Yateem Bachi Ki Dua Qabool Hui | Eid Par Khushi Ka Lamha | Heart Touching Urdu Story - Sachi Kahani Umair

Sachi Kahani Umair ek behtareen Urdu blog hai jahan aapko milengi asli zindagi se li gayi sachi kahaniyan, jin mein mohabbat, wafadari, dard aur jazbaat chhupe hain. Rozana naye topics aur dil ko choo lene wali kahaniyan sirf yahan.

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Friday, March 20, 2026

Yateem Bachi Ki Dua Qabool Hui | Eid Par Khushi Ka Lamha | Heart Touching Urdu Story


 یتیم بچی کی دعا قبول ہوئی اور عید پر خوشی کا لمحہ


تعارف:

ایک یتیم بچی کی زندگی کے خوبصورت لمحوں پر مبنی یہ سچی کہانی پڑھنے والے کے دل کو چھو جاتی ہے۔
یہ ہمیں دکھاتی ہے کہ دعا اور ایمان کی طاقت کس طرح زندگی بدل سکتی ہے۔
عید کے دن اس بچی کی دعا قبول ہوتی ہے اور وہ خوشی سے جھوم اُٹھتی ہے۔
اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ مشکلات میں بھی امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔
یہ کہانی جذبات، محبت اور ایمان کی اہمیت کو دل سے بیان کرتی ہے۔
پڑھ کر یقین ہوتا ہے کہ اللہ کی رضا ہر دل کی دعا میں شامل ہے۔
ہر لمحہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور دعا کے اثر پر ایمان رکھیں۔


