عید پر ایک اجنبی کا سوٹ اور پہلی نظر کی محبت ایک پاکیزہ رشتے میں بدل گئی
تعارف
آج کی اس خوبصورت اور رومانوی کہانی میں ایک ایسی ملاقات کا ذکر کیا گیا ہے جو عید کے موقع پر اچانک پیش آتی ہے۔ ایک اجنبی شخص کی چھوٹی سی نیکی ایک نئے رشتے کی بنیاد بن جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلق خلوص اور سچائی میں بدل جاتا ہے اور دونوں کے دل ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچی محبت ہمیشہ پاکیزہ اور حلال راستے میں ہی خوبصورت لگتی ہے۔
میرا نام عائشہ تھا اور میری عمر انیس سال تھی۔ میں سرگودھا شہر کے ایک متوسط طبقے کے محلے میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی۔ ہمارا گھر چھوٹا سا تھا لیکن خوشیوں سے بھرا ہوا تھا۔ میرے ابو ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے جہاں وہ کپڑے بیچتے تھے۔ ان کی دکان سرگودھا کے پرانے بازار میں تھی جہاں روزانہ کی بمشکل آمدنی سے ہمارا گھر چلتا تھا۔ میری والدہ گھر کا کام کاج سنبھالتی تھیں اور کبھی کبھار سلائی کڑھائی کا کام کر کے بھی گھر کے اخراجات میں مدد کرتی تھیں۔ میرا ایک چھوٹا بھائی حمزہ بھی تھا جو کالج میں پڑھتا تھا اور ساتھ ساتھ شام کو ٹیوشن بھی پڑھاتا تھا۔
عید کا مہینہ آ چکا تھا اور پورے شہر میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بازاروں میں رونق بڑھ گئی تھی۔ ہر طرف نئے کپڑوں، جوتوں اور زیورات کی دکانیں سج گئی تھیں۔ دکانوں کے باہر رنگ برنگی لائٹیں لگی ہوئی تھیں۔ لوگ عید کی خریداری میں مصروف تھے۔ گلیوں میں بچوں کی چہل پہل تھی۔ ہر گھر سے مٹھائیاں اور پکوان بنانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ دکانداروں کی آوازیں گونج رہی تھیں کہ آئیں صاحب عید کے خاص کپڑے دیکھیں۔
میں بھی اپنی سہیلیوں فرحانہ اور سمیرا کے ساتھ بازار گئی تھی۔ ہم نے مختلف دکانوں پر جا کر کپڑے دیکھے۔ کچھ بہت مہنگے تھے تو کچھ ہماری پسند کے نہیں تھے۔ مجھے ایک خوبصورت سبز رنگ کا سوٹ پسند آیا جس پر سونے کے رنگ کی باریک کڑھائی کا کام تھا۔ دوپٹہ بھی بہت خوبصورت تھا جس پر موتیوں کی سجاوٹ تھی۔ لیکن جب میں نے اس کی قیمت پوچھی تو پتا چلا کہ یہ پندرہ ہزار روپے کا تھا۔ میرے ابو کی دکان میں اتنی کمائی نہیں ہوتی تھی کہ وہ مجھے اتنا مہنگا سوٹ دلا سکیں۔ میں نے دکاندار کو شکریہ کہا اور وہاں سے چلی آئی۔
میں نے والدہ سے کہا کہ امی مجھے وہ سبز والا سوٹ بہت پسند آیا ہے لیکن وہ بہت مہنگا ہے۔ والدہ نے پیار سے میرا سر سہلایا اور مجھے سمجھایا کہ بیٹی ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ تمہارے ابو بہت محنت کر رہے ہیں لیکن آمدنی کم ہے۔ اس سال خرچے بھی بہت زیادہ ہیں۔ حمزہ کی فیس بھی دینی ہے۔ تم کوئی سادہ سا سوٹ لے لو جو تین چار ہزار میں آ جائے۔ میں نے سر ہلایا اور خاموشی سے مان لیا۔ میں جانتی تھی کہ میرے والدین میری خوشی کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن میں ان پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۔
