گھر چھوڑنے کا فیصلہ اور تین سال بعد واپسی کی حقیقت
میرا نام جاوید ہے اور میں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی تھی، جسے کچھ لوگ غلطی نہیں بلکہ بے وقوفی کہیں گے، کہ میں نے اپنے چلتے پھرتے گھر کو چھوڑ کر پردیس چلا گیا تھا اور اب تین سال بعد واپس آ رہا تھا، لیکن اس فیصلے کے پیچھے بھی ایک کہانی تھی جو بہت تکلیف دہ تھی، میرے والد کا انتقال دس سال پہلے ہوا تھا اور اس کے بعد میری والدہ نے مجھے بڑی محنت اور مشقت سے پالا تھا، وہ کسی کے گھروں میں کام کرتی تھیں، سلائی کڑھائی کرتی تھیں، اور ہر طرح کی مشکلات سہتی تھیں لیکن مجھے کبھی کسی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا تھا۔
میری والدہ نے مجھے پڑھایا لکھایا، اچھی تعلیم دلوائی، اور میں نے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد مجھے ایک اچھی ملازمت مل گئی اور ہماری زندگی بہتر ہونے لگی، میں نے اپنی والدہ کے لیے ایک چھوٹا سا مکان خریدا اور انہیں کہا کہ اب آپ آرام کریں، اب میں آپ کی دیکھ بھال کروں گا، میری والدہ بہت خوش ہوئیں اور انہوں نے مجھے دعائیں دیں کہ اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔
کچھ عرصے بعد میری والدہ نے میری شادی کی بات چھیڑی اور کہا کہ بیٹا، اب تمہاری عمر بھی ہو گئی ہے، شادی کر لو تاکہ گھر میں رونق آ جائے، میں نے کہا کہ امی، آپ جو فیصلہ کریں وہ مجھے منظور ہے، میری والدہ نے ایک لڑکی دیکھی جس کا نام صائمہ تھا، وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، پڑھی لکھی تھی، اور دیکھنے میں بھی خوبصورت تھی، میری والدہ نے رشتہ بھیجا اور اللہ کا شکر ہے کہ رشتہ قبول ہو گیا اور میری شادی صائمہ سے ہو گئی۔
شادی کے پہلے چھ مہینے بہت خوشگوار گزرے، صائمہ بہت اچھی تھی، گھر کا کام کرتی تھی، میری والدہ کا خیال رکھتی تھی، اور میرے ساتھ بھی بہت محبت سے پیش آتی تھی، لیکن آہستہ آہستہ چیزیں بدلنے لگیں، میری والدہ اور صائمہ کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلافات ہونے لگے، کبھی کھانا بنانے کے طریقے پر، کبھی گھر کی صفائی پر، کبھی میرے کپڑوں کی استری پر، میں نے شروع میں یہ سوچا کہ یہ تو ہر گھر کی کہانی ہے، آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، یہ مسائل بڑھتے گئے، میری والدہ کہتی تھیں کہ صائمہ کام ٹھیک سے نہیں کرتی، اسے سسرال کا احترام نہیں آتا، اور صائمہ کہتی تھیں کہ امی ہر وقت ٹوکتی رہتی ہیں، میری ہر چھوٹی غلطی پر تنقید کرتی ہیں، میں دونوں کے درمیان پھنس گیا تھا، دن میں دفتر جاتا تو سکون ملتا تھا لیکن جب گھر آتا تو ایک جنگ کا میدان ہوتا تھا، رات کو جب کھانا کھانے بیٹھتا تو یا تو والدہ شکایت کر رہی ہوتی تھیں یا صائمہ رو رہی ہوتی تھیں۔
میں نے کئی بار دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی، میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ امی، صائمہ نئی ہے، اسے وقت دیں، وہ سیکھ جائے گی، اور میں نے صائمہ سے کہا کہ صائمہ، امی بوڑھی ہیں، ان کی عادات بدلنا مشکل ہے، تم صبر کرو، لیکن کسی نے میری بات نہیں سنی، دونوں اپنی اپنی ضد پر اڑی رہیں، آہستہ آہستہ میری زندگی جہنم بن گئی، میں دفتر سے گھر آنے سے ڈرنے لگا، مجھے لگتا تھا کہ گھر میں قدم رکھتے ہی کوئی نہ کوئی مسئلہ ہوگا۔
