اولاد نہ ہونے کا درد اور ٹوٹا ہوا رشتہ
تعارف:
یہ کہانی ایک عورت کی زندگی کی حقیقت کو بیان کرتی ہے جسے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وقت کے ساتھ رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں اور آخرکار ایک بڑا فیصلہ سامنے آتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں صبر، آزمائش اور زندگی کی سخت حقیقتوں کو سمجھاتی ہے۔
میرا نام عائشہ تھا اور میں ایک عام سی لڑکی تھی جس کے خواب بھی عام تھے ایک چھوٹا سا گھر ایک محبت کرنے والا شوہر اور چند خوشیاں جو زندگی کو مکمل بنا دیں مگر میری قسمت نے شاید میرے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا میری شادی کو تین سال گزر چکے تھے مگر ابھی تک میری گود نہ بھری تھی شروع میں سب ٹھیک تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ میرے شوہر کے رویے میں تبدیلی آتی گئی وہ ہر بات پر مجھے طعنے دینے لگا کبھی بانجھ کہہ کر ذلیل کرتا تو کبھی مجھے ناکام عورت کہہ کر میری عزت کو روند دیتا تھا میں ہر رات چپ چاپ آنسو بہاتی اور اللہ سے دعا کرتی کہ میری زندگی میں بھی خوشیوں کی کوئی کرن آئے
ایک دن وہ وقت بھی آ گیا جب اس نے مجھے سب کے سامنے طلاق دے دی تھی اس لمحے مجھے لگا جیسے میری سانسیں رک گئی ہوں میری دنیا وہیں ختم ہو گئی تھی میں اپنے میکے واپس آگئی مگر وہاں بھی حالات اچھے نہیں تھے میرا بھائی خود غربت کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا گھر میں پہلے ہی فاقے تھے اور اب ایک اور بوجھ بن کر میں آ گئی تھی میں ہر لمحہ خود کو کوستی رہتی تھی کہ شاید واقعی مجھ میں ہی کوئی کمی ہے
چند دن اسی کرب میں گزر گئے مگر پھر میں نے خود کو سنبھالا اور فیصلہ کیا کہ میں کسی پر بوجھ نہیں بنوں گی میں نے شہر کی ایک فیکٹری میں پیکنگ کا کام شروع کر دیا وہاں کا ماحول میرے لیے نیا تھا مگر میں نے دل لگا کر کام کرنا شروع کر دیا عجیب بات یہ تھی کہ جس دن میں نے کام شروع کیا اسی دن فیکٹری کو ایک بڑا آرڈر ملا اور سب لوگ اسے خوش قسمتی سمجھنے لگے مالک نے بھی میری طرف خاص توجہ دینا شروع کر دی وہ اکثر کہتا تھا کہ تمہارے ہاتھ میں برکت ہے جب بھی تم کام شروع کرتی ہو ہمیں فائدہ ہوتا ہے
آہستہ آہستہ اس کا رویہ میرے ساتھ بدلنے لگا وہ مجھے عزت دیتا تھا اور باقی اسٹاف سے الگ رکھتا تھا مجھے یہ سب عجیب لگتا تھا مگر میں خاموش رہتی تھی کیونکہ مجھے صرف اپنے کام سے مطلب تھا ایک دن اچانک ایک ملازم میرے پاس آیا اور بولا کہ مالک نے آپ کو آفس میں بلایا ہے یہ سن کر میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اچانک مجھے کیوں بلایا جا رہا ہے
میں گھبراہٹ کے عالم میں آفس کی طرف بڑھی ہر قدم کے ساتھ میرے دل میں خوف بڑھ رہا تھا جیسے کوئی انجان خطرہ میرا انتظار کر رہا ہو میں نے دروازے کے سامنے پہنچ کر گہری سانس لی اور آہستہ سے دروازہ کھولا اندر مالک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور مجھے دیکھ کر مسکرایا اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی جو مجھے بے چین کر رہی تھی
اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نرم لہجے میں بات شروع کی مگر اس کی باتوں میں کچھ ایسا تھا جو میرے دل کو کھٹک رہا تھا اچانک اس نے ایسی بات کہی جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے اور دل جیسے سینے میں دھڑکنا بھول گیا کیونکہ وہ میرے ماضی کے بارے میں ایسی باتیں جانتا تھا جو میں نے کبھی کسی کو نہیں بتائی تھیں
