Main Is Haveli Mein Naukrani Thi Magar Asal Sach Kuch Aur Tha | Hindi stories
میں نوکرانی نہیں وارث تھی
میں اس حویلی میں صرف ایک نوکرانی سمجھی جاتی تھی مگر میرے لیے یہ جگہ کسی قید خانے سے کم نہ تھی جہاں ہر دن ذلت ایک نئے انداز میں میرا استقبال کرتی تھی اور ہر صبح بڑی بی بی کی سخت آواز میرے دن کی شروعات بن جاتی تھی میں سویرا تھی اور شاید برسوں سے اسی نام کے ساتھ اسی شناخت میں زندہ تھی ایک ایسی شناخت جو دوسروں کے دیے ہوئے حکموں اور طعنوں کے سائے میں پلتی رہی میں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میں یہاں کب آئی کیونکہ بچپن کی یادیں دھند میں لپٹی ہوئی تھیں بس اتنا یاد تھا کہ یہ حویلی ہمیشہ سے میری دنیا رہی ہے مگر اس دنیا میں میرا کوئی مقام نہیں تھا
بڑی بی بی اس گھر کی مالکن تھیں ان کی ایک ایک نظر میں غرور اور ایک ایک لفظ میں سختی بسی ہوتی تھی وہ مجھے صرف کام کرنے والی مشین سمجھتی تھیں جو نہ تھکتی ہے نہ بولتی ہے اور اگر بولے تو سزا کی حقدار ہوتی ہے میں نے سیکھ لیا تھا کہ خاموشی ہی میرا سب سے مضبوط ہتھیار ہے کیونکہ یہاں سچ بولنے کی قیمت بہت مہنگی تھی بڑے صاحب اس دنیا میں نہیں رہے تھے اور ان کی موجودگی بس دیواروں پر لگی تصویروں تک محدود تھی حویلی کی فضا میں ان کی خاموشی آج بھی بولتی تھی مگر کوئی ایسا نہ تھا جو اس خاموشی کا مطلب سمجھ سکے
میرا دن صبح اندھیرے میں شروع ہوتا اور رات کے سناٹے میں ختم ہوتا صفائی برتن کپڑے باورچی خانہ مہمانوں کی خدمت سب کچھ میری ذمہ داری تھا میرے ہاتھوں کی لکیریں مٹ چکی تھیں اور انگلیوں پر پڑے زخم میری پہچان بن گئے تھے میں جب تھکن سے چور ہو کر ایک لمحے کو رکتی تو بڑی بی بی کی آواز گونج اٹھتی سویرا کام رکا کیوں ہے اور میں پھر جھک کر کام میں لگ جاتی جیسے میری اپنی ذات کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہو
اس گھر میں رشتہ دار آتے جاتے رہتے تھے ہنستے بولتے قہقہے لگاتے مگر ان قہقہوں میں میرے لیے کبھی کوئی جگہ نہ تھی میں سب کچھ دیکھتی تھی اور دل میں سوالوں کا بوجھ لیے خاموش رہتی تھی میں نے خود کو یقین دلایا تھا کہ شاید یہی میری قسمت ہے اور شاید اللہ نے مجھے اسی کام کے لیے پیدا کیا ہے لیکن دل کے کسی کونے میں ایک خاموش چیخ تھی جو ہر روز تھوڑی اور گہری ہو جاتی تھی
ایک دن بڑی بی بی نے معمولی سی بات پر مجھے سب کے سامنے ذلیل کیا سالن میں نمک زیادہ تھا یا کم مجھے یاد نہیں مگر ان کے لفظ آج بھی یاد ہیں جنہوں نے میری روح تک کو زخمی کر دیا میں نے اس دن آئینے میں خود کو دیکھا تو مجھے اپنی آنکھوں میں ایک اجنبی خوف نظر آیا مگر اسی خوف کے پیچھے کہیں نہ کہیں ایک ضد بھی جنم لے رہی تھی کہ میں صرف ایک نوکرانی نہیں ہوں میں بھی ایک انسان ہوں
