An Emotional & Heart Touching Urdu Story | Story Time | Sabaq Amoz Kahani


 وہ خاموش رہی، مگر ٹوٹتی چلی گئی

نومبر کی سرد شام تھی اور آسمان پر کالے بادل اس طرح چھائے ہوئے تھے جیسے کسی ان کہی حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہوں، بارش کی بوندیں میرے بیڈروم کی بڑی شیشے والی کھڑکی پر مسلسل دستک دے رہی تھیں اور ہر بوند کے ساتھ میرے دل میں ایک انجانا خوف اترتا چلا جا رہا تھا، میں آئنہ کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی اور مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ خوبصورت عورت میں نہیں ہوں بلکہ کوئی اور ہے جس کی زندگی بظاہر مکمل مگر اندر سے کھوکھلی ہے۔
میرا نام مایا ہے اور میں اپنی زندگی کے اکتیسویں سال میں کھڑی وہ عورت ہوں جس کے پاس دولت ہے، آسائشیں ہیں، شہر کا سب سے بڑا گھر ہے، ایک ایسا شوہر ہے جو دنیا کے سامنے مجھے اپنی کامیابی کہتا ہے، مگر اس سب کے باوجود میری گود خالی ہے اور یہی خالی پن میری روح کو روز تھوڑا تھوڑا کھا جاتا ہے۔
میری شادی حارث سے ہوئی تھی، ایک باوقار، ذہین اور حد سے زیادہ خیال رکھنے والے انسان سے، ہماری شادی محبت کی بنیاد پر نہیں بلکہ خاندان کے فیصلے سے ہوئی تھی مگر وقت کے ساتھ وہ رشتہ ایسا مضبوط ہوا کہ مجھے لگا میں واقعی خوش قسمت ہوں، حارث ہر لمحہ میرے ساتھ کھڑا رہا، خاص طور پر تب جب ہمیں احساس ہوا کہ ہماری زندگی میں وہ ننھا سا وجود نہیں آ رہا جس کا خواب ہر شادی شدہ جوڑا دیکھتا ہے۔
شروع کے ایک دو سال ہم نے اسے قسمت پر چھوڑ دیا، مگر پھر ڈاکٹر، ٹیسٹ، رپورٹس اور خاموش دعاؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا، ہر رپورٹ ایک ہی بات کہتی کہ بظاہر کوئی مسئلہ نہیں مگر وقت گزرتا جا رہا تھا، اور ہر گزرتے مہینے کے ساتھ میرے دل میں ایک نیا خوف جنم لیتا جا رہا تھا۔
اسی دوران حارث مجھے شہر کے سب سے بڑے ڈاکٹر ڈاکٹر فہیم کے پاس لے گئے، وہ ان کے پرانے دوست تھے، ایک ایسا نام جس پر پورا شہر اعتماد کرتا تھا، سفید کوٹ، سنجیدہ آنکھیں اور نرم لہجہ، میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ کم از کم کوئی تو ہے جس پر اندھا اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
چیک اپ کے دوران جب حارث کسی فون کال پر باہر گئے تو ڈاکٹر فہیم نے میرا ہاتھ تھاما، نبض دیکھنے کے بہانے جھکے اور نہایت خاموشی سے میری ہتھیلی میں ایک تہہ شدہ کاغذ رکھ دیا، ان کی انگلیاں ہلکی سی کانپ رہی تھیں اور آنکھوں میں عجیب سی گھبراہٹ تھی، میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے صرف اتنا کہا،
“ابھی کچھ مت کہنا، گھر جا کر پڑھنا۔”
دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی مگر میں نے وہ پرچی فوراً پرس میں چھپا لی، حارث واپس آئے تو سب کچھ معمول کے مطابق تھا، مسکراہٹیں، رسمی باتیں اور اگلے چیک اپ کی تاریخ، مگر میرے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا۔
رات کو جب حارث میرے پاس آ کر بیٹھے اور ہمیشہ کی طرح نرمی سے پوچھا کہ کیا میں ٹھیک ہوں تو میں نے مسکرا کر سر ہلا دیا، مگر اندر ایک طوفان برپا تھا، ان کے سونے کے بعد میں نے وہ پرچی نکالی، ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھیں بار بار دروازے کی طرف جا رہی تھیں، اور دل دعا کر رہا تھا کہ جو لکھا ہو وہ جھوٹ ہو۔
کاغذ پر الفاظ صاف تھے مگر ان کا مطلب میری دنیا ہلا دینے کے لیے کافی تھا،
“تم بالکل ٹھیک ہو، تمہیں کوئی بیماری نہیں، جو دوائی تم روز کھا رہی ہو وہ علاج نہیں… بلکہ کچھ اور ہے۔”
میری سانس رک سی گئی، کاغذ ہاتھ سے پھسل کر بستر پر گر گیا، اور میرے ذہن میں صرف ایک سوال گونج رہا تھا،
اگر میں بیمار نہیں تو پھر وہ دوائیاں کیا ہیں… اور حارث مجھ سے کیا چھپا رہا ہے؟
