Dever Ke Sath Shadi | Shohar Ki Wafat Ke Baad Ek Mushkil Faisla | Urdu stories


 شوہر فوت ہو گیا مجبوری میں دیور سے نکاح کرنا پڑا 


میرا نام حرا ہے اور میری زندگی ایک چھوٹے سے قصبے کے پرانے مگر پرسکون محلے میں گزرتی تھی جہاں لوگ ایک دوسرے کو نام سے جانتے تھے اور گھروں کے دروازے دلوں کی طرح کھلے رہتے تھے میری شادی بہت کم عمری میں ہو گئی تھی مگر اس کے باوجود میں نے کبھی خود کو زندگی سے تھکا ہوا محسوس نہیں کیا کیونکہ میرا شوہر سلمان ایک ایسا انسان تھا جو کم بولتا تھا مگر اپنے رویے سے سب کچھ کہہ دیتا تھا ہماری شادی روایتی طریقے سے ہوئی تھی مگر وقت کے ساتھ ہم دونوں کے درمیان ایک ایسی خاموش ہم آہنگی پیدا ہو گئی تھی جس میں نہ اونچی آوازیں تھیں نہ بڑے وعدے بس ایک دوسرے کو سمجھ لینے کا ہنر تھا

سلمان ایک محنتی آدمی تھا جو روز صبح فجر کے بعد گھر سے نکلتا اور شام کو لوٹتا تو اس کے چہرے پر تھکن کے باوجود اطمینان ہوتا وہ شکل و صورت میں کوئی خاص نہیں تھا مگر اس کا دل صاف تھا اور میں ہمیشہ یہی سمجھتی رہی کہ اصل خوبصورتی کردار میں ہوتی ہے ہمارے تین بچے تھے دو بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا جو میری دنیا کا مرکز تھا میری ساری دعائیں میری ساری امیدیں انہی بچوں کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں کیونکہ میرے ماں باپ اس دنیا میں نہیں رہے تھے اور میرا کوئی بھائی یا بہن بھی نہیں تھا اس لیے میرا اصل سہارا یہی گھر اور یہی رشتے تھے

ہم ایک بڑے سے گھر میں رہتے تھے جو سلمان کے والد نے برسوں پہلے بنایا تھا اسی گھر میں سلمان کا چھوٹا بھائی ریحان بھی اپنی بیوی ندا کے ساتھ رہتا تھا گھر اگرچہ ایک تھا مگر حصے الگ تھے دونوں کے کچن جدا تھے مگر صحن مشترک تھا جہاں دن بھر بچوں کی آوازیں گونجتی رہتی تھیں ریحان اپنی بیوی سے بے حد محبت کرتا تھا اور ندا بھی اس کی ہر بات میں ساتھ دیتی تھی ان دونوں کے درمیان ایسی قربت تھی جو دیکھنے والے کو فوراً محسوس ہو جاتی تھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہنستے باتیں کرتے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی مشورہ ضرور کرتے تھے

میں زیادہ بولنے والی عورت نہیں تھی اس لیے ندا سے میری بات چیت بھی کم ہی ہوتی تھی مگر دل میں کبھی اس کے لیے بدگمانی نہیں آئی اگر میں کوئی اچھی چیز بناتی تو اس کے لیے بھی رکھ دیتی اور اگر اس کے کچن سے کسی خاص کھانے کی خوشبو آتی تو وہ میرے لیے بھی ایک پلیٹ بھجوا دیتی تھی ہمارے درمیان ایک خاموش احترام تھا جو گھر کے سکون کو قائم رکھے ہوئے تھا بچے سب کے ایک ساتھ کھیلتے تھے کبھی صحن میں دوڑتے کبھی چھت پر چڑھ جاتے اور ان کی ہنسی اس گھر کی سب سے بڑی رونق تھی

