شوہر کے بعد ماں اکیلی رہ گئی
میں آج بھی اس دن کو یاد کرتی ہوں تو میرا دل کانپ جاتا ہے، شوہر کے مرنے کے بعد زندگی جیسے ایک لمحے میں اجڑ گئی تھی، گھر جو کبھی قہقہوں سے بھرا رہتا تھا اچانک ویران ہو گیا، اور میں جو ساری عمر دوسروں کے سہارے بنی رہی، ایک دم بے سہارا ہو گئی تھی۔ میں پینتالیس برس کی عورت تھی، تین بچوں کی ماں، دو جوان بیٹے اور ایک بیٹی، شوہر کے بعد یہی میرا کل اثاثہ تھے، یہی میری دنیا تھے، مگر مجھے کیا خبر تھی کہ یہی اولاد ایک دن مجھے بازار کی چیز سمجھ لے گی۔
شوہر کے انتقال کے چند ہی مہینوں بعد گھر میں قرضوں کی باتیں شروع ہو گئیں، بیٹے دن رات حساب کتاب میں لگے رہتے، کبھی بینک کا ذکر، کبھی لوگوں کی دھمکیاں، اور میں خاموشی سے سب سنتی رہتی، دل ہی دل میں دعا کرتی کہ اللہ کوئی راستہ نکال دے، مگر ایک دن جو بات میرے کانوں میں پڑی اس نے میری روح تک کو زخمی کر دیا۔ میرے دونوں بیٹے میرے سامنے کھڑے تھے، آنکھوں میں شرمندگی کم اور مجبوری کا ڈھونگ زیادہ تھا، کہنے لگے، “اماں، حالات بہت خراب ہیں، اگر آپ ہماری بات مان لیں تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔”
میں نے گھبرا کر پوچھا کہ آخر وہ بات کیا ہے، تو انہوں نے نظریں جھکا لیں، پھر آہستہ آہستہ ایک ایسا فیصلہ میرے سامنے رکھ دیا جس نے میری سانسیں روک دیں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ایک اجنبی آدمی سے نکاح کر لوں، صرف اس لیے کہ وہ آدمی ہمیں دو لاکھ روپے دینے کو تیار تھا۔ میں نے رو رو کر انہیں سمجھایا، ماں ہونے کا واسطہ دیا، اپنی عزت، اپنی عمر، اپنی بے بسی کا حوالہ دیا، مگر ان کے دل جیسے پتھر ہو چکے تھے۔ وہ بار بار ایک ہی بات دہراتے رہے کہ “اماں، مرنے سے پہلے ہمارے کام آ جاؤ، قرض بہت ہے، ورنہ سب سڑک پر آ جائیں گے۔”
وہ آدمی مجھ سے عمر میں خاصا چھوٹا تھا، کوئی تیس برس کا ہوگا، مگر دولت مند تھا، اور شاید اسی دولت نے میرے بیٹوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔ میں اندر ہی اندر ٹوٹ چکی تھی، مگر حالات نے مجھے اس موڑ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں انکار کی ہمت بھی نہیں بچی تھی۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ عورت کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جہاں وہ جیتے جی مر جاتی ہے، بس سانسیں چلتی رہتی ہیں۔
نکاح کا دن آیا تو گھر میں عجیب سی خاموشی تھی، کوئی خوشی نہیں، کوئی دعائیں نہیں، بس رسمی چہرے اور بے جان نگاہیں۔ میں نے دل ہی دل میں اللہ کو پکارا اور خود کو اس کے حوالے کر دیا۔ نکاح کے بعد وہ آدمی مجھے اپنے گھر لے گیا، مگر قسمت نے شاید اسی لمحے کوئی اور ہی فیصلہ لکھ رکھا تھا۔ ہم ابھی گھر پہنچے ہی تھے کہ وہ اچانک زمین پر گر پڑا، لوگ جمع ہو گئے، شور مچ گیا، اور چند لمحوں میں ڈاکٹر نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ دل کا دورہ پڑا تھا، اچانک، بغیر کسی مہلت کے۔
میں ساکت کھڑی رہ گئی، نہ آنسو نکلے، نہ چیخ، بس ایک سنّاٹا میرے اندر اتر گیا، اور اسی سنّاٹے میں میری زندگی کا سب سے بڑا راز آہستہ آہستہ کھلنے والا تھا، جس کا اندازہ مجھے اس لمحے بالکل نہیں تھا۔
