Sachi Kahani | Sabr, Mohabbat Aur Allah Par Yaqeen Ki Kahani
جب اپنے ہی بے گھر کر دیں
اللہ ہی آخری سہارا ہے
“بس ایک رات اور ٹھہرنے دو، صبح ہوتے ہی میں خود چلی جاؤں گی۔”
میری آواز کانپ رہی تھی، ہاتھ اس کے پاؤں سے لپٹے ہوئے تھے، مگر سامنے کھڑا شخص میرا بھائی نہیں لگ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں خون کی طرح سرخی تھی، اور لہجے میں وہ سختی تھی جو رشتوں کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ باپ کی قبر ابھی گیلی تھی، مگر اس کے دل میں جائیداد کی ہوس سوکھے پتھر کی طرح جم چکی تھی۔
امی کے انتقال کے بعد ابا ہی میرا سایہ تھے، اور اب ان کے جانے کے بعد وہی گھر میرے لیے اجنبی ہو چکا تھا، دیواریں جو کبھی مجھے تحفظ دیتی تھیں، آج مجھے دھکے دے کر باہر نکال رہی تھیں، آدھی رات کا وقت تھا، دروازہ زور سے بند ہوا، اور اس آواز کے ساتھ میرا بچپن، میری یادیں اور میرا حق سب وہیں دفن ہو گیا۔
میں سردی میں لپٹی چادر کو مضبوطی سے پکڑے سڑک کنارے بیٹھ گئی، ہوا میں عجیب سی خاموشی تھی، جیسے شہر بھی میری بے بسی کو محسوس کر رہا ہو، گاڑیاں تیز رفتاری سے گزر رہی تھیں، مگر کسی نے پلٹ کر نہیں دیکھا، میں نے پہلی بار جانا کہ یتیمی صرف ماں باپ کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ اپنوں کے رویے کا نام ہے۔
دل میں خوف تھا مگر اللہ کا نام زبان پر تھا، میں بار بار آسمان کی طرف دیکھتی، شاید کہیں سے کوئی نشانی مل جائے، کوئی سہارا نظر آ جائے، اسی دوران میری نظر کچھ فاصلے پر پڑی، ایک آدمی زمین پر پڑا کراہ رہا تھا، اس کے کپڑے خون میں بھیگے ہوئے تھے، اور سانس ایسے اکھڑ رہی تھی جیسے ہر سانس آخری ہو۔
میں لمحہ بھر کو رکی، سوچا میں خود بے گھر ہوں، میں کیا مدد کر سکتی ہوں، مگر پھر دل نے اجازت نہ دی کہ کسی زخمی کو اس حال میں چھوڑ کر چلی جاؤں، میں اس کے پاس گئی، اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں، لب ہلے مگر آواز نہ نکل سکی، میں نے کانپتے ہاتھوں سے رکشہ روکا اور بڑی مشکل سے اسے سہارا دے کر بٹھایا۔
ہسپتال کا راستہ لمبا لگ رہا تھا، میرا دل بار بار ڈوب رہا تھا کہ کہیں یہ شخص میرے سامنے دم نہ توڑ دے، میں مسلسل دعائیں پڑھ رہی تھی، جیسے اس کی زندگی میرے لفظوں سے جڑی ہو، ہسپتال پہنچتے ہی ڈاکٹر اور عملہ دوڑ پڑا، اس شخص کو فوراً ایمرجنسی میں لے جایا گیا، اور میں ایک کونے میں خاموش کھڑی سب دیکھتی رہی۔
تھوڑی ہی دیر میں منظر بدل گیا، سیکیورٹی گارڈز آ گئے، بڑے افسران پہنچ گئے، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایک عام سا دکھنے والا زخمی شخص اچانک اتنا اہم کیسے بن گیا، پھر ایک نرس میری طرف آئی اور کہا،
“آپ ہی انہیں یہاں لائی تھیں؟ صاحب ہوش میں آ گئے ہیں، وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔”
میرے قدم وہیں رک گئے، دل تیز تیز دھڑکنے لگا، مجھے یوں محسوس ہوا جیسے آج کی یہ رات، جو میرے لیے تباہی بن کر آئی تھی، شاید قسمت کا نیا دروازہ کھولنے والی ہے۔
