Emotional Story | Abba Ne Mujhe Badnaseeb Kaha | Judge Hairan Reh Gaya - Sachi Kahani Umair

Sachi Kahani Umair ek behtareen Urdu blog hai jahan aapko milengi asli zindagi se li gayi sachi kahaniyan, jin mein mohabbat, wafadari, dard aur jazbaat chhupe hain. Rozana naye topics aur dil ko choo lene wali kahaniyan sirf yahan.

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Monday, April 6, 2026

Emotional Story | Abba Ne Mujhe Badnaseeb Kaha | Judge Hairan Reh Gaya


 ابا نے مجھے بدنصیب کہا  زندگی کا حیران کن موڑ

تعارف 

یہ ایک ایسی دل کو چھو لینے والی کہانی ہے ایک بیٹی کی، جسے اس کے اپنے باپ نے بدنصیب کہہ کر ٹھکرا دیا۔ گھر کی محبت اور سہارا نہ ملنے کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری اور زندگی کے مشکل راستوں پر ثابت قدم رہی۔
وقت گزرتا گیا اور حالات نے ایسا رخ بدلا کہ وہی لڑکی اپنی محنت، صبر اور یقین کی بدولت ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی جہاں اس کی قدر نہ کرنے والے بھی حیران رہ گئے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر انسان ہمت اور امید کا دامن نہ چھوڑے تو ناممکن بھی ممکن بن سکتا ہے۔