اس آدمی کی اچانک موت نے جیسے سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا تھا، میں ابھی صدمے سے نکل بھی نہ پائی تھی کہ اس کے گھر والوں نے مجھے اجنبی نظروں سے گھیر لیا، کسی کی آنکھوں میں ہمدردی نہیں تھی، کسی کے لہجے میں اپنائیت نہیں تھی، سب مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے میں کوئی بوجھ ہوں جو زبردستی ان کے دروازے پر آ گرا ہو۔ چند گھنٹوں میں پولیس آ گئی، کاغذی کارروائی ہوئی، سوال جواب ہوئے، اور میں خاموشی سے سب کچھ دیکھتی رہی، میرے اندر ایک عجیب سا خوف پل رہا تھا کہ اب میرے ساتھ کیا ہوگا۔
اگلے ہی دن اس کے خاندان نے صاف لفظوں میں مجھے بتا دیا کہ اس موت سے ان کا میرا کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی وہ مجھے اپنے گھر میں رکھنے کے پابند ہیں، انہوں نے میرے ہاتھ میں چند ہزار روپے تھمائے اور کہا کہ اپنے بچوں کے پاس واپس چلی جاؤ، ان کا کہنا تھا کہ چونکہ نکاح کو چند گھنٹے ہی ہوئے تھے اس لیے وہ کسی ذمہ داری کو قبول نہیں کریں گے۔ میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی، مگر آواز حلق میں ہی دب کر رہ گئی، شاید اس لیے کہ مجھے خود بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں اب کس رشتے سے کس دروازے پر جا رہی ہوں۔
جب میں اپنے بیٹوں کے گھر پہنچی تو مجھے یقین تھا کہ اب وہ مجھے سینے سے لگا لیں گے، پچھتاوے کے آنسو بہائیں گے، مگر وہاں ایک اور ہی منظر میرا منتظر تھا۔ دونوں بیٹے دروازے پر کھڑے تھے، ان کے چہروں پر حیرت کم اور الجھن زیادہ تھی، جیسے میری واپسی ان کے منصوبوں پر پانی پھیر گئی ہو۔ میں نے اندر قدم رکھا تو بہوؤں کے چہرے سخت ہو گئے، کسی نے سلام کا جواب تک نہ دیا، اور میرے بیٹھنے کے لیے بھی جگہ خالی نہ کی گئی۔
شام ہوتے ہی وہی تلخ باتیں دوبارہ شروع ہو گئیں، بیٹے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر سرگوشیاں کرتے رہے، پھر ایک نے ہمت کر کے کہا کہ چونکہ اب وہ آدمی مر چکا ہے، اس لیے جو رقم ملنی تھی وہ بھی پوری نہیں ملی، اور قرض ویسے ہی سر پر کھڑا ہے۔ ان کے لہجے میں افسوس نہیں تھا، بس ایک حساب تھا جو پورا نہیں ہوا تھا۔ میں نے پہلی بار اس لمحے محسوس کیا کہ میرے بچے مجھے ماں نہیں، ایک سودے کی ناکام چیز سمجھ رہے ہیں۔
اگلے چند دنوں میں میرے لیے زندگی اور بھی مشکل ہو گئی، گھر کے کام مجھ پر ڈال دیے گئے، بات بات پر طعنے سننے کو ملتے، بہوئیں مجھے یوں حکم دیتیں جیسے میں اس گھر کی نوکرانی ہوں، اور بیٹے خاموش رہ کر سب کچھ ہوتا دیکھتے رہے۔ راتوں کو میں جاگ جاگ کر سوچتی رہتی کہ کیا واقعی یہی میری تقدیر تھی، کیا ماں بننا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی سزا یوں دی جائے۔
ان ہی دنوں ایک اور انکشاف نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا، مجھے پتا چلا کہ جس آدمی سے میرا نکاح کروایا گیا تھا، اس کی موت کوئی اتفاق نہیں تھی بلکہ اس کے دل کے شدید مرض کا سب کو علم تھا، سوائے مجھے۔ یہ جان کر میرے دل میں ایک آگ سی لگ گئی، مجھے احساس ہوا کہ میں صرف قربانی نہیں تھی، بلکہ ایک سوچی سمجھی چال کا حصہ تھی، اور ابھی اس کہانی کا سب سے کڑا امتحان آنا باقی تھا۔
