لو اسٹوری: میں نے ایک فقیر سے شادی کر لی، جب اس نے تھیلے سے یہ نکالا تو میں حیران رہ گئی
زندگی کبھی کبھار انسان کو حیران کر دیتی ہے اور میری کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے جو شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ سب میرے ساتھ واقعی ہوا ہے، میرا نام نازیہ ہے اور میری عمر ستائیس سال ہو چکی تھی لیکن ابھی تک میری شادی نہیں ہوئی تھی، میں ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی تھی اور میری تنخواہ بہت کم تھی، میں اور میری والدہ دونوں ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہتے تھے جو شہر سے باہر ایک پرانے محلے میں تھا، ہمارا گھر بہت چھوٹا تھا اور ہماری زندگی بہت مشکلوں میں گزر رہی تھی، میری والدہ کہتی تھیں کہ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے اور کسی پر انحصار نہیں کرنا ہے۔
میرے والد نے ہمیں بہت پہلے چھوڑ دیا تھا جب میں صرف پانچ سال کی تھی، میری والدہ نے کبھی نہیں بتایا کہ وہ کیوں چلے گئے یا کہاں گئے، وہ صرف اتنا کہتی تھیں کہ تمہارا باپ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا اور اب ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہیں، میری والدہ کا کہنا تھا کہ اگر میری شادی ہو گئی تو پھر اس گھر میں پیسے کہاں سے آئیں گے اور وہ اکیلی کیسے گزارہ کریں گی، میں ان سے کہتی تھی کہ امی، میں شادی کے بعد بھی آپ کو پیسے بھیجتی رہوں گی، آپ فکر نہ کریں لیکن وہ نہیں مانتی تھیں، وہ کہتی تھیں کہ شادی کے بعد ہر لڑکی اپنے سسرال والوں کی ہو جاتی ہے اور اپنی ماں کو بھول جاتی ہے۔
میری والدہ کہتی تھیں کہ میں تمہاری شادی نہیں کروں گی کیونکہ مجھے تمہارے بغیر یہ گھر چلانا نہیں آتا، میں جانتی تھی کہ یہ ان کی خود غرضی ہے لیکن میں کچھ نہیں کر سکتی تھی، میں بھی ایک انسان تھی، ایک عورت تھی، میرے اندر بھی جذبات تھے اور اب وہ جذبات مجھے تنگ کرنے لگے تھے، میری عمر بڑھتی جا رہی تھی اور میں سوچتی تھی کہ کیا میری زندگی ایسے ہی گزر جائے گی، کیا میں ہمیشہ اپنی والدہ کی خدمت کرتی رہوں گی اور کبھی اپنی زندگی نہیں جی سکوں گی، یہ سوچ کر میرا دل بہت دکھتا تھا لیکن میں اپنی والدہ کو تکلیف بھی نہیں دینا چاہتی تھی۔
گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں اور سکول بند تھا، میں گھر پر رہتی تھی اور گھر میں کپڑے سی کر تھوڑے بہت پیسے کما لیتی تھی تاکہ چھٹیوں میں تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے جو نقصان ہوتا تھا وہ پورا کر سکوں، ہمارا گھر بہت سادہ تھا، ہمارے پاس گیس نہیں تھی، ہم لکڑیاں جلا کر کھانا پکاتے تھے، ایک دن میری والدہ محلے میں کسی کے گھر گئی ہوئی تھیں اور مجھے بتا کر گئی تھیں کہ چولہے پر دودھ رکھا ہے، اسے دیکھ لینا، میں نے کہا تھا کہ جی امی، میں دیکھ لوں گی لیکن میں اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
میں ایک لڑکی کے لیے فراک سی رہی تھی اور مجھے بہت محنت سے سلائی کرنی پڑ رہی تھی کیونکہ اس کے ڈیزائن بہت مشکل تھے، میں اتنی مصروف ہو گئی کہ مجھے دودھ کی یاد ہی نہیں رہی، اچانک دروازے پر دستک ہوئی، میں نے جھٹ سے دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ دودھ تو چولہے پر ہے، میں بھاگی تو دیکھا کہ دودھ ابل رہا تھا اور اوپر سے گرنے لگا تھا، میں نے جلدی سے دودھ کو اتارنے کی کوشش کی لیکن جلدی میں میرا ہاتھ جل گیا اور گرم دودھ میرے پاؤں پر گر گیا، میں درد سے چیخ پڑی کیونکہ بہت تیز جلن ہوئی۔