میں حیرت اور خوف کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی اور میرے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا کہ آخر یہ شخص ہے کون اور اسے میری زندگی کے راز کیسے معلوم ہیں اور پھر اس نے ایک ایسا نام لیا جس نے میری دنیا کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا کیونکہ وہ نام میرے ماضی کا سب سے بھیانک سچ تھا جسے میں ہمیشہ کے لیے بھول چکی تھی مگر اب وہ سچ دوبارہ میرے سامنے کھڑا تھا اور میں اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں تھی
میں اس کے سامنے بیٹھی تھی مگر میرے اندر جیسے سب کچھ سن ہو چکا تھا وہ نام جو اس نے لیا تھا وہ میرے ماضی کا ایسا زخم تھا جسے میں نے بڑی مشکل سے دفن کیا تھا مگر آج وہ زخم پھر سے تازہ ہو گیا تھا میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا اور میں اس کی طرف دیکھتی رہ گئی وہ مسکرا رہا تھا مگر اس مسکراہٹ میں عجیب سا زہر تھا جیسے وہ میری بے بسی سے لطف اٹھا رہا ہو
اس نے کرسی سے اٹھ کر آہستہ آہستہ میرے قریب آنا شروع کیا اور بولا تم حیران ہو نا کہ مجھے تمہارے بارے میں اتنا سب کچھ کیسے معلوم ہے مگر یہ تو بس شروعات ہے عائشہ تمہیں اندازہ بھی نہیں کہ تمہاری زندگی کے کتنے راز میرے پاس ہیں میں نے ہمت کر کے خود کو سنبھالا اور کانپتی آواز میں پوچھا آپ آخر چاہتے کیا ہیں کیوں مجھے اس طرح ڈرا رہے ہیں میری بات سن کر وہ ہنسا اور بولا ڈر تو ابھی تمہیں اور بھی لگے گا کیونکہ جو میں چاہتا ہوں وہ تمہاری سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے
اس کی باتیں سن کر میرا دل ڈوبنے لگا میں نے اٹھ کر جانے کی کوشش کی مگر اس نے میرا راستہ روک لیا اور سخت لہجے میں بولا اتنی آسانی سے نہیں جا سکتی تمہیں میری بات سننی ہوگی پھر اس نے وہ سچ بتایا جس نے میرے قدموں تلے زمین نکال دی اس نے کہا تمہارے باپ کو تم بہت نیک سمجھتی ہو نا مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک بہت بڑا دھوکے باز انسان تھا وہ معصوم لڑکیوں کو جال میں پھنسا کر ان کی زندگیاں برباد کرتا تھا میری ماں بھی انہی لڑکیوں میں سے ایک تھی اس نے میری ماں کو دھوکا دیا اسے اس گندی دنیا میں دھکیل دیا اور پھر چھوڑ دیا
یہ سن کر میرے کانوں میں جیسے شور ہونے لگا میں نے چیخ کر کہا یہ جھوٹ ہے میرے ابو ایسے نہیں تھے مگر وہ ہنسا اور بولا سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے عائشہ میری ماں نے مرتے وقت مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں تمہارے باپ سے بدلہ لوں مگر جب میں بڑا ہوا تو وہ مر چکا تھا پھر میں نے تمہارے بھائی کو تلاش کیا مگر وہ پہلے ہی برباد ہو چکا تھا تب میری نظر تم پر پڑی تم خوش تھی تم سکون میں تھی اور یہی بات مجھے برداشت نہ ہوئی
میرے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا مجھے اس سب سے کوئی تعلق نہیں میں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا مگر وہ غصے سے بولا تم اس کی بیٹی ہو اور یہی تمہارا جرم ہے تمہیں بھی وہی درد محسوس کرنا ہوگا جو میری ماں نے سہا تھا اسی لیے میں نے تمہاری زندگی برباد کی تمہارے شوہر کے دماغ میں زہر بھرا اسے یقین دلایا کہ تم بانجھ ہو اور اس نے تمہیں چھوڑ دیا