رات کو جب سب سو جاتے تو میں کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان دیکھتی ستاروں کو گنتی اور دل ہی دل میں دعا کرتی کہ کاش میری زندگی میں بھی کوئی روشنی آئے کوئی سچ کوئی ایسا لمحہ جو مجھے بتا دے کہ میں واقعی کون ہوں اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ سچ اس حویلی ہی کے فرش کے نیچے میرا انتظار کر رہا ہے اور جب وہ سامنے آئے گا تو میری پوری دنیا بدل جائے گی
یہ بس شروعات تھی ایک ایسی کہانی کی جس کا راز ابھی قالین کے نیچے دبا ہوا تھا اور مجھے خبر بھی نہ تھی کہ اگلا قدم میری قسمت کو ہمیشہ کے لیے بدلنے والا ہے
اگلے دن حویلی میں ایک عجیب سی بے چینی پھیلی ہوئی تھی بڑی بی بی صبح سے ہی غصے میں تھیں اور ان کی آواز میں وہ تلخی کئی گنا بڑھ چکی تھی جو عام دنوں میں بھی میری سانسیں بھاری کر دیتی تھی مجھے بار بار کمرے بدل بدل کر صفائی کا حکم دیا جا رہا تھا جیسے وہ کسی چیز کی تلاش میں ہوں یا شاید اپنی ہی الجھن مجھ پر نکال رہی ہوں میں خاموشی سے کام کرتی رہی مگر دل میں ایک انجانا سا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا
دوپہر کے وقت جب میں بڑے ڈرائنگ روم میں صفائی کر رہی تھی تو میری نظر اس بھاری اور قیمتی قالین پر پڑی جو برسوں سے اسی جگہ بچھا ہوا تھا اس کے کنارے ہمیشہ میری آنکھوں سے اوجھل رہے تھے کیونکہ بڑی بی بی خاص طور پر منع کرتی تھیں کہ اسے ہٹایا نہ جائے اس دن نہ جانے کیوں میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا جیسے کوئی اندر سے کہہ رہا ہو کہ آج وہ حد توڑ دو میں نے ادھر ادھر دیکھا پورا کمرہ خالی تھا اور حویلی کی خاموشی میرے کانوں میں گونج رہی تھی
میں نے کانپتے ہاتھوں سے قالین کا ایک کونہ اٹھایا تو نیچے جمع گرد اور پرانے کاغذوں کی بو نے مجھے چونکا دیا میں نے جھک کر دیکھا تو وہاں ایک پرانا سا فولڈر پڑا تھا جس پر وقت کی گرد جمی ہوئی تھی میرا دل زور سے دھڑکا جیسے سینے سے باہر نکل آئے میں نے فولڈر اٹھایا اور تیزی سے اسے اپنے دوپٹے میں چھپا لیا کیونکہ قدموں کی آہٹ سنائی دینے لگی تھی میں نے قالین فوراً اپنی جگہ درست کیا اور خود کو کام میں مصروف ظاہر کرنے لگی
شام ڈھلے جب سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے اور حویلی پر وہی خوفناک خاموشی چھا گئی جس کی مجھے عادت ہو چکی تھی میں نے دروازہ بند کیا اور چراغ کی مدھم روشنی میں وہ فولڈر نکالا میرے ہاتھ لرز رہے تھے دل کہہ رہا تھا کہ اسے کھولو مگر دماغ ڈرا رہا تھا کہ اگر یہ کوئی گناہ ہوا تو انجام کیا ہوگا میں نے آنکھیں بند کر کے ایک گہرا سانس لیا اور فولڈر کھول دیا
اندر ایک پرانا نکاح نامہ تھا جس کی سیاہی مدھم ہو چکی تھی مگر الفاظ اب بھی صاف تھے میری نظر جیسے ہی نام پر پڑی تو میرے پیروں تلے زمین نکل گئی وہاں میرا نام نہیں لکھا تھا مگر وہ نام تھا جو میں نے زندگی میں سب سے زیادہ سنا تھا سکینہ منیر وہی نام جو میری ماں کا تھا جسے میں نے بس چند دھندلی یادوں میں محسوس کیا تھا میرے دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا
میں بار بار اس کاغذ کو دیکھتی رہی شاید مجھے لگا کہ میں غلط پڑھ رہی ہوں مگر ہر بار وہی نام وہی تاریخ اور وہی حویلی کا پتہ لکھا تھا میرے ذہن میں سوالوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا کیا یہ محض ایک اتفاق ہے یا میری پوری زندگی ایک جھوٹ پر کھڑی تھی اگر یہ نکاح نامہ سچ ہے تو میں اس حویلی کی نوکرانی کیسے ہو سکتی ہوں اور اگر میں وارث ہوں تو پھر مجھ سے میری شناخت کیوں چھینی گئی
اسی لمحے مجھے بڑی بی بی کی سرد آنکھیں یاد آئیں ان کا غرور ان کی نفرت اور وہ مستقل خوف جو وہ میرے اندر بٹھاتی رہی تھیں کیا وہ سب کچھ جانتی تھیں اور مجھے جان بوجھ کر اس حال میں رکھا گیا تھا میرا دماغ پھٹنے کو تھا آنسو بے اختیار بہنے لگے مگر اس بار یہ آنسو کمزوری کے نہیں تھے یہ سچ کے قریب پہنچنے کے آنسو تھے
میں نے فولڈر کو سینے سے لگا لیا اور فیصلہ کیا کہ اب میں خاموش نہیں رہوں گی مگر یہ راستہ آسان نہیں تھا کیونکہ اس سچ کے پیچھے شاید وہ راز چھپا تھا جو بڑی بی بی ہر قیمت پر دفن رکھنا چاہتی تھیں اور مجھے ابھی یہ طے کرنا تھا کہ میں ڈر کر پیچھے ہٹوں یا اس آگ میں کود جاؤں جو میری زندگی کو راکھ بھی کر سکتی تھی اور نیا جنم بھی دے سکتی تھی
یہ دوسرا قدم تھا اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اگلا قدم اور بھی خطرناک ہوگا کیونکہ سچ اب صرف ایک کاغذ نہیں رہا تھا وہ میرے وجود سے ٹکرا چکا تھا اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا
اگلی صبح میری آنکھ اس خوف کے ساتھ کھلی کہ جیسے کوئی راز میرے سینے پر سوار ہو کر مجھے دبا رہا ہو وہ نکاح نامہ میں نے رات بھر تکیے کے نیچے چھپا کر رکھا تھا اور ہر سانس کے ساتھ یہی ڈر تھا کہ کہیں کوئی آ کر سب کچھ نہ دیکھ لے حویلی ویسے ہی خاموش تھی مگر اس دن مجھے ہر دیوار مشکوک لگ رہی تھی ہر سایہ جیسے مجھے گھور رہا ہو میں نے خود کو سنبھالا اور معمول کے مطابق کام میں لگ گئی مگر دل بار بار اسی ایک سوال پر آ کر رک جاتا تھا کہ اگر میں واقعی وارث ہوں تو میری ماں کون تھیں اور وہ کہاں گئیں
دوپہر کے قریب بڑی بی بی نے مجھے آواز دی ان کے لہجے میں عجیب سی سختی تھی جو میرے دل کو چیر کر رکھ گئی میں ان کے سامنے کھڑی ہوئی تو انہوں نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہوں اور پھر کہا کہ آج وکیل صاحب آ رہے ہیں اس لئے ہر چیز چمکنی چاہیے ان کے یہ الفاظ سنتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی وکیل کا نام سنتے ہی وہ نکاح نامہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا کیا یہ سب ایک اتفاق تھا یا کسی بڑے راز کا دروازہ اب کھلنے والا تھا