کچھ دن بعد ایک دن میں اپنی سہیلی فرحانہ کے ساتھ بازار گئی۔ ہمیں کچھ سامان لینا تھا۔ ہم ایک کپڑے کی دکان کے سامنے کھڑے تھے اور کپڑے دیکھ رہے تھے۔ فرحانہ کچھ دوپٹے دیکھ رہی تھی اور میں کھڑی انتظار کر رہی تھی۔ اسی دوران ایک نوجوان لڑکا ہمارے پاس سے گزرا۔ اس کا نام عمر تھا اور وہ شہر کے ایک امیر کاروباری خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد حاجی صاحب کے نام سے مشہور تھے اور ان کی شہر میں کئی دکانیں اور زمینیں تھیں۔
عمر نے مجھے دیکھا اور رک گیا۔ اس کی نظریں مجھ پر ٹھہر گئیں۔ میں نے فوراً اپنا دوپٹہ سنبھالا اور نظریں جھکا لیں۔ مجھے بہت عجیب لگا کہ وہ کیوں مجھے دیکھ رہا ہے۔ فرحانہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ عائشہ چلو یہاں سے چلتے ہیں۔ یہ لڑکا کچھ عجیب طرح سے دیکھ رہا ہے۔ ہم دونوں وہاں سے جلدی جلدی چلی آئیں۔
لیکن میرے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ میں نے سوچا کہ وہ لڑکا مجھے کیوں دیکھ رہا تھا؟ کیا میرے کپڑوں میں کچھ غلط تھا؟ یا میرا دوپٹہ ٹھیک سے نہیں تھا؟ میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ یہ کچھ نہیں ہے اور میں نے اس واقعے کو بھلا دینے کی کوشش کی۔
کچھ دن بعد میں اپنی والدہ کے ساتھ سبزی لینے گئی۔ ہم سبزی منڈی میں سبزیاں خرید رہے تھے۔ والدہ ٹماٹر اور پیاز دیکھ رہی تھیں اور میں ان کے ساتھ کھڑی تھی۔ اچانک میں نے محسوس کیا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہی لڑکا عمر وہاں موجود تھا۔ وہ بھی سبزیاں خرید رہا تھا لیکن اس کی نظریں بار بار میری طرف آ رہی تھیں۔ اس نے مجھے دیکھا اور ہلکا سا مسکرایا۔ میں نے فوراً نظریں پھیر لیں اور والدہ سے کہا کہ امی چلیں گھر چلتے ہیں۔
شام کو جب میں گھر آئی تو میری سہیلی فرحانہ نے فون کیا۔ اس نے کہا کہ عائشہ تمہیں پتا ہے آج میں نے سنا ہے کہ حاجی صاحب کا بیٹا عمر تمہیں پسند کر بیٹھا ہے۔ اس نے اپنے دوست سے تمہارے بارے میں پوچھا ہے۔ میں نے گھبرا کر کہا کہ فرحانہ یہ کیا بات ہو رہی ہے؟ میں اسے جانتی بھی نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟
فرحانہ نے کہا کہ لیکن وہ تمہیں کئی بار دیکھ چکا ہے اور اس نے اپنے دوست احمد سے تمہارے بارے میں پوچھا بھی ہے۔ احمد نے اسے بتایا کہ تم کون ہو اور تمہارے والد کون ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ میں نے والدہ کو کچھ نہیں بتایا کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ فکر مند ہوں۔ لیکن میرے دل میں ایک خوف بیٹھ گیا تھا کہ کہیں یہ معاملہ غلط رخ نہ اختیار کر لے۔
عید قریب آ رہی تھی۔ ہمارے گھر میں بھی تیاریاں جاری تھیں۔ والدہ سویاں بنانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ انہوں نے شیر مال کے لیے آرڈر بھی دیا تھا۔ ابو نے مجھے اور حمزہ کو عید کے لیے کپڑے دلوائے۔ میرے لیے ایک سادہ سا گلابی رنگ کا سوٹ خریدا جو چار ہزار کا تھا۔ یہ بہت اچھا تھا اور مجھے پسند بھی آیا لیکن میرے دل میں ابھی بھی وہ سبز رنگ کا سوٹ یاد تھا۔ حمزہ کے لیے ایک سفید کرتا شلوار لیا گیا۔