میرا نام فاطمہ تھا اور میں کراچی شہر کے سخی حسن علاقے میں رہتی تھی۔ میری عمر صرف گیارہ سال تھی لیکن میری زندگی میں وہ سب کچھ نہیں تھا جو دوسری بچیوں کے پاس ہوتا ہے۔ میرے ابو جان کا انتقال دو سال پہلے ہو چکا تھا جب وہ ایک حادثے میں شہید ہو گئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد میری اور میری چھوٹی بہن زینب کی زندگی بالکل بدل گئی تھی۔ ہماری والدہ بھی جب میں صرف چھ سال کی تھی تب وفات پا چکی تھیں۔ اس لیے ابو ہی ہمارا سب کچھ تھے۔
ابو کی وفات کے بعد ہمیں ہمارے چچا کامران کے گھر رہنا پڑا۔ چچا ایک دکاندار تھے اور ان کی اپنی دو اولادیں تھیں۔ ان کا بیٹا شاہد اور بیٹی مہک دونوں میری ہی عمر کے تھے۔ لیکن چچا اور چچی نے ہمارے ساتھ کبھی اچھا سلوک نہیں کیا۔ ہم ان کے گھر میں بوجھ کی طرح تھے۔ چچی ہمیں بہت کام کرواتی تھیں۔ صبح سویرے اٹھ کر گھر کی صفائی، برتن دھونا، کھانا پکانے میں مدد کرنا، یہ سب ہمارا روز کا معمول تھا۔
آج عید کا دن تھا۔ ہر طرف خوشیاں بکھری ہوئی تھیں۔ صبح سویرے سے ہی محلے کی بچیاں نئے کپڑوں میں ملبوس ہو کر باہر نکل آئی تھیں۔ گلیوں میں عید کی نمازوں کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔ عید کی مٹھائیاں اور پکوان کی خوشبو ہر گھر سے آ رہی تھی۔ بچیوں کی چوڑیوں کی کھنک سنائی دے رہی تھی۔ ہر گھر سے خوشی کی آوازیں آ رہی تھیں۔ لیکن میں اپنے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی ہوئی اپنے پرانے اور پھٹے ہوئے کپڑوں کو دیکھ رہی تھی۔
میرے پاس جو کپڑے تھے وہ ابو کی وفات سے پہلے کے تھے۔ اب وہ بہت چھوٹے اور کئی جگہ سے پھٹے ہوئے تھے۔ میرا سوٹ اتنا پرانا ہو چکا تھا کہ اس پر کئی جگہ سے رفو کے نشان تھے۔ شلوار بھی گھٹنوں سے اتنی چھوٹی ہو چکی تھی کہ میری پنڈلیاں باہر نکل آتی تھیں۔ پاؤں میں وہی پرانی ٹوٹی ہوئی چپل تھی جس کی تلی ادھر سے اکھڑ چکی تھی۔ دوپٹہ بھی اتنا پرانا تھا کہ اس کا رنگ اڑ چکا تھا۔
میں نے دو دن پہلے چچا کامران سے کہا تھا کہ چچا مجھے بھی عید کے لیے ایک نیا کپڑا دلوا دیں۔ بس ایک سادہ سا کپڑا۔ میں بھی دوسری بچیوں کی طرح عید منانا چاہتی ہوں۔ لیکن چچا کامران نے مجھے بہت برا بھلا کہا تھا۔
چچا کامران کی کڑک دار اور غصے سے بھری آواز اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ پھٹا ہوا سوٹ پہن کر کہیں نکلنا مت۔ تجھے کیا خیال ہے کہ میں تجھ جیسی بے سہارہ یتیم لڑکی پر پیسے برباد کروں؟ میرے پاس اپنی بیٹی مہک کے لیے خرچ کرنے کو پیسے ہیں۔ تیرے باپ نے کیا چھوڑا تھا جو میں تجھ پر خرچ کروں؟ تو کام کرنے کے لیے یہاں رکھی ہوئی ہے۔ نخرے مت دکھا۔
یہ الفاظ میرے دل پر تیر کی طرح لگے تھے۔ میں خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گئی تھی اور اپنی چھوٹی بہن زینب کو دیکھ کر رو پڑی تھی۔ زینب صرف آٹھ سال کی تھی لیکن وہ سب کچھ سمجھتی تھی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ آپا رونا مت۔ ابو جان اوپر سے ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ اللہ ہمارا خیال رکھے گا۔
آج عید کی صبح جب میں نے دیکھا کہ شاہد اور مہک دونوں نئے چمکدار کپڑوں میں تیار ہو کر باہر نکلے ہیں تو میرا دل بیٹھ گیا۔ چچی نے ان دونوں کو بہت پیار سے تیار کیا تھا۔ مہک کو نیا چمکدار لہنگا پہنایا تھا جس پر گوٹے لگے ہوئے تھے۔ اس کے کانوں میں نئی بالیاں تھیں۔ ہاتھوں میں نئی چوڑیاں تھیں۔ پاؤں میں نئی سینڈل تھیں۔ شاہد کو بھی نیا کرتا شلوار پہنایا تھا۔
میں نے آہستہ سے چچا کامران سے پوچھا کہ چچا میں بھی عیدگاہ میں آپ کے ساتھ چلوں؟ چچا نے غصے سے مجھے دیکھا اور کہا کہ تو ان کپڑوں میں میرے ساتھ نہیں جا سکتی۔ لوگ کیا کہیں گے کہ میں اپنی بھتیجی کو بھی کپڑے نہیں دے سکتا؟ تو یہیں گھر میں رہ اور کھانا تیار کر۔ مہمان آنے والے ہیں۔
میرا دل ٹوٹ گیا۔ میں نے نظریں جھکا لیں اور خاموشی سے وہیں کھڑی رہ گئی۔ جب چچا اپنے بچوں کو لے کر عید کی نماز کے لیے نکلے تو میں کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ گلی میں تمام بچیاں اپنے والدین کے ساتھ خوشی خوشی جا رہی تھیں۔ سب کے چہروں پر مسکراہٹیں تھیں۔ لیکن میں اکیلی تھی۔
میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے زینب کو دیکھا جو اپنے پرانے کپڑوں میں خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے ابو کی قبر پر جاؤں گی۔ میں ان سے بات کروں گی۔ میں ان سے کہوں گی کہ ابو مجھے بھی عید کے کپڑے لے دو۔