ایک دن میری والدہ اور صائمہ میں بہت بڑی لڑائی ہو گئی، میری والدہ نے صائمہ کو بہت کچھ کہا اور صائمہ نے بھی جواب دیا، میں دفتر سے آیا تو دونوں رو رہی تھیں، میری والدہ نے کہا کہ جاوید، یا تو یہ رہے گی یا میں، اور صائمہ نے کہا کہ مجھے اس گھر میں نہیں رہنا، میں چلی جاؤں گی، میں دونوں کے درمیان کھڑا تھا اور نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ کیا کروں، میں نے دونوں کو پھر سمجھایا لیکن کسی نے نہیں سنا۔
اس رات میں سو نہیں سکا، میں سوچتا رہا کہ کیا کروں، میرے دوستوں نے کہا تھا کہ یہ ہر گھر کی کہانی ہے، کوئی بھی مرد اس سے نہیں بچا، تم بھی صبر کرو، وقت گزارو، کچھ نہیں کر سکتے، لیکن میں صبر نہیں کر پا رہا تھا، میری ذہنی حالت خراب ہو رہی تھی، دفتر میں کام پر توجہ نہیں دے پا رہا تھا، اور گھر میں سکون نہیں تھا۔
آخرکار ایک دن میں نے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا جو شاید میری زندگی کا سب سے غلط فیصلہ تھا، میں نے سوچا کہ اگر میں کچھ دن کے لیے گھر سے چلا جاؤں تو شاید دونوں کو میری اہمیت کا احساس ہوگا اور وہ اپنی لڑائی بھول جائیں گی، میں نے اپنے ایک دوست سے بات کی جو دوسرے شہر میں رہتا تھا اور اس نے مجھے وہاں آنے کی دعوت دی، میں نے دفتر سے چھٹی لے لی اور اپنے دوست کے شہر چلا گیا، لیکن میں نے گھر والوں کو نہیں بتایا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔
جب میں دوسرے شہر پہنچا تو میرے دوست نے مجھے اپنے گھر میں رکھا اور پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے، میں نے اسے سب کچھ بتایا، اس نے کہا کہ تم نے ٹھیک کیا جو یہاں آ گئے، چند دن یہاں رہو، سکون ملے گا، لیکن میرے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، میں سوچ رہا تھا کہ گھر پر کیا ہو رہا ہوگا، کیا میری والدہ مجھے ڈھونڈ رہی ہوں گی، کیا صائمہ پریشان ہوگی۔
تین دن گزر گئے لیکن میں نے گھر فون نہیں کیا، چوتھے دن میرے دل میں ایک خیال آیا، میں نے سوچا کہ اگر میں اپنی موت کی جھوٹی خبر گھر بھیج دوں تو شاید دونوں کو صدمہ ہوگا اور انہیں احساس ہوگا کہ وہ کیا کھو رہے تھے، یہ بہت غلط خیال تھا لیکن اس وقت میری عقل کام نہیں کر رہی تھی، میں نے اپنے ایک اور دوست کو کہا کہ وہ میرے گھر فون کرے اور کہے کہ جاوید کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ بہت زخمی ہے۔
میرے دوست نے میرے گھر فون کیا اور میری والدہ کو بتایا، میری والدہ نے جب یہ خبر سنی تو وہ چیخ پڑیں، صائمہ بھی رونے لگی، میرے دوست نے کہا کہ وہ ہسپتال میں ہیں لیکن حالت بہت خراب ہے، میری والدہ اور صائمہ فوری طور پر ہسپتال آنے کے لیے نکلیں لیکن میرے دوست نے پھر فون کیا اور کہا کہ جاوید نے دم توڑ دیا، یہ سن کر دونوں کی چیخیں نکل گئیں۔
میں نے یہ سب اپنے دوست سے سنا تو مجھے بہت برا لگا، میرا دل کر رہا تھا کہ میں فوری طور پر گھر جاؤں اور انہیں بتاؤں کہ میں زندہ ہوں لیکن میرے دوست نے کہا کہ اب رک جاؤ، دیکھو کہ کیا ہوتا ہے، شاید اب دونوں میں صلح ہو جائے، میں نے اس کی بات مان لی اور انتظار کرنے لگا، لیکن میرا دل بہت دکھ رہا تھا، میں سوچ رہا تھا کہ میری والدہ اور صائمہ کتنی پریشان ہوں گی۔
