Suteli Maan Aur Yateem Bachi | Urdu story | Ek Dard Bhari Aur Ibratnak Kahani


 سرد رات، بند دروازہ، اور یتیم بچی

دسمبر کی یخ بستہ رات اپنی پوری شدت کے ساتھ گاؤں پر اتر چکی تھی، ایسی سردی جس میں سانس لینا بھی سینے میں چھریاں چلنے جیسا محسوس ہوتا تھا، آسمان پر بکھرے ستارے مدھم پڑ چکے تھے اور ہوائیں سرگوشیوں کے بجائے جیسے نوحہ کر رہی تھیں، کہر کی موٹی تہہ نے کچی گلیوں، درختوں اور مٹی کے مکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، یوں لگتا تھا جیسے قدرت نے اس بستی کی بے حسی پر سفید کفن ڈال دیا ہو۔
اسی گاؤں کے ایک کچے مگر کشادہ گھر میں ایک یتیم بچی کھڑی کانپ رہی تھی، اس کے پاؤں ننگے تھے، جسم پر ایک پرانی، میلی سی قمیص اور آنکھوں میں خوف کی نمی تیر رہی تھی، سامنے کھڑی عورت جس کے چہرے پر سختی اور آنکھوں میں لالچ صاف جھلک رہا تھا، اس کی سوتیلی ماں تھی، جس کے لبوں پر ترس کا کوئی نشان نہیں تھا۔
“یاد رکھو، میرے بیٹوں کی جائیداد میں تمہارا کوئی حق نہیں،”
عورت کی آواز سردی سے زیادہ بے رحم تھی، “ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ۔”
بچی نے لرزتی آواز میں کچھ کہنا چاہا، شاید باپ کی یاد دلانا چاہتی تھی، شاید اپنی بے بسی سنانا چاہتی تھی، مگر اس کے ہونٹوں سے کوئی لفظ نہ نکل سکا، اگلے ہی لمحے دروازہ زور سے بند کر دیا گیا، اور وہ معصوم وجود اندھیرے اور سردی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
ہوا نے اس کے ننگے پاؤں کو کاٹنا شروع کر دیا، آنسو اس کے گالوں پر جم رہے تھے، وہ گاؤں کی گلیوں میں بے سمت چلتی رہی، ہر دروازہ بند تھا، ہر چراغ بجھا ہوا، جیسے پوری بستی نے آنکھیں موند لی ہوں، آخرکار اس کی نظر مسجد پر پڑی، جس کی سیڑھیاں کہر میں دھندلا رہی تھیں، اس نے اسے اللہ کا گھر سمجھ کر آخری امید کے ساتھ وہیں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
وہ سیڑھیوں پر سمٹ کر بیٹھ گئی، گھٹنوں کو سینے سے لگا لیا، ٹھنڈی ہوا اس کی سانسوں کو جمانے لگی، رات آہستہ آہستہ اس کے وجود کو اپنے اندر سمیٹ رہی تھی، اور اس کی ننھی سی مٹھی میں ایک کاغذ سختی سے بند ہوتا چلا گیا۔
رات اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی مگر سردی کی شدت میں کوئی کمی نہ آئی تھی، مسجد کی سیڑھیوں پر سمٹی ہوئی بچی کا سانس اب بے ترتیب ہو چکا تھا، ہر سانس کے ساتھ اس کا ننھا سینہ زور لگاتا اور پھر تھک کر رہ جاتا، اس کی پلکوں پر کہر جم چکی تھی اور آنکھوں کے گوشوں میں آنسو برف کی صورت ٹھہر گئے تھے، وہ بار بار شال کو اپنے گرد کھینچنے کی کوشش کرتی مگر کمزور انگلیاں اب حکم ماننے سے انکار کر رہی تھیں۔
فجر سے کچھ پہلے مسجد کے حجرے میں پیش امام مولوی عبدالحق بیدار ہوئے، چالیس برس سے زائد عرصہ اسی مسجد میں امامت کرتے آئے تھے، مگر اس رات کی خاموشی انہیں غیر معمولی سی محسوس ہوئی، انہوں نے بستر چھوڑا تو ہڈیوں میں سرد لہر دوڑ گئی، وضو کے لیے لوٹا اٹھایا، پانی برف کی طرح ٹھنڈا تھا، مگر انہوں نے صبر کے ساتھ وضو مکمل کیا، لالٹین جلائی اور آہستہ قدموں سے صحن کی طرف بڑھے۔
