ماں کے کہنے پر بیوی چھوڑ دی
تعارف
کبھی کبھی انسان اپنی زندگی کے اہم فیصلے دوسروں کے دباؤ میں آ کر کر لیتا ہے۔ ایسے فیصلے بعد میں سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس کہانی میں ایک ایسے لمحے کو بیان کیا گیا ہے جب خاندانی رائے نے ذاتی رشتے پر اثر ڈالا۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شادی شدہ زندگی میں توازن، سمجھداری اور باہمی اعتماد بہت ضروری ہیں۔ کسی بھی بڑے قدم سے پہلے حالات کو اچھی طرح پرکھنا اور دل کی بات سننا اہم ہوتا ہے۔
میرا نام احمد رضا ہے، میں ایک عام سے گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ میری شادی کو ابھی ایک سال ہی ہوا تھا، اور میری بیوی زینب میری زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ تھی۔ مگر قسمت شاید ہمیشہ سے مجھ سے روٹھ گئی تھی۔ ہمارے حالات بہت خراب تھے، قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا اور گھر کی دیواریں بھی جیسے مجھ سے سوال کر رہی تھیں کہ کب سکون آئے گا۔ میں نے بہت کوشش کی، مگر جب ہر در بند ہونے لگا تو میں نے اپنی بیوی کے آنسو دیکھ کر بھی ہمت کر کے فیصلہ کیا کہ اب مجھے پردیس جانا ہی پڑے گا۔ زینب رو رہی تھی، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور وہ بس ایک ہی بات کہہ رہی تھی کہ "احمد مت جاؤ، یہ گھر تمہارے بغیر سونا ہو جائے گا۔" لیکن میں مجبور تھا۔ دل پر پتھر رکھ کر میں نے اس کے گلے میں پڑا سونے کا ہار اتارا، بینک کا قرض چکانے کے لیے وہ بیچ دیا، اور سعودیہ کے لیے نکل گیا۔
پردیس کی زندگی بہت کٹھن تھی۔ دن رات پسینہ بہاتا تھا، گرمی اتنی کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا۔ ہر جمعہ کو میں مسجد میں دعا مانگتا کہ یا اللہ میری زینب کو سلامت رکھنا۔ مگر ایک دن ایسا آیا جس نے میری دنیا بدل دی۔ میں کام سے واپس آیا تو موبائل پر پاکستان کا نمبر چمک رہا تھا۔ دوسری طرف امی کی آواز تھی، رو رہی تھیں، سانسیں اکھڑ رہی تھیں، اور بس ایک جملہ نکلا — "بیٹا زینب نہیں رہی۔"
میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو، میں وہیں گر گیا، دنیا گھومنے لگی۔ امی نے بتایا کہ اسے کرنٹ لگ گیا تھا۔ اس ایک جملے نے میری ساری محنت، سارے خواب، سب کچھ راکھ کر دیا۔ میں فورا واپس جانا چاہتا تھا مگر امی نے روکتے ہوئے کہا، "بیٹا اب وہ واپس نہیں آئے گی، قرض دار تجھے چین سے نہیں جینے دیں گے، یہاں آکر کیا کرے گا۔"
میں چپ ہو گیا۔ جیسے زبان نے کام کرنا چھوڑ دیا ہو۔ چار سال تک میں نے بس دن رات کام کیا۔ قرض اتارا، بہنوں کے جہیز بنائے، بھائیوں کو پڑھایا، اور ہر رات سوتے وقت زینب کا چہرہ یاد آتا۔ مگر آج، چار سال بعد، جب میں نے وطن لوٹنے کا فیصلہ کیا تو دل میں عجیب سی دھڑکن تھی۔ جیسے کچھ ہونے والا ہو۔ جیسے کسی پرانی یاد نے میرے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔
اور پھر وہ لمحہ آیا، جب میں اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ سانس بھاری، آنکھیں نم، اور دل میں ایک ہی سوال — کیا واقعی سب ختم ہو گیا؟