یہ سن کر میرا دل ٹوٹ کر بکھر گیا مجھے لگا جیسے زمین پھٹ جائے اور میں اس میں دفن ہو جاؤں میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور میں بے بسی سے اسے دیکھتی رہی وہ سکون سے کھڑا تھا جیسے اسے میری تکلیف سے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو اس نے مزید کہا اور یہ تو صرف شروعات تھی میں چاہتا تو تمہیں اس سے بھی بدتر حالت میں لا سکتا تھا مگر ابھی کھیل ختم نہیں ہوا
میں نے روتے ہوئے کہا آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں مجھے چھوڑ دیں میں پہلے ہی ٹوٹ چکی ہوں مگر اس نے سرد لہجے میں کہا چھوڑ دوں تمہیں اتنی آسانی سے نہیں تمہیں وہ سب جھیلنا ہوگا جو میری ماں نے جھیلا تھا اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میں تمہارے بھائی کی نوکری چھنوا دوں گا تمہارے گھر کو بھی ختم کر دوں گا تمہارے پاس کچھ نہیں بچے گا
اس کی دھمکیوں نے مجھے اندر سے ہلا دیا تھا میں جانتی تھی کہ میرے پاس کوئی طاقت نہیں تھی نہ کوئی سہارا تھا میں ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی تھی جہاں سے ہر راستہ اندھیرے کی طرف جاتا تھا میں نے سر جھکا لیا اور آنسو پونچھتے ہوئے کہا آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گی بس میرے گھر والوں کو نقصان نہ پہنچائیں
وہ مسکرایا جیسے اسے یہی جواب چاہیے تھا اور بولا اچھا ہے تم نے سمجھداری دکھائی ہے کل سے تم میری باتوں پر عمل کرو گی اور یاد رکھنا یہ سب تمہاری قسمت ہے اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور میں لرزتے قدموں کے ساتھ باہر نکل آئی
آفس سے باہر آتے ہی مجھے لگا جیسے میری سانس گھٹ رہی ہو میں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی اور زار و قطار رونے لگی میری زندگی ایک بار پھر کسی اندھیری کھائی میں گر چکی تھی مگر مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ اندھیرا ابھی اور گہرا ہونے والا ہے اور اگلا قدم میری زندگی کو ایک ایسے موڑ پر لے جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی
سرفراز کی باتیں میرے دل و دماغ پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھیں، مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میری زندگی کی ہر تکلیف کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش چھپی ہوئی تھی اور میں ایک کٹھ پتلی کی طرح بس ناچتی رہی ہوں، میری آنکھوں کے سامنے میرے ماضی کے سارے مناظر گھومنے لگے، وہ دن جب مجھے بانجھ کہہ کر گھر سے نکالا گیا، وہ راتیں جب میں بھوک سے تڑپتی تھی اور کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی، وہ لمحے جب میں نے اپنی عزت بچانے کے لیے خود کو مضبوط بنایا لیکن ہر طرف سے مجھے توڑا گیا، اور آج یہ سچ میرے سامنے کھڑا تھا کہ میری بربادی کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک منصوبہ تھا۔
میں نے کانپتی ہوئی آواز میں سرفراز سے پوچھا کہ تم نے میرے ساتھ یہ سب کیوں کیا، اگر تمہیں بدلہ لینا ہی تھا تو میرے باپ سے لیتے، میں تو پہلے ہی ٹوٹی ہوئی تھی، اس نے ایک تلخ ہنسی ہنستے ہوئے کہا کہ بدلہ ہمیشہ وہاں لیا جاتا ہے جہاں درد زیادہ ہو، تمہارا باپ تو مر چکا تھا مگر تم زندہ تھیں اور تمہاری خوشی مجھے برداشت نہیں تھی، اسی لیے میں نے تمہاری زندگی کو جہنم بنا دیا، اس کی بات سن کر میرے دل میں ایک عجیب سا سکون بھی آیا اور غصہ بھی، سکون اس لیے کہ کم از کم مجھے اپنی بے بسی کی وجہ معلوم ہو گئی تھی اور غصہ اس لیے کہ کسی اور کے گناہوں کی سزا مجھے کیوں دی گئی۔
