مسجد نبوی میں 7 یتیم بہنوں کا واقعہ – شہزادہ سلمان کی آنکھوں میں آنسو
تعارف
یہ ایک نہایت دل کو چھو لینے والا اسلامی واقعہ ہے جو مسجد نبوی کی بابرکت فضا میں پیش آیا۔ اس کہانی میں 7 یتیم بہنوں کی حالت زار اور ان کے صبر کی داستان بیان کی گئی ہے۔ جب شہزادہ سلمان نے یہ منظر دیکھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ یتیموں کے ساتھ محبت، ہمدردی اور مدد کرنا کتنا بڑا نیک عمل ہے۔ اس میں انسانیت، رحم دلی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا پیغام پوشیدہ ہے۔
میرا نام مریم تھا اور میں سات بہنوں میں سب سے بڑی تھی۔ ہم پاکستان سے تعلق رکھنے والی یتیم بہنیں تھیں جو اللہ کے کرم سے مدینہ منورہ میں آ چکی تھیں۔ ہمارے والدین کا انتقال کئی سال پہلے ایک حادثے میں ہو چکا تھا۔ اس کے بعد ہماری دادی امہ جان نے ہماری پرورش کی تھی۔ وہ بہت نیک اور متقی خاتون تھیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی ہماری خاطر وقف کر دی تھی۔ لیکن چھ مہینے پہلے دادی کا بھی انتقال ہو گیا اور ہم سات بہنیں بالکل اکیلی رہ گئیں۔
میرے بعد عائشہ، زینب، خدیجہ، حفصہ، رقیہ اور سب سے چھوٹی فاطمہ تھی جس کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ ہم سب ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہتی تھیں۔ میں ایک چھوٹی سی دکان پر کام کرتی تھی اور اس سے جو تھوڑے بہت پیسے ملتے تھے اس سے ہمارا گزارہ بمشکل چلتا تھا۔ کبھی کبھار ہمارے پڑوسی بھی ہماری مدد کر دیتے تھے لیکن زیادہ تر ہم خود ہی اپنا بوجھ اٹھاتے تھے۔
رمضان کا مہینہ آ گیا تھا۔ ہم سب نے روزے رکھنے کا فیصلہ کیا حالانکہ ہمارے پاس افطاری کے لیے بہت کم سامان تھا۔ ہر روز صرف چند کھجوریں اور پانی سے افطاری ہوتی تھی۔ کبھی کبھی کوئی پڑوسی کچھ کھانا بھیج دیتا تو وہ الگ بات تھی۔ لیکن ہم شکر گزار تھے کہ اللہ نے ہمیں کم سے کم اتنا تو دیا ہے۔
ایک دن ہمارے محلے میں ایک بزرگ خاتون آئیں۔ ان کا نام حاجرہ تھا اور وہ ہر سال عمرہ کے لیے جاتی تھیں۔ انہوں نے ہماری حالت دیکھی تو بہت رنجیدہ ہوئیں۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بیٹی تمہارے ماں باپ کہاں ہیں؟ میں نے سارا واقعہ سنایا۔
حاجرہ خالہ نے ہمیں گلے لگایا اور کہا کہ بیٹیو میں تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں۔ میرے دل میں آیا ہے کہ تم سب کو عمرہ پر لے جاؤں۔ مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے پر حاضری دو۔ شاید اللہ تمہاری مشکلات آسان کر دے۔
ہم سب حیران رہ گئیں۔ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم مدینہ منورہ جا سکیں گے۔ حاجرہ خالہ نے اپنے پیسوں سے ہمارے لیے ٹکٹ کروائے، پاسپورٹ بنوائے اور تمام انتظامات کیے۔ ہم سات بہنیں اور حاجرہ خالہ مل کر سعودی عرب روانہ ہو گئیں۔
جب ہم نے پہلی بار مدینہ منورہ کی سرزمین پر قدم رکھا تو ہمارے آنسو نہیں رکے۔ یہ وہی شہر تھا جہاں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی گزاری تھی۔ ہم مسجد نبوی پہنچے تو اس کی شان و شوکت دیکھ کر دنگ رہ گئیں۔ سبز گنبد چمک رہا تھا۔ مینار آسمان کو چھو رہے تھے۔ ہر طرف نور ہی نور تھا۔
