Mein Yateem Thi – Sardi Mein Zindagi Ka Sakht Imtihan | Urdu Kahani
چچی مجھ سے پورا گھر کا کام کرواتی تھی
میں یتیم تھی، سردی میں چچی نے سویٹر چھین لیا
میں یتیم تھی، اور یہ بات اس گھر میں سب جانتے تھے۔
ابا کے جانے کے بعد میرا نام صرف ایک ذمہ داری بن کر رہ گیا تھا، ایسی ذمہ داری جو کسی کو پسند نہیں تھی۔ چچا کے گھر میں رہتی تھی، مگر رہنا اور جینا دو الگ باتیں ہوتی ہیں۔ میرے حصے میں صرف کام آیا، اور وہ بھی ایسا جس کا کوئی اختتام نہیں تھا۔
سردی اپنے عروج پر تھی۔ راتیں لمبی اور دن کاٹنے کو دوڑتے تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں سن ہو جاتی تھیں، مگر چچی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ صبح آنکھ کھلتے ہی آواز آتی،
“اٹھ گئی ہو یا مرنے کا ارادہ ہے؟”
میرے پاس پہننے کو بس ایک پرانی قمیض تھی۔ نہ جرسی، نہ سویٹر، نہ موزے۔ میں کام کرتی جاتی اور خاموش رہتی، کیونکہ بولنے کا حق میں کب کا کھو چکی تھی۔ چچی کے بچے لحاف میں دبکے رہتے، ہیٹر ان کے سامنے جلتا رہتا، اور میں صحن کے ٹھنڈے فرش پر برتن دھوتی رہتی۔
ایک دن شدید سردی میں، میری نظر دادی جان کے پرانے سامان پر پڑی۔ وہ ایک بوسیدہ سا سویٹر تھا، جو شاید برسوں سے استعمال میں نہیں آیا تھا۔ میں نے کچھ نہیں کہا، بس خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ مگر چچی کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔
“یہ کس نیت سے دیکھ رہی ہو؟”
ان کی آواز میں وہی زہر تھا جو روز سننے کی عادت ہو چکی تھی۔
میں نے ہمت کر کے کہا، “بس سردی بہت ہے…”
انہوں نے ایک لمحہ بھی نہیں لگایا۔ سویٹر اٹھایا، اور میرے سامنے کوڑا دان میں پھینک دیا۔
“یہ چیزیں تم جیسے لوگوں کے لیے نہیں ہوتیں۔”
میرے اندر کچھ ٹوٹا، مگر میں نے سر جھکا لیا۔ شام تک میں وہی کام کرتی رہی، مگر نظریں بار بار اسی کوڑے دان کی طرف چلی جاتی تھیں۔ جیسے وہ سویٹر نہیں، میری آخری امید وہاں پڑی ہو۔
رات گہری ہوئی۔ سب سو گئے۔ صحن میں سناٹا تھا اور سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی۔ میں آہستہ سے کوڑے دان کے پاس گئی، ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر دل نے اجازت دے دی تھی۔ میں نے وہ سویٹر اٹھایا، جھاڑا، اور سینے سے لگا لیا۔
جیسے ہی جیب میں ہاتھ ڈالا، انگلیاں کسی کاغذ سے ٹکرائیں۔ میں چونک گئی۔
وہ عام کاغذ نہیں تھا۔ ایک پلاسٹک میں لپٹا ہوا پرانا سرٹیفکیٹ۔
میں نے روشنی میں غور سے دیکھا…
یہ میرے ابا کی انشورنس پالیسی تھی۔
اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ شاید یہ سردی صرف موسم کی نہیں تھی۔
یہ سردی برسوں سے میرے حصے میں جمع ہو رہی تھی،
اور اب اس کا حساب شروع ہونے والا تھا۔
سردی سے کانپتے ہاتھوں میں وہ کاغذ پکڑے میں دیر تک وہیں کھڑی رہی، آنکھیں بار بار نام پر جا ٹھہرتی تھیں، یہ واقعی میرے ابا کا ہی نام تھا، وہی نام جو برسوں پہلے ان کے ساتھ قبر میں اتر گیا تھا، میرے ذہن میں ایک ساتھ کئی سوال اٹھنے لگے، یہ کاغذ یہاں کیسے آیا، دادی نے اسے کیوں چھپایا، اور سب سے بڑا سوال یہ کہ اگر یہ چیز چچی یا چچا کے ہاتھ لگ گئی تو میرا کیا ہوگا، میں نے گھبرا کر سویٹر کو دوبارہ تہہ کیا اور اس کاغذ کو سینے سے لگا لیا، جیسے یہ کوئی کاغذ نہیں بلکہ میری سانسیں ہوں۔