عید سے ایک دن پہلے شام کو جب میں اپنے گھر کی چھت پر کپڑے سوکھانے گئی تو میں نے دیکھا کہ سامنے کی چھت پر عمر کھڑا ہے۔ وہ بھی شاید چھت پر آیا تھا۔ اس نے مجھے دیکھا اور ہاتھ ہلایا جیسے مجھے سلام کر رہا ہو۔ میں نے فوراً نظریں جھکا لیں اور جلدی سے کپڑے سوکھا کر نیچے آ گئی۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ میں نے سوچا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کبھی کسی لڑکے کے بارے میں اس طرح نہیں سوچا تھا۔ لیکن عمر کچھ الگ تھا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ وہ خوبصورت تو تھا ہی لیکن اس کی شخصیت میں بھی کچھ خاص تھا۔ لیکن میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ یہ غلط ہے۔ میں ایک شریف گھرانے کی لڑکی ہوں اور مجھے یہ سب سوچنا بھی نہیں چاہیے۔
رات کو جب میں سونے کی کوشش کر رہی تھی تو میرے ذہن میں بار بار عمر کا چہرہ آ رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ، اس کی نظریں، سب کچھ میرے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ یہ غلط ہے۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے صحیح راستہ دکھائے اور مجھے غلط خیالات سے بچائے۔
عید کا دن آ گیا۔ صبح سویرے پورے گھر میں ہلچل مچ گئی۔ ابو اور حمزہ عید کی نماز کے لیے تیار ہونے لگے۔ والدہ اور میں نے گھر میں آخری صفائی کی اور کھانے کی تیاریاں دیکھیں۔ میں نے اپنا نیا گلابی سوٹ پہنا اور تیار ہوئی۔ میں نے ہلکا سا میک اپ کیا اور بال بھی اچھے سے بنائے۔ میں خوبصورت لگ رہی تھی لیکن میرے دل میں ایک کمی سی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سبز سوٹ ابھی بھی میرے ذہن میں تھا۔
جب ابو اور حمزہ نماز سے واپس آئے تو ہم سب نے ایک دوسرے کو عید مبارک کہا۔ ابو نے مجھے اور حمزہ کو ایدی دی۔ مجھے پانچ سو روپے ملے اور حمزہ کو بھی اتنے ہی۔ پھر ہم نے ناشتہ کیا۔ والدہ نے بہت لذیذ سویاں اور شیر مال بنائے تھے۔ قورمہ بھی تیار تھا جو دوپہر کے کھانے کے لیے تھا۔
دوپہر کو رشتہ دار آنا شروع ہو گئے۔ چچا چچی اور ان کے بچے آئے۔ پھر خالہ اور ان کا خاندان آیا۔ گھر میں خوب رونق تھی۔ میں مہمانوں کی خاطر مدارات میں مصروف تھی۔ چائے پانی دینا، کھانا لگانا، سب کچھ میں اور والدہ مل کر کر رہے تھے۔ اسی دوران دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں نے دروازہ کھولا تو ایک ڈلیوری والا کھڑا تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت تحفے کا ڈبہ تھا جس پر سنہری ربن بندھا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا کہ کیا یہ عائشہ بنت کریم احمد کا گھر ہے؟ میں نے حیرت سے کہا کہ ہاں میں عائشہ ہوں۔ اس نے کہا کہ یہ آپ کے لیے تحفہ ہے۔ یہ عید کا خاص تحفہ ہے۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کس نے بھیجا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔ بس مجھے کہا گیا تھا کہ یہ آپ تک پہنچا دوں اور یہ رسید پر دستخط کر دیں۔
