سات سال بعد ایک پرانی محبت کی اچانک ملاقات
Taruf
یہ کہانی ایک ایسے انسان کی ہے جس کی زندگی نے اسے ایک وقت پر الگ راستہ دکھا دیا تھا۔
وقت گزر گیا، حالات بدل گئے، مگر کچھ یادیں اور کچھ رشتے دل کے کسی کونے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
سات سال بعد جب اچانک ایک پرانی جاننے والی شخصیت سامنے آتی ہے تو جذبات، خاموشی اور یادوں کا ایک طوفان اٹھ جاتا ہے۔
میرا نام کاشف ہے۔ میں لاہور کا ایک تحصیلدار تھا۔ پیسہ تھا، رعب تھا، اثر و رسوخ تھا۔ لوگ میرے سامنے جھکتے تھے اور مجھے یہ جھکنا بہت پسند تھا۔ میں نے ہمیشہ سوچا کہ دنیا میرے لیے بنی ہے اور باقی سب میری خوشی کے لیے۔ اسی سوچ کے ساتھ میں نے شادی کی اور اسی سوچ کے ساتھ میں نے اپنی بیوی کی زندگی برباد کی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایک دن یہی سوچ مجھے تباہ کر دے گی۔
نمرہ ایک اسکول ٹیچر کی بیٹی تھی۔ سادہ، پڑھی لکھی، نیک۔ میرے گھر والوں نے یہ رشتہ طے کیا تھا۔ میں راضی نہیں تھا مگر گھر والوں کی ضد کے آگے مجبور ہو گیا۔ شادی کی رات جب وہ کمرے میں بیٹھی تھی تو اس کی آنکھوں میں خوابوں کی چمک تھی۔ مگر میں نے پہلی ہی رات اس چمک کو بجھا دیا۔ میں نے کوٹ اتار کر بیڈ پر پھینکا اور بغیر کسی تمہید کے بولنے لگا کہ دیکھو نمرہ یہ شادی میرے گھر والوں کی ضد پر ہوئی ہے، ورنہ تم جیسی لڑکی میری پسند کبھی نہیں ہو سکتی تھی۔ تم ایک معمولی ٹیچر کی بیٹی ہو اور میں اس شہر کا ابھرتا ہوا تحصیلدار ہوں۔ مجھ سے زیادہ توقعات مت رکھنا اور کل سے یہ کتابوں کا شوق ختم ہو جانا چاہیے، اب تم اس گھر کی بہو ہو۔
نمرہ نے کچھ کہنا چاہا مگر میں کمرے سے باہر نکل گیا۔ یہ میری پہلی جیت تھی اور اس کی پہلی شکست۔
دن گزرتے گئے اور میرا رویہ مزید سخت ہوتا گیا۔ میں اسے گھریلو ملازمہ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا۔ صبح ناشتہ دیر سے ملتا تو چیختا، کھانے میں نمک کم ہوتا تو برتن اٹھا کر پھینکتا، مہمان آتے تو اسے ایسے پیش کرتا جیسے وہ اس گھر کی نوکرانی ہو۔ وہ کبھی نہیں بولی، کبھی نہیں لڑی، بس خاموشی سے سہتی رہی۔ اس کی خاموشی مجھے اور اشتعال دلاتی تھی۔
ایک رات دو بجے گھر آیا تو دیکھا وہ کچن کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھی مدھم روشنی میں کتاب پڑھ رہی تھی۔ مجھے غصہ آیا۔ میں نے اس کے ہاتھ سے کتاب چھین کر پھینکی اور کہا کون سا اسسٹنٹ کمشنر بن جانا ہے؟ عورت کی جگہ باورچی خانہ ہوتا ہے، یہ کتابیں کل ردی والے کو دے دینا۔ اس نے کچھ نہیں کہا مگر اس کی بڑی بڑی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
مجھے اس کے آنسو دیکھ کر سکون ملتا تھا۔ یہ میری بیماری تھی مگر میں اسے اپنی طاقت سمجھتا تھا۔
سات سال اسی طرح گزرے۔ نمرہ نے سات سال میں ایک بار بھی بغاوت نہیں کی۔ ایک بار بھی میرے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ وہ بس چپ چاپ گھر چلاتی رہی، میری خدمت کرتی رہی، اور اندر ہی اندر ٹوٹتی رہی۔ پھر میں نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا۔ رملہ ایک افسر کی بیٹی تھی، خوبصورت تھی، مغرور تھی، اور مجھے لگتا تھا کہ وہ میرے معیار کی ہے۔
