کمپنی میں مزدوری کر رہا تھا۔ تپتی دھوپ، سیمنٹ کی گرد، اور مشینوں کے شور میں اس کی جوانی آہستہ آہستہ گھل رہی تھی، مگر اس کے دل میں ایک ہی سکون تھا — ہر مہینے بھیجے گئے پیسوں سے اس کا گھر چل رہا ہے۔ باپ کے انتقال کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری اسی کے کندھوں پر آ گری تھی۔ ماں بیمار رہتی تھیں اور چھوٹے بہن بھائی ابھی اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہوئے تھے۔
سلیم نے کبھی اپنی تھکن کا ذکر گھر پر نہیں کیا۔ فون پر ہمیشہ ہنستا رہتا، جیسے پردیس میں زندگی آسان ہو۔ وہ جانتا تھا اگر اس نے اپنی مشکلات بتا دیں تو ماں کی نیندیں اڑ جائیں گی۔ اس لیے وہ ہر بار یہی کہتا، “اماں فکر نہ کریں، یہاں سب خیریت ہے، بس دعا کیا کریں۔”
گھر میں اس کے بھیجے ہوئے پیسوں سے آہستہ آہستہ حالات بدلنے لگے۔ کچے گھر کی چھت پکی ہو گئی۔ بہن کی شادی عزت سے ہو گئی۔ چھوٹا بھائی کالج جانے لگا۔ محلے والے مثال دینے لگے کہ دیکھو، بیٹا ہو تو سلیم جیسا۔
لیکن وقت کے ساتھ ایک عجیب تبدیلی آنے لگی۔ پہلے ماں ہر کال پر دعائیں دیتی تھیں، اب زیادہ بات پیسوں کے حساب پر ہونے لگی۔ “بیٹا اس بار دو لاکھ اور بھیج دو، ادھر خرچہ بڑھ گیا ہے… دوا بھی لینی ہے… گھر میں مرمت بھی کرانی ہے…”
سلیم ایک لمحے کو رکتا، حساب لگاتا، پھر اوور ٹائم بڑھا دیتا۔
اس کے کمرے میں ایک پرانا پنکھا تھا جو آدھی رات کو چرچراتا رہتا۔ وہ پسینے میں بھیگا لیٹا چھت کو دیکھتا اور سوچتا، “بس تھوڑا اور… پھر سب سنبھل جائے گا…” مگر وہ “تھوڑا اور” کبھی ختم نہیں ہوتا تھا۔
ادھر گھر میں بہن بھائیوں کی شادیاں ہوتی گئیں۔ نئے کپڑے، نئے فرنیچر، سونے کے زیور — سب کچھ آتا رہا۔ سلیم خوش ہوتا رہا کہ اس کی محنت رنگ لا رہی ہے۔ مگر ایک بات اسے اندر ہی اندر کھٹکنے لگی تھی — کبھی کسی نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ “بیٹا تم کیسے ہو؟”
ایک رات جب وہ فیکٹری سے لوٹا تو جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ اس نے موبائل کھولا تو ماں کا میسج تھا:
“جلدی کال کرنا، ضروری بات ہے۔”
سلیم نے تھکے ہاتھوں سے کال ملائی۔ ماں کی آواز میں ہچکچاہٹ تھی، جیسے کوئی بات گھما کر کہنی ہو۔ پھر آہستہ سے بولیں،
“بیٹا… اب سوچ رہی ہوں تمہیں بھی بلا لوں… تمہاری شادی کر دیتے ہیں…”
سلیم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔ برسوں بعد اس نے اپنے لیے کچھ سوچا۔ مگر اسے کیا خبر تھی کہ اس فیصلے کے پیچھے محبت سے زیادہ کچھ اور پل رہا ہے…
اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے کہانی کا رخ بدلنے والا تھا۔
سلیم اس رات دیر تک سو نہیں سکا۔ تھکن کے باوجود اس کے دل میں ایک عجیب سی خوشی جاگ رہی تھی۔ برسوں سے وہ دوسروں کے لیے جیتا آیا تھا، آج پہلی بار لگا جیسے زندگی اس کے لیے بھی کچھ سوچ رہی ہے۔ اس نے آنکھیں بند کر کے ایک سادہ سی زندگی کا تصور کیا — چھوٹا سا گھر، ایک سمجھدار بیوی، اور اماں اس کے پاس۔ اسے لگا جیسے اس کی ساری محنت کا صلہ اب ملنے والا ہے۔
اگلے دن اس نے کام کے بعد ماں کو دوبارہ فون کیا۔ اس بار ماں کی آواز میں پہلے جیسی نرمی نہیں تھی، بلکہ کچھ جھجھک اور جلدی تھی۔