ہم نے روضہ مبارک پر حاضری دی اور بہت روئے۔ ہم نے دعا کی کہ یا اللہ ہم یتیم ہیں۔ ہمارا کوئی نہیں ہے۔ تو ہی ہمارا سہارا ہے۔ ہماری مدد فرما۔ ہمیں اپنی پناہ میں رکھ۔
رمضان کے آخری عشرے میں ہم مدینہ منورہ میں تھیں۔ ہر روز ہم مسجد نبوی میں جاتیں اور نماز پڑھتیں۔ لیکن ہمارے پاس افطاری کے لیے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ حاجرہ خالہ نے کچھ کھجوریں خرید کر دی تھیں اور ہم وہی کھا کر افطاری کر لیتی تھیں۔
ایک دن شام کو جب افطاری کا وقت قریب آیا تو ہم مسجد نبوی کے صحن میں بیٹھے تھے۔ ہمارے سامنے ایک چھوٹا سا دستر خوان بچھا تھا جس پر صرف چند کھجوریں اور پانی کے گلاس تھے۔ میری سب سے چھوٹی بہن فاطمہ بھوک سے نڈھال تھی۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
فاطمہ نے کہا کہ آپا مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ کیا آج ہمیں کھانا نہیں ملے گا؟ میرا دل بیٹھ گیا۔ میں نے اسے پیار سے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کہ بیٹا صبر کرو۔ اللہ ضرور کوئی راستہ نکالے گا۔
پھر فاطمہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور معصومیت سے کہا کہ اللہ میاں ہمارے لیے آسمان سے کھانا کیوں نہیں بھیجتے؟ ہم بہت بھوکے ہیں۔ اس کی بات سن کر ہم سب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
عائشہ نے فاطمہ کو سمجھایا کہ بیٹا ایسے نہیں کہتے۔ اللہ ہمیں دے رہا ہے۔ دیکھو ہمارے پاس کھجوریں ہیں۔ فاطمہ نے کہا کہ میں صرف پوچھ رہی تھی آپا۔ میں پانی پی لوں گی اور صبر کروں گی۔
ہم سات بہنیں اپنے چھوٹے سے دستر خوان پر بیٹھی ہوئی تھیں اور افطاری کا انتظار کر رہی تھیں۔ اذان ہونے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔ ہر طرف لوگ اپنے اپنے دستر خوان پر بیٹھے تھے۔ کچھ لوگوں کے پاس بہت سارا کھانا تھا۔ سموسے، پکوڑے، پھل، مشروبات، ہر قسم کی چیزیں تھیں۔ لیکن ہمارے پاس صرف سات کھجوریں اور پانی کے سات گلاس تھے۔
فاطمہ نے دیگر لوگوں کے دستر خوان دیکھے تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے کہا کہ آپا دیکھو ان لوگوں کے پاس کتنا کھانا ہے۔ کاش ہمارے پاس بھی تھوڑا سا ہوتا۔ میں نے اسے گلے لگایا اور کہا کہ بیٹا اللہ نے ہمیں جو دیا ہے اس پر شکر کرو۔ ہم مدینہ منورہ میں ہیں۔ یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے۔
اسی وقت مسجد نبوی کے ایک دروازے سے کچھ لوگ داخل ہوئے۔ ان میں ایک نوجوان تھا جو بہت شاندار لباس میں ملبوس تھا۔ اس کے ساتھ کچھ محافظ بھی تھے۔ لوگ اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے سرگوشی کی کہ یہ شہزادہ سلیمان ہیں۔ یہ سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور بہت نیک دل انسان ہیں۔
شہزادہ سلیمان مسجد میں گھوم رہے تھے اور لوگوں سے مل رہے تھے۔ وہ رمضان میں اکثر مسجد نبوی آتے تھے اور غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرتے تھے۔ اچانک ان کی نظر ہماری طرف پڑی۔ انہوں نے دیکھا کہ سات چھوٹی بچیاں ایک چھوٹے سے دستر خوان پر بیٹھی ہوئی ہیں اور ان کے پاس صرف کھجوریں ہیں۔