جس دن میں نے نمرہ کو بتایا اس دن اس کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔ جیسے کسی نے زندہ انسان کا کلیجہ کھینچ لیا ہو۔ وہ اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر رونے لگی۔ میں نے اسے بازو سے پکڑا اور دروازے تک گھسیٹا۔ اس نے کہا کم از کم میرا بیگ تو لینے دیں۔ میں نے دروازہ بند کر دیا۔
وہ چلی گئی۔ خالی ہاتھ، خالی دامن، مگر سر اٹھا کر۔
میں نے سوچا کہ اب زندگی آسان ہو جائے گی۔ رملہ آئی مگر وہ وہ نہیں تھی جو میں نے سوچا تھا۔ وہ آزاد خیال تھی، من مانی کرتی تھی، گھر کم اور باہر زیادہ رہتی تھی۔ میری دوسری شادی نے مجھے سکون نہیں دیا بلکہ نئی پریشانیاں دے دیں۔
اور پھر وہ دن آیا جب میں انارکلی بازار سے گزر رہا تھا اور میری نظر ایک عورت پر پڑی جو کھلونے بیچ رہی تھی۔
وہ نمرہ تھی۔
میں نے گاڑی روکی اور نمرہ کے قریب گیا۔ وہ ایک چھوٹی سی دری پر کھلونے سجائے بیٹھی تھی۔ سادہ کپڑے، بال سیدھے باندھے ہوئے، چہرے پر تھکاوٹ کے نشان۔ مگر ایک عجیب سی بات تھی کہ اس کے چہرے پر وہ ٹوٹا پن نہیں تھا جس کی مجھے توقع تھی۔ وہ ایک گاہک سے بات کر رہی تھی اور مسکرا رہی تھی۔ اصلی مسکراہٹ، بناوٹی نہیں۔
میں نے قریب جا کر آواز دی نمرہ۔
اس نے نظر اٹھائی اور مجھے دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا چہرہ رک گیا مگر پھر وہ بالکل معمول پر آ گئی جیسے کوئی پرانا جاننے والا ملا ہو۔ نہ حیرت، نہ غصہ، نہ آنسو۔ بس ایک سادہ سی نظر۔
میرے اندر سے ایک ٹھنڈک گزری۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ مجھے دیکھ کر یا تو رو دے گی یا منت کرے گی۔ مگر اس کا یہ سکون مجھے اندر سے بے چین کر گیا۔
میں نے مذاق اڑانے کے انداز میں کہا نمرہ میرے بنگلے میں تو رانی بنی پھرتی تھی، اب کھلونے بیچ رہی ہو؟ کوئی امیر آدمی نہیں ملا جو لفٹ دیتا؟ میں نے قہقہہ لگایا اور پیچھے کھڑے اپنے ڈرائیور کی طرف دیکھا۔
نمرہ نے کچھ نہیں کہا۔ بس میری لینڈ کروزر کو ایک نظر دیکھا اور پھر اپنے کھلونے ٹھیک کرنے لگی۔ اس کی اس خاموشی نے مجھے اور اشتعال دلایا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ کچھ بولے، کچھ کہے، تاکہ میں اسے مزید نیچا دکھا سکوں۔ مگر وہ خاموش رہی۔
میں نے جیب سے سو کا نوٹ نکالا اور اس کے آگے پھینکا اور کہا لو یہ رکھو، ترس آ گیا تم پر۔
اس نے نوٹ اٹھایا، مجھے دیکھا، اور آہستہ سے واپس میری طرف بڑھا دیا۔ اس نے کہا شکریہ مگر مجھے ضرورت نہیں۔ پھر وہ ایک نئے گاہک کی طرف متوجہ ہو گئی۔
میں کچھ دیر کھڑا رہا اور پھر واپس گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ڈرائیور نے آئینے میں مجھے دیکھا مگر کچھ نہیں بولا۔ میں نے خود کو بتایا کہ مجھے اس عورت کی کوئی پرواہ نہیں۔ مگر اندر سے کچھ تھا جو مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔
گھر پہنچا تو رملہ وہاں نہیں تھی۔ ملازم نے بتایا کہ دوپہر کی پارٹی میں گئی تھیں، ابھی تک واپس نہیں آئیں۔ میرا خون کھولنے لگا۔ رات کے نو بج رہے تھے اور میری بیوی کہیں پارٹی میں تھی۔ میں نے فون کیا تو اس نے اٹھایا نہیں۔ دس بار کال کی، کوئی جواب نہیں۔