میری زندگی ایک خاص ترتیب کے ساتھ چل رہی تھی صبح بچوں کو تیار کرنا شوہر کے لیے ناشتہ بنانا پھر گھر کے کاموں میں لگ جانا شام کو سلمان کا انتظار کرنا اور اس کے آنے پر چائے بنانا جب بچے اس کے پاس بیٹھ جاتے اور وہ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتا تو میں ایک طرف کھڑی ہو کر یہ سب دیکھتی اور دل ہی دل میں شکر ادا کرتی کہ میری زندگی میں سکون ہے میرے بچے سلامت ہیں اور میرا گھر آباد ہے مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وقت خاموشی سے میرے صحن میں ایک ایسا فیصلہ رکھ چکا ہے جو آنے والے دنوں میں میری پوری دنیا کا نقشہ بدل دے گا

وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا اور مجھے یہی لگتا رہا کہ زندگی اسی طرح خاموشی سے گزرتی رہے گی مگر کچھ دنوں سے سلمان کے چہرے پر ایک انجان سی تھکن نے جگہ بنانا شروع کر دی تھی وہ پہلے کی طرح باتیں نہیں کرتا تھا اور نہ ہی بچوں کے ساتھ زیادہ دیر بیٹھ پاتا تھا میں جب اس سے پوچھتی تو وہ مسکرا کر یہی کہتا کہ کام زیادہ ہو گیا ہے اور کچھ نہیں مگر ایک بیوی اپنے شوہر کے چہرے پر آنے والی ہلکی سی تبدیلی بھی پہچان لیتی ہے اور میرا دل کسی انجانے خوف سے بھرنے لگا تھا

ایک شام وہ معمول سے زیادہ دیر سے گھر آیا اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی اور چہرہ غیر معمولی طور پر زرد تھا میں نے گھبرا کر اسے سہارا دیا اور بٹھایا تو اس نے بس اتنا کہا کہ ذرا سا چکر آ گیا ہے میں نے فوراً پانی دیا اور بچوں کو اندر بھیج دیا اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا اور میں اس کے پاس بیٹھی اس کی سانسوں کو سنتی رہی مجھے لگا جیسے میرا دل ہر سانس کے ساتھ کسی ان دیکھے خطرے کو محسوس کر رہا ہو

اگلے دن میں نے اصرار کیا کہ وہ ڈاکٹر کو دکھائے مگر اس نے بات ٹال دی وہ ہمیشہ اپنی صحت کو نظر انداز کرتا آیا تھا اور مجھے یہی بات سب سے زیادہ ڈراتی تھی دن گزرتے گئے اور اس کی حالت بہتر ہونے کے بجائے مزید کمزور ہوتی گئی ایک دن وہ کام پر جاتے ہوئے دروازے پر ہی رک گیا اور اس نے میرا ہاتھ تھام کر کہا کہ اگر میں آج دیر ہو جاؤں تو بچوں کو خود سلا دینا اس کے لہجے میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی جو میرے دل میں تیر کی طرح لگ گئی

اس دن شام بہت بھاری تھی بچے بار بار دروازے کی طرف دیکھتے رہے اور میں گھڑی کی سوئیاں گنتی رہی جب رات کافی گزر گئی اور سلمان نہ آیا تو میرا دل بری طرح دھڑکنے لگا میں نے ریحان کو فون کیا وہ فوراً گھر سے نکلا اور کچھ دیر بعد ایک گاڑی کے ساتھ واپس آیا سلمان کو اسٹریچر پر لٹایا ہوا تھا اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس کے چہرے پر وہی زردی تھی مگر اس بار اس کے ہونٹ خاموش تھے

ہسپتال کے سفید کمرے میں میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی رہی ڈاکٹر کچھ کہہ رہے تھے مگر مجھے ان کی باتیں صاف سنائی نہیں دے رہی تھیں بس اتنا یاد ہے کہ کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ ہم پوری کوشش کریں گے اس لمحے مجھے پہلی بار لگا کہ زمین میرے قدموں کے نیچے سے کھسک رہی ہے میں نے دل ہی دل میں دعائیں مانگیں وعدے کیے اور آنسو روکے رکھے کیونکہ میں بچوں کے سامنے مضبوط رہنا چاہتی تھی