صحن میں خشک پتوں کے چرچرانے کی آواز گونجی تو ان کا دل ایک لمحے کو ٹھٹک گیا، ہوا تیز تھی اور لالٹین کی لو لرز رہی تھی، انہوں نے مسجد کے مرکزی دروازے کی کنڈی کھولی اور کواڑ کو باہر کی طرف دھکیلا، اسی لمحے ان کی نظر سیڑھیوں پر پڑی اور ان کے حلق میں جیسے سانس اٹک گیا۔
لالٹین کے مدھم نور میں ایک چھوٹا سا وجود سیڑھیوں پر یوں پڑا تھا جیسے سردی نے اسے پتھر بنا دیا ہو، مولوی صاحب کے قدم وہیں جم گئے، وہ آگے بڑھے اور کانپتے ہاتھوں سے بچی کے قریب جھکے، پھٹی پرانی شال، نیلے پڑتے ہونٹ، اور وہ آنکھیں جو کھلی تھیں مگر ان میں زندگی کی کوئی رمق نہ تھی، انہوں نے نبض ٹٹولی، خاموشی نے سب کچھ کہہ دیا تھا۔
مولوی عبدالحق کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، انہوں نے اپنی چادر اتار کر بچی کے جسم پر ڈال دی، مگر چہرہ کھلا رکھا، جیسے چاہتے ہوں کہ یہ معصومیت ہر آنے والا دیکھے، ان کی نظر بچی کی مٹھی پر پڑی جو غیر معمولی طور پر بند تھی، اس ننھی سی مٹھی میں کچھ دبا ہوا تھا، انہوں نے آہستگی سے انگلیاں کھولنے کی کوشش کی مگر سردی اور موت نے گرفت کو فولاد بنا دیا تھا۔
انہوں نے مٹھی کو ویسے ہی چھوڑ دیا اور سیدھے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کی طرف بڑھے، یہ اذان کا وقت نہیں تھا، مگر ان کا دل چیخ رہا تھا، گاؤں کو جگانا ضروری تھا، انہوں نے لرزتی آواز میں اعلان کیا کہ سب لوگ فوراً مسجد پہنچیں، یہ کسی کی نماز یا دنیاوی مصروفیت کا وقت نہیں، یہ ضمیر کے جاگنے کا لمحہ ہے۔
لالٹین کی روشنی میں سیڑھیوں پر پڑی بچی خاموش گواہ بنی رہی، اور اس کی بند مٹھی میں چھپا کاغذ، جس نے ابھی اپنا راز کھولنا تھا، پورے گاؤں کی تقدیر بدلنے والا تھا۔
مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان گونجتے ہی پورا گاؤں جیسے نیند سے ہڑبڑا کر جاگ اٹھا، لوگ کمبل، شالیں اوڑھے، حیرت اور بے چینی کے عالم میں مسجد کی طرف دوڑ پڑے، کسی کو اندازہ نہ تھا کہ اس سرد صبح میں وہ کس منظر سے دوچار ہونے والے ہیں، صحن میں داخل ہوتے ہی سب کی نظریں سیڑھیوں کی طرف اٹھ گئیں اور پھر وہاں موجود خاموش وجود نے ہر زبان کو گونگا کر دیا۔
عورتوں کی سسکیاں فضا میں گھلنے لگیں، مردوں کی آنکھیں جھک گئیں، کوئی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا، کوئی آسمان کی طرف دیکھ کر آنسو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگا، مولوی عبدالحق سب کے درمیان کھڑے تھے، ان کا چہرہ غم اور شرمندگی کا آئینہ بن چکا تھا، انہوں نے کانپتی آواز میں کہا،
“یہ بچی ہمارے گاؤں کی امانت تھی، مگر ہم سب اس کی حفاظت میں ناکام رہے۔”
لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں پوچھنے لگے کہ یہ بچی کون ہے، کہاں سے آئی، تب ایک بوڑھی عورت آگے بڑھی، اس کی آواز رندھ گئی، اس نے بتایا کہ یہ یتیم بچی تھی، جسے اس کی سوتیلی ماں نے رات گئے گھر سے نکال دیا تھا، صرف اس لیے کہ وہ جائیداد میں حق مانگنے کی ہمت کر بیٹھی تھی، یہ سن کر مجمع میں ایک کہرام سا مچ گیا، غصہ، ندامت اور افسوس ایک ساتھ اُبل پڑے۔
اسی لمحے مولوی صاحب کی نظر پھر اس بند مٹھی پر پڑی، جو اب بھی کسی ضدی سچ کی طرح بند تھی، انہوں نے چند آدمیوں کی مدد سے آہستہ آہستہ وہ مٹھی کھلوائی، انگلیاں ٹوٹتی ہوئی برف کی طرح چرچرانے لگیں اور آخرکار کاغذ کا وہ ننھا سا ٹکڑا باہر آ گیا، مولوی عبدالحق نے لرزتے ہاتھوں سے کاغذ کھولا، ان کی آنکھیں ایک ایک لفظ پر ٹھہر گئیں، پھر وہ کاغذ ان کے ہاتھ سے پھسلنے لگا۔
انہوں نے کاغذ کو اونچی آواز میں پڑھنا شروع کیا،
“میں نے کسی کا حق نہیں مارا، میں نے صرف اپنی ماں کے بعد تھوڑا سا پیار مانگا تھا، اگر میں مر جاؤں تو مجھے معاف کر دینا، اور میری سوتیلی ماں کو بھی، شاید وہ نہیں جانتی کہ سردی کتنی بے رحم ہوتی ہے۔”
یہ الفاظ سننا تھا کہ مجمع پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، کسی کے لیے خود کو سنبھالنا ممکن نہ رہا، یہ کاغذ صرف ایک بچی کی وصیت نہیں تھا، یہ پورے گاؤں کے منہ پر طمانچہ تھا، ہر شخص اپنے اندر کے مجرم سے نظریں چرا رہا تھا۔
اسی وقت لوگوں کے بیچ سے وہ سوتیلی ماں آگے بڑھی، اس کا چہرہ زرد، آنکھیں پتھرائی ہوئی، جب اس کی نظر نعش پر پڑی تو اس کے قدم لڑکھڑا گئے، وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی، اس کے منہ سے چیخ نہ نکل سکی، آنسو بھی جیسے سوکھ چکے تھے، اس نے کانپتی ہوئی آواز میں بس اتنا کہا،
“میں نے تو صرف ڈرانا چاہا تھا… مجھے نہیں پتا تھا کہ انجام یہ ہوگا۔”
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی، مسجد کی سیڑھیوں پر پڑی معصوم بچی خاموش تھی، مگر اس کی خاموشی ہر چیخ سے زیادہ بلند تھی، یہ کہانی اب صرف ظلم کی نہیں رہی تھی، یہ انجام کی طرف بڑھ چکی تھی، ایک ایسے انجام کی طرف جہاں سوال صرف یہ تھا کہ
قصور کس کا تھا؟
مسجد کے صحن میں پھیلی خاموشی اب محض خاموشی نہیں رہی تھی، وہ ایک گواہی بن چکی تھی، ایسی گواہی جو لفظوں کے بغیر بھی سب کچھ بیان کر رہی تھی، معصوم بچی کی نعش کے گرد کھڑا ہر شخص جان چکا تھا کہ یہ صرف ایک بچی کی موت نہیں، یہ پورے گاؤں کے ضمیر کی موت تھی، وہ سردی جو اس بچی کے جسم میں اتری تھی، اب لوگوں کے دلوں میں اتر چکی تھی۔
مولوی عبدالحق نے آنسو صاف کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بچی کی تدفین گاؤں کے سب لوگ مل کر کریں گے، کوئی ایک بھی شخص اس ذمہ داری سے خود کو الگ نہیں کرے گا، کیونکہ اس ظلم میں سب برابر کے شریک ہیں، یہ سن کر لوگ خاموشی سے سر جھکائے کھڑے رہے، کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا، کسی کے پاس کوئی عذر نہ تھا۔