رات گیارہ بجے رملہ آئی تو چہرے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی۔ اس نے آتے ہی کہا کھانا لگواؤ بھوک لگی ہے۔ میں نے پوچھا کہاں تھیں اتنی دیر؟ اس نے کہا دوستوں کے ساتھ۔ میں نے کہا کیوں فون نہیں اٹھایا؟ اس نے کہا موڈ نہیں تھا۔
میں نے اس رات رملہ سے بہت بحث کی۔ وہ بولتی رہی، میں بولتا رہا۔ آخر میں اس نے کہا کاشف تم نے مجھ سے شادی کی ہے میری ماں سے نہیں، مجھ پر حکم نہیں چلا سکتے۔ اور وہ کمرے میں چلی گئی۔
اس رات میں ڈرائنگ روم میں اکیلا بیٹھا رہا۔ بڑا بنگلہ تھا، قیمتی فرنیچر تھا، مگر اندر سے ایک عجیب سا خالی پن تھا۔ میرے ذہن میں نمرہ کا چہرہ آیا، وہ سکون جو اس کی آنکھوں میں تھا جب اس نے میرا سو کا نوٹ واپس کیا تھا۔
اگلے کچھ ہفتے مزید مشکل گزرے۔ دفتر میں ایک فائل تھی جو میں نے پیسے لے کر دبا دی تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ معاملہ ختم ہو گیا مگر کسی نے اوپر تک بات پہنچا دی۔ ایک دن دفتر میں بیٹھا تھا کہ دو آدمی آئے اور کہا کاشف صاحب آپ کو ساتھ چلنا ہوگا۔ میں نے پوچھا کیوں؟ انہوں نے کہا کرپشن کا مقدمہ ہے۔
میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔
مجھے حوالات میں بند کر دیا گیا۔ ٹھنڈی سیل تھی، تنگ کمرہ تھا، باہر سے تالا لگا تھا۔ میں نے کانسٹیبل سے التجا کی کہ فون کرنے دو، مجھے رملہ سے بات کرنی ہے۔ آخر اجازت ملی تو میں نے لرزتے ہاتھوں سے رملہ کا نمبر ملایا۔ گھنٹی بجتی رہی مگر اس نے فون نہیں اٹھایا۔ میں نے دس بار کوشش کی مگر کوئی جواب نہیں آیا۔
اس رات حوالات میں بیٹھا میں نے پہلی بار اپنی زندگی کے بارے میں سوچا۔ سوچا کہ میں نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ اور نمرہ کا وہ چہرہ بار بار یاد آتا رہا۔
حوالات کی اس سرد رات میں پہلی بار مجھے اپنی آواز بھی اجنبی لگنے لگی۔ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا اور ذہن میں ایک ہی چہرہ گھوم رہا تھا، نمرہ کا۔ وہی خاموشی، وہی سکون، وہی نظر جو مجھے توڑ رہی تھی۔
صبح ہوئی تو مجھے عدالت لے جایا گیا۔ ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ میں، جس کے سامنے لوگ سر جھکاتے تھے، آج خود سر جھکائے کھڑا تھا۔ چند دنوں میں خبر پھیل گئی۔ اخباروں میں نام آیا، دفتر میں باتیں ہونے لگیں، اور سب سے بڑھ کر رملہ کا رویہ… وہ تو جیسے مجھے پہچانتی ہی نہیں تھی۔
میں نے ایک بار پھر اسے فون کیا، اس بار اس نے اٹھایا۔ میں نے کہا رملہ، مجھے تمہاری ضرورت ہے، ایک وکیل کرو، کچھ کرو۔ اس نے سرد لہجے میں جواب دیا، “کاشف، میں اس جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتی۔ ڈیڈی نے بھی منع کیا ہے۔ تم نے خود سب کیا ہے، اب خود ہی بھگتو۔” اور فون بند کر دیا۔
وہ لمحہ میرے لیے کسی سزا سے کم نہیں تھا۔ جس عورت کے لیے میں نے اپنا گھر برباد کیا، وہ آج مجھے پہچاننے سے انکار کر رہی تھی۔
