Saas Ne Bewa Bahu Par Zulm | Nand Ka Shohar Commissioner Nikla | Sachi Kahani
ظلم کرتی ساس بیوہ بہو کا رونا گھبرا گئی بہو
میں تیز بخار میں کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی۔ میری نند کے سسرال والوں کی آج دعوت تھی۔ نند کا ہونے والا شوہر کمشنر تھا۔ جب سے میں بیوہ ہوئی تھی، میری ساس مجھ سے نوکروں سے بھی بدتر سلوک کرتی تھی۔
آج بھی جب میں سالن کا ڈونگا میز پر رکھ رہی تھی، چکر آگئے اور ڈونگا ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا۔ ساس نے سب کے سامنے میرے گال پر تھپڑ مارا۔
کمشنر غصے سے اٹھا اور بولا، "میں اس سے شادی…"
ساس نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا تو ہال میں گونجتی اس مردانہ اور رعب دار آواز نے جیسے وہاں موجود ہر شخص کو پتھر کا کر دیا۔ میری آنکھوں سے بہتے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور میں زمین پر گری سالن کی ڈش اور ٹوٹی پلیٹوں کے درمیان کانپ رہی تھی۔ سب کی نظریں دروازے پر کھڑے اس شخص پر تھیں جس کی آنکھوں میں شعلے بھڑک رہے تھے۔
"یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے، بیٹا تم بیچ میں مت پڑو!" ساس نے ہکلاتے ہوئے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔
"یہ گھر کا معاملہ نہیں، یہ کھلا ظلم ہے!" اس شخص نے آگے بڑھ کر مجھے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ اس کے لمس میں ہمدردی تھی یا اپنائیت میں، سمجھ نہیں پائی۔
آج کے بعد اس لڑکی کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ ہال میں چھائی موت جیسی خاموشی بتا رہی تھی کہ آنے والا وقت بہت کچھ بدلنے والا تھا۔
میرا نام آشا ہے۔ کہتے ہیں غربت انسان کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے لیکن میرے ابا نے بھی ہمیں اس احساس کے سائے میں جینے نہیں دیا۔ ہم چار بہنیں تھیں اور کوئی بھائی نہیں تھا۔ ابا ایک معمولی مزدور تھے، سارا دن دھوپ میں جلتے اینٹیں ڈھوتے اور شام کو جب گھر لوٹتے تو ہاتھوں میں پھل یا مٹھائی کا چھوٹا سا لفافہ ضرور ہوتا۔
لوگ انہیں طعنے دیتے تھے کہ "چار بیٹیاں ہیں، کیسے بیا ہوں گے؟"
لیکن ابا ہمیشہ مسکرا کر کہتے، "میری بیٹیاں بوجھ نہیں، میری رحمت ہیں، اللہ خود راستے بنائے گا۔"
میں سب سے بڑی تھی، اس لیے گھر کے حالات کا بوجھ میرے کندھوں پر محسوس ہوتا تھا۔ ہمارے گھر کی چھت بچی تھی لیکن دیواریں محبت سے کی تھیں۔
جب میں بیس سال کی ہوئی تو محلے کی عورتوں نے باتوں کے تیر برسانا شروع کر دیے۔
"ارے رحمت بی بی، بچی تو ان ہو گئی ہے، کب تک گھر بیٹھائے رکھو گی؟ زمانہ بہت خراب ہے!"