کچھ ہی دیر بعد ایک سفید بالوں والے بزرگ حویلی میں داخل ہوئے ان کے چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں گہری تھکن تھی میں انہیں دیکھ کر بے اختیار ٹھٹک گئی جیسے دل نے گواہی دی ہو کہ یہ شخص میری زندگی کا رخ بدلنے والا ہے بڑی بی بی ان سے بہت رسمی انداز میں بات کر رہی تھیں مگر ان کی آواز میں چھپی گھبراہٹ میں صاف محسوس کر سکتی تھی میں کمرے کے ایک کونے میں کھڑی سب کچھ سن رہی تھی
وکیل صاحب کی نظر اچانک مجھ پر پڑی اور وہ لمحہ میرے لئے قیامت بن گیا وہ مجھے غور سے دیکھتے رہے جیسے کسی یاد کو ٹٹول رہے ہوں پھر آہستہ سے بولے یہ لڑکی یہاں کام کرتی ہے بڑی بی بی نے تیزی سے جواب دیا ہاں ایک عام سی نوکرانی ہے اس میں کوئی خاص بات نہیں ان کا یہ جملہ میرے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگا مگر وکیل صاحب کے چہرے پر ایک سوالیہ نشان ابھر آیا
شام کے وقت جب سب اپنے کمروں میں چلے گئے تو وکیل صاحب نے مجھے اشارے سے روکا میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا مگر میں نے ہمت جمع کی اور ان کے قریب چلی گئی انہوں نے دھیمی آواز میں پوچھا تمہارا نام کیا ہے میں نے اپنا نام بتایا تو وہ لمحہ بھر خاموش رہے پھر بولے کیا تمہاری ماں کا نام سکینہ تھا یہ سنتے ہی میرے پیروں تلے زمین نکل گئی میں نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا جی آپ کو کیسے پتا انہوں نے گہری سانس لی اور کہا کیونکہ میں تمہارے باپ کا وکیل تھا
یہ سن کر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا میرا دل چیخ چیخ کر سوال کرنے لگا مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی وکیل صاحب نے بتایا کہ برسوں پہلے ایک شادی ہوئی تھی جسے دنیا سے چھپا کر رکھا گیا اور اس شادی کی نشانی ایک بیٹی تھی جسے حفاظت کے نام پر اس حویلی میں رکھا گیا مگر پھر حالات بدل گئے اور سچ کو دفن کر دیا گیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ بڑی بی بی اس راز سے بخوبی واقف تھیں
میں نے کپکپاتی ہوئی آواز میں پوچھا تو پھر میں یہاں نوکرانی کیوں بنی رہی انہوں نے افسوس سے کہا کیونکہ سچ کو چھپانا کچھ لوگوں کے لئے اقتدار کا واحد راستہ ہوتا ہے میں آنسوؤں کے ساتھ کھڑی سنتی رہی کیونکہ میری ساری زندگی کا درد ایک ایک کر کے لفظوں میں ڈھل رہا تھا
وکیل صاحب نے جاتے جاتے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ میرا حق واپس دلائیں گے مگر اس کے لئے مجھے مضبوط رہنا ہوگا کیونکہ آگے جو ہونے والا ہے وہ صرف سچ کی جیت نہیں بلکہ ایک جنگ ہوگی اور اس جنگ میں ہار جیت دونوں کے نشان ہمیشہ کے لئے روح پر ثبت ہو جاتے ہیں
اس رات میں دیر تک جاگتی رہی حویلی کی دیواریں اب مجھے اجنبی نہیں بلکہ دشمن لگنے لگی تھیں کیونکہ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ اگلا قدم اٹھاتے ہی یہ حویلی یا تو میری پہچان بنے گی یا میری قبر اور یہی سوچ میرے دل میں ایک ایسا تجسس جگا رہی تھی جو مجھے سونے نہیں دے رہا تھا کہ اب انجام کس موڑ پر میرا انتظار کر رہا ہے