میرا نام عائشہ ہے اور میری کہانی ایسی ہے جو شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ میری زندگی کی تلخ حقیقت ہے، میری پیدائش کے وقت سے ہی میری زندگی میں مصیبتیں شروع ہو گئیں، جب میں پیدا ہوئی تو میری والدہ نے مجھے دیکھ کر منہ موڑ لیا اور کہا کہ مجھے بیٹی نہیں چاہیے تھی، میرے والد نے میری والدہ کو بہت سمجھایا لیکن وہ نہیں مانیں، میری والدہ کا نام ثمینہ تھا اور وہ ایک بہت خوبصورت اور تعلیم یافتہ عورت تھیں، انہیں ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ ان کا پہلا بچہ بیٹا ہو لیکن جب میں پیدا ہوئی تو ان کی تمام امیدیں ٹوٹ گئیں، وہ مجھ سے نفرت کرنے لگیں اور میرے والد سے بھی ناراض رہنے لگیں۔
میرے والد کا نام جمیل تھا اور وہ راولپنڈی میں ایک چھوٹا سا کاروبار کرتے تھے، وہ ایک نیک دل انسان تھے اور مجھ سے بہت محبت کرتے تھے، لیکن میری والدہ کا رویہ دن بدن خراب ہوتا گیا، وہ مجھے دودھ نہیں پلاتیں، میری دیکھ بھال نہیں کرتیں، اور ہمیشہ میرے والد سے لڑتی رہتیں، میرے والد بہت پریشان رہتے تھے کیونکہ ایک طرف ان کی بیوی تھی اور دوسری طرف ان کی معصوم بیٹی، جب میں دو سال کی ہوئی تو میری والدہ نے میرے والد سے کہا کہ یا تو میں اس بچی کو کہیں بھیج دو یا پھر میں طلاق لے کر چلی جاؤں گی۔
میرے والد نے بہت منتیں کیں لیکن میری والدہ اپنی ضد پر اڑی رہیں، آخرکار میری والدہ نے طلاق لے لی اور دوسری شادی کر لی، انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لے جانے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ یہ بچی منحوس ہے، اس کی وجہ سے میری زندگی برباد ہو گئی، میرے والد بہت ٹوٹ گئے، انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کریں، ایک طرف ان کا کاروبار تھا اور دوسری طرف ان کی چھوٹی سی بچی جس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا، انہوں نے سوچا کہ شاید میری پھوپھو مجھے اپنے پاس رکھ لیں گی اور میری دیکھ بھال کر دیں گی۔
میری پھوپھو کا نام سلمیٰ تھا اور وہ راولپنڈی ہی میں رہتی تھیں، ان کا شوہر فوت ہو چکا تھا اور ان کے دو بیٹے تھے، بڑے بیٹے کا نام عدنان تھا اور چھوٹے کا نام احسان، میرے والد نے پھوپھو سے بات کی اور کہا کہ میں کاروبار کے سلسلے میں پردیس جا رہا ہوں، براہ کرم عائشہ کو اپنے پاس رکھ لیں، میں پیسے بھیجتا رہوں گا، پھوپھو نے پہلے تو انکار کیا لیکن جب میرے والد نے ان سے منتیں کیں تو وہ مان گئیں، میرے والد نے مجھے پھوپھو کے حوالے کیا اور پردیس چلے گئے، وہ دبئی چلے گئے اور وہاں کام کرنے لگے، پہلے چند مہینے تو وہ مجھے فون کرتے رہے اور پیسے بھیجتے رہے لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کے فون کم ہوتے گئے۔
پھوپھو نے شروع میں تو میرا خیال رکھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کا رویہ بدلتا گیا، وہ مجھ سے نفرت کرنے لگیں اور مجھے ہر وقت کام میں لگائے رکھتیں، میں صبح سے شام تک برتن دھوتی، کپڑے دھوتی، گھر کی صفائی کرتی، لیکن کبھی کوئی تعریف نہیں ملتی، پھوپھو کے بیٹے بھی مجھے نوکرانی کی طرح سمجھتے تھے، جب میں دس سال کی ہوئی تو میرے والد کا فون آنا بالکل بند ہو گیا، پھوپھو نے کہا کہ تمہارے والد نے تمہیں چھوڑ دیا ہے، اب تم میرے پاس رہو گی اور میرا کام کرو گی، میں بہت روئی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی، پھوپھو کا ظلم بڑھتا گیا، وہ مجھے مارتیں، گالیاں دیتیں، اور کھانا بھی ٹھیک سے نہیں دیتیں، میں اسکول نہیں جا سکتی تھی، نہ کوئی دوست تھا، نہ کوئی خوشی، بس روز کا کام اور ظلم، جب میں پندرہ سال کی ہوئی تو مجھے احساس ہونے لگا کہ پھوپھو کا بڑا بیٹا عدنان مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا ہے، وہ جب بھی گھر میں ہوتا تو میرے قریب آنے کی کوشش کرتا، میں اس سے بچنے کی کوشش کرتی لیکن وہ پیچھا نہیں چھوڑتا تھا، میں نے پھوپھو کو بتانے کی کوشش کی لیکن وہ مجھ پر ہی چلائیں اور کہا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو، میرا بیٹا ایسا نہیں کر سکتا۔