یہ جملے میری ماں کا کلیجہ چھلنی کر دیتے تھے۔ پھر ایک دن ابا کام سے گھر آئے تو ان کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ انہوں نے آتے ہی ماں کو خوشخبری سنائی:
"آشا کے لیے رشتہ مانگا ہے۔ لڑکا اچھا ہے، پڑھا لکھا ہے اور چھوٹا موٹا اپنا کام کرتا ہے۔"
ماں نے شکرانے کے نفل ادا کیے۔ جب وہ لوگ مجھے دیکھنے آئے تو میری ہونے والی ساس بہت میٹھی بنی ہوئی تھیں، انہوں نے مجھے سر سے پاؤں تک ٹٹول کر دیکھا۔
"ما شاء اللہ، بچی تو پیاری ہے، بس ہمیں جہیز و ہیز کچھ نہیں چاہیے، بس سلیقہ مند ہونی چاہیے۔"
میری سادہ لوح والدین کا دل جیت لیا۔ وسیم، جو کہ میری ہونے والے شوہر تھے، خاموش اور سلجھا ہوا لگتا تھا۔ شادی کی تاریخ طے پا گئی۔
ابا نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگادی تاکہ ان کی لاڈلی بیٹی کو کسی اچھے گھرانے میں بھیجا جا سکے۔ میں دلہن بنی بیٹھی تھی، جب ابا میرے پاس آئے، ان کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے:
"میری گڑیا، آج تم پر آیا ہے۔ جو کچھ بھی تمہارے لیے کیا، اللہ تمہیں خوش رکھے۔ سسرال میں زبان میٹھی رکھنا اور آنکھیں نیچی، غریب بیٹیوں کا اصل جہیز ان کی تربیت ہوتی ہے۔ بس اپنی عزت کا خیال رکھنا۔"
میں ان کے گلے لگ کر رو پڑی۔ برخصتی کے وقت ابا نے ایک بات کہی جو میرے دل پر نقش ہو گئی:
"بیٹا، اللہ خود راستے بناتا ہے۔"
آشا کے سسرال میں زندگی کے پہلے دن ہی سے ایک نئی دنیا کے رنگ نظر آئے۔ وسیم کی محبت اور نرمی کے باوجود، ساس اور نند جہاں آرا کا رویہ اسے پہلے دن سے بھاری لگ رہا تھا۔
صبح جب آشا ناشتہ بنانے کے لیے کچن میں گئی، تو ساس کے لہجے میں وہی کڑواہٹ تھی جو پہلے دن نظر آ چکی تھی۔
"بہو، ناشتہ تیار کرو، دیر نہ کرنا!"
آشا نے مسکرا کر جواب دیا، لیکن دل کے اندر ایک خوف سا تھا کہ آج بھی وہ دن کی طرح بدسلوکی کا سامنا کرے گی۔
وسیم بہت اچھے شوہر تھے، ہمیشہ اس کا خیال رکھتے اور ہر چھوٹی بات میں اس کا حوصلہ بڑھاتے۔ انہوں نے آشا کو پہلے دن ہی یہ یقین دلایا کہ، "امی کا مزاج تھوڑا سخت ہے، لیکن دل میں مت لینا، میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔"
آشا کی زندگی کا پہلا سال اسی طرح گزرا، چھوٹی خوشیاں، چھوٹے جھگڑے، لیکن دل کے اندر ہمیشہ ایک اضطراب موجود تھا۔
ایک دن، وسیم دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے اور آشا صبح کا ناشتہ لگارہی تھی۔ اس دن کا چہرہ کچھ مختلف تھا، جیسے تقدیر کی ایک نئی گھڑی آنے والی تھی۔
"آشا، آج جلدی تیار رہنا، شام کو ہم نئے ریسٹورنٹ جائیں گے۔" وسیم نے ٹائی کی گرہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔
آشا نے مسکرا کر چائے کا کپ بڑھایا،
"تم رہنے دو، گھر کے خرچے پہلے ہی بہت ہیں۔ بس تم تیار رہو، تمہاری خوشی میری خوشی ہے۔"
وہ خوشی سے گھر سے نکل گئے، اور آشا نے انہیں گلی کے موڑ تک دیکھا۔ لیکن دل کے اندر ایک عجیب سا خوف تھا کہ یہ خوشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گی۔
ایک سال کے بعد، زندگی میں دھیرے دھیرے مشکلات نے سر اٹھانا شروع کیا۔ ساس کی سختی اور نند جہاں آرا کی حقارت بڑھ گئی۔ ہر کام میں ناگواری، ہر نظر میں طنز۔ آشا اب گھر میں صرف کام کرنے والی نہیں، بلکہ ایک طرح سے نظر انداز کی جانے والی شخصیت بن گئی تھی۔
وسیم کے جانے کے بعد، آشا نے گھر کے سارے کام خود سنبھال لیے۔ صبح سویرے اٹھتی، جھاڑو، پونچھا کرتی، ناشتہ تیار کرتی، پھر ساس اور نند کے حکم مانتی۔ لیکن دل کے اندر امید کی ایک کرن ہمیشہ زندہ رہی۔