میں دبے پاؤں واپس صحن میں آئی، پھٹی ہوئی دری پر بیٹھ گئی مگر نیند اب آنکھوں سے کوسوں دور تھی، میرے اندر کوئی چیز جاگ چکی تھی، جو اب دوبارہ سونے والی نہیں تھی، مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ شاید میں صرف بوجھ نہیں ہوں، شاید میری زندگی میں بھی کوئی راز ہے جسے جان بوجھ کر مجھ سے چھپایا گیا ہے، رات یونہی کروٹیں بدلتے گزر گئی، سویٹر میں لپٹا وہ کاغذ بار بار میرے ہاتھوں کو جلانے لگتا، جیسے مجھے یاد دلا رہا ہو کہ اب خاموش رہنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
صبح چچی کی آواز حسبِ معمول کانوں میں پڑی، مگر آج وہ آواز پہلے جیسی نہیں لگی، شاید اس لیے کہ میرے اندر خوف کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سا حوصلہ بھی پیدا ہو چکا تھا، میں نے چپ چاپ کام کیا، برتن دھوئے، جھاڑو دیا، مگر نظریں ہر وقت اس دروازے پر تھیں جہاں سے چچا شام کو لوٹتے تھے، میرا دل چاہ رہا تھا کہ ان سے سوال کروں، مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی، میں جانتی تھی کہ ایک غلط قدم سب کچھ مجھ سے چھین سکتا ہے۔
شام کو جب چچا آئے تو میں نے ان کے چہرے کو غور سے دیکھا، وہ نظریں چرا گئے، جیسے وہ پہلے سے جانتے ہوں کہ میں کیا سوچ رہی ہوں، یہ بات میرے دل میں تیر کی طرح لگی، اس کا مطلب تھا کہ یہ سب کوئی اتفاق نہیں تھا، یہ راز جان بوجھ کر دفن کیا گیا تھا، رات کو کھانا ہمیشہ کی طرح الگ ملا، مگر آج میں نے وہ دال کا پانی بھی مشکل سے پیا، کیونکہ ذہن میں صرف وہی کاغذ گھوم رہا تھا۔
جب سب سو گئے تو میں نے فیصلہ کر لیا، میں اب مزید انتظار نہیں کر سکتی تھی، میں نے سویٹر کے اندر چھپے کاغذ کو نکالا اور مدھم روشنی میں پڑھنا شروع کیا، الفاظ واضح ہوتے گئے اور میرے پیروں تلے سے زمین نکلتی چلی گئی، یہ صرف انشورنس نہیں تھی، یہ وہ حق تھا جو برسوں سے میرے نام تھا، وہ حق جو شاید کسی اور نے ہضم کر لیا تھا، میرے ہاتھ کانپنے لگے، مگر اس بار سردی سے نہیں، اس بار سچ کے وزن سے۔
اسی لمحے مجھے دادی جان کی بات یاد آئی، جو وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ بیٹی حق مانگنا گناہ نہیں ہوتا، گناہ تب ہوتا ہے جب انسان ظلم سہہ کر خاموشی کو اپنی تقدیر مان لے، میں نے آنکھیں بند کیں اور گہری سانس لی، میں جان چکی تھی کہ یہ راستہ آسان نہیں ہوگا، مگر اب پیچھے ہٹنے کی گنجائش بھی نہیں تھی، کیونکہ اب یہ کہانی صرف سردی اور سویٹر کی نہیں رہی تھی، یہ میرے وجود کی کہانی بن چکی تھی۔
وہ کاغذ اب صرف راز نہیں رہا تھا بلکہ ایک ایسی حقیقت بن چکا تھا جو ہر سانس کے ساتھ مجھے جھنجھوڑ رہی تھی، میں نے کئی دن اسی کشمکش میں گزار دیے کہ کیا کرنا ہے اور کس پر بھروسا کرنا ہے، چچی اور چچا دونوں کے رویے اب مجھے صاف دکھائی دینے لگے تھے، ان کی باتوں میں جھوٹ کی لرزش اور آنکھوں میں خوف کی جھلک چھپی نہیں رہتی تھی، مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اگر میں نے وقت ضائع کیا تو یہ آخری موقع بھی میرے ہاتھ سے نکل جائے گا، مگر ایک یتیم لڑکی کے لیے اکیلے کھڑے ہونا اتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔
میں نے مدرسے میں پڑھانے والی ایک بوڑھی استانی کو یاد کیا جو اکثر کہتی تھیں کہ ظلم کے خلاف پہلا قدم سب سے بھاری ہوتا ہے، میں ایک دن ان کے پاس جا پہنچی، ان کے سامنے وہ کاغذ رکھا اور سب کچھ بتا دیا، وہ دیر تک خاموشی سے سنتی رہیں، پھر انہوں نے گہری نظر سے مجھے دیکھا اور کہا کہ بیٹی اگر یہ سچ ہے تو خاموش رہنا خود اپنے ساتھ بے انصافی ہوگی، ان کے الفاظ نے میرے اندر دبی ہوئی ہمت کو سہارا دیا، اسی دن انہوں نے مجھے ایک وکیل کا پتہ دیا جو ایسے معاملات میں مدد کرتا تھا۔
وکیل کے دفتر میں قدم رکھتے ہوئے میرے پاؤں لڑکھڑا رہے تھے، سامنے بیٹھا شخص وہی تھا جس کی آواز میں سنجیدگی اور وارننگ دونوں تھیں، اس نے کاغذات غور سے دیکھے اور کہا کہ یہ کیس آسان نہیں ہوگا کیونکہ سامنے والے تمہارے اپنے رشتے دار ہیں اور وہ پوری کوشش کریں گے کہ تمہیں جھوٹا ثابت کریں، میں نے اس کی بات سن کر بھی سر ہلا دیا کیونکہ اب پیچھے ہٹنے کا مطلب اپنی ساری زندگی اسی ذلت میں گزارنا تھا، اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں واقعی یہ سب ختم کرنے کے لیے تیار ہوں، کیونکہ ایک بار قدم اٹھ گیا تو واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو میز کے نیچے چھپایا اور پورے ہوش کے ساتھ جواب دیا کہ ہاں میں تیار ہوں، اس لمحے مجھے اپنے اندر وہ لڑکی نظر نہیں آئی جو سردی میں کانپتی دری پر سو جاتی تھی بلکہ مجھے ایک ایسی فضیلت محسوس ہوئی جو اب اپنے حق کے لیے کھڑی ہو چکی تھی، قلم کاغذ پر چلا تو مجھے لگا جیسے میری قسمت کی زنجیر آہستہ آہستہ کھل رہی ہو، وہ دستخط صرف کاغذ پر نہیں تھے بلکہ میری خاموشی پر بھی تھے جو برسوں سے مجھ پر مسلط تھی۔
عدالت کے دن قریب آتے گئے اور گھر کا ماحول مزید زہریلا ہوتا گیا، چچی کی نظریں اب مجھ پر ایسے ٹھہرتی تھیں جیسے وہ سب جان چکی ہوں، ان کی باتوں میں دھمکیاں اور طنز کھل کر سامنے آنے لگے تھے، مگر میں خاموش رہی کیونکہ میں جانتی تھی کہ سچ اب میرے ساتھ کھڑا ہے، میں نے کئی راتیں جاگ کر گزاریں، نہ سردی کا احساس رہا نہ بھوک کا، میرے دل میں صرف ایک ہی خیال تھا کہ جو میرے ابا کا تھا وہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔
جب پہلی پیشی کا دن آیا تو میں نے وہی پرانا سویٹر پہنا، وہ سویٹر اب میرے لیے صرف گرم کپڑا نہیں رہا تھا بلکہ میری جدوجہد کی نشانی بن چکا تھا، میں عدالت کے دروازے پر کھڑی تھی اور میرے دل کی دھڑکن مجھے صاف سنائی دے رہی تھی، مجھے نہیں معلوم تھا کہ آگے کیا ہوگا، مگر اتنا ضرور جانتی تھی کہ اب یہ کہانی کسی اور کے رحم پر نہیں چھوڑی جا سکتی، اب یہ خود میرے فیصلے پر چلنے والی تھی۔
جب چاہو