میں نے اپنی آنکھوں کے آنسو پونچھے اور پہلی بار مضبوط لہجے میں اس سے کہا کہ تم نے جو کرنا تھا کر لیا، میری زندگی تباہ کر دی، میرا گھر چھین لیا، میری عزت کو خطرے میں ڈالا، لیکن اب بس، اب میں مزید تمہاری غلام نہیں بنوں گی، اس نے مجھے غور سے دیکھا جیسے اسے میری اس تبدیلی کی امید نہ ہو، وہ کچھ لمحے خاموش رہا پھر بولا کہ تمہیں لگتا ہے تم یہاں سے نکل سکتی ہو، تمہارے پاس نہ پیسہ ہے نہ سہارا، تم کہاں جاؤ گی، اس کی بات سچ تھی مگر اب میرے اندر ایک نئی ہمت جاگ چکی تھی۔
میں نے بغیر کچھ کہے دروازے کی طرف قدم بڑھائے، میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا مگر میرے قدم رک نہیں رہے تھے، جیسے ہی میں دروازے کے قریب پہنچی تو اچانک باہر سے شور کی آواز آئی، کچھ لوگ فیکٹری کے اندر داخل ہو رہے تھے، ان کے ساتھ پولیس بھی تھی، میں حیران ہو کر رک گئی، سرفراز کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا، اس نے گھبرا کر باہر دیکھا تو کچھ ہی لمحوں میں پولیس افسر اندر داخل ہوئے اور سیدھا اس کی طرف بڑھ گئے۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے، ایک افسر نے میری طرف دیکھ کر نرم لہجے میں کہا کہ آپ فکر نہ کریں، ہمیں کافی عرصے سے اس کے خلاف شکایات مل رہی تھیں، یہ لڑکیوں کو بلیک میل کر کے انہیں غلط کاموں میں دھکیلتا تھا، آج ہمیں پختہ ثبوت مل گئے ہیں، اس کی بات سن کر میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی، میں نے سرفراز کی طرف دیکھا جو اب خاموشی سے کھڑا تھا جیسے اس کی ساری طاقت ختم ہو چکی ہو۔
اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ اللہ کی پکڑ دیر سے سہی مگر ہوتی ضرور ہے، جس شخص نے میری زندگی کو تباہ کیا تھا آج وہ خود اپنے انجام کے قریب کھڑا تھا، میری آنکھوں میں آنسو تھے مگر اس بار یہ کمزوری کے نہیں بلکہ ایک عجیب سے سکون کے آنسو تھے، میں نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اس اندھیرے سے نکالنے کا راستہ دکھا دیا۔
پولیس اسے لے کر جا چکی تھی اور میں فیکٹری کے کونے میں کھڑی سوچ رہی تھی کہ اب میری زندگی کا اگلا قدم کیا ہوگا، میرے پاس کچھ نہیں تھا مگر ایک چیز ضرور تھی، وہ تھی ہمت، وہ ہمت جو میں نے اپنے دکھوں سے سیکھی تھی، وہ ہمت جو مجھے ہر بار گرنے کے بعد اٹھنے پر مجبور کرتی تھی، میں نے ایک گہری سانس لی اور خود سے وعدہ کیا کہ اب میں اپنی زندگی کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑوں گی، اب میں خود اپنے لیے جینا سیکھوں گی۔
لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ سب کچھ ابھی ختم نہیں ہوا، میری زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا، ایک ایسا سچ جو میرے سامنے آنے والا تھا اور جو میری پوری دنیا کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دے گا…