شہزادہ سلیمان ہماری طرف آئے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بیٹی تم لوگ کہاں سے ہو؟ میں نے احترام سے کہا کہ ہم پاکستان سے ہیں۔ ہم یتیم بہنیں ہیں اور عمرہ کے لیے آئی ہیں۔
شہزادہ سلیمان نے ہمارے دستر خوان کو دیکھا اور پھر فاطمہ کو دیکھا جو بھوک سے بے حال تھی۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ فوراً ان بچیوں کے لیے کھانا لے کر آؤ۔ بہترین کھانا لاؤ۔
پھر شہزادہ سلیمان نے فاطمہ سے پوچھا کہ بیٹی تمہارا نام کیا ہے؟ فاطمہ نے شرماتے ہوئے کہا کہ میرا نام فاطمہ ہے۔ شہزادہ نے کہا کہ ماشاءاللہ بہت پیارا نام ہے۔ یہ ہماری پیاری ماں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے۔
پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم سب کی کیا کہانی ہے؟ میں نے آنسوؤں کے ساتھ سارا واقعہ سنایا۔ میں نے بتایا کہ کیسے ہمارے والدین کا انتقال ہوا، کیسے دادی نے ہماری پرورش کی، اور کیسے اب ہم اکیلی ہیں۔
شہزادہ سلیمان نے ساری کہانی سنی اور بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیو تم یتیم نہیں ہو۔ اللہ تمہارا سہارا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ اور آپ نے اپنی دو انگلیاں ملا کر دکھائیں۔
اسی وقت اذان ہو گئی۔ شہزادہ سلیمان کے ساتھی بہت سارا کھانا لے کر آئے۔ دسترخوان پر ہر قسم کا کھانا رکھا گیا۔ بریانی، کباب، روٹیاں، سلاد، پھل، جوس، مٹھائیاں، سب کچھ تھا۔ ہم سب حیران رہ گئیں۔
شہزادہ سلیمان نے کہا کہ آؤ بیٹیو افطاری کرو۔ یہ سب تمہارے لیے ہے۔ لیکن پہلے کھجوریں کھا لو جیسا کہ سنت ہے۔ ہم سب نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔ پھر ہم نے مغرب کی نماز پڑھی۔
نماز کے بعد ہم نے کھانا کھایا۔ فاطمہ بہت خوش تھی۔ وہ کھاتے کھاتے بولی کہ آپا دیکھو اللہ میاں نے ہماری دعا سن لی۔ اس نے واقعی ہمیں کھانا بھیج دیا۔
کھانے کے بعد شہزادہ سلیمان نے ہم سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیو میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ تم یتیم ہو اور اللہ نے مجھے دولت دی ہے۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں تمہارا خیال رکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم سب میرے زیر کفالت رہو۔
ہم سب حیران رہ گئیں۔ میں نے کہا کہ شہزادہ صاحب آپ بہت مہربان ہیں لیکن ہم آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتے۔ شہزادہ نے کہا کہ بیٹی یہ بوجھ نہیں بلکہ میرے لیے اعزاز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کا خیال رکھنے کی بہت تاکید فرمائی ہے۔
پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بلایا اور کچھ ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بچیوں کے لیے مدینہ منورہ میں ایک اچھا گھر کا انتظام کرو۔ انہیں اچھی تعلیم کا موقع دو۔ ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھو۔
