Beta Beron Mulk Sy Apni Maa Ko Pesay Bhejta Raha | Heart Touching Sachi Kahani | Urdu Story
بیٹا پردیس میں تنہا تھا
سلمان ہر مہینے تاریخ دیکھتا اور موبائل میں بینک ایپ کھول کر سکون کا سانس لیتا کیونکہ ایک اور بڑی رقم پاکستان روانہ ہو چکی ہوتی اور اس کے دل میں یہی خیال آتا کہ اب اماں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی اب وہ آرام سے زندگی گزار رہی ہوں گی اب ان کے ہاتھ کسی کے آگے نہیں پھیلیں گے
یورپ کے ایک سرد اور اجنبی شہر میں سلمان بارہ بارہ گھنٹے کام کرتا تھا تھکن سے جسم ٹوٹ جاتا تھا مگر ماں کا خیال اسے دوبارہ کھڑا کر دیتا تھا وہ خود سے کہتا تھا کہ یہ سب برداشت صرف اماں کے لیے ہے تاکہ وہ بڑھاپے میں سکھ کا سانس لے سکیں
مگر عجیب بات یہ تھی کہ ہر فون کال کے آخر میں اماں کی آواز بھرا جاتی تھی اور وہ آہستہ آہستہ یہی کہتی تھیں بیٹا پیسے ابھی تک نہیں پہنچے دوائی ختم ہو رہی ہے طبیعت سنبھل نہیں رہی
سلمان کا دل ہر بار بیٹھ جاتا تھا اسے یقین نہیں آتا تھا کیونکہ اس کے پاس بینک کا پیغام موجود ہوتا تھا مکمل تصدیق ہوتی تھی کہ رقم نکلوائی جا چکی ہے اور وہ سوچتا تھا کہ آخر یہ ممکن کیسے ہے
شروع میں اس نے یہی سمجھا کہ شاید اماں بھول جاتی ہیں شاید عمر کے ساتھ کمزوری آ گئی ہے مگر جب یہ بات مہینوں تک چلتی رہی تو اس کے اندر ایک عجیب سی الجھن اور بے چینی پیدا ہونے لگی
وہ ماں سے کہتا اماں میں نے خود پیسے بھیجے ہیں میں نے آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کروائے ہیں پھر یہ کہاں چلے جاتے ہیں
اور اماں روتے ہوئے بس یہی کہتیں بیٹا میں جھوٹ نہیں بول رہی میرے پاس ایک روپیہ بھی نہیں ہے
یہ جملہ سلمان کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگتا تھا وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا اور گھنٹوں یہی سوچتا رہتا کہ اگر پیسے اماں تک نہیں پہنچ رہے تو پھر جا کہاں رہے ہیں
اس کی بیوی زاہدہ سے کبھی کبھار بات ہوتی تھی وہ ہمیشہ یہی کہتی فکر نہ کرو سب ٹھیک ہے اماں کو عادت ہے شکایت کرنے کی تم بس پیسے بھیجتے رہو
سلمان اس جواب پر خاموش ہو جاتا تھا کیونکہ اس کے پاس بحث کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی وہ پردیس میں تھا تنہا تھا اور بس چاہتا تھا کہ وقت جلد گزرے اور وہ واپس اپنے گھر لوٹ سکے
ایک دن اماں نے فون پر اتنا رویا کہ سلمان کا ضبط ٹوٹ گیا اور اس نے دل میں یہ سوچ کر کال ختم کر دی کہ شاید کچھ عرصہ خاموشی بہتر ہے شاید اماں کو یقین آ جائے کہ وہ واقعی پیسے بھیج رہا ہے
مہینے گزرتے گئے اور پھر وہ مہینے سالوں میں بدل گئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے پانچ سال گزر گئے
اور پھر ایک دن سلمان نے اچانک فیصلہ کیا کہ اب واپس جانا ہے کیونکہ اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف پیدا ہو چکا تھا اور وہ جاننا چاہتا تھا کہ حقیقت آخر ہے کیا
واپسی کے دن اس کے دل میں ایک عجیب سی امید بھی تھی کہ شاید اماں اسے دیکھ کر مسکرا دیں گی شاید سب غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی
مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جو منظر اس کا انتظار کر رہا ہے وہ اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دے گا اور وہ کبھی بھی پہلے جیسا نہیں رہ پائے گا
جب گاڑی اس کے محلے میں داخل ہوئی اور اس کی نظر ایک عالی شان بنگلے پر پڑی تو وہ چند لمحوں کے لیے حیرت میں گم ہو گیا کیونکہ یہ اس کا ہی گھر تھا جو اب پہچانا نہیں جا رہا تھا
لیکن گیٹ پر بیٹھی ایک کمزور سی عورت جس کے کپڑے پرانے تھے جس کی آنکھوں میں برسوں کی تھکن اور خاموش فریاد تھی اسے دیکھ کر سلمان کے قدم وہیں جم گئے کیونکہ وہ عورت اس کی ماں تھی اور سلمان کے دل میں ایک طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا
سلمان کچھ لمحے وہیں کھڑا رہا اس کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے ہوں وہ سامنے عالی شان بنگلے کو دیکھتا پھر گیٹ پر بیٹھی اس کمزور عورت کو اور اس کا دماغ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ یہ دونوں ایک ہی کہانی کا حصہ ہیں
وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور زبان جیسے ساتھ چھوڑ چکی تھی اماں نے جب سر اٹھایا تو ان کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت چمکی مگر فوراً ہی وہ نظریں جھکا کر بولیں بابا یہاں رکنا منع ہے مالک ناراض ہو جائے گا
یہ الفاظ سلمان کے دل میں تیر کی طرح اتر گئے اس نے کپکپاتی آواز میں کہا اماں میں سلمان ہوں آپ کا بیٹا
اماں نے غور سے اس کی طرف دیکھا پھر آنکھیں میچ کر جیسے پہچاننے کی کوشش کی اور اچانک ان کے ہاتھ لرزنے لگے وہ کھڑی ہونے لگیں مگر کمزوری کے باعث پھر وہیں بیٹھ گئیں اور ان کے منہ سے بس اتنا نکلا بیٹا واقعی تم آ گئے ہو
سلمان گھٹنوں کے بل ان کے سامنے بیٹھ گیا اور اس نے دیکھا کہ اماں کے ہاتھوں میں وہی پرانی جھریاں تھیں وہی کانپتی انگلیاں مگر ان کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو کبھی اس کے لیے دعائیں مانگتے ہوئے ہوتی تھی
اس نے روتے ہوئے پوچھا اماں آپ یہاں گیٹ پر کیوں بیٹھی ہیں یہ گھر تو ہمارا ہے نا
اماں نے ادھر ادھر دیکھا جیسے کوئی سن نہ لے پھر آہستہ آواز میں بولیں بیٹا یہ گھر اب میرا نہیں رہا
یہ سن کر سلمان کے دل میں عجیب سی ٹھنڈک دوڑ گئی اس نے گھبرا کر کہا اماں یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میں نے اپنی ساری کمائی آپ کے لیے بھیجی یہ سب آپ کا ہی تو ہے
اماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور انہوں نے سلمان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا جیسے برسوں بعد کسی اپنے کا سہارا ملا ہو وہ بولیں بیٹا پیسے آتے رہے مگر مجھ تک کبھی نہیں پہنچے
سلمان کا سر گھومنے لگا اس نے بے یقینی سے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے اماں میں نے خود پیسے بھیجے تھے بینک سے تصدیق بھی آتی تھی
اماں نے گہرا سانس لیا اور بولیں بیٹا میں نے کئی بار تمہیں بتانے کی کوشش کی مگر ہر بار تم یہی کہتے رہے کہ پیسے پہنچ گئے ہیں اور میں خاموش ہو جاتی تھی کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ تم پردیس میں پریشان ہو