کچھ گھنٹوں بعد وہ دروازہ کھلا اور ڈاکٹر نے نظریں جھکا لیں اس ایک لمحے میں مجھے سب سمجھ آ گیا تھا سلمان اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا وہ شخص جو میرے گھر کا ستون تھا جو میرے بچوں کا سایہ تھا وہ اچانک مجھ سے جدا ہو چکا تھا میں چیخی نہیں میں روئی نہیں میں بس وہیں بیٹھ گئی جیسے میرا وجود بھی اسی کمرے میں کہیں ختم ہو گیا ہو

گھر لوٹتے ہوئے رات بہت لمبی لگ رہی تھی بچے سو رہے تھے اور میں ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتی رہی انہیں ابھی کچھ معلوم نہیں تھا مگر میری دنیا اجڑ چکی تھی سلمان کے بغیر وہی گھر وہی دیواریں وہی صحن سب اجنبی لگنے لگا تھا مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آنے والے دن میرے لیے کیا لے کر آ رہے ہیں بس اتنا جانتی تھی کہ اب میں صرف ایک بیوی نہیں رہی تھی میں تین بچوں کی ماں تھی جو ایک بہت بڑی آزمائش کے دہانے پر کھڑی تھی اور ابھی قسمت نے اپنے سب پتے نہیں کھولے تھے

سلمان کی وفات کے بعد میری زندگی جیسے ایک ہی لمحے میں بدل گئی تھی وہ گھر جو کبھی بچوں کی ہنسی سے گونجتا تھا اب خاموشی کا بوجھ اٹھائے کھڑا تھا میں عدت میں تھی مگر عدت صرف دن گننے کا نام نہیں ہوتی یہ وہ وقت ہوتا ہے جب عورت کے اندر کی دنیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے میں دن بھر بچوں کے سامنے خود کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرتی اور رات کو جب سب سو جاتے تو اندھیرے میں اپنے آنسوؤں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی کیونکہ اب میرے لیے رونے کا حق بھی محدود ہو گیا تھا

میرے بچے ابھی بہت چھوٹے تھے خاص طور پر میرا بیٹا جو بار بار اپنے باپ کو ڈھونڈتا اور مجھ سے پوچھتا کہ ابو کب آئیں گے میں اس سوال کے جواب میں ہر بار خاموش ہو جاتی کیونکہ میرے پاس کوئی ایسا لفظ نہیں تھا جو اس کے دل کا خلا بھر سکتا گھر کے اخراجات بچوں کی پڑھائی اور آنے والے کل کا خوف سب ایک ساتھ میرے کندھوں پر آن پڑا تھا میں جانتی تھی کہ اکیلی عورت کے لیے اس دنیا میں راستے بہت تنگ ہو جاتے ہیں

ریحان اس دوران میرے بچوں کا بہت خیال رکھتا تھا وہ ان کے لیے چیزیں لاتا ان سے باتیں کرتا اور کبھی کبھی انہیں اپنے کمرے میں بلا کر کہانیاں سناتا اس کا یہ رویہ میرے لیے سہارا بھی تھا اور ایک انجانا بوجھ بھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ پہلے ہی شادی شدہ ہے اس کی بیوی ندا اس گھر کی بہو ہے اور اس کے دو بچے بھی ہیں میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری زندگی کسی ایسے موڑ پر آ کھڑی ہو گی جہاں مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ایسے فیصلے کرنے پڑیں گے جو میں نے کبھی چاہے ہی نہ تھے

عدت کے دن مکمل ہونے کے قریب تھے کہ گھر کے بڑوں نے بات چیت شروع کی پہلے یہ بات اشاروں میں ہوئی پھر ایک دن صاف لفظوں میں کہی گئی کہ بچوں کے لیے باپ کا سایہ ضروری ہے اور ایک اکیلی عورت کے لیے اس گھر میں رہنا آسان نہیں ہوگا میں نے خاموشی سے سب سنا مگر میرے دل میں طوفان برپا تھا میں جانتی تھی کہ اصل بات کچھ اور ہے اصل خوف یہ ہے کہ میں اگر اکیلی رہی تو کل کو یہ گھر میرے بچوں کے لیے محفوظ نہیں رہے گا