دن گزرنے لگے، میں روز اپنے دوست سے اپنے گھر کی خبریں لیتا رہا، میرے دوست نے بتایا کہ تمہاری والدہ بہت رو رہی ہیں، وہ دن رات تمہاری تصویر کو دیکھ کر روتی رہتی ہیں، اور صائمہ بھی بہت پریشان ہے، وہ بھی رو رہی ہے، لیکن دونوں میں اب لڑائی نہیں ہو رہی، دونوں ایک دوسرے کا سہارا بن گئی ہیں، یہ سن کر مجھے تھوڑی تسلی ہوئی کہ کم از کم اب دونوں میں لڑائی نہیں ہو رہی۔
لیکن پھر میرے دل میں خیال آیا کہ میں نے یہ کیا کر دیا، میں نے اپنی ماں کو اتنا بڑا دکھ دیا، میں نے اپنی بیوی کو پریشان کیا، میں نے خود کو زندہ دفن کر دیا، میں سوچنے لگا کہ کیا میرا یہ فیصلہ صحیح تھا، لیکن اب میں واپس کیسے جاؤں، کیسے بتاؤں کہ میں زندہ ہوں، کیا وہ مجھے معاف کریں گی، ایک مہینہ گزر گیا، پھر دو مہینے، پھر چھ مہینے، میں روز سوچتا کہ آج واپس جاؤں گا لیکن ہمت نہیں ہوتی تھی۔
آخرکار تین سال گزر گئے، ہاں، تین پورے سال، میں نے اپنی والدہ اور بیوی سے تین سال تک بات نہیں کی، میں نے انہیں یہ سمجھا دیا تھا کہ میں مر گیا ہوں، میں دوسرے شہر میں رہا، ایک چھوٹی سی نوکری کی، اور روز اپنے گھر کے بارے میں سوچتا رہا، میرے دوست اکثر میرے گھر کی خبریں لاتے رہے، انہوں نے بتایا کہ میری والدہ نے میرے لیے صدقہ دیا، قرآن خوانی کروائی، اور صائمہ نے میری یاد میں میرا کمرہ ویسے ہی رکھا ہوا ہے۔
ایک دن میرے دوست نے مجھے ایک بہت بڑی خبر دی، اس نے کہا کہ جاوید، تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری بیوی حاملہ تھی جب تم گئے تھے؟ میرا دل دھک سے رہ گیا، میں نے کہا کہ کیا؟ اس نے کہا کہ ہاں، تمہاری بیوی کو بعد میں پتہ چلا تھا کہ وہ حاملہ ہے، اور اب تمہارے دو بچے ہیں، جڑواں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، میں نے سوچا کہ میرے بچے ہیں اور میں ان سے ملا بھی نہیں، انہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں۔
اس دن میرا صبر ٹوٹ گیا، میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں واپس جاؤں گا چاہے جو ہو، میں اپنی والدہ سے معافی مانگوں گا، اپنی بیوی سے معافی مانگوں گا، اور اپنے بچوں کو دیکھوں گا، میں نے اپنا سامان پیک کیا اور واپس اپنے شہر آ گیا، جب میں گھر کے قریب پہنچا تو میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، میں نے دروازے پر دستک دی۔
میری والدہ نے دروازہ کھولا، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو پہلے تو وہ یقین نہیں کر سکیں، پھر انہوں نے چیخ کر کہا، جاوید؟ تم؟ تم زندہ ہو؟ اور وہ میرے گلے لگ کر رونے لگیں، میں نے کہا کہ امی، مجھے معاف کر دیں، میں نے بہت بڑی غلطی کی، میری والدہ نے کہا کہ بیٹا، تم زندہ ہو یہی کافی ہے، باقی سب معاف ہے، پھر میں نے پوچھا کہ صائمہ کہاں ہے؟
میری والدہ نے کہا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے، بچوں کے ساتھ، میں فوری طور پر صائمہ کے کمرے کی طرف بڑھا، جب میں نے کمرے میں قدم رکھا تو صائمہ نہیں تھی، لیکن دو چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، وہ دونوں بہت خوبصورت تھے، میں نے انہیں دیکھا تو میرا دل بھر آیا، میں ان کے قریب گیا تو انہوں نے مجھے دیکھا اور پوچھا کہ آپ کون ہیں؟
میں نے کہا کہ میں... میں تمہارا بابا ہوں، وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور پھر مجھ سے بولے، بابا؟ ہمارا بابا تو مر گیا تھا، امی نے کہا تھا، میرا دل ٹوٹ گیا، تبھی صائمہ باہر سے آئی، اس نے مجھے دیکھا تو رک گئی، اس کے ہاتھ سے سامان گر گیا، وہ بولی، جاوید؟