یہ سنتے ہی سلمان کے اندر برسوں سے جمع سوال چیخ بن کر ابھرنے لگے وہ سوچنے لگا کہ اگر پیسے اماں تک نہیں پہنچے تو پھر وہ دولت کس نے سمیٹی کس کے ہاتھوں نے اس کے خوابوں کو لوٹا
اسی لمحے گھر کے اندر سے ہنسی کی آواز آئی اور سلمان نے مڑ کر دیکھا تو اس کی بیوی زاہدہ قیمتی کپڑوں میں ملبوس مسکراتی ہوئی باہر آ رہی تھی اس کے چہرے پر غرور تھا اور آنکھوں میں عجیب سی چمک
زاہدہ نے اماں کی طرف دیکھ کر حقارت سے کہا سلمان تم ان کی باتوں میں مت آؤ یہ اب ذہنی طور پر ٹھیک نہیں رہیں
سلمان نے پہلی بار زاہدہ کو اس نظر سے دیکھا جس میں محبت نہیں سوال تھا شک تھا اور ایک گہرا خوف تھا کہ کہیں سچ وہ نہ ہو جس کا وہ تصور بھی نہیں کرنا چاہتا
اماں نے سلمان کا ہاتھ اور مضبوطی سے پکڑ لیا اور کپکپاتی آواز میں بولیں بیٹا اگر میں پاگل ہوں تو پھر یہ زیور کس نے بیچا جو میں نے تمہارے لیے سنبھال کر رکھے تھے
یہ سنتے ہی سلمان کی سانس رک گئی اور اس کے ذہن میں ایک ایسا اندیشہ ابھرنے لگا جس نے اس کے دل کو لرزا دیا کیونکہ اب کہانی صرف پیسوں کی نہیں رہی تھی بلکہ اعتماد اور رشتوں کے ٹوٹنے کی طرف بڑھ رہی تھی
اور سلمان کو اندازہ ہونے لگا تھا کہ اصل سچ ابھی سامنے آنا باقی ہے اور جب وہ سامنے آئے گا تو شاید کوئی رشتہ سلامت نہ رہے
زاہدہ نے سلمان کی طرف اس انداز سے دیکھا جیسے اس نے کوئی بہت بڑی گستاخی کر دی ہو اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو اکثر کامیاب لوگ اپنے سے کمزور انسانوں کے لیے رکھتے ہیں وہ بولی سلمان تمہیں ماں کے آنسو نظر آتے ہیں مگر ان کی حقیقت نہیں نظر آتی
سلمان نے سخت لہجے میں کہا زاہدہ سچ صاف صاف بولو یہ زیور کس نے بیچا
زاہدہ ہلکا سا ہنسی جیسے یہ سوال اس کے لیے کوئی معنی ہی نہ رکھتا ہو پھر اس نے لاپرواہی سے کہا تمہاری ماں خود بیچتی تھیں بار بار پیسے مانگتی تھیں میں نے تو بس ان کی مدد کی
یہ سنتے ہی اماں کی آنکھوں میں ایک گہری چوٹ اتر آئی وہ بولیں بیٹا میں نے کبھی پیسے نہیں مانگے میں تو ہر خط میں یہی لکھتی تھی کہ تم خوش رہو
زاہدہ فوراً بولی یہ سب ڈرامہ ہے سلمان یہ بوڑھی عورت لوگوں سے ہمدردی سمیٹنے کے لیے یہ سب کہتی ہے
سلمان کو یاد آیا کہ جب وہ پردیس میں ہوتا تھا تو زاہدہ اکثر فون پر کہتی تھی اماں پھر بیمار ہیں اماں کو دوائیاں چاہییں اماں نے یہ فرمائش کی ہے اماں نے وہ مانگا ہے اور وہ ہر بار خاموشی سے مزید پیسے بھیج دیتا تھا
اس نے آہستہ آواز میں پوچھا اماں کیا واقعی آپ نے مجھ سے کبھی پیسے مانگے
اماں نے سر جھکا لیا اور کہا بیٹا میں نے بس ایک بار کہا تھا کہ اگر تمہاری سہولت ہو تو چھت کی مرمت کرا دو مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ میں نے تمہیں کبھی نہیں بتایا
زاہدہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا بس بس اب جذباتی ڈرامہ بند کرو سلمان تم جانتے ہو نا کہ یہ عورت کتنی چالاک ہے یہ محلے والوں کو بھی کہتی پھرتی تھی کہ میں اسے ستاتی ہوں
یہ سن کر اماں کا ضبط ٹوٹ گیا وہ بولیں بیٹا میں نے کبھی شکایت نہیں کی مگر جب تمہاری بیوی نے مجھے کہا کہ یہ گھر اب اس کا ہے اور میں یہاں بوجھ ہوں تب میں نے خود کو خاموش کر لیا