یہ حقیقت جان لینے کے بعد کہ مجھے جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھا گیا تھا، میرے اندر جیسے سب کچھ بکھر کر رہ گیا، میں گھنٹوں خاموش بیٹھی دیوار کو دیکھتی رہی، میرے کانوں میں اپنے ہی دل کی دھڑکن شور مچا رہی تھی، اور ذہن بار بار ایک ہی سوال دہرا رہا تھا کہ آخر میں نے کس کا کیا بگاڑا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کا حق نہیں مارا تھا، پھر کیوں مجھے ایک ایسے انجام کی طرف دھکیل دیا گیا جہاں عزت، اعتماد اور سچ سب ایک ساتھ دفن ہو گئے تھے۔
میں نے ہمت کر کے بیٹوں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا، شاید ماں کی بات اب بھی ان کے دل کو چھو جائے، میں نے انہیں بتایا کہ مجھے اس آدمی کی بیماری کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا، اور میں اس فیصلے کا حصہ نہیں تھی، مگر میرے الفاظ دیوار سے ٹکرا کر واپس آ گئے۔ ایک بیٹے نے سخت لہجے میں کہا کہ اب یہ باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، جو ہو گیا وہ ہو گیا، ہمیں آگے کا سوچنا ہے، اس کے لہجے میں ماں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، بس ایک مسئلہ تھا جسے کسی نہ کسی طرح نمٹانا تھا۔
اسی دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں اس گھر میں غیر ضروری ہو چکی ہوں، میری موجودگی کسی کو خوشی نہیں دیتی تھی، بلکہ ہر وقت ایک بوجھ کی طرح محسوس کروائی جاتی تھی۔ صبح سویرے اٹھ کر کام کرنا، سب کے نخرے برداشت کرنا، اور رات کو خاموشی سے اپنے آنسو تکیے میں جذب کر لینا میری روزمرہ کی عادت بن گئی۔ کبھی کبھی دل چاہتا کہ چیخ کر سب کو بتاؤں کہ میں بھی ایک انسان ہوں، مگر آواز ہمیشہ اندر ہی دب کر رہ جاتی۔
ایک شام میں صحن میں بیٹھی کپڑے تہہ کر رہی تھی کہ میں نے بہوؤں کی سرگوشیاں سن لیں، وہ کہہ رہی تھیں کہ اگر یہ عورت یہاں نہ ہو تو گھر کے خرچے بھی کم ہو جائیں اور سکون بھی آ جائے، ان کے لفظ میرے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے۔ اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ اب خاموش رہنا میری سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے، اور اگر میں نے خود کو نہ سنبھالا تو یہ لوگ مجھے اندر سے بالکل توڑ دیں گے۔
اسی رات میں نے پہلی بار اپنے لیے سوچا، میں نے فیصلہ کیا کہ میں اب اس ذلت کو اپنی قسمت نہیں مانوں گی، چاہے حالات جیسے بھی ہوں، میں خود کو دوبارہ کھڑا کرنے کی کوشش ضرور کروں گی۔ میں جانتی تھی کہ راستہ آسان نہیں ہوگا، عمر، حالات اور تنہائی سب میرے خلاف تھے، مگر میرے اندر کہیں نہ کہیں ایک چنگاری اب بھی زندہ تھی جو مجھے ہار ماننے نہیں دے رہی تھی۔
مجھے یہ بھی اندازہ تھا کہ اس فیصلے کی قیمت مجھے مزید طعنے، مزید تنہائی اور شاید اس گھر سے نکالے جانے کی صورت میں چکانی پڑے گی، مگر اب میں خوف کے سائے میں جینا نہیں چاہتی تھی۔ اس کہانی کا سب سے اہم موڑ آ چکا تھا، اور مجھے یقین تھا کہ اگلا قدم میری زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