“بیٹا رشتہ اچھا ہے، لوگ عزت دار ہیں… لیکن کچھ تیاری بھی کرنی ہوگی… تم تو جانتے ہو عزت کا سوال ہوتا ہے…”
سلیم فوراً سمجھ گیا کہ بات پیسوں کی طرف جا رہی ہے۔ اس نے دھیرے سے پوچھا، “کتنے پیسے چاہئیں اماں؟”
چند لمحے خاموشی رہی، پھر جواب آیا،
“بیٹا کم از کم آٹھ لاکھ تو چاہئیں… زیور، کپڑے، اور تھوڑا گھر کا کام بھی ہے…”
سلیم کے ہاتھ سے موبائل پھسلتے پھسلتے بچا۔ آٹھ لاکھ اس کے لیے معمولی رقم نہیں تھی۔ اس نے پچھلے سال ہی بہن کی شادی پر بڑی رقم بھیجی تھی۔ مگر اس نے خود کو سنبھالا اور بولا،
“ٹھیک ہے اماں… میں کوشش کرتا ہوں…”
فون بند ہونے کے بعد وہ کافی دیر کرسی پر بیٹھا رہا۔ اس کے ذہن میں حساب چلنے لگا — کرایہ، کھانا، ویزا کی فیس، پچھلا قرض… اور اب یہ نئی رقم۔ مطلب واضح تھا: اسے پھر ڈبل اوور ٹائم کرنا ہوگا، نیند قربان کرنی ہوگی، جسم کی پرواہ چھوڑنی ہوگی۔
ادھر گھر میں صورتحال کچھ اور تھی۔
سلیم کی بڑی بہن ندا اور چھوٹا بھائی کامران اکثر آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتے۔
“اگر بھائی کی شادی ہو گئی تو خرچہ بڑھ جائے گا…” ندا نے کہا۔
کامران نے آہستہ جواب دیا، “اور پھر پیسے سیدھا بھابھی کے ہاتھ میں جائیں گے… اماں کو کیا ملے گا؟”
یہ باتیں آہستہ آہستہ اماں کے دل میں بھی گھر کرنے لگیں۔ وہ سلیم سے محبت کرتی تھیں، مگر بڑھتے اخراجات اور بچوں کی باتوں نے ان کے دل میں خوف ڈال دیا تھا — کہیں سلیم کی شادی کے بعد گھر کی آمدنی کم نہ ہو جائے۔
چند دن بعد اماں نے سلیم کو دوبارہ کال کی۔
“بیٹا ابھی شادی کی بات تھوڑی روک دیتے ہیں… لڑکی والوں نے کچھ اور مطالبے کر دیے ہیں… تم بس پیسے بھیجتے رہو، بعد میں دیکھیں گے…”
سلیم کچھ لمحے خاموش رہا۔ اس کے دل میں ہلکی سی چبھن ہوئی، مگر اس نے صرف اتنا کہا،
“جی اماں، جیسے آپ بہتر سمجھیں…”
فون بند ہوتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے فیکٹری کی مشینیں گھومنے لگیں۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا جیسے وہ ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس گیا ہے۔ وہ جتنا دوڑتا، منزل اتنی ہی دور ہو جاتی۔
اسی رات اس نے فیصلہ کیا —
وہ اچانک گھر جائے گا… بغیر بتائے… اور خود دیکھے گا کہ اس کی محنت سے بنا گھر واقعی کیسا ہے۔
اور یہی فیصلہ آنے والے دنوں میں سب کی زندگی بدلنے والا تھا…
سلیم نے کئی مہینوں سے محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ اماں ہر بار اس کی شادی کی بات کو ٹال دیتی ہیں۔ کبھی کہتیں ابھی وقت نہیں، کبھی کہتیں پہلے چھوٹے بھائی کو سنبھلنے دو، کبھی کہتیں حالات ٹھیک ہو جائیں پھر دیکھیں گے۔ سلیم ہر مہینے پیسے بھیجتا رہا، مگر اس کے دل میں ایک خالی پن بڑھتا جا رہا تھا۔ اسے لگنے لگا تھا کہ شاید اس کی زندگی صرف کمانے کے لیے رہ گئی ہے، جینے کے لیے نہیں۔
ایک رات فیکٹری سے واپس آ کر وہ دیر تک چھت کو دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں پہلی بار خیال آیا کہ اگر وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود نہ کرے تو شاید کبھی نہ کر سکے۔ کچھ ہی عرصے بعد اس کی ملاقات زینب سے ہوئی، جو اسی شہر میں ایک کلینک میں نرس تھی۔ سادہ مزاج، نرم لہجہ، اور آنکھوں میں عجیب سا سکون۔ دونوں کی بات چیت شروع ہوئی، اور پھر ایک دن سلیم نے فیصلہ کر لیا۔ اس نے کسی کو بتائے بغیر دبئی میں سادہ سی نکاح کر لیا۔