سلمان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا اسے یاد آیا کہ کیسے زاہدہ نے آہستہ آہستہ پورے گھر پر قبضہ کر لیا تھا پہلے کچن پھر کمرے پھر فیصلے اور آخر میں اماں کی آواز بھی
اماں نے کانپتی آواز میں کہا بیٹا وہ مجھے کہتی تھی کہ تمہارے پیسے میرے ہیں تم نے انہیں میرے نام کیا ہے وہ مجھے گیٹ پر بٹھا دیتی تھی تاکہ میں کسی سے بات نہ کروں
زاہدہ نے غصے سے کہا سلمان دیکھو یہ کیسی کہانیاں بنا رہی ہے میں نے تو انہیں آرام دیا تھا مگر یہ خود عزت گنوا کر باہر بیٹھتی تھیں
سلمان نے پہلی بار محسوس کیا کہ زاہدہ کی خوبصورتی اس کے دل میں اترنے کے بجائے آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھنے لگی تھی اس کی زبان کی مٹھاس دراصل زہر تھی اور اس کی مسکراہٹ میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں تھی
اس نے سوچا کہ جس عورت کو اس نے اپنی زندگی کا ساتھی سمجھا تھا وہی اس کی ماں کے لیے سب سے بڑا امتحان بن گئی تھی
اماں نے سلمان کی طرف دیکھا اور بولیں بیٹا میں نے سب کچھ سہہ لیا کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ تمہاری دنیا ٹوٹے مگر اب لگتا ہے سچ چھپانے سے صرف ظلم بڑھتا ہے
یہ سن کر سلمان کے دل میں ایک عجیب سا طوفان اٹھا وہ جان گیا تھا کہ یہ کہانی صرف ماضی کا دکھ نہیں بلکہ آنے والے فیصلوں کی جنگ ہے
اور اب سوال یہ نہیں تھا کہ زاہدہ نے کیا کیا
سوال یہ تھا کہ
سلمان اب کیا کرے گا؟
کیا وہ خاموش رہے گا؟
یا وہ سچ کے ساتھ کھڑا ہو کر اپنی پوری زندگی بدل دے گا؟
یہ وہ موڑ تھا جہاں سے انجام کی طرف راستہ شروع ہوتا ہے
مگر ابھی فیصلہ باقی ہے
اور فیصلہ جب آئے گا
تو کسی ایک کا سب کچھ چھن جائے گا
رات بہت گہری ہو چکی تھی مگر سلمان کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی کمرے میں خاموشی تھی مگر اس خاموشی میں اس کے دل کی چیخیں صاف سنائی دے رہی تھیں وہ بار بار ایک ہی بات سوچ رہا تھا کہ جس عورت کو اس نے اپنی زندگی کا سہارا سمجھا وہی اس کی ماں کے آنسوؤں کی وجہ کیسے بن گئی
زاہدہ سامنے بیٹھی تھی اس کے چہرے پر خوف نہیں تھا بس ایک عجیب سی بےزاری تھی جیسے سب کچھ کھل جانے کے بعد بھی اسے کسی نقصان کا احساس نہ ہو سلمان نے آہستہ مگر بھاری آواز میں کہا زاہدہ میں نے تم پر اندھا اعتماد کیا تھا
زاہدہ نے کندھے اچکائے اور کہا اعتماد کمزور لوگوں کا ہتھیار ہوتا ہے سلمان طاقت پیسے میں ہوتی ہے اور وہ میرے پاس ہے
یہ الفاظ سلمان کے دل میں خنجر کی طرح اتر گئے اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ عورت جس کے لیے اس نے ماں کو پردیس میں اکیلا چھوڑا تھا اس کے دل میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی
اماں دوسرے کمرے میں خاموش بیٹھی تھیں ان کے ہاتھ میں وہی پرانا دوپٹہ تھا جس میں انہوں نے ساری زندگی اپنی عزت سمیٹ کر رکھی تھی سلمان اٹھا اور ان کے پاس جا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے وہ بولا اماں میں گنہگار ہوں میں نے آپ کے آنسو نہیں دیکھے
اماں نے کانپتے ہاتھوں سے اس کا سر تھام لیا اور کہا بیٹا ماں کبھی بددعا نہیں دیتی وہ بس صبر کرتی ہے