میں نے رسید پر دستخط کیے اور ڈبہ لیا۔ وہ ڈلیوری والا چلا گیا۔ میں ڈبہ لے کر اندر آ گئی۔ والدہ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ کس نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں معلوم امی۔ کسی نے بھیجا ہے لیکن نام نہیں بتایا۔ میں نے ڈبہ کھولا تو اندر وہی سبز رنگ کا سوٹ تھا جو مجھے بازار میں پسند آیا تھا۔ میرے ہوش اڑ گئے۔ میں حیران رہ گئی۔
ڈبے کے اندر ایک سفید لفافہ میں خط بھی تھا۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا اور پڑھا۔ خط میں بہت خوبصورت لکھائی میں لکھا تھا - عائشہ السلام علیکم۔ میں جانتا ہوں کہ یہ طریقہ شاید غلط لگے لیکن میرے ارادے صاف ہیں۔ میں نے آپ کو پہلی نظر میں دیکھا تو دل نے کہا کہ یہی وہ لڑکی ہے جو میری زندگی کی ساتھی بن سکتی ہے۔ میں نے آپ کے بارے میں پوچھا اور پتا چلا کہ آپ بہت نیک اور پارسا ہیں۔ میں نے دیکھا کہ آپ بازار میں اس سوٹ کو دیکھ رہی تھیں اور آپ کو یہ پسند آیا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ عید کے دن یہ سوٹ پہنیں۔ یہ میری طرف سے آپ کے لیے عید کا تحفہ ہے۔ میں آپ سے حلال طریقے سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ میرا نام عمر ہے اور میں حاجی محمد اسلم کا بیٹا ہوں۔ انشاء اللہ جلد ہی میرے والد آپ کے والد سے ملنے آئیں گے۔ السلام علیکم۔
میں نے خط پڑھا تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے اور چہرے پر شرم کی لالی آ گئی۔ والدہ نے میرے چہرے کو دیکھا اور سمجھ گئیں کہ کچھ خاص بات ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ عائشہ یہ کس نے بھیجا؟ خط میں کیا لکھا ہے؟ میں نے سچ بتا دیا اور خط والدہ کو دے دیا۔
والدہ نے خط پڑھا تو ان کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط طریقہ ہے۔ لڑکا سیدھے لڑکی کو تحفہ بھیج دیتا ہے؟ ہم یہ تحفہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن پھر انہوں نے سوچا اور کہا کہ دیکھو وہ کہہ رہا ہے کہ اس کے والد آئیں گے۔ چلو دیکھتے ہیں۔ اگر وہ سچا ہے تو ضرور آئیں گے۔
لیکن میرے دل میں عمر کے لیے ایک نرم گوشہ بن چکا تھا۔ میں نے والدہ سے کہا کہ امی وہ کہہ رہا ہے کہ وہ مجھے حلال طریقے سے اپنانا چاہتا ہے۔ اس نے غلط نیت سے یہ تحفہ نہیں بھیجا۔ والدہ نے کہا کہ ہاں بیٹی میں سمجھ رہی ہوں۔ پہلے اس کے گھر والوں کو آنا چاہیے اور ہم سے بات کرنی چاہیے۔ تب ہی ہم کچھ فیصلہ کر سکتے ہیں۔
شام کو جب ابو گھر آئے تو والدہ نے انہیں سارا واقعہ سنایا اور خط بھی دکھایا۔ ابو نے خط پڑھا تو وہ بہت غصے میں آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا طریقہ ہے؟ لڑکا سیدھے لڑکی کو تحفہ بھیج دیتا ہے؟ کیا یہ اسلامی طریقہ ہے؟ پہلے اس کے والد کو آنا چاہیے تھا۔ میں نے غلطی کی جو میں نے یہ تحفہ قبول کر لیا۔
لیکن پھر ابو نے سوچا اور کہا کہ چلو دیکھتے ہیں۔ اگر لڑکا سچا ہے تو وہ ضرور اپنے والد کو لے کر آئے گا۔ اگر وہ نہیں آیا تو ہم یہ تحفہ واپس کر دیں گے۔ میں اس لڑکے کو سبق سکھاؤں گا کہ یہ طریقہ غلط ہے۔