جب میں سترہ سال کی ہوئی تو ایک رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے میری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی، اس رات پھوپھو اور احسان کسی شادی میں گئے ہوئے تھے اور گھر میں صرف میں اور عدنان تھے، میں اپنے کمرے میں سو رہی تھی کہ اچانک عدنان نے میرے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر آ گیا، میں گھبرا گئی اور اٹھ کر بیٹھ گئی، میں نے پوچھا کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور میرے قریب آنے لگا۔
میں نے عدنان سے کہا کہ تم پیچھے ہٹ جاؤ، یہ کیا کر رہے ہو؟ لیکن اس نے میری بات نہیں سنی اور زبردستی میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں نے چیخنے کی کوشش کی لیکن اس نے میرا منہ بند کر دیا، میں نے بہت مزاحمت کی، بہت لڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بہت طاقتور تھا، اس رات عدنان نے میرے ساتھ زیادتی کی اور میری عزت لوٹ لی، میں بہت روئی، بہت چیخی لیکن کوئی نہیں آیا، جب وہ گیا تو میں وہیں فرش پر پڑی رہی، میرا پورا جسم درد میں تھا، میری روح مر چکی تھی، میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ میں کیا کروں، کہاں جاؤں۔
صبح جب پھوپھو واپس آئیں تو میں نے ان سے سب کچھ بتانے کی کوشش کی، میں نے روتے ہوئے کہا کہ پھوپھو، عدنان نے میرے ساتھ زبردستی کی، اس نے میری عزت لوٹ لی، لیکن پھوپھو نے میری بات سننے کے بجائے مجھے تھپڑ مارا اور کہا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو، تم نے میرے بیٹے کو پھنسانے کی کوشش کی ہے، تم بدکردار ہو، میں نے بہت منتیں کیں، بہت روا، لیکن پھوپھو نے میری ایک نہیں سنی، انہوں نے عدنان سے پوچھا تو اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ یہ لڑکی میرے پیچھے پڑی ہے، میں نے اسے منع کیا لیکن یہ نہیں مانی۔
پھوپھو نے مجھے بہت مارا اور کہا کہ تم نے میرے گھر کی عزت مٹی میں ملا دی، تم منحوس ہو، تمہاری وجہ سے میرے بیٹے کی بدنامی ہو رہی ہے، پھر انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا، انہوں نے کہا کہ یہاں سے چلی جاؤ اور دوبارہ کبھی واپس مت آنا، میں نے کہا کہ پھوپھو، میں کہاں جاؤں؟ میرے پاس کوئی نہیں ہے، لیکن انہوں نے مجھے زبردستی گھر سے باہر دھکا دے دیا اور دروازہ بند کر دیا، میں باہر سڑک پر کھڑی رو رہی تھی، میرے پاس نہ پیسے تھے، نہ کوئی سامان، نہ کوئی جگہ جہاں جا سکوں۔
میں نے سوچا کہ میں اپنی والدہ کے پاس جاؤں لیکن مجھے یاد آیا کہ انہوں نے تو مجھے چھوڑ دیا تھا، پھر میں نے سوچا کہ میں اپنے والد کو ڈھونڈوں لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ کہاں ہیں، میں بے سہارا تھی، بے یار و مددگار تھی، میں سڑکوں پر بھٹکتی رہی، کبھی کسی مسجد میں بیٹھ جاتی، کبھی کسی پارک میں، لوگ مجھے دیکھتے اور عجیب نظروں سے دیکھتے، کچھ لوگوں نے مجھے کھانا دیا، کچھ نے پیسے دیے لیکن کوئی بھی مجھے اپنے گھر نہیں لے گیا کیونکہ میں اکیلی لڑکی تھی اور لوگوں کو شک ہوتا تھا۔
کئی دن ایسے ہی گزر گئے، میں بھوکی پیاسی سڑکوں پر بھٹکتی رہی، ایک دن میں ایک پارک میں بیٹھی رو رہی تھی اور اللہ سے پوچھ رہی تھی کہ یا اللہ، تو نے میری حفاظت کیوں نہیں کی؟ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ میں نے کیا گناہ کیا تھا؟ میں منحوس کیوں ہوں؟ میں مرنا چاہتی ہوں، براہ کرم مجھے مار دے، میں نے بہت دعا کی کہ اللہ مجھے موت دے دے کیونکہ اب میری زندگی میں کچھ باقی نہیں رہا تھا، میری عزت چلی گئی تھی، میرا گھر چلا گیا تھا، میرا سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔
تبھی اچانک ایک بڑی گاڑی پارک کے باہر آ کر رکی، یہ ایک بہت مہنگی گاڑی تھی، میں نے دیکھا کہ گاڑی سے ایک بزرگ آدمی نیچے اترا، وہ تقریباً ساٹھ سال کا ہوگا، اس کی شکل بہت وقار والی تھی، اس نے سوٹ پہنا ہوا تھا اور اس کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو اس کے محافظ لگ رہے تھے، وہ شخص پارک میں ٹہلنے آیا تھا، جب اس کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ رک گیا، اس نے مجھے دیکھا تو اس کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے، پھر وہ میری طرف آنے لگا۔
میں گھبرا گئی اور پیچھے ہٹنے لگی لیکن وہ شخص میرے قریب آیا اور بہت غور سے مجھے دیکھنے لگا، پھر اچانک وہ میرے قدموں میں گر گیا، میرا تو دماغ چکرا گیا، میں سمجھ نہیں پائی کہ یہ کیا ہو رہا ہے، یہ بزرگ آدمی میرے قدموں میں کیوں گرا ہے؟ اس کے محافظ بھی حیران تھے، انہوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن اس نے انہیں روک دیا۔
بزرگ شخص میرے قدموں میں گرا ہوا تھا اور زار و قطار رو رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ میری بیٹی، میری بیٹی، میں نے آخرکار تمہیں ڈھونڈ لیا، میں حیران تھی، میں نے کہا کہ آپ کون ہیں؟ آپ مجھے کیوں اپنی بیٹی کہہ رہے ہیں؟ اس نے مجھے دیکھا اور کہا کہ کیا تم عائشہ ہو؟ کیا تمہارے والد کا نام جمیل ہے؟ میں نے حیرت سے کہا کہ ہاں، لیکن آپ کو کیسے پتہ؟ اس نے کہا کہ میں تمہارے والد کا بہترین دوست ہوں، میرا نام جسٹس اکرام ہے اور میں ہائی کورٹ کا جج ہوں۔
میں مزید حیران ہوئی، میں نے پوچھا کہ لیکن آپ میرے قدموں میں کیوں گرے؟ جسٹس اکرام نے کہا کہ کیونکہ میں نے تمہارے والد سے وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ ہو جائے تو میں ان کی بیٹی کا خیال رکھوں گا، تمہارے والد میرے بہترین دوست تھے، ہم بچپن سے ساتھ تھے، جب تمہارے والد دبئی گئے تو انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ اکرام، اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میری بیٹی کا خیال رکھنا، میں نے وعدہ کیا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ یہ آخری بات ہوگی۔
جسٹس اکرام نے بتایا کہ تمہارے والد دو سال پہلے دبئی میں ایک حادثے میں فوت ہو گئے، جب مجھے یہ خبر ملی تو میں نے تمہیں ڈھونڈنا شروع کیا، میں نے تمہاری پھوپھو کے گھر جا کر پوچھا لیکن انہوں نے کہا کہ عائشہ تو بہت پہلے یہاں سے چلی گئی، ہمیں نہیں پتہ وہ کہاں ہے، میں نے بہت تلاش کیا، پولیس میں رپورٹ کروائی، لیکن تم نہیں ملیں، آج اچانک تمہیں یہاں دیکھ کر میں نے تمہارے والد کو پہچان لیا کیونکہ تم بالکل اپنے والد کی طرح لگ رہی ہو۔
میں یہ سب سن کر بہت روئی، میں نے جسٹس اکرام کو اپنی پوری کہانی سنائی کہ میرے ساتھ کیا ہوا، پھوپھو نے کیسا ظلم کیا، عدنان نے میری عزت کیسے لوٹی، اور پھوپھو نے مجھے گھر سے کیسے نکالا، جسٹس اکرام یہ سب سن کر بہت غصے میں آ گئے، انہوں نے کہا کہ میری بیٹی، اب تم فکر نہ کرو، میں تمہارے ساتھ ہوں، میں ان لوگوں کو سزا دلواؤں گا، تم میرے ساتھ چلو، انہوں نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اپنے گھر لے گئے۔
جسٹس اکرام کا گھر بہت بڑا اور خوبصورت تھا، انہوں نے اپنی بیوی کو بلایا اور کہا کہ یہ عائشہ ہے، میرے دوست جمیل کی بیٹی، اب یہ ہماری بیٹی ہے، ان کی بیوی بیگم فرحانہ نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ بیٹی، اب تم ہمارے ساتھ رہو گی، ہم تمہارا خیال رکھیں گے، انہوں نے مجھے نہلایا، نئے کپڑے دیے، کھانا کھلایا، اور ایک خوبصورت کمرہ دیا، میں نے زندگی میں پہلی بار اتنی محبت محسوس کی، میں بہت روئی لیکن یہ خوشی کے آنسو تھے۔
اگلے دن جسٹس اکرام نے پولیس کو بلایا اور میری شکایت درج کروائی، انہوں نے پھوپھو اور عدنان کے خلاف کیس کروایا، پولیس نے عدنان کو گرفتار کر لیا، عدنان نے پہلے تو انکار کیا لیکن جب ثبوت سامنے آئے تو اس نے اعتراف کر لیا، عدالت نے اسے دس سال قید کی سزا سنائی، پھوپھو کو بھی سزا ملی کیونکہ انہوں نے مجھے گھر سے نکالا اور میری مدد نہیں کی، جسٹس اکرام نے میرے والد کی جائیداد بھی واپس دلوائی جو پھوپھو نے ہتھیا لی تھی۔