یہ سن کر سلمان کا ضبط ٹوٹ گیا اس نے فیصلہ کر لیا تھا مگر فیصلہ ابھی زبان پر نہیں آیا تھا
اگلی صبح سلمان نے زاہدہ کو اپنے ساتھ بٹھایا اور وہ کاغذات اس کے سامنے رکھ دیے جن پر کبھی اس نے بغیر پڑھے دستخط کیے تھے سلمان نے کہا آج مجھے سب سچ معلوم ہو گیا ہے تم نے پیسے کے لیے میری ماں کو ذلیل کیا میرے اعتماد کو بیچا اور میری غیر موجودگی کو ہتھیار بنایا
زاہدہ نے کاغذات دیکھے تو اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا سلمان نے آہستہ سے کہا یہ سب اب ختم ہو چکا ہے میں نے وہ سب کچھ واپس لے لیا ہے جو تم نے میرے نام سے اپنے نام کیا تھا
زاہدہ پہلی بار گھبرا گئی اس نے تیز آواز میں کہا تم یہ سب نہیں کر سکتے میں نے تمہارے ساتھ سال گزارے ہیں
سلمان نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا تم نے میری ماں کے آنسوؤں کے ساتھ سودا کیا تھا اب انجام بھی قبول کرو
چند دن بعد زاہدہ اس گھر سے چلی گئی مگر اس کے جانے سے گھر خالی نہیں ہوا بلکہ وہ بوجھ اتر گیا جو برسوں سے دیواروں پر سسک رہا تھا
اماں کو سلمان نے اپنے ساتھ رکھا وہ خود ان کے لیے چائے بناتا ان کے قدم دباتا اور ہر لمحہ یہ احساس دلاتا کہ اب وہ اکیلی نہیں ہیں
ایک رات اماں نے سلمان سے کہا بیٹا اللہ نے تمہیں سچ دکھا دیا یہی سب سے بڑی دولت ہے
سلمان کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا اسے لگا جیسے اس کی زندگی کی اندھیری سرنگ ختم ہو گئی ہو مگر اس کے دل میں ایک سوال ہمیشہ زندہ رہے گا کہ اگر سچ دیر سے ملے تو کتنے آنسو ضائع ہو جاتے ہیں
یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی
یہ ہر اس انسان کے لیے ایک آئینہ ہے
جو محبت کے نام پر لالچ کو گھر میں جگہ دے دیتا ہے
اور ماں جیسے رشتے کو نظر انداز کر دیتا ہے
کچھ انجام خاموش ہوتے ہیں
مگر ان کی گونج زندگی بھر سنائی دیتی ہے
طلاق کے کچھ عرصے بعد جب سلیمان کی زندگی کی گرد بیٹھنے لگی تو ایک دن اس کی والدہ نے اسے اپنے پاس بٹھایا ان کی آواز میں ماں کی شفقت بھی تھی اور برسوں کی تھکن بھی انہوں نے کہا بیٹا وہ عورت جو لالچ کی وجہ سے ہمارے گھر میں آئی تھی تم نے اسے اس کے انجام تک پہنچا دیا اب دل کو آزاد کر لو اور نئی زندگی شروع کرو ماں کی دعا کے بغیر کوئی گھر آباد نہیں ہوتا
سلیمان خاموشی سے سنتا رہا اس کے دل میں پہلی بار سکون اترا اسے محسوس ہوا کہ ماضی کے زخم اب بھرنے لگے ہیں چند مہینوں بعد اس کی والدہ نے محلے ہی میں ایک بااخلاق پڑھی لکھی اور سادہ مزاج لڑکی کو پسند کیا جس کی آنکھوں میں لالچ نہیں بلکہ احترام تھا جس کے لہجے میں نرمی اور دل میں خوف خدا تھا
سادگی سے نکاح ہوا کوئی دکھاوا نہیں کوئی شور نہیں بس ماں کی دعائیں تھیں اور سلیمان کی آنکھوں میں شکر سلیمان کی نئی بیوی نے ماں کو ماں سمجھ کر اپنایا اور یہی وہ بات تھی جس نے اس گھر کو جنت بنا دیا
آج سلیمان اپنی والدہ اور اپنی نئی بیوی کے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزار رہا ہے جہاں محبت سود نہیں مانگتی اور رشتے قیمت سے نہیں ناپے جاتے
یہی اصل خوشی ہے
یہی اصل انجام ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."