وہ رات میری زندگی کی سب سے لمبی رات تھی حویلی کی دیواریں جو برسوں سے میری خاموشی کی گواہ تھیں اب مجھ پر تنگ ہو رہی تھیں ہر سانس کے ساتھ دل میں یہی خوف تھا کہ اگر سچ سامنے آ گیا تو سب کچھ بدل جائے گا اور اگر دب گیا تو میں ہمیشہ کے لیے خود کو کھو دوں گی میں نے پہلی بار فیصلہ کیا کہ اب میں صرف سہتی نہیں رہوں گی اب میں اپنے وجود کا سوال اٹھاؤں گی
اگلی صبح وکیل صاحب دوبارہ آئے اس بار ان کے ہاتھ میں فائل تھی اور لہجے میں وہ مضبوطی جو صرف سچ کے ساتھ چلنے والوں میں ہوتی ہے بڑی بی بی کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں وہ بار بار مجھے دیکھ رہی تھیں جیسے پہلی دفعہ پہچان رہی ہوں وکیل صاحب نے سب کے سامنے وہ نکاح نامہ رکھا جو برسوں قالین کے نیچے دبا رہا اور پھر آہستہ آہستہ وہ تمام حقیقت بیان کی جو میرے بچپن میرے آنسوؤں اور میری خاموشیوں میں دفن تھی
کمرے میں خاموشی چھا گئی جب یہ ثابت ہوا کہ میں اس حویلی کی نوکرانی نہیں بلکہ اس جائیداد کی قانونی وارث ہوں بڑی بی بی کا غرور آنکھوں کے سامنے بکھر گیا ان کی آواز کانپنے لگی وہ چیخنا چاہتی تھیں مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے میں ان کے سامنے کھڑی تھی مگر اب میرے کندھے جھکے ہوئے نہیں تھے
عدالت نے فیصلہ سنایا جائیداد میرے نام ہوئی اور وہ سب جو برسوں میرا حق کھا رہے تھے خاموشی سے پیچھے ہٹ گئے میں نے اس دن یہ سیکھا کہ انصاف دیر سے ملے تو بھی اس کی روشنی اندھیرے کو چیر دیتی ہے
میں نے بدلے کا راستہ نہیں چنا میں نے بڑی بی بی کے لیے قانون کے مطابق حصہ الگ کر دیا مگر اپنی زندگی سے ان کا سایہ ہٹا دیا کیونکہ معافی انسان کو ہلکا کر دیتی ہے اور نفرت انسان کو پھر اسی قید میں لے جاتی ہے جس سے وہ نکلا ہو
وقت گزرا میں نے تعلیم مکمل کی اپنے باپ کے نام سے جڑی ذمہ داریوں کو سنبھالا اس حویلی کو قید خانہ نہیں بلکہ پناہ گاہ بنایا جہاں کوئی بھی لڑکی ذلت کا شکار نہ ہو میں نے شادی بھی کی ایک ایسے انسان سے جس نے میرے ماضی کو بوجھ نہیں بلکہ میری طاقت سمجھا ہماری زندگی میں خوشی نے آہستہ آہستہ جگہ بنائی اور پھر اللہ نے ہمیں اولاد کی نعمت سے بھی نوازا
کبھی کبھی میں اسی قالین کے پاس کھڑی ہو جاتی ہوں جہاں سے وہ نکاح نامہ ملا تھا اور سوچتی ہوں اگر وہ دن نہ آتا تو شاید میں آج بھی اپنی شناخت سے ناواقف ہوتی تب مجھے سمجھ آتا ہے کہ زندگی ہمیں توڑنے کے لیے نہیں بلکہ جگانے کے لیے آزماتی ہے
یہی اس کہانی کا نچوڑ ہے کہ ظلم وقتی ہوتا ہے اور سچ اگر دب بھی جائے تو ایک دن سانس لے کر باہر آتا ہے اور جب آتا ہے تو صرف انجام نہیں لاتا بلکہ ایک نئی شروعات بھی دے جاتا ہے اور شاید یہی اصل جیت ہے۔
https://www.blogger.com/u/9/blog/post
/edit/preview/2729899281674296463
/5275147843604924496

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."