ایک دن، اچانک دروازہ کھلا اور ایک شخص اندر آیا۔ آشا چونک گئی۔ ساس اور نند کی آنکھوں میں حیرت کی جھلک تھی۔ وہ شخص عدیل تھا، جس کے بارے میں آشا کو کبھی یقین نہیں آیا کہ وہ دوبارہ آئے گا۔
"آشا، تمہیں اس گھر میں رہنے کی ضرورت نہیں۔ میں تمہیں لے جاؤں گا، تمہارے والدین کے گھر واپس، اور پھر تمہارا حق مکمل طور پر تمہاری زندگی میں واپس آئے گا۔" عدیل نے نرم لہجے میں کہا۔
آشا نے حیرت اور خوشی سے دیکھا، "لیکن تم… تم کیسے؟"
عدیل نے اپنی جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی، "یہ وہی وقت ہے جب تم چھوٹی تھیں۔ میں تمہیں ہمیشہ جانتا رہا ہوں، یہ رشتہ ہمارا خونی رشتہ ہے، اور آج میں تمہیں مزید اذیت میں نہیں دیکھ سکتا۔"
آشا کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ یہ لمحہ اس کی زندگی کا نیا آغاز تھا، جہاں اب وہ ظلم، تکبر اور حق تلفی سے آزاد ہو کر اپنی زندگی کے حقیقی خوشی کے لمحے گزار سکتی تھی۔
ساس اور نند جہاں آرا نے جب یہ حقیقت جانی کہ عدیل صرف ایک اجنبی نہیں بلکہ آشا کا حقیقی رشتہ دار اور محافظ ہے، تو ان کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ لیکن وقت آگے بڑھ چکا تھا، آشا نے اللہ کے فضل سے اپنی عزت، حق اور محبت کا مقام حاصل کر لیا تھا۔
آشا کی زندگی کے ان دنوں میں سب کچھ بدل چکا تھا۔ عدیل کی آمد نے جیسے پوری دنیا کے بوجھ ہلکا کر دیا تھا۔ اب وہ نہ صرف اپنی عزت کے لیے محفوظ تھی بلکہ دل کی گہرائی سے محسوس کر سکتی تھی کہ اس کے اردگرد محبت کا ماحول بھی قائم ہو گیا تھا۔
وسیم کی غیر موجودگی اور ساس کی سختیوں نے آشا کو سخت سیکھ دی تھی، لیکن عدیل کی محبت اور سمجھداری نے اسے زندگی کے نئے سبق سکھائے۔ وہ جان گئی تھی کہ انسان کو صبر، حوصلہ، اور اللہ پر یقین کے بغیر حقیقی خوشی نہیں ملتی۔
آشا کے والدین، جو ہمیشہ اس کی فکر میں ڈوبے رہتے تھے، عدیل کی موجودگی سے بہت مطمئن ہوئے۔ وہ جان گئے کہ ان کی بیٹی اب محفوظ ہاتھوں میں ہے، اور اس کے ساتھ کوئی بھی ظلم یا ناروا سلوک نہیں ہو گا۔
ساس اور نند جہاں آرا کی زندگی میں تلخیاں بڑھتی گئیں۔ جہاں پہلے وہ آشا پر ظلم کرتی تھیں، اب ان کے اپنے اعمال کا صلہ آ رہا تھا۔ جہاں آرا کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا، اور ساس کو اپنی بیٹی کے لیے مناسب رشتہ تلاش کرنے میں مشکلات آ رہی تھیں۔ ہر کوشش کے باوجود، جو نقصان ہوا تھا، وہ واپس نہیں آ رہا تھا۔
آشا اور عدیل نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ یہ شادی نہ صرف محبت بلکہ آشا کی عزت اور حق کی فتح تھی۔ شادی کی تقریب میں سب نے دیکھا کہ آشا کی خوشی کے آنسو، عدیل کی محبت میں بدل گئے۔ سب کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ صبر، ایمان، اور اللہ کی رضا کے ساتھ کی گئی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔
شادی کے بعد، آشا اور عدیل نے اپنی زندگی نئے اصولوں اور محبت کے ساتھ شروع کی۔ آشا اب نہ صرف ایک بیوی بلکہ ایک ماں بھی بنی، جس نے اپنی زندگی میں جو تجربات کیے تھے، انہیں اپنے بچوں کی تربیت اور محبت میں منتقل کیا۔
وسیم کی یاد اور دکھ کے باوجود، آشا نے اپنی زندگی کو اللہ کے فضل سے خوشیوں اور سکون سے بھر دیا۔ اس کے دل میں یہ یقین تھا کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، اور ہر تکلیف کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔
ساس اور نند جہاں آرا نے اپنے اعمال پر پچھتایا۔ انہیں سمجھ آیا کہ ظلم، حسد، اور کینہ ہمیشہ نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ آشا کی کامیابی اور خوشی نے ان کے لیے آئینہ پیش کیا کہ عزت، صبر، اور ایمان کی راہ ہی انسان کو حقیقی کامیابی تک پہنچاتی ہے۔
آشا اور عدیل کا رشتہ مضبوط اور خوشحال رہا۔ بچوں کی پیدائش اور محبت بھری زندگی نے ان کے گھر کو روشنیوں اور خوشیوں سے بھر دیا۔ ہر مشکل لمحے کے بعد اللہ کی رہنمائی اور صبر نے انہیں مضبوط بنایا۔
آخر میں آشا نے سمجھا کہ زندگی میں جو بھی دکھ، ظلم یا تکلیف آئے، اللہ پر بھروسہ اور صبر سے ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ اور جو لوگ ظلم اور تکبر کرتے ہیں، ان کا انجام ہمیشہ عبرت آموز ہوتا ہے۔ آشا کی کہانی، صبر، حوصلہ اور اللہ کی مدد سے محبت اور عزت حاصل کرنے کی ایک مثال بن گئی۔
آشا نے دھیرے دھیرے اپنے قدم اس نئے گھر میں مضبوط کیے۔ وسیم کی وفات کے بعد جو خلا محسوس ہوتا تھا، عدیل کی محبت اور حفاظت نے اسے ہر دن مضبوط بنایا۔ ہر صبح جب وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی، تو پرندوں کی چہچاہٹ اور نرم ہوا اسے یہ یاد دلاتی کہ زندگی پھر سے خوشیوں سے بھری جا سکتی ہے۔
شادی کے بعد کے دن بھی آسان نہیں تھے۔ آشا کو یاد تھا وہ دن جب اس کے کچن میں کھڑے برتن گر گئے تھے اور ساس کے تھپڑ نے اسے زمین پر گرا دیا تھا۔ اس یاد نے اسے صبر اور حوصلے کا سبق دیا، اور اب وہ جانتی تھی کہ ظلم اور دکھ ہمیشہ عارضی ہوتے ہیں، اور اللہ کی رضا سے سب کچھ بدل سکتا ہے۔
آشا اور عدیل کی محبت کی بنیاد صرف دل کی خوشی نہیں تھی بلکہ یہ ایمان، اعتماد اور باہمی احترام پر تھی۔ عدیل ہمیشہ اسے یہ احساس دلاتا کہ وہ تنہا نہیں، اور اس کی عزت اور خوشی سب سے اہم ہے۔
لیکن زندگی ہمیشہ سیدھی نہیں چلتی۔ جہاں آرا اور اس کی ساس کو اپنی غلطیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، آشا کے ذہن میں ایک سوال تھا: کیا عدیل کا رشتہ واقعی اس کے خاندان کے لیے قبول ہوگا؟ اور عدیل کے پرانے راز، جو کبھی کبھی اس کی آنکھوں میں چمکتے تھے، ان کے تعلق کو مزید گہرا یا پیچیدہ کیسے کریں گے؟
آشا نے اپنے دل کی گہرائی میں سوچا کہ ہر خوشی کے بعد ایک نیا امتحان آتا ہے۔ لیکن اس بار وہ تیار تھی۔ اس کے دل میں جو سکون اور طاقت پیدا ہوئی تھی، وہ اسے ہر آنے والے لمحے کے لیے مضبوط کر رہی تھی۔
گھر کی چھت پر بیٹھ کر آشا نے آسمان کی طرف دیکھا۔ رات کے ستارے چمک رہے تھے، اور ہوا کے نرم جھونکے نے اسے یہ احساس دلایا کہ زندگی میں جو کچھ بھی ہوا، سب کا مقصد کچھ سکھانا تھا۔ مگر دل کے ایک کونے میں سوال رہ گیا: آنے والے دنوں میں کیا نئی خوشیاں اور کیا نئے چیلنجز آئیں گے؟
اور یوں آشا کی کہانی ایک نئے سفر کے لیے دروازہ کھول کر رک گئی۔ قاری کے دل میں تجسس رہ گیا کہ آشا اور عدیل کی زندگی میں آگے کیا ہوگا، کون سے راز سامنے آئیں گے، اور ان کا رشتہ کیسے مضبوط یا آزمایا جائے گا۔
یہ کہانی اختتام پر پہنچی، مگر آشا کی زندگی کی حقیقتیں اور مستقبل کی راہیں ابھی باقی تھیں—ایسی کہانی جو دل کے جذبات کو جھنجوڑتی ہے اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے: آگے کیا ہونے والا ہے؟ اگلی صبح، اگلی خوشی، اگلا امتحان؟

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."