میں آہستہ آہستہ دروازے کے قریب پہنچا، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ چار سال بعد جب اپنے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو ایسا لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ گھر وہی تھا مگر ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، جیسے دیواریں بھی مجھ سے ناراض ہوں۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے دروازہ کھولا، اندر داخل ہوا تو قدم رک گئے۔ سامنے فرش پر ایک عورت جھکی ہوئی تھی، میلے کپڑوں میں، ہاتھوں میں پوچا تھا اور وہ زمین صاف کر رہی تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، بال بکھرے ہوئے، اور چہرے پر تھکن کے نشان واضح تھے۔
ایک لمحے کو میں سمجھ نہ سکا کہ یہ کون ہے، ماں نے تو کبھی بتایا نہیں کہ ہمارے گھر میں کوئی نوکرانی رکھی ہے۔ میں خاموشی سے کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ مگر جیسے ہی اس نے سر اٹھایا، میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ وہ زینب تھی۔ میری زینب۔ وہی آنکھیں، وہی چہرہ، بس وقت نے اس کی چمک چھین لی تھی۔ میرے قدم زمین میں دھنس گئے، دل کی دھڑکن رک سی گئی۔ زبان سے کوئی لفظ نہ نکلا۔ وہ بھی مجھے دیکھ رہی تھی، جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ میں واقعی اس کے سامنے کھڑا ہوں۔
میرے لبوں سے بمشکل الفاظ نکلے، "زینب؟ تم... تم زندہ ہو؟"
اس نے نظریں جھکا لیں، اور دھیرے سے کہا، "ہاں احمد، میں زندہ ہوں، مگر تمہارے لیے نہیں۔"
میرا وجود جیسے کسی نے جلا دیا ہو۔ میں ایک قدم آگے بڑھا، مگر اس نے پیچھے ہٹ کر کہا، "مت آؤ میرے قریب، تم نے مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔" میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے لرزتی آواز میں کہا، "مجھے تو بتایا گیا تھا تم مر چکی ہو، میں نے تو خود اپنی ماں کے ہاتھوں سے تمہارا کفن خریدا سمجھا۔"
وہ ہنس دی، ایک ایسی ہنسی جس میں درد تھا، زخم تھے، اور کہانیوں کے طعنے چھپے ہوئے تھے۔ بولی، "تمہاری ماں نے ہی کہا تھا کہ میں مر گئی ہوں۔ اس نے مجھے گھر سے نکال دیا، کہا کہ تم نے پردیس میں دوسری شادی کر لی ہے۔ میں در بدر بھٹکتی رہی، کبھی رشتہ داروں کے دروازے پر تو کبھی لوگوں کے طعنوں کے نیچے۔ اور آخر کار واپس اسی گھر میں آئی، نوکرانی بن کر۔ کیونکہ یہی گھر میرا تھا، اور تم بھی کبھی اسی گھر کے مالک تھے۔"
میں صدمے میں ڈوبا کھڑا رہا۔ دل چیخ چیخ کر رو رہا تھا مگر آواز نہ نکل رہی تھی۔ زینب کے ہاتھوں میں چھالے تھے، چہرے پر جلن کے داغ، مگر آنکھوں میں وقار تھا، جیسے اس نے درد کو ہارنے نہ دیا ہو۔
میں نے کانپتے ہوئے کہا، "زینب میں بے قصور تھا، خدا کے لیے مجھ سے یہ سزا مت دو۔"
وہ خاموش رہی، صرف اتنا بولی، "قصور تمہارا نہیں احمد، لیکن تمہاری خاموشی نے میرا سب کچھ چھین لیا۔"
میری دنیا ایک بار پھر بکھر گئی۔ میں نے ماں کی طرف دیکھا جو دروازے پر کھڑی سب سن رہی تھی۔ مگر ان کے چہرے پر کوئی احساس نہ تھا، جیسے ان کے لیے یہ سب معمولی بات ہو۔
میری سانس رک سی گئی تھی۔ زینب کے چہرے کی زردی اور ہاتھوں کے زخم میرے اندر آگ لگا رہے تھے۔ میں نے ماں کی طرف دیکھا، مگر وہ پتھر کی مورت بنی کھڑی تھی۔ میں چیخ اٹھا، "ماں! یہ کیا کیا آپ نے؟ آپ نے کہا تھا زینب مر گئی ہے! آپ نے کیوں جھوٹ بولا؟"
ماں کا چہرہ سخت تھا، آواز میں غرور، "میں نے وہی کیا جو ایک ماں اپنے بیٹے کے بھلے کے لیے کرتی ہے۔ وہ تمہارے لائق نہیں تھی۔ ایک غریب لڑکی، جو ہمارے دروازے کے قابل نہیں تھی۔"
میرے جسم میں خون کھول اٹھا۔ میں نے لرزتے ہوئے کہا، "ماں... وہ میری بیوی تھی، میرے نکاح میں تھی، میں نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ آپ نے صرف زینب کو نہیں مارا، آپ نے میری روح کو مار دیا!"