میرے پاؤں پر بہت تیز جلن ہوئی اور میں وہیں بیٹھ گئی، میں اٹھ نہیں پا رہی تھی کیونکہ بہت تکلیف ہو رہی تھی، تبھی جس نے دروازے پر دستک دی تھی وہ میری چیخ سن کر اندر بھاگ آیا اور میری مدد کرنے لگا، اس نے مجھے اٹھایا اور کمرے میں لے گیا، پھر اس نے فوری طور پر میرے پاؤں پر ٹھنڈا پانی ڈالا جس سے مجھے کافی سکون ملا، لیکن جب میں نے اوپر دیکھا تو میں حیران رہ گئی، وہ کوئی اور نہیں بلکہ ایک فقیر تھا جو اکثر ہمارے گھر بھیک مانگنے آتا تھا، میں نے اسے کئی بار دیکھا تھا۔
لیکن اسے فقیر کہنا بالکل مناسب نہیں تھا کیونکہ اس کے نین نقش بہت اچھے تھے، اس کی جسامت بھی بہت عمدہ تھی، بس تھوڑا سا کالا اور میلے کپڑوں میں تھا، اس کے چہرے پر داڑھی تھی لیکن اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں اور اس کی آواز بھی بہت شریفانہ تھی، میں نے اچانک اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور غصے سے کہا کہ تمہاری جرات کیسے ہوئی اندر آنے کی؟ تم نے مجھے ہاتھ کیسے لگایا؟ یہ کیا بدتمیزی ہے؟
اس شخص نے بہت ادب سے اور شرمندگی کے ساتھ کہا کہ بی بی، میں تو یہاں بھیک مانگنے آیا تھا، میں نے دروازے پر دستک دی تھی لیکن جب آپ کی چیخ کی آواز سنی تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں اندر آ گیا تاکہ آپ کی مدد کر سکوں، اگر آپ کو برا لگا ہو تو مجھے معاف کر دیں، میں بس آپ کی مدد کرنا چاہتا تھا، میں کوئی بری نیت سے اندر نہیں آیا تھا، میں نے محسوس کیا کہ شاید میں زیادہ ہی بول گئی تھی کیونکہ اس نے واقعی میری مدد کی تھی اور اگر وہ نہ آتا تو میں وہیں پڑی رہ جاتی کیونکہ میرے پاؤں بہت جل گئے تھے اور میں اٹھ نہیں پا رہی تھی، میں نے کہا کہ نہیں، معاف کرنا، میں غصے میں تھی، تم نے میری مدد کی، شکریہ، بہت شکریہ۔
میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میرا نام کریم ہے بی بی، میں نے پوچھا کہ تمہیں بھوک لگی ہے کیا؟ تم بھیک مانگنے آئے تھے نا؟ اس نے کہا کہ ہاں بی بی، دو دن سے کچھ نہیں کھایا، میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، تم یہیں بیٹھو، میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں، میں نے تھیلے میں دو روٹیاں اور سالن ڈبے میں ڈال کر اسے دیا، اس نے بہت خوشی سے لیا اور مجھے بہت ساری دعائیں دیں، اس نے کہا کہ اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے، آج تک کسی نے مجھ سے اتنی رحم دلی سے پیش نہیں آیا، آپ بہت نیک دل ہیں، آپ کی بہت مہربانی۔
اس نے پھر مجھ سے کہا کہ بی بی، میں سچ کہوں تو آپ بہت خوبصورت ہیں، خاص طور پر آپ کے پاؤں بہت خوبصورت ہیں، افسوس کہ آپ کا پاؤں جل گیا ہے، یہ بہت تکلیف دہ ہے، آج تک کسی نے مجھے اتنی خوبصورت نہیں کہا تھا، میرے دل میں ایک عجیب سی خوشی ہوئی، میں نے شرماتے ہوئے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، میں اتنی خوبصورت نہیں ہوں، اس نے کہا کہ نہیں بی بی، میں سچ کہہ رہا ہوں، آپ واقعی بہت خوبصورت ہیں، مجھے لگتا ہے کہ آپ کا شوہر بہت خوش قسمت ہوگا، میں نے کہا کہ میری شادی نہیں ہوئی، وہ حیران ہوا۔