میں نے زینب کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ چلو ہم ابو کی قبر پر چلتے ہیں۔ زینب نے سر ہلایا اور ہم دونوں چپکے سے گھر سے نکل گئیں۔ راستے میں ہر طرف عید کی خوشیاں بکھری ہوئی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے کو عید مبارک کہہ رہے تھے۔ بچیاں ایدی لے رہی تھیں۔ ہر طرف رونق تھی۔ گلیوں میں بچے پٹاخے چلا رہے تھے۔ لیکن ہمارے دلوں میں صرف اداسی تھی۔
ہم دونوں سخی حسن کے قبرستان کی طرف چل پڑیں۔ سڑک پر گاڑیاں گزر رہی تھیں۔ لوگ خوش نظر آ رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے ہمیں دیکھا اور ہمارے حال پر ترس کھایا۔ ایک بزرگ خاتون نے ہمیں دیکھا اور کہا کہ بیٹی کہاں جا رہی ہو؟ میں نے کہا کہ ہم اپنے ابو کی قبر پر جا رہے ہیں۔
قبرستان پہنچیں تو وہاں بالکل خاموشی تھی۔ کوئی نہیں تھا۔ سب لوگ اپنے گھروں میں عید منا رہے تھے۔ قبرستان کے درخت ساکت تھے۔ ہوا بھی نہیں چل رہی تھی۔ ہم ابو کی قبر کی طرف بڑھیں۔ میں نے قبر کو دیکھا تو میرے آنسو نہیں رکے۔ میں قبر کے پاس بیٹھ گئی اور زور زور سے رونے لگی۔
ابو مجھے بھی عید کے کپڑے لے دو۔ میں نے قبر سے لپٹ کر کہا۔ چچا کامران مجھ پر ظلم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے نئے کپڑے نہیں دیے۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ عیدگاہ میں نہیں جا سکتی۔ ابو میں بہت تنہا ہوں۔ مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے۔ آپ ہوتے تو مجھے ایسا نہیں کہتے۔ آپ مجھے بہت پیار کرتے تھے۔
زینب بھی میرے ساتھ رو رہی تھی۔ اس نے بھی قبر کو چھوا اور کہا کہ ابو ہمیں واپس بلا لو۔ ہم یہاں بہت تنگ ہیں۔ چچی بھی ہمارے ساتھ اچھا نہیں کرتیں۔ وہ ہمیں بہت کام کرواتی ہیں۔ ہمیں اچھا کھانا بھی نہیں دیتیں۔
میں نے قبر پر اپنا سر رکھ دیا اور بہت دیر تک روتی رہی۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ میرے ابو کو جنت میں اعلیٰ مقام دے۔ اور مجھے بھی کوئی راستہ دکھا۔ میں بہت مظلوم ہوں۔ میرے پاس کوئی نہیں ہے۔ اے اللہ میری مدد فرما۔
اچانک میں نے محسوس کیا کہ کوئی میرے کندھے پر ہاتھ رکھ رہا ہے۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک بزرگ آدمی کھڑے تھے۔ ان کی سفید داڑھی تھی اور چہرے پر نور تھا۔ وہ بہت مہربان لگ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں بے پناہ شفقت تھی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بیٹی کیوں رو رہی ہو؟ آج عید کا دن ہے اور تم اتنی اداس ہو؟
میں نے ہچکیاں لیتے ہوئے ان کو سارا واقعہ سنایا۔ میں نے کہا کہ چچا جان آج عید ہے اور میرے پاس نئے کپڑے نہیں ہیں۔ میرے چچا نے مجھے کپڑے نہیں دیے اور کہا کہ میں ان کے ساتھ عیدگاہ میں نہیں جا سکتی۔ میں اپنے ابو کی قبر پر آئی ہوں کہ شاید وہ مجھے سن لیں۔ میرے ابو بہت اچھے تھے۔ وہ مجھے بہت پیار کرتے تھے۔
بزرگ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ بیٹی رونا بند کرو۔ تمہارے ابو تمہیں ضرور سن رہے ہیں۔ اللہ تمہاری مدد ضرور کرے گا۔ یتیموں کا اللہ خاص خیال رکھتا ہے۔ میں نے کہا کہ چچا جان لیکن میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ نہ پیسے ہیں نہ کوئی اور۔
بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بیٹی اللہ کے پاس سب کچھ ہے۔ تم اللہ سے دعا کرو۔ وہ تمہاری دعا ضرور قبول کرے گا۔ اللہ یتیموں کی فریاد سنتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور میرے ہاتھ میں رکھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ لو بیٹی۔ اس سے اپنے اور اپنی بہن کے لیے عید کے کپڑے خرید لو۔ میں نے حیرت سے لفافے کو دیکھا اور کہا کہ چچا جان یہ کیا ہے؟ میں یہ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمہارے ابو کی طرف سے ہے۔ اللہ نے مجھے بھیجا ہے تمہاری مدد کے لیے۔ یہ صدقہ ہے۔
میں نے لفافہ کھولا تو اس میں پانچ ہزار روپے تھے۔ میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میں نے کبھی اتنے پیسے ایک ساتھ نہیں دیکھے تھے۔ میں نے بزرگ کو دیکھا لیکن وہ مسکرا رہے تھے۔ میں نے کہا کہ چچا جان میں یہ نہیں لے سکتی۔ یہ بہت زیادہ ہیں۔ میں آپ کا کیسے شکریہ ادا کروں؟
بزرگ نے کہا کہ بیٹی یہ اللہ کا کرم ہے۔ لے لو اور خوش ہو جاؤ۔ آج عید ہے۔ تم بھی اپنی خوشی مناؤ۔ اللہ یتیموں کا خیال رکھتا ہے۔ تم دونوں بہنیں جاؤ اور اپنے لیے اچھے کپڑے خریدو۔
میں نے لفافہ لیا اور بزرگ کے پاؤں چھونے لگی۔ انہوں نے مجھے اٹھایا اور سر پر ہاتھ رکھا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ وہاں سے چلے گئے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور دعا دی۔