جسٹس اکرام اور بیگم فرحانہ نے مجھے اپنی بیٹی کی طرح پالا، انہوں نے مجھے سکول میں داخل کروایا، میں نے اپنی تعلیم مکمل کی، پھر انہوں نے مجھے کالج بھجوایا، میں نے بہت محنت کی اور اچھے نمبروں سے پاس ہوئی، جسٹس اکرام ہمیشہ کہتے تھے کہ عائشہ، تم منحوس نہیں ہو، تم ایک بہادر لڑکی ہو، تمہارے ساتھ جو ہوا وہ تمہاری غلطی نہیں تھی، اب تم آگے بڑھو اور اپنی زندگی بناؤ، ان کی باتوں نے مجھے بہت حوصلہ دیا، میں نے فیصلہ کیا کہ میں وکیل بنوں گی تاکہ جن لڑکیوں کے ساتھ میری طرح ظلم ہوا ہے ان کی مدد کر سکوں۔
میں نے لاء کالج میں داخلہ لیا اور بہت محنت سے پڑھائی کی، جسٹس اکرام نے مجھے ہر قدم پر سپورٹ کیا، انہوں نے مجھے قانون سکھایا، عدالتوں کے بارے میں بتایا، اور کیسز کی تیاری میں مدد کی، میں نے اپنی ڈگری مکمل کی اور ایک وکیل بن گئی، میں نے اپنا پہلا کیس ایک ایسی لڑکی کا لڑا جس کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، میں نے پوری طاقت سے اس کیس کو لڑا اور جیت گئی، اس دن جسٹس اکرام نے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ مجھے تم پر فخر ہے۔
آج میں ایک کامیاب وکیل ہوں، میں نے سینکڑوں لڑکیوں کی مدد کی ہے جن کے ساتھ ظلم ہوا تھا، میں نے ان کے لیے انصاف حاصل کیا، جسٹس اکرام اور بیگم فرحانہ نے میری شادی بھی ایک بہت اچھے گھرانے میں کر دی، میرا شوہر ایک ڈاکٹر ہے اور وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے، آج میرے دو پیارے بچے ہیں اور میں بہت خوش ہوں، جسٹس اکرام میرے لیے میرے والد سے بڑھ کر ہیں، انہوں نے مجھے اس وقت سہارا دیا جب میرے پاس کوئی نہیں تھا۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ ہر مصیبت کے ساتھ آسانی بھی بھیجتا ہے، جب میں سب سے زیادہ مایوس تھی، جب میں موت مانگ رہی تھی، تب اللہ نے جسٹس اکرام کو میری مدد کے لیے بھیجا، اللہ نے میری حفاظت کی، اس نے مجھے ایک نیا گھر دیا، نئے ماں باپ دیے، اور ایک نئی زندگی دی، میں کبھی منحوس نہیں تھی، یہ صرف لوگوں کی سوچ تھی، آج میں دوسری لڑکیوں کو بتاتی ہوں کہ تم منحوس نہیں ہو، تم طاقتور ہو، اگر تمہارے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو یہ تمہاری غلطی نہیں ہے، اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
اختتام - اللہ ہر مصیبت کے ساتھ آسانی بھیجتا ہے، کبھی ہمت نہ ہارو۔

Disclaimer

یہ کہانی صرف تعلیمی اور تفریحی مقصد کے لیے لکھی گئی ہے۔
اس کہانی کا کسی بھی حقیقی شخص، واقعہ یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کہانی میں بیان کیے گئے کردار اور واقعات فرضی ہیں۔
مقصد صرف مثبت سوچ، حوصلہ اور امید کو فروغ دینا ہے۔

No comments:

Post a Comment

"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."

Post Bottom Ad