چند دنوں بعد مجھے ضمانت مل گئی، مگر نوکری معطل ہو چکی تھی۔ لوگ جو کل تک سلام کرتے تھے، آج نظریں چراتے تھے۔ میں گھر واپس آیا تو بنگلہ ویسا ہی تھا، مگر سب کچھ بدل چکا تھا۔ رملہ اپنے کمرے میں تھی، مگر اس کے اور میرے درمیان ایک دیوار کھڑی ہو چکی تھی۔
میں کئی دن تک گھر میں بند رہا۔ نہ باہر جانے کا دل کرتا تھا نہ کسی سے ملنے کا۔ ایک دن اچانک میں نے گاڑی نکالی اور بغیر سوچے سمجھے شہر کی سڑکوں پر نکل گیا۔ نہ جانے کیوں گاڑی خود بخود انارکلی بازار کی طرف مڑ گئی۔
وہی جگہ… وہی ہجوم… اور وہی دری۔
نمرہ آج بھی وہیں بیٹھی تھی۔ مگر اس بار اس کے ساتھ دو بچے بھی تھے۔ وہی میرے بچے۔ وہ ہنس رہے تھے، کھیل رہے تھے، اور نمرہ ان کے ساتھ پیار سے بات کر رہی تھی۔ اس منظر نے میرے اندر کچھ توڑ دیا۔
میں آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔ اس نے مجھے دیکھا، مگر اس بار بھی اس کے چہرے پر کوئی خاص ردعمل نہیں تھا۔ جیسے میں اس کی زندگی کا ایک ختم ہو چکا باب ہوں۔
میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا، “نمرہ… کیسی ہو؟”
اس نے مختصر جواب دیا، “ٹھیک ہوں۔”
میں نے بچوں کی طرف دیکھا، “یہ… میرے بچے ہیں نا؟”
اس نے سر ہلایا، “ہاں، آپ کے ہی ہیں۔”
میری آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے کہا، “میں… میں ان سے بات کر سکتا ہوں؟”
اس نے کچھ لمحے مجھے دیکھا، جیسے پرکھ رہی ہو، پھر بچوں سے کہا، “بیٹا، سلام کرو۔”
بچوں نے معصومیت سے سلام کیا۔ میں نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا، مگر دل میں ایک عجیب سی شرمندگی تھی۔ میں ان کا باپ تھا، مگر ان کے لیے اجنبی تھا۔
میں نے آہستہ سے کہا، “نمرہ… میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا۔ مجھے معاف کر دو۔”
یہ الفاظ میرے لیے آسان نہیں تھے، مگر میں نے پہلی بار دل سے کہا تھا۔
نمرہ نے مجھے دیکھا، اس کی آنکھوں میں نہ نفرت تھی نہ محبت، بس ایک تھکن تھی۔ اس نے کہا، “کاشف صاحب، کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو معافی سے بھی نہیں بھرتے۔”
میں خاموش ہو گیا۔
اس نے بات جاری رکھی، “میں نے آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔ بس عزت چاہی تھی۔ وہ بھی نہیں ملی۔ اب میں نے خود کو سنبھال لیا ہے۔ اپنے بچوں کے ساتھ خوش ہوں۔”
میں نے بے بسی سے کہا، “کیا میں… واپس آ سکتا ہوں؟”
نمرہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔ اس نے اپنے بچوں کو دیکھا، پھر مجھے، اور آہستہ سے کہا، “کچھ راستے ایک بار چھوٹ جائیں تو واپس نہیں ملتے۔”
میرا دل جیسے ڈوب گیا۔ میں نے سر جھکا لیا اور خاموشی سے وہاں سے چل پڑا۔
اس دن میں نے پہلی بار سمجھا کہ اصل ہار کیا ہوتی ہے۔
نمرہ کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے، “کچھ راستے واپس نہیں ملتے…”
میں گاڑی چلا رہا تھا مگر مجھے راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہر طرف اندھیرا سا لگ رہا تھا، حالانکہ دن کی روشنی تھی۔
گھر پہنچا تو رملہ اپنے کمرے میں بیٹھی موبائل پر مصروف تھی۔ میں نے دروازے پر کھڑے ہو کر اسے دیکھا اور پہلی بار محسوس کیا کہ یہ وہ عورت نہیں جس کے لیے میں نے اپنی دنیا اجاڑی تھی۔