میں اور زینب خوشی سے اچھل پڑیں۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر ہم فوراً قبرستان سے نکل کر بازار کی طرف بھاگیں۔ میرے ہاتھ میں وہ لفافہ تھا اور دل میں بے پناہ خوشی تھی۔ ہم راستے میں خوشی سے باتیں کرتے رہے۔ زینب بار بار کہہ رہی تھی کہ آپا ہمیں کون سے کپڑے خریدنے ہیں؟
ہم بازار پہنچے تو ہر طرف دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ عید کے دن بھی کچھ دکاندار اپنی دکانیں کھول دیتے تھے۔ ہم ایک کپڑوں کی دکان میں گئیں۔ دکاندار نے ہمیں دیکھا تو پہلے تو اس نے منہ بنایا کیونکہ ہمارے کپڑے بہت پرانے اور پھٹے ہوئے تھے۔ اس نے سوچا کہ ہم بھیک مانگنے آئی ہیں۔
لیکن جب میں نے لفافہ دکھایا اور کہا کہ مجھے اپنے اور اپنی بہن کے لیے عید کے کپڑے خریدنے ہیں تو دکاندار کا رویہ بدل گیا۔ اس نے ہمیں بہت اچھے کپڑے دکھائے۔ اس نے کہا کہ بیٹی تمہیں کون سے کپڑے پسند ہیں؟
میں نے اپنے لیے ایک خوبصورت فیروزی رنگ کا سوٹ دیکھا جس پر سفید اور گلابی پھولوں کی کڑھائی تھی۔ یہ بالکل نیا اور خوبصورت تھا۔ کپڑا بہت اچھے معیار کا تھا اور بہت نرم تھا۔ دوپٹہ بھی بہت خوبصورت تھا۔ پھر میں نے اپنے لیے نئی چوڑیاں بھی خریدیں جو فیروزی رنگ کی تھیں۔ ایک نیا جوڑا چپل بھی خریدا جو بالکل فٹ تھا اور بہت آرام دہ تھا۔
زینب کے لیے میں نے ایک خوبصورت گلابی رنگ کا سوٹ خریدا جس پر تتلیوں اور پھولوں کی کڑھائی تھی۔ یہ بالکل زینب کی پسند کا تھا۔ اس کے لیے نئی چوڑیاں اور نئے جوتے بھی خریدے۔ ایک چھوٹا سا پرس بھی خریدا جس میں زینب اپنی ایدی رکھ سکتی تھی۔
دکاندار نے ہمیں بہت پیار سے پیک کیا اور دعا دی۔ اس نے کہا کہ اللہ تمہیں خوش رکھے بیٹی۔ تم یتیم ہو لیکن اللہ تمہارا خیال رکھے گا۔ اللہ یتیموں کا بہت خیال رکھتا ہے۔ میں نے اسے شکریہ ادا کیا اور پیسے دیے۔ اس نے پیسے لیے اور ہمیں دعا دی۔
ہم گھر واپس آئیں تو چچا اور ان کے بچے عید کی نماز سے واپس آ چکے تھے۔ چچا نے ہمیں دیکھا تو غصے سے پوچھا کہ تم دونوں کہاں گئی تھیں؟ میں نے تمہیں کام پر لگایا تھا۔ کھانا تیار کیوں نہیں ہے؟ میں نے کہا کہ چچا ہم ابو کی قبر پر گئی تھیں۔
پھر میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے بیگ دکھائے۔ چچا کامران نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تمہیں یہ کہاں سے ملے؟ میں نے کہا کہ یہ ہمارے عید کے کپڑے ہیں۔ اللہ نے ہمیں عطا کیے ہیں۔ اللہ یتیموں کا خیال رکھتا ہے۔
چچا کامران کو یقین نہیں آیا۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں یہ کہاں سے ملے؟ کس نے دیے؟ میں نے سارا واقعہ سنایا۔ میں نے بتایا کہ کیسے میں ابو کی قبر پر گئی تھی اور کیسے ایک بزرگ نے مجھے پیسے دیے تھے۔ میں نے ان کے چہرے کو بیان کیا۔
چچا کامران خاموش ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے میرا سر اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا کہ بیٹی مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا۔ میں نے تمہیں اپنی بیٹی کی طرح نہیں سمجھا۔ میں نے یتیموں کے ساتھ ظلم کیا۔ اللہ نے آج مجھے سبق سکھایا ہے۔