میں آہستہ آہستہ اس کمرے میں داخل ہوئی جہاں ہلکی سی روشنی تھی، مشینوں کی بیپ بیپ کرتی آوازیں دل میں عجیب سا خوف بھر رہی تھیں، بیڈ پر لیٹا وہ شخص اب پہلے سے مختلف لگ رہا تھا، چہرے پر نقاہت تھی مگر آنکھوں میں ہوش کی چمک واپس آ چکی تھی، جیسے موت کے منہ سے پلٹ کر آیا ہو۔ اس نے مجھے دیکھا تو لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، اور دھیمی آواز میں کہا، “اگر تم نہ ہوتیں تو شاید میں آج زندہ نہ ہوتا۔”
میں خاموش رہی، بس سر جھکا لیا، اس لمحے مجھے اپنی بے بسی یاد آ رہی تھی، وہ دروازہ جو میرے لیے بند ہوا تھا، وہ سرد رات، وہ تنہائی، سب ایک ساتھ دل میں اُمڈ آئے، مگر میں نے خود کو مضبوط رکھا۔ اس نے میرا نام پوچھا، اور میں نے بتایا تو اس نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے وہ نام دل میں اتار رہا ہو، پھر اس نے اپنا تعارف کروایا، وہ شہر کا ایک بڑا بزنس مین تھا، جس پر حملہ محض حادثہ نہیں بلکہ سازش تھی۔
اگلے چند دن ہسپتال میں عجیب تیزی سے گزرے، وہ شخص صحت یاب ہوتا گیا اور میں ہر روز اس کے پاس جاتی، کبھی دوا کے وقت، کبھی خاموشی میں اس کے پاس بیٹھ کر، ان لمحوں میں مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میرا وجود کسی کے لیے اہم بن سکتا ہے، کوئی مجھے بوجھ نہیں بلکہ سہارا سمجھ سکتا ہے۔ ایک دن اس نے مجھ سے پوچھ لیا، “تم کہاں رہتی ہو؟ تمہارا کوئی نہیں؟”
یہ سوال میرے لیے تلوار کی طرح تھا، مگر میں نے سچ بتا دیا، کہ میں یتیم ہوں، اور اب بے گھر بھی۔
اس نے گہری سانس لی، آنکھوں میں عجیب سا درد اُبھر آیا، شاید اسے اپنا ماضی یاد آ گیا تھا، اس نے کہا، “میری ماں بھی یتیم تھی، میں جانتا ہوں یہ درد کیسا ہوتا ہے۔”
اس دن کے بعد اس کا رویہ بدل گیا، اس نے ہسپتال کے عملے کو ہدایت دی کہ میرا خیال رکھا جائے، اور میرے لیے کمرے کا انتظام کیا گیا، مجھے ایسا لگا جیسے اندھیرے میں ایک ننھا سا چراغ جل اٹھا ہو۔
چند دن بعد جب اسے ڈسچارج کیا گیا تو اس نے مجھے اپنے گھر لے جانے کی پیشکش کی، میرا دل ڈر رہا تھا، میں نے زندگی میں بہت دھوکے دیکھے تھے، مگر اس کی آنکھوں میں سچائی تھی، میں نے اللہ پر بھروسا کر کے ہاں کہہ دی۔ وہ گھر بہت بڑا تھا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس کی وسعت کے باوجود وہ خالی لگ رہا تھا، دیواروں پر خاموشی تھی، اور کمروں میں تنہائی بسی ہوئی تھی۔
اس نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی برسوں پہلے انتقال کر چکی تھی، اور اس کے بعد اس گھر میں صرف کام کرنے والے لوگ رہ گئے تھے، دل کی بات سننے والا کوئی نہیں تھا۔ میں نے اس گھر میں قدم رکھا تو مجھے لگا جیسے میری قسمت نے ایک نیا موڑ لیا ہے، مگر دل کے کسی کونے میں خوف بھی تھا، کہ کہیں یہ سب عارضی نہ ہو، کہیں ایک اور دروازہ میرے لیے بند نہ ہو جائے۔
رات کو بستر پر لیٹے ہوئے میں دیر تک جاگتی رہی، سوچتی رہی کہ زندگی نے مجھے آزمائش کے بعد آزمائش دی ہے، مگر شاید اب صبر کا پھل ملنے والا ہے، یا شاید ایک اور امتحان میرا انتظار کر رہا ہے، جس کا انجام ابھی پردے میں تھا۔