لت کا وہ دن میری زندگی کا سب سے بھاری دن تھا، میں وہی پرانا سویٹر پہنے کٹہرے کے پاس کھڑی تھی اور دل میں عجیب سا سکوت اتر چکا تھا، اب خوف کم اور سچ پر یقین زیادہ تھا، چچی اور چچا سامنے بیٹھے تھے، ان کے چہروں پر وہی غرور نہیں رہا جو برسوں مجھے دبائے رکھتا تھا، ان کی آنکھوں میں بے چینی اور انجام کا ڈر صاف نظر آ رہا تھا، جیسے انہیں بھی اندازہ ہو چکا ہو کہ وقت اب ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
جج صاحب نے کاغذات دیکھے، سوال کیے، گواہ سنے اور جب فیصلہ سنایا تو مجھے یوں لگا جیسے میرے کندھوں سے برسوں کا بوجھ اتر گیا ہو، عدالت نے صاف الفاظ میں کہا کہ میرے ابا کی ساری جائیداد میری قانونی ملکیت ہے اور جو کچھ برسوں تک مجھ سے چھینا گیا اس کا حساب بھی واپس کیا جائے گا، اس لمحے میں روئی نہیں، شور نہیں مچایا، بس خاموش کھڑی رہی کیونکہ یہ آنسوؤں کا نہیں بلکہ صبر کے رنگ کا لمحہ تھا۔
چچی چیخیں مار رہی تھیں، زمین پر بیٹھ گئیں، وہی عورت جو مجھے سردی میں باہر سلانے سے نہیں ہچکچاتی تھی آج خود سہارے کی محتاج نظر آ رہی تھی، چچا کی نظریں زمین میں گڑی تھیں اور ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا، لوگ وہی تھے جو کل تک مجھے نظر انداز کرتے تھے مگر آج ان کی آنکھوں میں حیرت تھی، میں نے اس ہجوم میں خود کو الگ محسوس کیا کیونکہ میرا مقصد بدلہ نہیں تھا بلکہ حق تھا۔
جب گھر خالی کروانے کا وقت آیا تو پولیس کے ساتھ میں بھی پہنچی، میرا دل کانپ رہا تھا مگر ہاتھ مضبوط تھے، میں نے دیکھا کہ وہ گھر جس میں میری بچپن کی سسکیاں دفن تھیں آج میرے نام پر کھڑا تھا، چچی دروازے کی چوکھٹ پکڑ کر رو رہی تھیں، ان کے بچوں کے چہرے خوف سے زرد تھے، اس لمحے میں چاہتی تو سب کچھ ویسے ہی لوٹا سکتی تھی جیسے انہوں نے میرے ساتھ کیا تھا، مگر میں نے خود کو روک لیا۔
میں نے آگے بڑھ کر صاف کہا کہ میں انہیں سڑک پر نہیں چھوڑوں گی، یہ گھر میرا ہے مگر وہ یہاں رہ سکتے ہیں، بس اب ظلم کا کوئی حق نہیں ہوگا، اس بات نے سب کو حیران کر دیا، چچی کی آنکھوں میں پہلی بار میرے لیے خاموشی اتر آئی، شاید انہیں تب احساس ہوا کہ طاقت ملنے کے بعد بھی انسان کیا فیصلہ کرتا ہے یہی اس کی پہچان بنتی ہے۔
میں اس گھر میں واپس نہیں رہی، میں نے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کی، ایک چھوٹا سا مکان لیا، تعلیم دوبارہ جاری رکھی اور محنت سے اپنا کام کھڑا کیا، وہ سویٹر جو کبھی سردی سے بچنے کا سہارا تھا اب میرے لیے یاد دہانی بن گیا تھا کہ مشکل وقت انسان کو توڑنے نہیں بلکہ بنانے آتا ہے، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دکھ اپنی جگہ تھا مگر اس دکھ نے مجھے کمزور نہیں رکھا۔
آج جب میں اپنی زندگی کو دیکھتی ہوں تو صاف نظر آتا ہے کہ کہانی کا اصل انجام گھر یا دولت نہیں تھا بلکہ وہ حوصلہ تھا جو ایک یتیم لڑکی نے خاموشی کے خلاف کھڑا ہو کر پیدا کیا، میں نے سیکھا کہ ظلم جتنا بھی پرانا ہو اگر سچ کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو ایک دن ضرور کھلتا ہے، اور یہی اس کہانی کا نچوڑ ہے کہ حق مانگا نہیں جاتا بلکہ ہمت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/01/barray-khwab-aur-zindagi-ke-gehrey.html

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."