جب محبت ایک سزا بن گئی
تعارف
کبھی وہی احساس جو سکون دیتا ہے، وقت کے ساتھ دل پر بوجھ بن جاتا ہے۔ انسان جب کسی سے سچی چاہت رکھتا ہے تو وہ اس کے لیے سب کچھ برداشت کرنے کو تیار ہو جاتا ہے، لیکن بعض حالات ایسے رخ اختیار کر لیتے ہیں کہ یہی چاہت تکلیف میں بدلنے لگتی ہے۔ اس کہانی میں جذبات کے اسی بدلتے ہوئے سفر کو بیان کیا گیا ہے، جہاں امید آہستہ آہستہ آزمائش میں ڈھل جاتی ہے۔ یہ تحریر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دل کے معاملات میں حد اور توازن کیوں ضروری ہوتا ہے۔
محبت کبھی کبھی انسان کے لیے مشکلات اور آزمائشیں لے کر آتی ہے۔
یہ کہانی شوہر اور بیوی کے جذبات، قربانی اور دل کو چھو لینے والے لمحات کی سچی داستان ہے۔
میرا نام ریحان ملک ہے۔ میں حیدرآباد کے ایک امیر اور بااثر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ باپ بزنس مین، ماں ایک بڑی NGO چلاتی تھی۔ زندگی میں کمی کسی چیز کی نہیں تھی—بس کمی تھی احساس کی۔ میں وہ لڑکا تھا جسے “بگڑی ہوئی اولاد” کہنا غلط نہ ہوتا۔ میرے اشارے پر لوگ دوڑ پڑتے، اور کالج میں میرا رعب ایسا تھا کہ کوئی لڑکی میری طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کرتی تھی۔
لیکن پھر ایک دن سب کچھ بدل گیا۔
کالج کے آرٹ فیسٹیول میں ایک نئی لڑکی داخل ہوئی، سادہ سا لباس، ہاتھوں میں فائل، نظریں جھکی ہوئی، مگر چہرے پر عجب وقار۔ اس کا نام ہنزلہ کی زبان پر آیا—“اس کا نام زویا ہے، گاؤں سے آئی ہے پڑھنے، غریب گھر کی لگتی ہے۔”
پہلی نظر میں وہ میری انا پر لگ گئی۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا، “یہ لڑکی تو میرے آگے جھکے بغیر نہیں رہے گی۔”
میں نے اسے دوستی کی آفر دی۔ اس نے نظریں اٹھا کر بس اتنا کہا،
“آپ جیسے لوگ دوستی نہیں کرتے، کھیلتے ہیں۔ اور میں کسی کا کھیل نہیں بنوں گی۔”
اس کے الفاظ میرے سینے میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے۔
میرے دوست ہنسنے لگے، “ریحان ملک کو کسی نے انکار کر دیا؟”
وہ ہنسی میری غیرت کو آگ لگا گئی۔ میں نے فیصلہ کیا، اب یہ لڑکی میری انا کی تسکین بنے گی۔
میں نے اس کے اردگرد جال بچھا دیا۔ اپنی اداکاری، ہمدردی، اور بناؤٹی شرم سے اسے اپنی طرف مائل کیا۔
اور پھر ایک دن، وہ لمحہ آیا جب زویا نے مجھ پر اعتماد کر لیا۔ میں نے نکاح کا ڈھونگ رچایا، سب کو دکھانے کے لیے ویڈیو بھی بنائی۔
لیکن وہ نکاح صرف ایک “بدلے” کا حصہ تھا۔
میں نے ایک رات اسے استعمال کیا، اور اگلی صبح اس کے دروازے پر ایک چیک اور طلاق نامہ چھوڑ کر شہر چھوڑ دیا۔
زویا کی آنکھوں میں جو بے بسی تھی، وہ آج بھی مجھے خواب میں ڈراتی ہے۔
میں لندن چلا گیا۔
پانچ سال وہاں گزارے—کاروبار، پارٹیاں، اور نئے تعلقات۔ مگر سکون؟ وہ کبھی نہ ملا۔
پانچ سال بعد جب واپس لوٹا، تو میرے ساتھ میری دوسری بیوی عالیہ تھی۔
میری حویلی کے گیٹ پر ایک چھوٹا بچہ آیا اور میری ٹانگوں سے لپٹ گیا۔
وہ بول رہا تھا: “بابا... کہاں تھے آپ؟”
میرے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔
میں بے اولاد تھا، اور وہ بچہ... وہ میرے اپنے دل کا ٹکڑا لگا۔
نوکرانی اسے اٹھانے آئی، اور جب میں نے اس کا چہرہ دیکھا—میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
کیونکہ وہ نوکرانی... زویا تھی۔
اس کے ہاتھوں میں وہی چوریاں تھیں جو میں نے ایک بار مزاق میں اسے پہنائی تھیں۔
میرے اندر کچھ ٹوٹنے لگا۔