وقت اپنے انداز میں آگے بڑھنے لگا، دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے، اس گھر کی خاموش دیواریں اب مجھے اجنبی محسوس نہیں ہوتیں، بلکہ یوں لگتا تھا جیسے وہ بھی میری موجودگی کو قبول کرنے لگی ہوں۔ میں صبح سویرے اُٹھ کر صحن میں جھاڑو دیتی، پودوں کو پانی دیتی، اور پھر اس کے کمرے کی طرف چلی جاتی جہاں وہ اکثر کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر دیکھتا رہتا، جیسے کسی گمشدہ لمحے کی تلاش میں ہو۔
ہم دونوں کے درمیان باتیں کم مگر احساسات بہت زیادہ تھے، وہ میری خاموشی کو سمجھنے لگا تھا، اور میں اس کی آنکھوں میں چھپے دکھ کو پڑھنے لگی تھی۔ ایک دن اس نے اچانک کہا، “تم جانتی ہو، اس گھر میں تمہاری ہنسی کی آواز آنے لگی ہے، ورنہ یہ مکان تو برسوں سے زندہ لاش بنا ہوا تھا۔”
میں نے پہلی بار دل سے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا، وہ لمحہ میرے لیے قیمتی تھا، جیسے کسی نے میرے وجود پر مہرِ قبولیت لگا دی ہو۔
مگر خوشیوں کے سائے زیادہ دیر ٹھہرتے نہیں، ایک شام اس کے رویے میں اچانک سنجیدگی آ گئی، فون پر کسی سے بات کے بعد اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آنکھوں میں وہی خوف لوٹ آیا جو میں نے ہسپتال کے دنوں میں دیکھا تھا۔ اس نے بتایا کہ جس سازش کے تحت اس پر حملہ ہوا تھا، وہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، اور کچھ لوگ اب بھی اس کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس رات مجھے نیند نہیں آئی، دل میں ایک انجانا سا ڈر بیٹھ گیا تھا، میں نے سوچا اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں پھر کہاں جاؤں گی، کس دروازے پر دستک دوں گی۔ اگلے دن اس نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور کہا، “میں نہیں چاہتا کہ تم کسی خطرے میں رہو، شاید بہتر ہو تم کچھ دن کے لیے یہاں سے چلی جاؤ۔”
یہ سن کر میرا دل بیٹھ سا گیا، ایسا لگا جیسے زمین پاؤں کے نیچے سے نکل گئی ہو، میں نے ضبط کرتے ہوئے پوچھا، “کہاں جاؤں؟”
وہ خاموش ہو گیا، شاید اسے بھی اس سوال کا جواب معلوم نہیں تھا۔
اسی خاموشی میں ایک عجیب سا رشتہ اور مضبوط ہو گیا، ہمیں احساس ہو گیا کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں، مگر زبان سے کچھ کہنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ کچھ دن بعد اس کی طبیعت پھر خراب ہونے لگی، پرانے زخم جاگ اٹھے، ڈاکٹر آنے لگے، گھر میں پھر وہی ہسپتال جیسی بو اور خاموشی پھیل گئی۔
ایک رات وہ مجھے دیکھتا رہا اور پھر آہستہ سے بولا، “اگر مجھے کچھ ہو جائے تو تم خود کو اکیلا مت سمجھنا، تم نے مجھے جینے کی وجہ دی ہے۔”
میں نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لیا، آنسو روکنا مشکل ہو گیا، دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ ابھی سب ختم نہیں ہونا چاہیے، ابھی میری کہانی ادھوری ہے۔
اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ زندگی نے مجھے دوبارہ آزمائش کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، مگر اس بار میں وہ کمزور بچی نہیں تھی جو سردی میں دروازے کے باہر چھوڑ دی گئی تھی، اب میرے دل میں حوصلہ تھا، دعا تھی، اور کسی کو کھونے کا خوف بھی، جو انسان کو مضبوط بنا دیتا ہے۔