میں نے چچا کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ چچا میں نے آپ کو معاف کر دیا۔ اللہ بہت مہربان ہے۔ اس نے میری دعا سن لی۔ آپ بھی اللہ سے معافی مانگ لیں۔
چچا نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ آج سے تم میری اپنی بیٹی کی طرح ہو۔ میں تمہارا خیال رکھوں گا۔ پھر چچا نے مجھے اور زینب کو نہلایا اور نئے کپڑے پہنائے۔
جب میں نئے کپڑوں میں تیار ہوئی تو میں نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ میں بالکل بدل گئی تھی۔ زینب بھی اپنے نئے سوٹ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ چچی نے بھی ہمیں دیکھا اور رو پڑیں۔
چچا کامران نے ہمارا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ چلو اب ہم سب مل کر دوبارہ نماز پڑھیں گے۔ میں نے کہا کہ چچا لیکن نماز تو ہو چکی ہے۔ چچا نے کہا کہ نہیں بیٹی۔ اب ہم گھر میں نفل نماز پڑھیں گے اور اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ اللہ نے آج ہمیں بہت بڑا سبق سکھایا ہے۔
ہم سب نے گھر میں نماز پڑھی۔ چچا نے بہت لمبی دعا مانگی۔ انہوں نے اللہ سے معافی مانگی اور کہا کہ اے اللہ میں نے یتیموں کے ساتھ ظلم کیا۔ مجھے معاف کر دے۔ آج تو نے مجھے سبق سکھایا ہے۔ میں نے سمجھا تھا کہ یہ بچیاں میرے اوپر بوجھ ہیں لیکن آج مجھے احساس ہوا کہ یہ اللہ کی امانت ہیں۔
نماز کے بعد چچا نے سب کو جمع کیا۔ انہوں نے اپنی بیوی اور بچوں سے کہا کہ آج سے یہ دونوں بچیاں ہماری اپنی بچیاں ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔ جو کچھ شاہد اور مہک کو ملے گا وہی فاطمہ اور زینب کو بھی ملے گا۔ یہ میری ذمہ داری ہے۔ یہ میرے بھائی کی بیٹیاں ہیں اور میرا فرض ہے کہ میں ان کی پرورش اچھے سے کروں۔
چچی بھی رو پڑیں اور کہا کہ میں بھی معافی مانگتی ہوں۔ میں نے بھی ان بچیوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ میں نے انہیں بہت کام کروایا۔ آج سے میں ان کی ماں کی طرح خیال رکھوں گی۔ یہ بھی میری بیٹیاں ہیں۔ میں ان سے بھی اتنا ہی پیار کروں گی جتنا مہک سے کرتی ہوں۔
شاہد اور مہک نے بھی ہمیں گلے لگایا اور کہا کہ ہم سب بھائی بہن ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ کھیلیں گے اور آپ کو تنگ نہیں کریں گے۔ مہک نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ فاطمہ آپا آج سے آپ میری بڑی بہن ہیں۔ میں آپ کی بات مانوں گی۔
پھر ہم سب نے مل کر عید کا کھانا کھایا۔ چچی نے بہت لذیذ سویاں بنائی تھیں اور قورمہ بنایا تھا۔ بریانی بھی تھی۔ میٹھے پکوان بھی تھے۔ ہم سب نے مل کر بہت خوشی سے کھانا کھایا۔ میرے اور زینب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ آج پہلی بار ہم نے محسوس کیا کہ ہم بھی اس گھر کا حصہ ہیں۔