فیکٹری کے اُس کمرے میں کھڑی میں دیر تک ساکت رہی، جیسے میرے اندر برسوں سے جمع درد ایک ہی لمحے میں باہر آنا چاہتا ہو، میری آنکھوں کے سامنے میری پوری زندگی ایک فلم کی طرح چل رہی تھی، وہ دن جب مجھے بانجھ کہہ کر گھر سے نکالا گیا، وہ راتیں جب میں نے بھوک، بے بسی اور تنہائی کے ساتھ جنگ لڑی، وہ لمحے جب میں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر کہیں سہارا نہ ملا، اور پھر وہ سچ جو آج میرے سامنے آیا کہ میری بربادی محض قسمت نہیں بلکہ کسی کے بدلے کی آگ تھی۔
میں نے آہستہ سے دیوار کا سہارا لیا اور خود کو سنبھالا، آج پہلی بار مجھے یہ احساس ہوا کہ انسان کو توڑنے والے لوگ کتنے مضبوط کیوں نہ لگیں، ان کا انجام ہمیشہ کمزوری میں ہی ہوتا ہے، سرفراز نے اپنی ماں کے درد کو بدلے میں بدل دیا اور بدلہ اسے انسان سے درندہ بنا گیا، مگر اس کے انجام نے یہ ثابت کر دیا کہ ظلم کی بنیاد پر کھڑی کوئی بھی کہانی زیادہ دیر نہیں چلتی۔
میں فیکٹری سے باہر نکلی تو ہوا کا ایک جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا، جیسے رب نے میرے اندر جمی ہوئی گھٹن کو ایک لمحے میں ہلکا کر دیا ہو، میرے قدم آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے مگر اس بار ان میں خوف نہیں تھا، ایک عجیب سا سکون تھا، ایک یقین تھا کہ میں اب بھی ختم نہیں ہوئی، میں ابھی بھی کھڑی ہوں۔
میں نے اپنے آنسو صاف کیے اور آسمان کی طرف دیکھا، دل ہی دل میں کہا یا اللہ تو نے مجھے ہر امتحان میں ڈالا، ہر دکھ دکھایا، مگر تو نے مجھے ٹوٹنے نہیں دیا، آج میں خالی ہاتھ ضرور ہوں مگر کمزور نہیں ہوں، میری سب سے بڑی طاقت میرا حوصلہ ہے، اور یہی حوصلہ مجھے ایک نئی زندگی کی طرف لے جائے گا۔
کچھ دن بعد میں نے دوبارہ کام شروع کیا، مگر اس بار فرق یہ تھا کہ میں کسی کے ڈر یا دباؤ میں نہیں تھی، میں اپنے فیصلے خود کر رہی تھی، آہستہ آہستہ میری زندگی سنبھلنے لگی، میں نے سیکھ لیا تھا کہ دنیا میں سب سے بڑی طاقت خود پر یقین ہوتی ہے، اگر وہ ہو تو انسان ہر مشکل سے نکل سکتا ہے۔
کبھی کبھی رات کو تنہائی میں بیٹھ کر میں اپنے ماضی کو یاد کرتی تھی، دل دکھتا تھا مگر اب وہ درد مجھے کمزور نہیں کرتا تھا بلکہ مضبوط بناتا تھا، میں نے یہ مان لیا تھا کہ ہر دکھ کے پیچھے ایک سبق چھپا ہوتا ہے، اور جو انسان اس سبق کو سمجھ لے وہی اصل میں جیت جاتا ہے۔
اس کہانی کا نچوڑ یہی تھا کہ ایک عورت کو اس جرم کی سزا دی گئی جو اس نے کیا ہی نہیں تھا، اسے اس کے باپ کے گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑا، اسے معاشرے نے ٹھکرایا، اسے اپنوں نے چھوڑا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری، اس نے خود کو سنبھالا، اپنے وجود کو دوبارہ کھڑا کیا، اور یہ ثابت کیا کہ حالات چاہے کتنے بھی خراب ہوں، انسان اگر خود پر یقین رکھے تو ہر اندھیرے سے نکل سکتا ہے۔
یہ کہانی صرف عائشہ کی نہیں، یہ ہر اُس انسان کی کہانی ہے جسے بغیر قصور کے سزا دی جاتی ہے، جسے دنیا توڑنے کی کوشش کرتی ہے، مگر وہ پھر بھی جینا سیکھ لیتا ہے، یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ بدلہ کبھی سکون نہیں دیتا، اصل سکون معاف کرنے، صبر کرنے اور آگے بڑھنے میں ہے۔
اور آخر میں…
زندگی کبھی بھی ایک جیسی نہیں رہتی،
اندھیرے کے بعد روشنی ضرور آتی ہے،
بس شرط یہ ہے کہ انسان ہار نہ مانے۔
Disclaimer:
یہ کہانی صرف سبق اور تفریح کے لیے ہے۔ اس کا کسی حقیقی واقعے یا شخصیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کسی سے مماثلت ہو تو وہ محض اتفاقیہ ہے۔

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."