میں نے کہا کہ صائمہ، میں... میں واپس آ گیا ہوں، مجھے معاف کر دو، صائمہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، وہ بولی، تم کہاں تھے؟ تین سال کہاں تھے؟ کیا تمہیں پتہ ہے ہم نے کیا برداشت کیا؟ میں نے سر جھکا لیا، میں نے کہا کہ میں جانتا ہوں، میں نے بہت بڑی غلطی کی۔
صائمہ نے مجھے ایک خط دکھایا جو اس نے میرے لیے لکھا تھا، اس نے کہا کہ یہ خط میں نے تین سال پہلے لکھا تھا جب مجھے تمہاری موت کی خبر ملی تھی، میں نے وہ خط پڑھا، اس میں لکھا تھا:
"جاوید، میں جانتی ہوں کہ تم مجھ سے ناراض تھے، میں جانتی ہوں کہ میں نے تمہاری والدہ کا احترام نہیں کیا، میں نے تمہاری زندگی مشکل بنا دی، لیکن اب جب تم نہیں رہے تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے کتنی بڑی غلطی کی، میں نے تمہاری والدہ سے معافی مانگ لی ہے اور اب ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہیں، تمہارے بچے پیدا ہوئے ہیں، دو پیارے سے بچے، میں انہیں تمہارے بارے میں بتاؤں گی، میں انہیں سکھاؤں گی کہ ان کا بابا کتنا اچھا تھا۔"
میں نے یہ خط پڑھ کر بہت روا، میں نے صائمہ سے کہا کہ میں نے تمہیں اور امی کو بہت دکھ دیا، میں نے سوچا تھا کہ اگر میں چلا جاؤں تو تم دونوں کو میری اہمیت کا احساس ہوگا لیکن میں نے یہ نہیں سوچا کہ میں تمہیں کتنا بڑا صدمہ دے رہا ہوں، صائمہ نے کہا کہ جاوید، تم نے غلط کیا، لیکن میں بھی غلط تھی، تمہاری والدہ بھی غلط تھیں، ہم سب نے غلطیاں کیں۔
میری والدہ بھی آ گئیں اور بولیں کہ جاوید، میں نے بھی غلطی کی، میں نے صائمہ پر بہت سختی کی، لیکن جب تم نہیں رہے تو مجھے احساس ہوا کہ گھر میں محبت سب سے اہم ہے، نہ کہ چھوٹی چھوٹی باتیں، ہم دونوں نے تمہاری یاد میں ایک دوسرے کو سنبھالا اور اب ہم دونوں ایک دوسرے کی عزت کرتی ہیں۔
میں نے اپنے بچوں کو گلے لگایا اور ان سے کہا کہ میں تمہارا بابا ہوں اور اب میں کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا، بچوں نے مجھے گلے لگایا اور بولے، بابا آ گیا، میرا دل بھر آیا اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے دوبارہ موقع دیا۔
آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے کتنی بڑی غلطی کی تھی، گھر سے بھاگنا کوئی حل نہیں تھا، مسائل کا سامنا کرنا چاہیے تھا، بات چیت سے حل نکالنا چاہیے تھا، لیکن میں نے سب سے بھاگنے کی کوشش کی اور اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو بہت بڑا نقصان پہنچایا، آج میں اور صائمہ بہت خوش ہیں، میری والدہ اور صائمہ کے درمیان محبت اور احترام ہے، اور ہمارے بچے خوش ہیں، یہ سب اس صدمے کی وجہ سے ہوا جو میں نے دیا تھا، لیکن میں کسی کو یہ مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ ایسا کرے، مسائل کا حل بات چیت اور صبر ہے، نہ کہ بھاگنا۔
اختتام - گھر سے بھاگنا حل نہیں، بات چیت اور صبر حل ہے۔
Disclaimer
Yeh kahani sirf taleemi aur moral maqsad ke liye likhi gayi hai. Is ka kisi haqeeqi shakhs ya waqia se koi talluq nahi. Content family friendly hai.
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/02/roze-ki-halat-mein-sachai-ka-imtehan.html

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."