کریم نے کہا کہ کیسے ممکن ہے؟ آپ جیسی خوبصورت اور نیک دل لڑکی کی شادی نہیں ہوئی؟ میں نے کہا کہ میری والدہ میری شادی نہیں کرنا چاہتیں، انہیں لگتا ہے کہ میری شادی ہو گئی تو گھر کا خرچہ کون چلائے گا، اس نے کہا کہ یہ تو بہت غلط بات ہے، ہر لڑکی کو شادی کرنے کا حق ہے، آپ کو بھی اپنی زندگی جینے کا حق ہے، میں نے کہا کہ میں جانتی ہوں لیکن میں اپنی والدہ کو تکلیف بھی نہیں دینا چاہتی، اس نے کہا کہ میرے ساتھ ایک بوڑھا فقیر رہتا ہے جو کبھی کبھی ایک مرہم بناتا ہے، اگر جلے ہوئے زخم پر لگا دیں تو بہت جلد ٹھیک ہو جاتا ہے۔
میں نے کہا کہ واقعی؟ کیا تم وہ مرہم لا سکتے ہو؟ اس نے کہا کہ جی بی بی، میں کل آپ کے لیے لے کر آؤں گا، میں نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن کل اسی وقت آنا کیونکہ اس وقت میری والدہ گھر پر نہیں ہوتی ہیں، وہ محلے میں کسی کے گھر کام کرنے چلی جاتی ہیں، اس نے کہا کہ جی بی بی، میں ضرور آؤں گا، اور وہ چلا گیا، اس رات میں اس کے بارے میں بہت سوچتی رہی، اس کی باتیں، اس کی آنکھیں، اس کا انداز، اس کی شرافت، سب کچھ مجھے اچھا لگ رہا تھا، میں جانتی تھی کہ یہ غلط ہے، وہ ایک فقیر ہے اور میں نے اس کے بارے میں کیوں سوچنا شروع کر دیا ہے لیکن میرا دل نہیں مان رہا تھا۔
اگلے دن میری والدہ کام پر چلی گئیں اور میں گھر پر اکیلی تھی، میں کریم کا انتظار کر رہی تھی، دوپہر کو جب دروازے پر دستک ہوئی تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا، میں نے دروازہ کھولا تو کریم کھڑا تھا، اس نے مسکرا کر سلام کیا اور کہا کہ بی بی، میں مرہم لے کر آیا ہوں، میں نے کہا کہ آؤ اندر آ جاؤ، اس نے بہت احتیاط سے میرے پاؤں پر مرہم لگایا، واقعی میں بہت جلد ٹھنڈک محسوس ہوئی اور جلن کم ہونے لگی، میں نے کہا کہ واہ، یہ تو بہت اچھا مرہم ہے، اس نے کہا کہ جی، یہ بہت پرانا نسخہ ہے
اس دن سے کریم روز آنے لگا، میں اسے کھانا کھلاتی، وہ میرے ساتھ باتیں کرتا، ہم دونوں کے درمیان ایک عجیب سا رشتہ بننے لگا، میں نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا، اس نے بتایا کہ اس کے والدین کا انتقال ہو گیا تھا اور وہ اکیلا ہے، اس کے پاس رہنے کو کوئی جگہ نہیں ہے اس لیے وہ مسجد میں سوتا ہے، میرا دل اس کے لیے بہت دکھا، میں نے پوچھا کہ تمہارے کوئی رشتہ دار نہیں ہیں؟ اس نے کہا کہ نہیں بی بی، سب نے مجھے چھوڑ دیا ہے، میں اکیلا ہوں، میں نے کہا کہ تم اتنے اچھے ہو، تمہیں ضرور کوئی اچھا کام مل جائے گا اور تمہاری زندگی بہتر ہو جائے گی۔
ایک دن کریم نے مجھ سے کہا کہ نازیہ بی بی، کیا میں آپ سے کچھ کہہ سکتا ہوں؟ میں نے کہا کہ ہاں، کہو، اس نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ میں ایک فقیر ہوں، میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن میرا دل آپ کے لیے دھڑکتا ہے، جب سے میں نے آپ کو دیکھا ہے، میں آپ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں، کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟ میں حیران رہ گئی، میں نے کہا کہ کریم، یہ کیسے ممکن ہے؟ تم ایک فقیر ہو، میری والدہ کبھی نہیں مانیں گی، اور لوگ کیا کہیں گے؟
کریم نے کہا کہ تو پھر ہم خفیہ شادی کر لیں، کوئی مولوی صاحب سے نکاح پڑھوا لیں، کسی کو پتہ نہیں چلے گا، میں آپ کو خوش رکھوں گا، میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں، میرا دل بھی یہی چاہتا تھا، میں نے کہا کہ لیکن کریم، اگر میری والدہ کو پتہ چل گیا تو؟ اس نے کہا کہ ہم احتیاط سے رہیں گے، کسی کو پتہ نہیں چلے گا، میں نے کچھ دنوں تک سوچا اور پھر ہاں کر دی کیونکہ میں بھی اس سے محبت کرنے لگی تھی۔