وہ کاغذ میری انگلیوں میں دبا ہوا تھا مگر اس کے الفاظ میرے ذہن میں آگ کی طرح دہک رہے تھے، میں نے بار بار اسے پڑھا اور ہر بار ایسا لگا جیسے معنی بدل رہے ہوں، جیسے کوئی سچ خود کو مکمل ظاہر کرنے سے پہلے مجھے آزما رہا ہو، میں نے فوراً وہ پرچی واپس پرس میں رکھ دی کیونکہ حارث کے کمرے میں کروٹ بدلنے کی آواز آئی تھی اور اس لمحے میں کسی بھی صورت اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
اگلی صبح میں نے خود کو بالکل نارمل ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کی، ناشتے کی میز پر وہی مسکراہٹ، وہی رسمی باتیں، مگر میرے اندر ہر چیز بدل چکی تھی، حارث مجھے بار بار دیکھ رہے تھے جیسے وہ میرے چہرے سے کچھ پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں، اور میں اس نظر سے بچنے کے لیے کافی کے کپ میں نظریں گاڑے بیٹھی رہی۔
انہوں نے حسبِ معمول دوا کی بوتل میری طرف بڑھائی اور نرمی سے کہا کہ وقت پر کھا لیا کرو، میں نے بوتل کو دیکھا تو پہلی بار اس کے لیبل نے مجھے عجیب سا محسوس کروایا، کوئی کمپنی کا نام واضح نہیں تھا، کوئی مکمل ہدایات درج نہیں تھیں، بس ایک سفید سی بوتل اور حارث کا اندھا اعتماد، میں نے گولی تو لے لی مگر اسے نگلا نہیں، باتھ روم جا کر خاموشی سے اسے ٹشو میں لپیٹ کر چھپا دیا۔
اس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں صرف ایک مریضہ نہیں بلکہ شاید ایک تجربہ ہوں، اور یہ سوچ میرے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔
دوپہر کے وقت جب حارث آفس چلے گئے تو میں نے خود کو کمرے میں بند کر لیا اور ڈاکٹر فہیم کے الفاظ یاد کرنے لگی، ان کی گھبرائی ہوئی آنکھیں، کانپتے ہاتھ، اور وہ جملہ کہ ابھی کچھ مت کہنا، ان سب کے پیچھے کوئی بہت بڑا خطرہ چھپا ہوا تھا، میں نے ہمت کر کے ان کا نمبر ملایا مگر فون بند تھا، بار بار کوشش کے باوجود کوئی جواب نہیں آیا۔
شام کے وقت حارث غیر معمولی طور پر خوش نظر آ رہے تھے، ان کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا اور چہرے پر وہ چمک جو میں نے بہت کم دیکھی تھی، انہوں نے بتایا کہ ایک بڑی ڈیل فائنل ہونے والی ہے اور ہماری زندگی مزید بدلنے والی ہے، میں مسکرائی مگر دل میں ایک عجیب سا خوف اتر آیا کیونکہ مجھے لگا یہ خوشخبری کہیں میرے وجود کی قیمت پر تو نہیں خریدی جا رہی۔
رات کو وہ جلدی سو گئے مگر میں دیر تک جاگتی رہی، میں نے فیصلہ کیا کہ اب خاموش رہنا خود سے غداری ہوگی، میں نے ان کے بریف کیس کی طرف دیکھا جو کمرے کے ایک کونے میں رکھا تھا، دل زور زور سے دھڑکنے لگا مگر قدم خود بخود اس طرف بڑھ گئے، ہاتھ کانپ رہے تھے جب میں نے زپ کھولی۔
اندر فائلیں تھیں، کاغذات تھے، اور ایک الگ لفافہ تھا جس پر میرا نام لکھا ہوا تھا، میں نے لفافہ کھولا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اس میں میڈیکل رپورٹس تھیں، مگر وہ رپورٹس میری بانجھ پن کی نہیں بلکہ میرے جسم میں مصنوعی ہارمونز کے غیر معمولی لیولز کی تھیں، اور نیچے ایک نوٹ تھا جس نے میری روح تک ہلا دی۔
“سب کچھ پلان کے مطابق ہے، وہ ذہنی طور پر کمزور ہو رہی ہے، دوا جاری رکھیں۔”
میرے ہاتھ سے فائل گر گئی، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا، میں نے بستر کے کنارے بیٹھ کر خود کو سنبھالا اور پہلی بار میرے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ جس شخص کو میں نے اپنی زندگی، اپنا جسم، اپنا اعتماد سونپ رکھا ہے، وہ شاید میرا محافظ نہیں بلکہ سب سے بڑا راز ہے۔
اسی لمحے حارث کی کروٹ بدلی، میں فوراً فائلیں واپس رکھنے لگی، دل دعا کر رہا تھا کہ وہ جاگ نہ جائیں، مگر میرے ذہن میں صرف ایک سوال گردش کر رہا تھا،
اگر یہ سب ایک منصوبہ ہے تو اس منصوبے کا انجام کیا ہے، اور اس میں میری جگہ کیا ہے؟