وہ جانتا تھا گھر والے ناراض ہوں گے، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ اس نے صرف اپنی تنہائی کا ساتھی چُنا تھا۔
چند مہینے بعد سلیم نے اچانک چھٹی لی اور زینب کو ساتھ لے کر وطن روانہ ہو گیا۔ اس نے گھر فون بھی نہیں کیا۔ وہ سب کو خوشی کا سرپرائز دینا چاہتا تھا… مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اصل حیرانی اس کے لیے لکھی جا چکی ہے۔
گھر کے دروازے پر اس نے دستک دی۔ اندر سے قدموں کی آہٹ آئی۔ دروازہ کھلا تو سامنے اس کی چھوٹی بہن ندا کھڑی تھی۔ اس کی نظر پہلے سلیم پر پڑی، پھر اس کے ساتھ کھڑی زینب پر۔ ندا کے چہرے کا رنگ ایک دم بدل گیا۔
“بھائی… یہ…؟” اس کی آواز لڑکھڑا گئی۔
اندر جاتے ہی گھر کا ماحول بدل گیا۔ اماں باہر آئیں، پھر باقی بہن بھائی بھی جمع ہو گئے۔ سب کی نظریں زینب پر تھیں۔ کسی نے خوشی سے مبارکباد نہیں دی۔ بلکہ خاموشی میں ایک انجانا خوف گھل گیا تھا — اب سلیم کی کمائی پر پہلا حق کسی اور کا ہو گیا تھا۔
سلیم نے اس خاموشی کو محسوس کیا، مگر کچھ نہ بولا۔ وہ تھکا ہوا تھا، مگر دل میں ایک اطمینان تھا کہ آج وہ اکیلا نہیں آیا۔
رات کو جب سب سو گئے تو سلیم پانی لینے نکلا۔ ہال سے دھیمی آوازیں آ رہی تھیں۔ دروازہ ذرا سا کھلا تھا۔
ندا کہہ رہی تھی،
“اب کیا ہوگا؟ اس نے شادی بھی کر لی… اب پیسے بھی ادھر ہی بھیجے گا…”
کامران بولا،
“اماں کو سمجھاؤ کہ خرچوں کا رونا روئیں… ورنہ سب حساب مانگ لے گا…”
سلیم کے قدم وہیں رک گئے۔ اس کے کانوں میں جیسے کسی نے سیسہ انڈیل دیا ہو۔ وہ آہستہ سے واپس پلٹا۔ کمرے میں جا کر اس نے اپنا بیگ کھولا، اور وہ فائل نکالی جس میں اس نے سالوں کے بینک اسٹیٹمنٹس سنبھال کر رکھے تھے۔
صبح اس نے وہ کاغذات اماں کے سامنے رکھ دیے۔
“اماں… یہ پیسے کہاں گئے؟”
اماں کے ہاتھ کانپنے لگے۔ آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے، مگر الفاظ جیسے کہیں کھو گئے تھے۔
سلیم چیخا نہیں… غصہ نہیں کیا…
بس اس کی آنکھوں میں وہ درد تھا جو انسان کو اندر سے خالی کر دیتا ہے۔
اور اب فیصلہ ہونا باقی تھا…
ایسا فیصلہ جو صرف سلیم کی نہیں، اس گھر کی تقدیر بدلنے والا تھا
کمرے میں عجیب سا سناٹا پھیلا ہوا تھا، مگر اس سناٹے کے اندر کئی سالوں کے راز چیخ رہے تھے۔ سلیم نے وہ فائل اماں کے سامنے رکھ دی جس میں ہر مہینے بھیجی گئی رقم کا حساب درج تھا، ہر تاریخ، ہر ٹرانزیکشن، ہر قربانی کا ثبوت اس کاغذ پر زندہ تھا۔ اماں کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے، نظریں جھکی ہوئی تھیں، اور باقی بہن بھائی دروازے کے پاس خاموش کھڑے تھے جیسے کسی عدالت میں مجرم کھڑے ہوتے ہیں اور فیصلہ سننے کا انتظار کرتے ہیں۔
سلیم کی آواز بھاری تھی مگر پرسکون، اس نے کہا، “اماں میں نے کبھی حساب نہیں مانگا، کبھی سوال نہیں کیا، کبھی یہ نہیں سوچا کہ میرے پیسے کہاں خرچ ہو رہے ہیں، کیونکہ میں سمجھتا تھا میرا گھر ہے، میری ماں ہے، میرے اپنے ہیں، مگر آج پہلی بار لگ رہا ہے کہ میں صرف ایک بھیجنے والی مشین تھا، ایک ایسا شخص جس کی محنت کا پسینہ تو قبول تھا مگر اس کی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔”
اماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، وہ بولنا چاہتی تھیں مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے، آخرکار وہ رو پڑیں اور ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہنے لگیں، “بیٹا میں کمزور پڑ گئی تھی، میں نے سوچا پہلے باقی بچوں کے گھر بسا دوں، تم تو سمجھدار ہو، تم برداشت کر لوگے، مگر میں یہ بھول گئی کہ برداشت بھی ایک حد تک ہوتی ہے اور ماں کی ناانصافی سب سے گہرا زخم بن جاتی ہے۔”
کمرے میں کھڑے بھائی بہن نظریں چرا رہے تھے، کسی میں ہمت نہیں تھی کہ سلیم کی آنکھوں میں دیکھ سکے، کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ انہوں نے اس کے خوابوں کو سالوں تک دبا کر رکھا، اس کی شادی ٹالتے رہے، اس کے پیسے لیتے رہے، اور اسے صرف ذمہ داری کا نام دے کر خاموش کراتے رہے۔ سلیم نے زینب کی طرف دیکھا جو دروازے کے پاس خاموش کھڑی تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر اس کے چہرے پر ساتھ نبھانے کا عزم صاف نظر آ رہا تھا۔
سلیم نے آہستہ سے کہا، “میں ناراض ضرور ہوں، مگر میں رشتہ توڑنے نہیں آیا، میں صرف یہ بتانے آیا ہوں کہ اب میں بھی اپنی زندگی جینے کا حق رکھتا ہوں، اب میں پیسے بھیجوں گا تو اپنی خوشی سے بھیجوں گا، مجبوری سے نہیں، اور سب سے پہلے اپنی بیوی اور اپنے گھر کی ذمہ داری نبھاؤں گا، کیونکہ میں نے سیکھ لیا ہے کہ جو خود کو مٹا دیتا ہے، ایک دن وہی سب سے زیادہ تنہا رہ جاتا ہے۔”
یہ کہہ کر سلیم نے فائل بند کی، اماں کے سر پر ہاتھ رکھا، اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کے قدم بھاری تھے مگر دل ہلکا ہو چکا تھا، کیونکہ آج پہلی بار اس نے اپنے لیے فیصلہ کیا تھا۔ گھر کے اندر رہ جانے والے لوگ خاموش کھڑے تھے، مگر اس خاموشی میں ایک سبق گونج رہا تھا کہ اولاد کی محبت کو آزمائش نہ بناؤ، ورنہ ایک دن وہی محبت فاصلے میں بدل جاتی ہے، اور پھر پچھتاوا بھی رشتوں کو پہلے جیسا نہیں بنا پاتا۔
کہانی کا نچوڑ یہی تھا کہ قربانی خوبصورت ہے، مگر جب قربانی کو حق سمجھ لیا جائے تو وہ ظلم بن جاتی ہے، اور ظلم چاہے اپنوں کا ہی کیوں نہ ہو، دل میں ایک ایسا خلا چھوڑ جاتا ہے جو ساری عمر محسوس ہوتا رہتا ہے۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/01/mein-yateem-thi-sardi-mein-zindagi-ka.html
Disclaimer
Yeh kahani sirf taleemi aur sabak amoz maqsad ke liye pesh ki gayi hai. Is kahani ke kirdar, waqiat aur mukalmaat zyada tar tasawur par mabni hain ya aam muashray ke halat se mutasir ho sakte hain. Agar kisi kirdar ya waqia ki mushabihat kisi haqeeqi shaks, jagah ya waqia se ho jaye to ise sirf ittefaq samjha jaye. Is kahani ka maqsad kisi shakhs, khandan ya kisi bhi fard ki dil azari karna nahi balkay ek musbat aur sabak amoz paigham dena hai.


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."