میں نے آہستہ سے کہا، “رملہ، ہمیں بات کرنی ہے۔”
اس نے بغیر میری طرف دیکھے کہا، “میں تھکی ہوئی ہوں، بعد میں بات کریں گے۔”
میں نے مضبوط لہجے میں کہا، “نہیں، ابھی بات ہوگی۔”
وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگی۔ شاید اسے پہلی بار میرے لہجے میں وہ غرور نہیں بلکہ سنجیدگی محسوس ہوئی۔
میں نے کہا، “یہ شادی اب نہیں چل سکتی۔”
وہ ہنس پڑی، “اوہ پلیز، ڈرامہ مت کرو۔”
میں نے صاف الفاظ میں کہا، “میں سنجیدہ ہوں۔ تم آزاد ہو۔ میں بھی آزاد ہوں۔”
کچھ لمحے کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ پھر اس نے کندھے اچکائے اور کہا، “ٹھیک ہے، جیسے تمہاری مرضی۔ ویسے بھی میں اس رشتے میں خوش نہیں تھی۔”
یہ سن کر مجھے حیرت نہیں ہوئی، بلکہ عجیب سا سکون ملا۔ جیسے ایک بوجھ اتر گیا ہو۔
چند ہفتوں میں ہماری علیحدگی ہو گئی۔ بنگلہ، گاڑی، سب کچھ میرے پاس تھا، مگر اب ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی تھی۔
میں نے ایک چھوٹا سا گھر لیا، سادہ زندگی شروع کی۔ نوکری تو جا چکی تھی، مگر میں نے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ شروع میں بہت مشکل ہوئی، مگر آہستہ آہستہ حالات بہتر ہونے لگے۔
مگر سب سے بڑا بدلاؤ میرے اندر آیا تھا۔
ایک دن میں پھر انارکلی گیا۔ دل میں کوئی غرور نہیں تھا، بس ایک خواہش تھی کہ دور سے ہی اپنے بچوں کو دیکھ لوں۔
نمرہ وہیں تھی، مگر اس بار اس کے ساتھ ایک اور عورت بھی بیٹھی تھی، شاید اس کی کوئی سہیلی۔ بچے ہنس رہے تھے، کھیل رہے تھے۔ نمرہ کے چہرے پر وہی سکون تھا، مگر اس سکون میں اب ایک مضبوطی بھی شامل ہو گئی تھی۔
میں دور کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔ دل چاہا کہ آگے بڑھوں، بات کروں، مگر پھر رک گیا۔
میں نے خود سے کہا، “یہ وہ زندگی ہے جو تم نے اس سے چھین لی تھی، اور اس نے خود دوبارہ بنا لی۔ تمہیں اب صرف دیکھنے کا حق ہے، لینے کا نہیں۔”
میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک کھلونا نکلا جو میں نے راستے سے خریدا تھا۔ میں نے ایک بچے کو اشارہ کیا اور کھلونا اسے دے دیا۔ بچے نے خوشی سے لے لیا اور نمرہ کی طرف دوڑ گیا۔
نمرہ نے کھلونا دیکھا، پھر ایک لمحے کے لیے میری طرف نظر اٹھائی۔ اس کی آنکھوں میں اس بار ایک ہلکی سی نرمی تھی… شاید ایک خاموش تسلیم، کہ میں بدل چکا ہوں۔
میں نے سر جھکا کر ایک قدم پیچھے ہٹا لیا۔
اس دن میں نے سیکھا کہ محبت زبردستی نہیں لی جا سکتی، عزت چھین کر نہیں حاصل کی جا سکتی، اور رشتے طاقت سے نہیں بلکہ دل سے جیتے جاتے ہیں۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کھویا، مگر ایک سبق سیکھ لیا۔
اور کبھی کبھی، یہی سبق انسان کی سب سے بڑی کامیابی بن جاتا ہے۔
Disclaimer:
یہ کہانی صرف تفریح اور سبق کے لیے ہے۔ اس کا حقیقی افراد یا کسی حقیقی واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کسی لفظ یا صورتحال میں مماثلت ہو تو وہ محض اتفاقیہ ہے۔

No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."