سوتیلی ماں کو دو عورتیں سہارا دے کر ایک طرف لے گئیں، وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی، کبھی معافی مانگتی، کبھی خود کو کوستی، مگر اب اس کے لفظ بے وزن ہو چکے تھے، اس کی آنکھوں کے سامنے وہ لمحہ بار بار آ رہا تھا جب اس نے سرد رات میں دروازہ بند کیا تھا، وہ نہ جان سکی تھی کہ دروازہ بند کرتے ہی اس نے اپنی زندگی کا سکون بھی بند کر دیا ہے۔
جب بچی کو غسل دیا گیا تو اس کے ننھے جسم پر نیلے نشانات اور سردی کی سختی سب نے دیکھی، عورتوں کی سسکیاں بلند ہو گئیں، کسی نے کہا، “اگر ایک رات کوئی اسے اپنے گھر بٹھا لیتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا”، مگر اب یہ سوال بے فائدہ تھے، وقت اپنی بے رحمی دکھا چکا تھا۔
جنازے کے وقت پورا گاؤں جمع تھا، وہ لوگ بھی آئے جو کبھی اس بچی کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے تھے، وہ بھی آئے جو کہتے تھے کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں، آج سب کے کندھے جھکے ہوئے تھے، سب کی آنکھیں نم تھیں، اور سب کے دلوں میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ اگر یہ بچی زندہ ہوتی تو کیا ہم میں سے کوئی اس کا سہارا بنتا؟
تدفین کے بعد مولوی عبدالحق نے وہ کاغذ دوبارہ لوگوں کے سامنے رکھا اور کہا،
“یہ کاغذ ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ ظلم ہمیشہ طاقتور کے ہاتھ میں نہیں ہوتا، کبھی کبھی ظلم ہماری خاموشی بن جاتی ہے، اور یہی خاموشی کسی معصوم کی جان لے لیتی ہے۔”
یہ سن کر کئی لوگوں نے روتے ہوئے عہد کیا کہ اب کوئی یتیم، کوئی کمزور، کوئی بے سہارا اس بستی میں اکیلا نہیں رہے گا، سوتیلی ماں نے بھی لوگوں کے سامنے سر جھکا کر اقرار کیا کہ وہ اپنی باقی زندگی اس گناہ کے کفارے میں گزارے گی، مگر سب جانتے تھے کہ کچھ کفارے ایسے ہوتے ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔
رات کو جب گاؤں پر پھر خاموشی چھا گئی تو مسجد کی سیڑھیوں پر اب کوئی جسم نہیں تھا، مگر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہاں اب بھی ایک معصوم بچی بیٹھی ہو، سردی میں ٹھٹھرتی، کسی دروازے کے کھلنے کا انتظار کرتی، کسی دل کے جاگنے کی امید لگائے ہوئے۔
یہ کہانی یہی ختم نہیں ہوتی، اصل سوال اب بھی باقی ہے،
اگر آج پھر کوئی معصوم اسی طرح دروازے پر آ کھڑی ہو تو…
کیا ہم دروازہ کھولیں گے؟ یا تاریخ خود کو دوبارہ دہرا دے گی؟
https://www.blogger.com/u/9/blog/post

/edit/preview/2729899281674296463

/7341332355198409412


تبصرے

New Urdu Stories

ماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانیماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

فاطمہ اور عمران کی موٹر وے پر آخری ملاقات — ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

امتحان کی گزرگاہ: ایک مخلص انسان کی کہانی"