ندا نے اس بات کو سب سے پہلے زبان دی مگر شرط کے ساتھ اس نے کہا کہ اگر ریحان کو دوسری شادی کرنی ہے تو وہ صرف بچوں کی خاطر ہوگی نہ کوئی تعلق نہ کوئی قربت وہ چاہتی تھی کہ میں اس گھر میں رہوں مگر ایک سایہ بن کر ایک ایسی عورت بن کر جس کا وجود بس بچوں تک محدود ہو میں نے وہ باتیں اپنے کمرے کے دروازے کے پیچھے کھڑے ہو کر سنیں اور اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ اب میں صرف ایک بیوہ نہیں رہی بلکہ ایک مسئلہ بن چکی ہوں

ریحان خاموش تھا مگر اس کی خاموشی میں الجھن صاف نظر آتی تھی وہ اپنے بچوں اور میرے بچوں کے درمیان کھڑا تھا اور دونوں طرف سے کھنچا جا رہا تھا میں نے اس رات سجدے میں سر رکھ کر دعا کی کہ یا اللہ مجھے وہ راستہ دکھا دے جو میرے بچوں کے حق میں بہتر ہو کیونکہ میں نے اپنی زندگی سے زیادہ ہمیشہ ان کی زندگی کو ترجیح دی تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ آخرکار میں نے وہ فیصلہ قبول کر لیا جس کا بوجھ میں اکیلی اٹھانے والی تھی

نکاح بہت سادگی سے ہوا نہ کوئی خوشی نہ کوئی شور بس چند لوگ اور چند لفظ جو میری زندگی کی سمت بدل گئے میں جانتی تھی کہ یہ شادی محبت کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ مجبوری کی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی ریحان نے نکاح کے بعد بھی وہی فاصلہ رکھا جو طے ہوا تھا وہ میرے کمرے میں کبھی نہیں آیا بس بچوں کی ضروریات پوری کرتا رہا اور میں خاموشی سے یہ سب برداشت کرتی رہی کیونکہ میں نے اپنے دل کو پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ یہ رشتہ صرف بچوں کے لیے ہے

مگر میں یہ نہیں جانتی تھی کہ وقت کبھی کسی کی شرطوں کا پابند نہیں ہوتا اور جو رشتے مجبوری میں بندھتے ہیں وہ اکثر سب سے زیادہ آزمائشیں لے کر آتے ہیں مجھے یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس گھر میں اصل مسائل ابھی شروع نہیں ہوئے تھے اور آنے والے دن میرے صبر کو اس حد تک آزمانے والے تھے جہاں خاموش رہنا سب سے مشکل کام بن جاتا ہے

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی مجھے اس مقام پر لا کھڑا کرے گی جہاں خاموشی سب سے بڑی چیخ بن جائے گی ریحان سے نکاح کے بعد میرا وجود اسی گھر میں موجود تھا مگر میری حیثیت ایک ایسے سائے کی تھی جسے سب دیکھتے تھے مگر کوئی محسوس نہیں کرتا تھا وہ اپنے وعدے پر قائم رہا وہ میرے کمرے میں نہیں آیا نہ کبھی غیر ضروری بات کی بس بچوں کی ضروریات پوری کرتا رہا اور میں دل ہی دل میں شکر ادا کرتی رہی کہ کم از کم میرے بچوں کے سر پر چھت محفوظ ہے

ندا شروع میں مطمئن دکھائی دیتی تھی اسے لگتا تھا کہ اس نے حالات کو اپنے قابو میں کر لیا ہے مگر وقت کے ساتھ اس کے لہجے میں تلخی بڑھنے لگی وہ بات بات پر طعنے دیتی کبھی میرے بچوں کو نشانہ بناتی اور کبھی میرے وجود کو اس کے الفاظ زہر کی طرح ہوتے مگر میں سب سہہ جاتی کیونکہ میں جانتی تھی کہ ایک لفظ بھی بولا تو یہ گھر میرے بچوں کے لیے جہنم بن جائے گا

ریحان اندر سے بدلنے لگا تھا وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا اس کے چہرے پر ایک تھکن تھی جو کام کی نہیں تھی بلکہ دل کی تھی وہ اکثر رات کو جاگتا رہتا اور کبھی کبھار بچوں کے کمرے میں آ کر انہیں دیکھتا جیسے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہو میں سب دیکھتی تھی مگر خاموش رہتی تھی کیونکہ میں نے اپنے دل پر تالہ لگا دیا تھا