ہم دونوں نے ایک چھوٹی سی مسجد میں جا کر مولوی صاحب سے نکاح پڑھوا لیا، دو گواہ بھی تھے جو فقیر تھے اور کریم کے دوست تھے، اب کریم میرا شوہر تھا لیکن کسی کو پتہ نہیں تھا، نہ میری والدہ کو، نہ کسی اور کو، کریم روز میرے پاس آتا، میں اسے کھانا کھلاتی، ہم باتیں کرتے، اور وہ چلا جاتا، لیکن ایک عجیب بات تھی جو مجھے حیران کرتی تھی، کریم روز مجھے پیسے دیتا تھا، کبھی پانچ سو روپے، کبھی ایک ہزار روپے، کبھی دو ہزار روپے، میں بہت حیران ہوتی کہ ایک فقیر کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آتے ہیں۔
جب میں نے پوچھا تو اس نے کہا کہ بی بی، میں کبھی کبھی کچھ کام کر لیتا ہوں، کبھی کسی کی دکان پر مزدوری کر لیتا ہوں، کبھی کسی کا سامان اٹھا دیتا ہوں، اس طرح کچھ پیسے کما لیتا ہوں، میں نے یقین کر لیا، میں وہ پیسے اپنی والدہ کو دے دیتی اور کہتی کہ یہ سلائی کے پیسے ہیں، میری والدہ بہت خوش ہوتیں کہ میں اتنا کما رہی ہوں، وہ کہتیں کہ نازیہ، تم بہت محنت کر رہی ہو، اللہ تمہیں برکت دے، کچھ مہینے ایسے ہی گزر گئے، کریم اور میں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے، میں اس کا انتظار کرتی رہتی اور وہ روز آتا۔
ایک دن میری والدہ کسی کام سے دوسرے شہر گئی ہوئی تھیں، انہیں اپنی بہن سے ملنا تھا اور وہ دو دن کے لیے گئی تھیں، میں گھر پر اکیلی تھی، میں نے کریم کو بلایا اور کہا کہ آج تم اندر آ سکتے ہو، آج کوئی نہیں ہے، ہم کچھ وقت ساتھ گزار سکتے ہیں، کریم بہت خوش ہوا اور اندر آیا، ہم دونوں بہت خوش تھے، ہم باتیں کر رہے تھے، کھانا کھا رہے تھے، ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ کریم نے اپنے تھیلے سے کچھ نکالنا شروع کیا، میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟
کریم نے تھیلے سے ایک بہت خوبصورت ہار نکالا جو سونے کا تھا اور بہت قیمتی لگ رہا تھا، اس پر بہت خوبصورت نگینے لگے ہوئے تھے، میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ یہ کہاں سے لائے؟ یہ تو بہت قیمتی لگ رہا ہے، کریم نے مسکرا کر کہا کہ یہ تمہارے لیے ہے، میری بیوی کے لیے، میں نے کہا کہ لیکن یہ تو بہت قیمتی لگ رہا ہے، تم نے کیسے خریدا؟ تمہارے پاس تو اتنے پیسے نہیں ہیں، کریم نے کہا کہ نازیہ، مجھے تم سے کچھ بتانا ہے جو میں نے آج تک کسی کو نہیں بتایا۔
کریم نے گہری سانس لی اور کہا کہ نازیہ، میں واقعی میں فقیر نہیں ہوں، میں ایک امیر گھرانے کا بیٹا ہوں، میرے والد کا ایک بہت بڑا کاروبار تھا، وہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور ان کی کئی دکانیں تھیں، لیکن جب میرے والدین کا ایک حادثے میں انتقال ہوا تو میرے چچا نے سارا کاروبار اور جائیداد اپنے نام کر لی، انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا اور کہا کہ تم کچھ بھی نہیں ہو، تمہارے پاس کچھ نہیں ہے، تم یہاں سے چلے جاؤ، میں اس وقت صرف اٹھارہ سال کا تھا اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