اس رات میں سو نہیں سکی، آنکھیں بند کرتی تو وہ فائل، وہ نوٹ اور وہ جملہ بار بار سامنے آ جاتا کہ سب کچھ پلان کے مطابق ہے، میں خود کو آئینے میں دیکھنے لگی تو پہلی بار مجھے اپنا چہرہ اجنبی محسوس ہوا، جیسے یہ جسم میرا ہے ہی نہیں بلکہ کسی اور کی ملکیت بن چکا ہو، میں نے خود سے پوچھا کہ کیا واقعی میں اتنی کمزور ہوں کہ کسی نے میری خواہش ماں بننے کی کوکھ میں ہی زہر گھول دیا۔
اگلے دن میں نے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا، اگر میں خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئی تو شاید سچ کبھی سامنے نہ آ سکے، میں نے جان بوجھ کر حارث کے سامنے دوا مانگی، ان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو حیرت ابھری پھر وہی مانوس مسکراہٹ لوٹ آئی، وہ سمجھے کہ میں اب بھی اندھی محبت میں مبتلا ہوں، اور یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
میں نے دوا پھر نہیں کھائی، مگر اس بار میں نے گولی سنبھال کر رکھ لی، کیونکہ مجھے ثبوت چاہیے تھا، محض شک کی بنیاد پر کسی کو الزام دینا خود میرے حق میں خطرناک ہو سکتا تھا، خاص طور پر اس شخص کو جو اس شہر میں اثر و رسوخ رکھتا تھا، جس کی بات کو لوگ قانون سے زیادہ اہم سمجھتے تھے۔
اسی شام ڈاکٹر فہیم کا فون آیا، ان کی آواز میں خوف صاف جھلک رہا تھا، انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اب وہ زیادہ دیر میرا ساتھ نہیں دے سکتے کیونکہ ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، مگر جاتے جاتے انہوں نے ایک بات کہی جو میرے لیے زندگی بدل دینے والی تھی، انہوں نے بتایا کہ جو دوا مجھے دی جا رہی ہے وہ بانجھ پن کا علاج نہیں بلکہ ایک مخصوص تحقیق کا حصہ ہے، ایسی تحقیق جس میں عورت کے جسم کو آہستہ آہستہ اس نہج پر لایا جاتا ہے جہاں وہ خود فیصلہ کرنے کے قابل نہ رہے۔
میرے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا، مجھے محسوس ہوا جیسے میرے اردگرد کی دیواریں سکڑ رہی ہوں، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا شوہر، جسے میں نے اپنا محافظ سمجھا، مجھے ایک تجربہ بنا سکتا ہے، وہ شوہر جو میرے آنسو پونچھتا تھا، وہی میرے جسم کو خاموشی سے توڑ رہا تھا۔
چند دن بعد حارث نے مجھے ایک نئی جگہ لے جانے کی بات کی، شہر سے باہر ایک پر سکون سا فارم ہاؤس، انہوں نے کہا کہ ماحول بدلنے سے طبیعت بہتر ہو جائے گی، میں نے انکار نہیں کیا کیونکہ میں جانتی تھی کہ اصل حقیقت وہیں میرا انتظار کر رہی ہے، راستے بھر وہ مستقبل کے خوابوں کی باتیں کرتے رہے اور میں خاموشی سے ان لفظوں کے پیچھے چھپی نیت کو سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔
فارم ہاؤس پہنچ کر مجھے عجیب سا سکون محسوس ہوا مگر یہ سکون طوفان سے پہلے کی خاموشی تھا، وہاں کام کرنے والے لوگ حد سے زیادہ محتاط تھے، جیسے وہ مجھے مریض نہیں بلکہ کسی قیمتی چیز کی طرح دیکھ رہے ہوں، اسی رات میں نے ایک کمرے میں کچھ فائلیں دیکھیں جن پر میرا نام نہیں بلکہ ایک کوڈ لکھا ہوا تھا، اور اس کوڈ کے ساتھ تاریخیں درج تھیں، وہی تاریخیں جب میری طبیعت بگڑی، جب میرا وزن بڑھا، جب میں ذہنی طور پر کمزور ہوئی۔
میں نے تب جان لیا کہ یہ سب اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک مکمل منصوبہ تھا، اور اس منصوبے کا آخری مرحلہ ابھی باقی تھا۔
اسی لمحے پیچھے سے حارث کی آواز آئی، وہ مسکرا رہے تھے مگر اس مسکراہٹ میں محبت نہیں بلکہ فتح کا غرور تھا، انہوں نے کہا کہ اب سب کچھ مکمل ہونے والا ہے، اور میں نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھی جو کسی کامیاب شکار کے بعد شکاری کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا، کیونکہ مجھے احساس ہو چکا تھا کہ اگلا قدم یا تو مجھے آزاد کرے گا یا ہمیشہ کے لیے خاموش کر دے گا، اور اب سوال یہ نہیں تھا کہ سچ کیا ہے، بلکہ یہ تھا کہ
کیا میں اس انجام سے پہلے خود کو بچا پاؤں گی یا نہیں؟