ہم سب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ہم نے شہزادہ سلیمان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شکریہ اللہ کا کرو۔ اس نے مجھے تمہاری مدد کا ذریعہ بنایا۔
اگلے دن شہزادہ سلیمان کے لوگوں نے ہمارے لیے مدینہ منورہ میں ایک خوبصورت گھر کا انتظام کیا۔ یہ گھر مسجد نبوی سے زیادہ دور نہیں تھا۔ گھر میں تمام سہولیات تھیں۔ فرنیچر، بستر، کچن کا سامان، سب کچھ تھا۔ گھر میں چار کمرے تھے اور ایک خوبصورت صحن تھا۔
شہزادہ سلیمان نے ہمارے لیے ایک نگران خاتون بھی رکھی جن کا نام ام عبداللہ تھا۔ وہ بہت نیک اور پیاری خاتون تھیں جو ہماری دیکھ بھال کرتی تھیں۔ انہوں نے ہمیں بہت پیار سے رکھا۔
پھر شہزادہ سلیمان نے ہماری تعلیم کا بھی انتظام کیا۔ انہوں نے ہمیں مدینہ کے ایک اچھے سکول میں داخل کروایا۔ ہم سب نے اپنی پڑھائی شروع کر دی۔ میں نے بھی دینی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہفتے میں ایک بار شہزادہ سلیمان ہمیں ملنے آتے تھے۔ وہ ہماری خیریت پوچھتے اور ہماری ضروریات کا خیال رکھتے۔ انہوں نے ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم یتیم ہیں یا اکیلی ہیں۔
ایک دن شہزادہ سلیمان ہمارے گھر آئے اور کہا کہ بیٹیو میرے دل میں آیا ہے کہ تم سب کو رسمی طور پر اپنی زیر کفالت لے لوں۔ میں چاہتا ہوں کہ قانونی طور پر بھی میں تمہارا سرپرست بنوں تاکہ تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو۔
ہم سب نے رو کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیو میں تمہارا شکر گزار ہوں۔ تم نے مجھے یتیموں کی خدمت کا موقع دیا۔ اللہ نے مجھے دولت دی لیکن اصل دولت تو یہ ہے کہ میں اس دولت کو اللہ کی راہ میں استعمال کر سکوں۔
ہم نے سالوں بعد پہلی بار یہ محسوس کیا کہ ہمارا کوئی ہے جو ہمارا خیال رکھ رہا ہے۔ شہزادہ سلیمان ہمارے لیے باپ کی طرح تھے۔
رمضان ختم ہوا اور ہم مدینہ منورہ میں ہی رہے۔ ہم روزانہ مسجد نبوی جاتے اور نماز پڑھتے۔ ہم نے قرآن حفظ کرنا شروع کیا۔ ہماری زندگی بالکل بدل گئی۔
سال گزرتے گئے اور ہم سب مدینہ منورہ میں اپنی زندگی گزار رہے تھے۔ شہزادہ سلیمان نے ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھا۔ انہوں نے ہمیں بہترین تعلیم دی۔ ہم سب نے اپنی اپنی تعلیم مکمل کی۔
میں نے اسلامیات میں ماسٹرز کیا اور اب مدینہ کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتی ہوں۔ عائشہ نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹر بن گئی۔ زینب نے انجینئرنگ کی، خدیجہ نے تعلیم کے شعبے میں، حفصہ نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ رقیہ نے کمپیوٹر سائنس میں ڈگری لی اور اب ایک بڑی کمپنی میں کام کر رہی ہے۔
سب سے چھوٹی فاطمہ نے قرآن حفظ کیا اور اب وہ بھی اسلامیات کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ وہ اکثر کہتی ہے کہ آپا وہ دن یاد ہے جب ہم مسجد نبوی میں بھوکے بیٹھے تھے اور میں نے اللہ سے کہا تھا کہ آسمان سے کھانا بھیج دو؟ اللہ نے واقعی بھیجا لیکن اپنے بندے کے ذریعے۔