اور یوں کہانی ایک نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی، جہاں ہر سانس انجام کی خبر دے رہی تھی، مگر انجام ابھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوا تھا۔
اس رات آسمان پر بادل غیر معمولی طور پر نیچے جھکے ہوئے تھے، جیسے وہ بھی اس گھر کے اندر ہونے والی خاموش جنگ کے گواہ بننا چاہتے ہوں۔ اس کی سانسیں بے ترتیب تھیں، مشینوں کی آوازیں کمرے میں ایک عجیب سا خوف پیدا کر رہی تھیں، اور میں اس کے پاس بیٹھی اس کے ہاتھ کو تھامے مسلسل دعا کر رہی تھی، ایسی دعا جو الفاظ سے آگے نکل چکی تھی اور سیدھا دل سے اللہ تک پہنچ رہی تھی۔
اچانک اس نے آنکھیں کھولیں، کمزور مگر ہوش میں، اس کی نظریں سیدھا مجھ پر آ کر ٹھہر گئیں۔ ہونٹ ہلے اور بمشکل آواز نکلی، “میں نے سچ سب کچھ لکھ دیا ہے… الماری میں… اگر میں نہ بچ سکا تو یہ کاغذات سب کو دکھا دینا۔”
میں کچھ کہہ نہ سکی، بس سر ہلاتی رہی، آنسو اس کے ہاتھ پر گرنے لگے، وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں بند کر گیا۔
اگلی صبح وہ صبح نہیں تھی، وہ ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔ اس نے آخری سانس لی، اور میرے وجود میں جیسے کوئی خلا پیدا ہو گیا، ایک ایسا خلا جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ مگر اس کے ساتھ ہی میرے اندر ایک عجیب سی مضبوطی بھی پیدا ہوئی، جیسے اس کی خاموش وصیت نے مجھے کھڑا کر دیا ہو۔
میں نے وہ کاغذات نکالے، سچ کے ٹکڑے، جن میں دھوکہ، لالچ، اور سازش سب کچھ واضح تھا۔ میں سیدھی اس جگہ پہنچی جہاں برسوں سے طاقت اور ظلم کا راج تھا، وہاں سب کے سامنے وہ کاغذات رکھ دیے۔ سچ کو زیادہ دیر چھپایا نہیں جا سکتا، وہ چیخ بن کر سامنے آ ہی جاتا ہے۔
وہ لوگ جنہوں نے اسے کمزور سمجھا تھا، آج نظریں چرا رہے تھے، اور میں، جو کبھی بے آسرا تھی، آج سچ کے ساتھ کھڑی تھی۔ قانون نے اپنا کام کیا، اور جن ہاتھوں نے اس کی زندگی برباد کرنے کی کوشش کی تھی، وہ انجام تک پہنچے۔
دن گزرے، وقت نے مرہم رکھا، مگر نشان باقی رہے۔ میں نے اس گھر کو نہیں چھوڑا، بلکہ اسے ایک نئی پہچان دی۔ وہاں ایک ایسا مرکز بنایا جہاں بے سہارا لڑکیاں آ سکیں، وہ لڑکیاں جنہیں دنیا نے ٹھکرا دیا ہو، جیسے کبھی مجھے ٹھکرایا گیا تھا۔
اکثر شام کو میں اسی کھڑکی کے پاس کھڑی ہوتی جہاں وہ بیٹھا کرتا تھا، ہوا آتی، پردے ہلتے، اور مجھے یوں لگتا جیسے وہ کہہ رہا ہو، “تم ہاریں نہیں، یہی میری جیت ہے۔”
میں مسکرا دیتی، آنکھیں نم ہو جاتیں، مگر دل مطمئن ہوتا۔
کہانی کا انجام یہی تھا کہ ظلم وقتی ہوتا ہے، مگر صبر، سچ اور دعا کا انجام ہمیشہ روشن ہوتا ہے۔ جو رشتے خون سے نہیں بنتے، وہ کبھی کبھی روح سے جڑ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ بچھڑ کر بھی زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔
یہ کہانی کسی ایک شخص کی نہیں تھی، یہ ہر اس دل کی کہانی تھی جو ٹوٹ کر بھی جڑنا سیکھ لیتا ہے، اور یہی اس کہانی کا اصل نچوڑ تھا —
درد اگر اللہ
کے سپرد کر دیا تو وہ طاقت بن جاتا ہے، اور انجام وہی ہوتا ہے جو دل کو مطمئن کر دے۔
https://www.blogger.com/u/9/blog/post
/edit/preview/2729899281674296463
/4824508898495366702

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."