میں سکتے میں آ گئی، میں نے کہا کہ کیا مطلب؟ تم امیر ہو؟ تو پھر یہ فقیر کا بھیس کیوں؟ کریم نے کہا کہ میں نے فقیر کا بھیس اس لیے بنایا تاکہ لوگ مجھے نہ پہچانیں اور میرے چچا کو شک نہ ہو، میرے والد نے مرنے سے پہلے ایک خفیہ بینک اکاؤنٹ بنایا تھا جس میں بہت سارے پیسے تھے، انہوں نے مجھے وہ اکاؤنٹ کی تفصیلات دی تھیں، میرے چچا کو اس کے بارے میں پتہ نہیں ہے، میں وہاں سے پیسے نکالتا ہوں اور اپنا گزارہ کرتا ہوں، میں نے اس لیے فقیر کا بھیس بنایا تاکہ میرے چچا کو شک نہ ہو اور میں سکون سے رہ سکوں۔
میں نے کہا کہ لیکن کریم، اگر تمہارے پاس اتنی دولت ہے تو تم اپنے چچا سے اپنا حق کیوں نہیں لیتے؟ کریم نے کہا کہ کیونکہ میں خون خرابہ نہیں چاہتا، میں جانتا ہوں کہ میرے چچا بہت طاقتور ہیں، ان کے بہت سارے لوگ ہیں، اگر میں نے ان سے لڑنے کی کوشش کی تو وہ مجھے مار بھی سکتے ہیں، اس لیے میں نے سوچا کہ میں سکون سے زندگی گزاروں، لیکن اب جب تم میری زندگی میں آ گئی ہو تو میں تمہیں خوش رکھنا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک اچھی زندگی گزاریں، میں تمہاری والدہ کو بھی بتاؤں گا اور ان سے اجازت لوں گا۔
میں نے کہا کہ کریم، میں نہیں سمجھ پا رہی، یہ سب اتنا الجھا ہوا ہے، تم مجھ سے سچ بول رہے ہو نا؟ کریم نے کہا کہ ہاں نازیہ، میں بالکل سچ بول رہا ہوں، میں تمہیں کل اپنے بینک میں لے جاؤں گا اور اپنا اکاؤنٹ دکھاؤں گا، میں تمہیں اپنے والد کی وصیت بھی دکھاؤں گا، لیکن تبھی دروازے پر دستک ہوئی، میرا دل دھک سے رہ گیا، میری والدہ واپس آ گئی تھیں، شاید ان کا کام جلدی ہو گیا تھا، کریم نے فوری طور پر ہار واپس تھیلے میں ڈالا اور کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دی، میں نے جلدی سے دروازہ کھولا۔
میری والدہ کھڑی تھیں، انہوں نے پوچھا کہ کیا ہو رہا تھا؟ مجھے اندر سے آوازیں آ رہی تھیں، میں نے کانپتے ہوئے کہا کہ کچھ نہیں امی، میں بس گانا سن رہی تھی، انہوں نے شک سے مجھے دیکھا لیکن کچھ نہیں کہا، اس دن کے بعد میں بہت پریشان رہنے لگی، میں نے کریم کو اگلے دن بتایا کہ ہمیں میری والدہ کو سب کچھ بتانا ہوگا، کریم نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں تمہاری والدہ سے بات کروں گا، لیکن پہلے میں تمہیں اپنی اصلیت ثابت کرنا چاہتا ہوں، اگلے دن کریم نے مجھے ایک بینک میں لے جایا اور اپنا اکاؤنٹ دکھایا، واقعی اس میں کروڑوں روپے تھے۔
اس نے مجھے اپنے والد کی وصیت بھی دکھائی جس میں صاف لکھا تھا کہ تمام جائیداد اور کاروبار کریم کا ہے، میں حیران رہ گئی، ہم دونوں نے میری والدہ کو سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا، کریم نے اپنے کپڑے بدلے، داڑھی منڈوائی، اور ایک شریف آدمی کی طرح میرے گھر آیا، میری والدہ نے جب اسے دیکھا تو پہچان نہیں پائیں، کریم نے بہت ادب سے انہیں سب کچھ بتایا، میری والدہ پہلے تو بہت ناراض ہوئیں لیکن جب کریم نے اپنی تفصیلات دکھائیں تو وہ حیران رہ گئیں، کریم نے وعدہ کیا کہ وہ ہم دونوں کا خیال رکھے گا، کریم نے اپنے چچا کے خلاف کیس لڑا اور جیت گیا، ہم ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔
اختتام - محبت ہر رکاوٹ کو پار کر لیتی ہے۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/03/shohar-biwi-ki-sabaq-amoz-kahani-ghar.html
Disclaimer
Ye kahani sirf tafreeh aur maloomat ke maqsad ke liye likhi gayi hai. Is kahani ka kisi haqeeqi shakhs ya waqia se koi talluq nahi hai. Agar kisi waqia ya shakhs se mushabihat ho jaye to ye sirf ittefaq hoga.

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."