ہم سب شہزادہ سلیمان کے بہت شکر گزار ہیں۔ انہوں نے ہماری زندگیاں بدل دیں۔ وہ ہمارے لیے باپ سے بڑھ کر ہیں۔ انہوں نے ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم یتیم ہیں۔
ایک دن ہم سب شہزادہ سلیمان سے ملنے گئے۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ بیمار تھے۔ جب ہم ان سے ملے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیو میں بہت خوش ہوں کہ تم سب نے اتنی ترقی کی۔ تم سب تعلیم یافتہ بن گئیں۔ تم سب معاشرے کے کارآمد حصے بن گئیں۔
میں نے کہا کہ شہزادہ صاحب یہ سب آپ کا احسان ہے۔ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم نہیں جانتے کہ آج ہم کہاں ہوتیں۔ آپ نے ہماری زندگیاں بچائیں۔
شہزادہ نے کہا کہ نہیں بیٹی یہ اللہ کا احسان ہے۔ اس نے مجھے تمہاری خدمت کا موقع دیا۔ میں تو صرف ایک ذریعہ تھا۔ اصل میں اللہ نے تمہاری مدد کی۔
پھر انہوں نے کہا کہ بیٹیو میں تم سے ایک وعدہ لینا چاہتا ہوں۔ جب میں اس دنیا سے چلا جاؤں تو تم بھی دوسرے یتیموں کی مدد کرنا۔ جو کچھ تمہیں ملا ہے اسے آگے بڑھانا۔ یتیموں کا خیال رکھنا۔
ہم سب نے رو کر وعدہ کیا کہ ہم ضرور ایسا کریں گے۔
کچھ مہینے بعد شہزادہ سلیمان کا انتقال ہو گیا۔ ہم سب بہت رویں۔ ہم نے اپنا سب سے بڑا سہارا کھو دیا تھا۔ لیکن انہوں نے ہمیں اتنا مضبوط بنا دیا تھا کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔
آج ہم سات بہنوں نے مل کر ایک یتیم خانہ قائم کیا ہے جہاں ہم یتیم بچیوں کو رکھتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم نے اس یتیم خانے کا نام شہزادہ سلیمان یتیم خانہ رکھا ہے۔
ہر سال رمضان میں ہم مسجد نبوی جاتے ہیں اور غریبوں کو افطاری کراتے ہیں۔ ہم وہی جگہ تلاش کرتے ہیں جہاں ہم سات بہنیں بیٹھی تھیں اور جہاں شہزادہ سلیمان نے ہماری مدد کی تھی۔
ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہماری سنی۔ ہم یتیم تھیں لیکن اللہ نے ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ اس نے شہزادہ سلیمان کو ہماری مدد کے لیے بھیجا۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ یتیموں کا خاص خیال رکھتا ہے۔ جو لوگ یتیموں کی مدد کرتے ہیں اللہ انہیں بہت بڑا اجر دیتا ہے۔ ہمیں یتیموں کی عزت کرنی چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔
فاطمہ اب بڑی ہو گئی ہے لیکن وہ اکثر کہتی ہے کہ آپا اللہ واقعی سنتا ہے۔ میں نے اس دن دعا کی تھی اور اللہ نے سن لی۔ اس نے شہزادہ سلیمان کو بھیجا جنہوں نے ہماری پوری زندگی بدل دی۔
الحمد للہ رب العالمین۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/03/yateem-bachi-ki-dua-qabool-hui-eid-par.html
Disclaimer
یہ کہانی ایک اسلامی اور اخلاقی سبق پر مبنی ہے جس کا مقصد صرف نصیحت اور رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اس میں بیان کیے گئے واقعات عام فہم انداز میں پیش کیے گئے ہیں تاکہ پڑھنے والوں کو سبق حاصل ہو۔ اس کہانی کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ مثبت پیغام دینا ہے۔

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."