اگلے دن دوپہر کو ہمارے گھر کی گھنٹی بجی۔ ابو نے دروازہ کھولا تو باہر حاجی صاحب کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ عمر بھی تھا اور دو اور بزرگ بھی تھے۔ حاجی صاحب نے ابو سے معافی مانگی اور کہا کہ میرے بیٹے نے غلطی کی۔ اسے پہلے مجھ سے بتانا چاہیے تھا۔ لیکن اس کے ارادے صاف ہیں۔ وہ آپ کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ ہم یہاں رشتہ لے کر آئے ہیں۔
ابو نے حاجی صاحب کو بٹھایا اور چائے منگوائی۔ پھر انہوں نے حاجی صاحب سے بہت سوالات پوچھے۔ عمر کیا کرتا ہے؟ اس کی تعلیم کیا ہے؟ وہ کتنا کماتا ہے؟ اس کی عادات کیسی ہیں؟ حاجی صاحب نے تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔ انہوں نے بتایا کہ عمر نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا ہوا ہے اور اب ہمارے کاروبار میں ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے۔ وہ نماز روزے کا پابند ہے اور اچھی تربیت یافتہ لڑکا ہے۔
پھر ابو نے مجھے بلایا اور حاجی صاحب کے سامنے پوچھا کہ بیٹی تمہاری کیا رائے ہے؟ تم نے اس لڑکے کو دیکھا ہے؟ میں نے شرماتے ہوئے نظریں جھکا کر کہا کہ ابو جو آپ مناسب سمجھیں۔ لیکن میرے دل میں عمر کے لیے احترام تھا کہ اس نے حلال طریقہ اختیار کیا اور اپنے والد کو ساتھ لے کر آیا۔
ابو نے کچھ دن کا وقت مانگا تاکہ وہ عمر کے خاندان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکیں۔ حاجی صاحب خوشی سے مان گئے۔
کچھ دن بعد ابو نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے عمر کے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ سب نے بہت اچھی رائے دی۔ سب نے کہا کہ حاجی صاحب بہت نیک اور متقی آدمی ہیں۔ ان کی شہرت بہت اچھی ہے۔ عمر بھی بہت شریف اور پڑھا لکھا لڑکا ہے۔ ابو نے ہاں کر دی اور حاجی صاحب کو اطلاع دے دی۔
دونوں خاندانوں نے مل کر نکاح کی تاریخ طے کر لی۔ نکاح کے لیے ایک مہینے بعد کی تاریخ رکھی گئی۔ نکاح کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ دونوں خاندانوں میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔ حاجی صاحب نے بہت خوشی سے تمام انتظامات کی ذمہ داری لی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب انتظامات کریں گے۔ آپ بس اپنے رشتہ داروں کو بلا لیں۔ ابو نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق تیاریاں شروع کر دیں۔
عمر کا خاندان واقعی بہت اچھا تھا۔ حاجی صاحب نہایت نیک اور متقی آدمی تھے۔ وہ روزانہ مسجد میں پانچ وقت کی نماز پڑھتے تھے۔ عمر کی والدہ بیگم فرحت بھی بہت پیاری اور شریف خاتون تھیں۔ انہوں نے مجھے ملنے کے لیے بلایا اور بہت پیار سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی ہم نے عمر کو بہت اچھی اسلامی تربیت دی ہے۔ وہ نماز روزے کا پابند ہے۔ وہ تمہارا خیال رکھے گا۔ ہم تمہیں اپنی بیٹی کی طرح رکھیں گے۔ تم بالکل بے فکر رہو۔