میرے پیروں تلے غرور، انا اور تکبر کی ساری زمین کھسک گئی۔
“یہ بچہ... میرا ہے؟” میں نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
زویا نے بس اتنا کہا:
“اب پوچھنے کا کیا فائدہ، ریحان؟ جو رشتہ تم نے ایک رات میں توڑا تھا، میں نے اسے پانچ سال اپنے آنسوؤں سے سینچا ہے…”
اس کے لہجے کی ٹھنڈک نے میری ساری زندگی جلا دی۔
زویا کے الفاظ میرے کانوں میں بجلی بن کر گونج رہے تھے۔
“جو رشتہ تم نے ایک رات میں توڑا تھا، میں نے اسے پانچ سال اپنے آنسوؤں سے سینچا ہے…”
میرے قدم لرز گئے، زبان گنگ تھی، دل جیسے سینے سے نکل کر قدموں میں آ گرا۔
میں نے اس بچے کو دیکھا، وہ میرے پاؤں کے پاس کھڑا تھا، معصوم مسکراہٹ لیے، اور اپنی چھوٹی سی انگلی میرے ہاتھ میں دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
میں نے جھک کر اسے اٹھایا۔
اس کے چہرے میں، میری ہی جھلک تھی۔
وہی آنکھیں، وہی ناک، وہی انداز۔
میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔
“یہ… میرا بیٹا ہے نا زویا؟”
اس نے نظریں جھکا لیں، اور بس اتنا کہا، “یہ میرا سب سے قیمتی راز تھا ریحان، جسے میں نے تیرے نام کے بغیر پالا۔”
میری بیوی عالیہ یہ منظر دیکھ کر چند لمحے خاموش رہی، پھر دھیرے سے پیچھے ہٹ گئی۔
اس کی آنکھوں میں سوال تھے، مگر لبوں پر سکوت۔
زویا نے میری طرف دیکھا، “آپ کے لیے یہ سب کھیل تھا ریحان، لیکن میرے لیے یہ زندگی تھی۔ میں نے ہر رات تیری نفرت کے سائے میں اپنے بچے کو محبت کی چھاؤں دی۔”
میری روح کانپ اٹھی۔
میں نے زویا سے کہنا چاہا کہ میں بدل گیا ہوں، کہ اب میں وہ ریحان نہیں رہا جو کبھی تھا۔
لیکن زویا کے چہرے پر وہ زخموں کی لکیریں دیکھ کر میں خاموش ہو گیا۔
وہ زخم جو شاید کسی مرہم سے نہیں بھر سکتے تھے۔
میں نے کہا، “زویا، مجھے ایک موقع دے دے، میں سب ٹھیک کر دوں گا۔”
وہ ہلکی سی ہنسی، مگر وہ ہنسی بھی آنسوؤں میں بھیگی ہوئی تھی۔
“ریمان، کچھ چیزیں ٹھیک نہیں ہوتیں۔ کچھ رشتے وقت کے ساتھ مر جاتے ہیں، جیسے تمہارا ضمیر مر گیا تھا اُس رات…”
میں خاموش کھڑا رہا۔
میرے اردگرد حویلی کے درختوں سے پتے گر رہے تھے، جیسے وقت خود مجھ پر الزام لگا رہا ہو۔
میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ انسان جب غرور میں خدا بننے لگتا ہے، تو قدرت اُسے زمین پر گرا دیتی ہے۔
میرا غرور ٹوٹ چکا تھا۔
رات کو جب سب سو گئے، میں چھت پر جا کر بیٹھ گیا۔
ہوا میں زویا کی خوشبو تھی۔
میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا،
“یا اللہ، اگر تو مجھے ایک موقع دے دے تو میں ساری زندگی اس عورت کے آنسو پونچھنے میں گزار دوں گا…”
اچانک میرے کندھے پر ایک نرم سا لمس محسوس ہوا۔
میں نے پلٹ کر دیکھا، زویا تھی۔
“ریحان، رات بہت گہری ہو چکی ہے، اور میرے دل کی کہانی بھی۔ تم اب جاؤ، کیونکہ میرا سکون تم سے نہیں، میرے رب سے جڑا ہے۔”
اس کے الفاظ میں عجب سا سکون تھا، مگر میرے دل میں طوفان۔
میں نے نیچے جھک کر اپنے بیٹے کی پیشانی کو چوما اور زویا کے قدموں کو دیکھتا رہا جب تک وہ اندھیرے میں گم نہ ہو گئی۔
میرے اندر کچھ مر گیا تھا—شاید وہ میں تھا جو کبھی خود کو سب سے طاقتور سمجھتا تھا۔
رات ڈھل چکی تھی مگر میری آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہیں تھا۔
زویا کے الفاظ بار بار دل میں گونج رہے تھے، جیسے ہر جملہ میری روح میں کوئی نیا زخم چھوڑ گیا ہو۔