دوپہر کو ہم سب بچے مل کر باہر کھیلنے گئے۔ محلے کی تمام بچیوں نے مجھے نئے کپڑوں میں دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ سب نے مجھے عید مبارک کہا۔ میں نے انہیں اپنا واقعہ سنایا کہ کیسے اللہ نے میری مدد کی۔ سب نے کہا کہ اللہ بہت مہربان ہے۔
شام کو چچا کامران نے ہمیں دوبارہ قبرستان لے جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بولے کہ ہمیں تمہارے ابو کی قبر پر جانا چاہیے اور ان سے معافی مانگنی چاہیے۔ ہم سب قبرستان گئے۔ راستے میں چچا نے میرا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔
جب ہم ابو کی قبر پر پہنچے تو چچا کامران قبر کے پاس بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہاری بیٹیوں کا خیال نہیں رکھا۔ میں نے ان کے ساتھ ظلم کیا۔ لیکن آج اللہ نے مجھے سبق سکھایا ہے۔ آج سے یہ میری اپنی بیٹیاں ہیں۔ میں ان کی اچھی پرورش کروں گا۔ میں ان کی تعلیم کا خیال رکھوں گا۔
میں نے بھی قبر کو چھوا اور کہا کہ ابو آج میں بہت خوش ہوں۔ اللہ نے میری دعا قبول کر لی۔ آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ آپ جنت میں ہیں اور ہم پر نظر رکھتے ہیں۔
ہم سب نے فاتحہ پڑھی اور دعا کی۔ چچی نے بھی دعا کی کہ اللہ ان دونوں بچیوں کو خوش رکھے۔ پھر ہم واپس گھر آ گئے۔ رات کو جب میں سونے لگی تو میرے دل میں بے پناہ سکون تھا۔ میں نے زینب کو دیکھا جو خوشی سے سو رہی تھی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
میں نے سوچا کہ آج کا دن میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا۔ اللہ نے مجھ یتیم بچی کی فریاد سن لی۔ اللہ نے میرے چچا کے دل میں محبت ڈال دی۔ اللہ بہت رحیم و کریم ہے۔ وہ یتیموں کا خاص خیال رکھتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ اللہ یتیموں کا خیال رکھتا ہے۔ جو لوگ یتیموں پر ظلم کرتے ہیں اللہ ان سے بازپرس کرے گا۔ اور جو لوگ یتیموں کی مدد کرتے ہیں اللہ ان کو بہت بڑا اجر دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ نے کئی جگہ یتیموں کا ذکر کیا ہے۔
میں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ دنیا کی تمام یتیم بچیوں اور بچوں کی مدد فرما۔ ان کا خیال رکھ۔ انہیں اچھے سرپرست عطا فرما۔ ان کے دلوں میں خوشی ڈال دے۔ آمین یا رب العالمین۔


https://www.umairkahaniblog.uk/2026/03/eid-par-ajnabi-ka-suit-aur-halal-rishta.html

Disclaimer 

تمام مواد صرف تعلیمی اور تفریحی مقصد کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔
ہم کسی بھی نقصان یا غلط فہمی کے ذمہ دار نہیں ہوں گے جو اس مواد کے استعمال سے پیدا ہو۔
تمام کہانیاں اور تصاویر اصلی ہیں اور کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہیں۔
ویب سائٹ پر موجود معلومات صرف رہنمائی اور معلوماتی مقصد کے لیے ہیں۔
یہ مواد کسی بھی صارف کی ذاتی معلومات کو کسی تیسری پارٹی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا۔



No comments:

Post a Comment

"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."

Post Bottom Ad