زینب کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ وہ بولی، "چھوڑ دو احمد، اب کچھ کہنے سننے کا فائدہ نہیں۔ میں نے بہت وقت گزارا ہے اس گھر کے فرش پر، ان دیواروں کی خاموشی میں تمہارا نام لیا، مگر جواب میں صرف طنز ملا۔ میں اب کسی الزام کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔"
میں اس کے قدموں میں گر گیا، "زینب، خدا کے لیے مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہیں کھو دیا مگر میرا دل آج بھی وہیں ہے جہاں تم نے چھوڑا تھا۔ میں پردیس میں ہر رات تمہاری یادوں کے ساتھ جیا ہوں۔ تمہاری آواز، تمہاری ہنسی، ہر لمحہ میرے دل پر نقش ہے۔"
زینب پیچھے ہٹی، ہاتھ جوڑ کر بولی، "احمد، میں تم سے نفرت نہیں کرتی، مگر محبت اب باقی نہیں رہی۔ وہ محبت جو بھوک، تذلیل، اور تنہائی میں دم توڑ گئی۔ تمہارے لیے تو شاید میں ایک یاد ہوں، مگر میرے لیے تم ایک زخم ہو جو کبھی نہیں بھرے گا۔"
ماں نے غصے سے کہا، "احمد، اس عورت کے جال میں دوبارہ نہ آنا۔ اس نے ہماری عزت خاک میں ملا دی۔"
میں نے چیخ کر کہا، "ماں! عزت وہ ہوتی ہے جو دل میں ہو، کسی کے نصیب کا مذاق اڑانے سے نہیں ملتی۔ آپ نے مجھے یتیم بنایا، میرے دل کو قبر بنا دیا!"
زینب نے دھیرے سے پوچا ایک طرف رکھا، اور دروازے کی طرف چلنے لگی۔ اس کے قدموں کی چاپ میرے سینے میں خنجر بن کر لگ رہی تھی۔ میں دوڑا، مگر وہ رک گئی، پیچھے مڑی اور بولی، "احمد، کبھی اگر خواب میں میری یاد آئے، تو صرف اتنا سوچنا کہ میں نے تمہیں معاف تو کر دیا، مگر خود کو کبھی نہیں کر سکی۔"
میرے آنسو زمین پر گر رہے تھے۔ ماں ایک کونے میں بیٹھ گئی، ان کے چہرے پر اب ندامت تھی، مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ زینب دروازے سے باہر نکلی، اور میں ٹوٹے وجود کے ساتھ فرش پر بیٹھ گیا۔
میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، "یا اللہ، میں نے اپنی زندگی کے سب سے قیمتی رشتے کو اپنی ہی ماں کے ہاتھوں کھو دیا۔ کاش میں اُس دن زینب کی بات سن لیتا، کاش اُس کی آنکھوں میں چھپی سچائی پہچان لیتا۔"
ہوا کا ایک جھونکا آیا، جیسے زینب کی خوشبو واپس لے گیا ہو۔ اور اس دن کے بعد میرے گھر میں آوازیں تو تھیں، مگر زندگی نہیں رہی۔
رات کی خاموشی تھی، چاند آسمان پر اکیلا تھا، جیسے میری روح تنہائی میں سسک رہی تھی۔ زینب جا چکی تھی، مگر اس کے قدموں کی چاپ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ میں نے دروازے کی طرف دیکھا، جہاں سے وہ گئی تھی، جیسے ابھی پلٹ کر آجائے گی اور کہے گی، “احمد، سب ٹھیک ہو جائے گا۔” لیکن اب کوئی ٹھیک ہونے والا نہیں تھا۔
ماں خاموش بیٹھی تھی۔ ان کے چہرے پر وہ غرور نہیں تھا جو کل تک تھا۔ آنکھوں میں پچھتاوے کی نمی تھی، مگر لفظ نہیں نکل رہے تھے۔ میں نے پہلی بار اپنی ماں کو اس حال میں دیکھا — وہ جو ہمیشہ دوسروں پر حکم چلایا کرتی تھی، آج اپنی خاموشی میں دفن ہو چکی تھی۔