میں حویلی کے آنگن میں بیٹھا اپنے ماضی کو یاد کر رہا تھا، وہ ماضی جس پر کبھی مجھے ناز تھا مگر اب وہی ناز ندامت بن چکا تھا۔
چاند کی روشنی میں در و دیوار بھی جیسے مجھ سے سوال کر رہے تھے کہ اگر وقت پلٹ آئے تو کیا تم پھر بھی وہی ریحان بنو گے جس نے محبت کو انا کا کھیل سمجھا تھا۔
ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی، مگر میرے اندر جلتا ہوا پچھتاوا کسی آندھی سے کم نہ تھا۔
میں نے اپنی ماں کی طرف دیکھا جو صحن کے کونے میں جائے نماز پر بیٹھی تھی۔
اس کی آنکھوں میں سکون تھا مگر چہرے پر وقت کی تھکن صاف جھلک رہی تھی۔
میں ان کے قریب گیا اور ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
ماں نے میرا چہرہ دیکھا، انگلیوں سے پیشانی چھوئی اور بولی، “بیٹا، انسان کی اصل پہچان اس کے مال سے نہیں بلکہ اس کے دل سے ہوتی ہے۔ تو نے دیر کی، مگر ابھی وقت باقی ہے۔”
میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
ماں کے یہ الفاظ میرے دل کے زخموں پر کسی مرہم سے کم نہ تھے، مگر وہ مرہم بھی چبھ رہا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ جس دل کو میں نے توڑا تھا وہ کسی کی ماں نہیں تھی بلکہ کسی کی بیوی اور کسی بچے کی دنیا تھی۔
صبح کا سورج نکلا تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں زویا سے ملے بغیر چین نہیں لوں گا۔
میں اس کے گھر پہنچا۔
دروازے پر وہی بچہ کھیل رہا تھا جس نے کل میری دنیا بدل دی تھی۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے زویا نکلی۔
اس کی آنکھوں میں وہی سکون تھا مگر لبوں پر کوئی جذبات نہیں تھے۔
میں نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، “زویا، میں جانتا ہوں میں گناہگار ہوں، میں نے تجھے تکلیف دی، مگر مجھے ایک موقع دے دے، میں اپنے بچے کے ساتھ وہ سب جینا چاہتا ہوں جو میں نے برسوں پہلے برباد کیا تھا۔”
زویا خاموش رہی، بس اپنے بچے کو گود میں اٹھایا، اور بولی، “ریحان، یہ بچہ اب تمہارا نہیں، یہ اللہ کا امانت ہے۔ میں نے اس کو سکھایا ہے کہ کسی سے نفرت نہ کرے، چاہے وہ اس کا باپ ہی کیوں نہ ہو۔”
میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
میں نے اس کے قدموں میں گر کر کہا، “میں بدل گیا ہوں زویا، میں نے زندگی کی اصل سچائی دیکھ لی ہے۔”
اس نے میرا چہرہ اوپر اٹھایا، مسکرائی اور بولی، “شاید واقعی بدل گئے ہو ریحان، مگر کبھی کبھی بدل جانے کے بعد بھی انسان اپنے کیے کا قرض نہیں چکا پاتا۔ تم نے جو کھویا ہے، وہ اب صرف یادوں میں ملے گا۔”
یہ کہہ کر وہ اندر چلی گئی۔
دروازہ بند ہوا تو یوں لگا جیسے میری زندگی کا آخری باب بند ہو گیا ہو۔
میں دروازے کے باہر کھڑا رہا، ہوا چلتی رہی، آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، مگر اندر ایک سکون سا اترنے لگا۔
شاید یہی توبہ تھی، یہی وہ احساس تھا جو برسوں کے غرور کو بہا لے گیا۔
میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، “یا رب، شکر ہے تُو نے مجھے احساس دیا، چاہے دیر سے دیا…”
میں مڑ کر چل دیا، مگر دل کے کسی کونے میں زویا کی مسکراہٹ اور اس بچے کی آنکھیں آج بھی زندہ تھیں۔
-رات کے آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، جیسے فضا خود میرے گناہوں کی گواہی دے رہی ہو۔
میں نے برسوں بعد ہمت کی، زویا کے دروازے پر دستک دی۔
دل کے اندر ایک طوفان برپا تھا، ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر ضمیر پہلی بار جاگ چکا تھا۔