میرے دل میں سکون آ گیا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اتنا اچھا رشتہ عطا کیا۔ میں نے روزانہ نماز میں اللہ سے دعا کی کہ یہ رشتہ کامیاب ہو اور ہماری شادی خوشیوں سے بھری ہو۔
نکاح سے کچھ دن پہلے میں نے عمر سے پہلی بار بات کی۔ یہ بات فون پر ہوئی تھی جب دونوں خاندانوں نے اجازت دے دی تھی کہ ہم بات کر سکتے ہیں۔ عمر نے کہا کہ عائشہ السلام علیکم۔ میں تمہارا بہت شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے قبول کر لیا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا۔ میں تمہارا خیال رکھوں گا اور تمہیں کبھی تنہا محسوس نہیں ہونے دوں گا۔
میں نے کہا کہ عمر وعلیکم السلام۔ میں بھی شکر گزار ہوں کہ تم نے حلال طریقہ اختیار کیا۔ بہت سے لڑکے غلط راستے اپناتے ہیں لیکن تم نے صحیح اسلامی طریقہ چنا۔ اس سے مجھے تمہارے کردار کا پتا چلا۔
نکاح کا دن آ گیا۔ ہمارے گھر میں خوب رونق تھی۔ رشتہ دار دور دور سے آنا شروع ہو گئے۔ میں نے خوبصورت سرخ رنگ کا جوڑا پہنا جو عمر کے والدین نے بھیجا تھا۔ یہ بہت خوبصورت اور قیمتی تھا۔ میرے ہاتھوں پر گہری سرخ مہندی لگی ہوئی تھی۔ زیورات بھی بہت خوبصورت تھے۔
نکاح کی رسم ہوئی۔ قاضی صاحب نے مجھ سے اجازت لی۔ انہوں نے تین بار پوچھا - کیا تم عمر بن محمد اسلم سے بیس ہزار روپے حق مہر پر نکاح کرنے پر راضی ہو؟ میں نے تین بار قبول کہا۔ پھر عمر نے بھی قبول کیا۔ ہمارا نکاح ہو گیا۔ سب نے تکبیر کہی اور دعائیں دیں۔
دعاؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سب نے ہمیں مبارکباد دی۔ میں نے اپنے والدین کے پاؤں چھوئے اور ان سے دعا لی۔ والدہ رو رہی تھیں لیکن ان کے چہرے پر خوشی تھی۔ ابو نے میرا سر اپنے ہاتھوں میں لیا اور بہت دیر تک دعا دی۔
رخصتی کا وقت آیا۔ میرا دل بھاری تھا۔ میں اپنے گھر کو چھوڑ کر جا رہی تھی جہاں میں نے اپنی پوری زندگی گزاری تھی۔ والدہ، ابو اور حمزہ سب رو رہے تھے۔ میں بھی رو رہی تھی۔
عمر کے گھر پہنچی تو وہاں بھی خوب استقبال ہوا۔ سب نے مجھے بہت پیار سے ملا۔ عمر کی والدہ نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ بیٹی اب یہ تمہارا گھر ہے۔ تم یہاں بالکل آزاد ہو۔
شادی کے بعد میری نئی زندگی شروع ہو گئی۔ عمر واقعی بہت اچھا تھا۔ اس نے میرا بہت خیال رکھا۔ وہ میری ہر خواہش کا خیال رکھتا تھا۔ وہ روزانہ نماز پڑھتا اور مجھے بھی نماز کی یاد دلاتا۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت حلال طریقے سے ہونی چاہیے۔ جو رشتہ اللہ کی رضا میں ہو وہی کامیاب ہوتا ہے۔
الحمد للہ رب العالمین۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/03/aakhri-lamhe-ka-faisla-heart-touching.html
Disclaimer
یہ کہانی صرف تفریح اور سبق آموز مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس میں بیان کیے گئے کردار اور واقعات کا کسی حقیقی شخص یا واقعے سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔ اگر کسی کی زندگی سے مشابہت ہو جائے تو اسے محض اتفاق سمجھا جائے۔

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."