اس رات میں نے دیر تک نیند کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے رکھیں، ماضی کی تصویریں ایک ایک کر کے میرے ذہن کے پردے پر ابھر رہی تھیں، بچپن کی محرومیاں، اپنوں کی بے حسی، اور وہ سب زخم جو میں نے صرف اس لیے چھپا لیے تھے کہ دنیا مجھے کمزور نہ سمجھے۔ مگر اب میں تھک چکی تھی، اندر سے بالکل ٹوٹ چکی تھی، اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں نے اب بھی اپنے حق کے لیے قدم نہ اٹھایا تو میری سانسیں تو چلتی رہیں گی مگر میں زندہ نہیں رہوں گی۔
صبح ہوتے ہی میں نے ایک فیصلہ کر لیا، ایسا فیصلہ جس نے میرے ہاتھ کانپنے پر مجبور کر دیے، مگر دل کو عجیب سا سکون بھی دیا۔ میں نے گھر کے سب لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور پہلی بار بغیر روئے، بغیر گڑگڑائے، صاف اور مضبوط لہجے میں بات کی۔ میں نے کہا کہ میں اب اس ذلت کے ساتھ نہیں جی سکتی، میں نے ساری زندگی اپنوں کے لیے قربانیاں دیں، مگر بدلے میں صرف شک، بے قدری اور خاموش سازشیں ملیں۔ میرے الفاظ سن کر سب خاموش ہو گئے، شاید انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ جسے وہ کمزور سمجھتے رہے، وہ اندر سے کتنا مضبوط ہے۔
میں نے اس گھر کو چھوڑنے کا اعلان کیا تو فضا میں ایک عجیب سا سناٹا چھا گیا، کسی نے روکنے کی کوشش نہ کی، کسی نے یہ نہ کہا کہ رک جاؤ، یہی وہ لمحہ تھا جس نے میرے دل پر آخری مہر ثبت کر دی۔ میں خاموشی سے اپنا چھوٹا سا بیگ اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی، ہر قدم کے ساتھ دل بھاری ہوتا جا رہا تھا، مگر پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہیں تھی، کیونکہ میں جانتی تھی کہ اگر میں نے ایک بار بھی پیچھے دیکھا تو شاید خود کو سنبھال نہ سکوں۔
نئی جگہ، نیا کمرہ، اور تنہائی نے میرا استقبال کیا، شروع کے دن بہت مشکل تھے، کبھی کھانا نصیب ہوتا تو کبھی نہیں، کبھی امید ساتھ دیتی تو کبھی آنسو۔ مگر اسی جدوجہد میں مجھے خود سے محبت کرنا آ گئی، میں نے سیکھ لیا کہ اپنے لیے جینا کیا ہوتا ہے، میں نے چھوٹے چھوٹے کام شروع کیے، لوگوں کی مدد کی، اور آہستہ آہستہ میرے وجود کو ایک نئی پہچان ملنے لگی۔
وقت نے ثابت کر دیا کہ جو لوگ ظلم پر خاموش رہتے ہیں وہ کمزور نہیں ہوتے، بس صبر کرتے ہیں، اور جب وہ صبر ٹوٹتا ہے تو ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے۔ آج میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو دل میں شکوہ کم اور شکر زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ اگر وہ درد نہ ہوتا تو شاید میں خود کو کبھی نہ پہچان پاتی۔
اس کہانی کا نچوڑ یہی ہے کہ رشتے خون سے نہیں، رویّوں سے پہچانے جاتے ہیں، اور جو عورت یا انسان اپنے حق کے لیے کھڑا ہو جائے، اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ میری کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہیں سے میری اصل زندگی شروع ہوئی، ایک ایسی زندگی جہاں میں صرف زندہ نہیں ہوں، بلکہ باوقار طریقے سے جی رہی ہوں۔


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."