دروازہ کھلا، سامنے زویا تھی — وہی زویا جسے میں نے کبھی ایک کھیل سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا۔
چہرہ پہلے جیسا نہیں تھا، مگر آنکھوں میں وہی گہرائی، وہی سکون، اور وہی درد چھپا تھا۔
اس نے مجھے دیکھا، لمحہ بھر خاموش رہی، پھر بولی، “کہیے ریحان صاحب، آج کیسے آنا ہوا؟ کوئی نیا کھیل یا پھر پچھتاوا خریدنے آئے ہیں؟”
میرے پاس الفاظ نہیں تھے۔
میں نے نظریں جھکائیں، اور کہا، “زویا… میں مانتا ہوں میں نے بہت بڑا گناہ کیا۔ میں نے تمہیں انسان نہیں، ایک ضد سمجھا۔ میں سوچتا تھا کہ محبت خریدی جا سکتی ہے، مگر اب سمجھ آیا، محبت قربانی مانگتی ہے، جسم نہیں — احساس مانگتی ہے، اختیار نہیں۔”
زویا تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
“ریحان، تم نے جس رات مجھے اپنی بیوی کہا تھا، میں نے اس لمحے تمہیں اپنا خدا سمجھ لیا تھا۔
میری نادانی تھی کہ تم جیسے شخص میں میں نے رب کا عکس دیکھا۔
میں نے تمہیں سجدوں میں مانگا تھا، اور تم نے مجھے ایک رات کے تماشے میں بدل دیا۔
کیا تمہیں اندازہ ہے ایک عورت کا دل کب مرتا ہے؟
جب وہ خود سے شرمندہ ہو جاتی ہے۔
میں اُس رات مری تھی ریحان — بس زمین نے مجھے دفن نہیں کیا۔”
میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
میری سانسیں رکنے لگیں، دل جیسے سینے سے باہر نکل آئے۔
میں نے کہا، “زویا، میں بدل گیا ہوں۔ میں نے اس رات کے بعد ہر خوشی کھو دی۔ دولت تھی مگر سکون نہیں۔ بیویاں آئیں مگر محبت نہیں۔
اب اگر زندگی ایک موقع دے دے تو میں سب کچھ تمہارے قدموں میں رکھ دوں۔”
زویا نے ہلکی سی سانس لی، اور بولی،
“بدل جانا اچھی بات ہے ریحان، مگر یاد رکھو… کچھ زخم وقت سے نہیں بھرتے، بلکہ یادوں سے گہرے ہوتے جاتے ہیں۔
میں نے تمہیں معاف کر دیا، کیونکہ اب میں تم سے نفرت بھی نہیں کر سکتی۔
لیکن تم وہ خواب ہو جو مجھے جینے نہیں دیتا، اور وہ حقیقت بھی ہو جو مرنے نہیں دیتی۔”
یہ کہہ کر وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگی۔
“میں نے رب سے مانگا تھا کہ وہ تمہیں احساس دے…
اور دیکھو، رب نے میری دعا قبول کر لی۔
تمہیں احساس تو دے دیا، مگر میرے حصے کا سکون لے کر۔”
میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
میں نے دھیرے سے کہا، “زویا، میں تمہارے لیے اب صرف دعا بن سکتا ہوں، اگر قبول ہو جائے تو سمجھوں گا اللہ نے مجھے معاف کر دیا۔”
زویا نے دروازہ بند کیا، مگر اس کے چہرے پر ایک عجب سی روشنی تھی — جیسے وہ اندر سے جیت گئی ہو۔
میں دروازے کے باہر بیٹھ گیا، اور چاند کو دیکھ کر کہا،
“یا رب، اگر عورت کی دعا اتنی طاقتور ہو سکتی ہے، تو مجھ جیسے گناہگار کو بھی توبہ کی توفیق دے۔”
ہوا چلتی رہی، چاند بادلوں میں چھپتا رہا، اور میری زندگی کا سب سے قیمتی سبق دل پر نقش ہو گیا —
“محبت کبھی جسم سے نہیں جیتی جاتی، بلکہ دل سے کمائی جاتی ہے۔”
Disclaimer
Yeh mazmoon sirf maloomat aur tafreeh ke liye tayar kiya gaya hai. Is mein bayan kiye gaye kirdar aur halaat takhayyuli ho sakte hain ya muashray ke mukhtalif pehluon se liye gaye hain. Agar kisi bhi qisam ki mushabihat kisi haqeeqi shakhs ya waqia se ho jaye to ise sirf ittefaq samjha jaye. Is ka maqsad kisi par ilzam lagana ya dil dukhana nahi, balkay ek aam soch ko behtar andaz mein pesh karna hai.


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."