اس لمحے مجھے اپنی سانسوں کی آواز بھی بہت تیز محسوس ہو رہی تھی، دل اس طرح دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینہ پھاڑ کر باہر آ جائے گا، حارث میرے سامنے کھڑا تھا، وہی شخص جسے میں نے زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھا تھا، مگر اب اس کے چہرے پر کوئی چہرہ نہیں تھا، صرف ایک مقصد تھا، ایک ضد، اور ایک ایسا غرور جو انسان کو انسان نہیں رہنے دیتا۔
میں نے خود کو سنبھالا، آنکھوں میں آنسو تھے مگر آواز مضبوط تھی، میں نے اس سے پوچھا کہ آخر کیوں، کیوں اس نے میری زندگی، میرے خواب، میرے وجود کو اس حد تک پامال کیا، وہ ہنسا، ایسی ہنسی جس میں نہ شرمندگی تھی نہ ندامت، اس نے کہا کہ کچھ لوگ جینے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور کچھ استعمال ہونے کے لیے، اور بدقسمتی سے میں دوسرے لوگوں میں شامل تھی۔
یہ الفاظ میرے دل پر ایسے لگے جیسے کسی نے خنجر گھونپ دیا ہو، مگر اسی درد میں مجھے اپنی اصل طاقت کا احساس ہوا، میں کمزور نہیں تھی، میں بس دھوکے میں تھی، میں نے جیب سے وہ گولی نکالی جو میں نے کبھی نہیں کھائی تھی، وہی ثبوت جس نے سب کچھ بدلنا تھا، میں نے اسے بتایا کہ میں جان چکی ہوں، میں خاموش نہیں رہوں گی۔
اسی لمحے ماحول بدل گیا، اس کی آنکھوں میں خوف اترا، پہلی بار میں نے اسے کمزور ہوتے دیکھا، اس نے مجھے روکنے کی کوشش کی، وعدے کیے، دھمکیاں دیں، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی، میں نے وہ فائلیں، وہ ریکارڈ، وہ سب ثبوت پہلے ہی محفوظ کر دیے تھے، اور سچ کا سفر شروع ہو چکا تھا۔
چند دن بعد سب کچھ منظر عام پر آ گیا، وہ فارم ہاؤس، وہ تجربات، وہ تحقیق جس میں انسانوں کو چیزوں کی طرح استعمال کیا جا رہا تھا، سب کچھ بے نقاب ہو گیا، جن لوگوں کو طاقت سمجھا جاتا تھا وہ قانون کے سامنے کھڑے تھے، اور میں ایک گواہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت تھی۔
مگر اس سب کے باوجود، سب سے مشکل مرحلہ عدالت نہیں تھا، سب سے مشکل مرحلہ خود کو دوبارہ زندہ کرنا تھا، میں راتوں کو جاگتی تھی، اپنے وجود سے سوال کرتی تھی، آئینے میں خود کو پہچاننے کی کوشش کرتی تھی، مگر آہستہ آہستہ میں نے سیکھ لیا کہ ٹوٹنے کے بعد بھی جینا ممکن ہوتا ہے۔
میں نے اس شہر کو چھوڑ دیا، جگہ بدلی، نام بدلا، مگر سچ کو نہیں بدلا، میں نے فیصلہ کیا کہ میں خاموش نہیں رہوں گی، میں ان عورتوں کی آواز بنوں گی جو بول نہیں سکتیں، کیونکہ میں جانتی تھی کہ خاموشی بھی ایک جرم ہوتی ہے۔
آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو درد اب بھی موجود ہے، مگر وہ درد مجھے کمزور نہیں کرتا، وہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں بچ گئی، میں ختم نہیں ہوئی، میں ایک کہانی نہیں بلکہ ایک سبق ہوں۔

https://www.blogger.com/u/9/blog/post

/edit/preview/2729899281674296463

/3852447794475633369

تبصرے

New Urdu Stories

ماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانیماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

فاطمہ اور عمران کی موٹر وے پر آخری ملاقات — ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

امتحان کی گزرگاہ: ایک مخلص انسان کی کہانی"