میں نے دھیرے سے کہا، “ماں... آپ نے مجھ سے میری زندگی چھین لی۔ زینب صرف میری بیوی نہیں تھی، وہ میرے ایمان کا سکون تھی۔ آپ نے اس کے ساتھ ظلم کیا، لیکن اس کا بدلہ مجھ سے لیا گیا ہے۔ اب میں ہر پل مر رہا ہوں۔”
ماں کے لب کپکپائے، “احمد، میں نے وہی کیا جو ہر ماں اپنے بیٹے کے بھلے کے لیے کرتی ہے، لیکن شاید میں بھول گئی کہ بھلا وہ ہوتا ہے جو انصاف کے ساتھ ہو، ضد کے ساتھ نہیں۔”
میرے آنسو ضبط سے باہر نکل آئے۔ میں نے کہا، “ماں، محبت گناہ نہیں ہوتی، مگر آپ نے اسے گناہ بنا دیا۔ زینب نے صرف محبت مانگی تھی، دولت نہیں۔ میں نے اسے چھوڑ کر دولت چنی، مگر آج میرے پاس سب کچھ ہے سوائے سکون کے۔”
ماں نے لرزتی آواز میں کہا، “بیٹا... میں نے اسے بہت دکھ دیے، مگر اب وہ کہاں ہوگی؟ اللہ کرے وہ جہاں بھی ہو خوش ہو۔”
میں نے جواب دیا، “ماں، وہ خوش تو ہوگی، مگر کبھی کبھی وہ بھی میری طرح راتوں کو جاگتی ہوگی۔ کیونکہ سچی محبت مر نہیں جاتی، وہ بس خاموش ہو جاتی ہے۔”
چند دن گزر گئے۔ میں مسجد کے صحن میں بیٹھا تھا، اذان کی آواز گونج رہی تھی، مگر میرا دل خالی تھا۔ میں نے ہاتھ اٹھائے اور کہا،
“یا اللہ، تُو رحم کرنے والا ہے، مجھے معاف کر دے۔ میں نے اپنی محبت کو اپنی غلطی سے جلا دیا، اپنی ماں کو نافرمانی کے بوجھ سے بوجھل کر دیا۔ تُو میرے گناہ معاف کر دے، میری محبت کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔”
میرے چہرے پر آنسو بہنے لگے، دل میں سکون اترنے لگا۔ ایسا لگا جیسے زینب کی دعا کہیں دور سے میری قسمت میں شامل ہو رہی ہو۔ شاید وہ مجھے معاف کر چکی تھی۔
وقت گزرتا گیا، میں نے خود کو عبادت میں لگا دیا۔ اب میں سمجھ چکا تھا کہ دنیا کی محبت وقتی ہوتی ہے، مگر اللہ کی محبت ابدی۔ زینب نے مجھے چھوڑا نہیں، بلکہ میری زندگی کو بدلنے کا ذریعہ بن گئی۔
آج جب کوئی مجھ سے محبت کا مطلب پوچھتا ہے تو میں صرف اتنا کہتا ہوں —
“محبت اگر خلوص سے ہو تو عبادت بن جاتی ہے، مگر اگر غرور سے ہو تو سزا۔ میں نے اپنی سزا کاٹ لی ہے، اور اب دعا کرتا ہوں کہ کوئی احمد کسی زینب کو اپنی غلطیوں میں نہ کھو دے۔”
چاند اب بھی آسمان پر تھا، مگر اس رات پہلی بار روشنی میرے دل میں اتری۔
Disclaimer
Yeh kahani sirf entertainment aur taleemi maqsad ke liye likhi gayi hai. Is ke kirdar aur waqiat tasawur par mabni ho sakte hain ya muashray ke aam halat se mutasir ho sakte hain. Agar kisi shakhs ya waqia se mushabihat ho jaye to ise sirf ittefaq samjha jaye. Is ka maqsad kisi fard ya khandan ki dil azari karna nahi, balkay ek musbat aur soch par mabni paigham dena hai.


No comments:
Post a Comment
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."