ایک رات ندا اپنے بچوں کو لے کر میکے چلی گئی گھر میں عجیب سی خاموشی پھیل گئی تھی بچے سو چکے تھے اور میں اپنے کمرے میں بیٹھی قرآن کھولے بیٹھی تھی مگر آنکھوں کے سامنے الفاظ دھندلا رہے تھے اتنے میں دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی میرا دل زور سے دھڑکا میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ریحان کھڑا تھا اس کی آنکھوں میں وہ اضطراب تھا جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا

وہ اندر آیا اور دروازہ بند کیے بغیر وہیں کھڑا رہا جیسے خود کو روک رہا ہو اس نے بس اتنا کہا کہ میں بہت تھک گیا ہوں میں نے پہلی بار اس کی آواز میں ٹوٹ پھوٹ محسوس کی وہ بولا کہ میں نے ہمیشہ سب کے لیے جیا مگر کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ میں کیا چاہتا ہوں اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف میری آزمائش نہیں تھی یہ اس کی بھی جنگ تھی

میں نے اس دن پہلی بار بات کی میں نے کہا کہ میں نے بھی کبھی یہ رشتہ نہیں مانگا تھا میں نے بھی صرف بچوں کے لیے خود کو قربان کیا ہے میں نے کہا کہ اگر ہم دونوں نے یہ بوجھ اٹھایا ہے تو کم از کم سچ کے ساتھ اٹھائیں اس رات ہم دونوں روئے کوئی وعدہ نہیں کوئی لمس نہیں بس دو ٹوٹے ہوئے انسان جو ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھ رہے تھے

اگلے دن ندا واپس آئی مگر وہ ندا نہیں تھی جو پہلے تھی اس کی آنکھوں میں خوف تھا شاید اسے سمجھ آ گیا تھا کہ رشتے زبردستی کے اصولوں سے نہیں چلتے اس نے مجھ سے پہلی بار نرم لہجے میں بات کی اور کہا کہ میں نے شاید زیادتی کی ہے میں نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ بعض معافیاں لفظوں کی محتاج نہیں ہوتیں

وقت گزرتا گیا گھر میں آہستہ آہستہ سکون لوٹ آیا مگر یہ سکون قربانیوں سے بنا تھا ریحان اب میرے بچوں کے لیے باپ بن چکا تھا اور میں اس کے لیے وہ خاموش سہارا جس کی اسے برسوں سے ضرورت تھی ندا بھی بدل چکی تھی اس نے حالات کو قبول کر لیا تھا شاید دل سے نہیں مگر عقل سے

آج جب میں رات کو چھت پر کھڑی آسمان دیکھتی ہوں تو مجھے سلمان یاد آتا ہے میں دل ہی دل میں اس کے لیے دعا کرتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ شاید اگر وہ زندہ ہوتا تو میں کبھی یہ سب نہ دیکھتی مگر پھر میں اپنے بچوں کو دیکھتی ہوں جو محفوظ ہیں ہنستے ہیں اور مجھے امی کہہ کر پکارتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ شاید یہی میری قربانی کا صلہ ہے

زندگی نے مجھے یہ سکھا دیا کہ ہر شادی محبت سے نہیں ہوتی کچھ شادیاں حالات سے جنم لیتی ہیں اور ہر انجام خوشی کا نام نہیں ہوتا مگر اگر نیت صاف ہو اور صبر حد سے گزر جائے تو اللہ کسی نہ کسی صورت راستہ نکال ہی دیتا ہے میں نے زندگی سے یہی سیکھا کہ عورت جب ماں بن جاتی ہے تو وہ اپنے دل پر نہیں اپنے بچوں کے مستقبل پر فیصلے کرتی ہے اور یہی اس کہانی کا سب سے کڑوا مگر سچا انجام ہے

https://www.blogger.com/u/9/blog/post

تبصرے

New Urdu Stories

ماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانیماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

فاطمہ اور عمران کی موٹر وے پر آخری ملاقات — ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

امتحان کی گزرگاہ: ایک مخلص انسان کی کہانی"