Main Ek Ameer Ghar Mein Jharu Pochha Karti Thi – Sachi Kahani


 میں ایک امیر گھر میں جھاڑو پونچھا لگاتی تھی

میرا نام عائشہ ہے، اور میری پہچان بس اتنی تھی کہ میں ایک امیر گھر میں جھاڑو پونچھا کرنے والی لڑکی تھی، جسے لوگ نام سے کم اور کام سے زیادہ جانتے تھے، اس گھر کی چمکتی ہوئی فرشیں، شیشے جیسے دروازے اور مہنگے صوفے میری محنت کے گواہ تھے مگر میری ذات وہاں صرف ایک سایہ سمجھی جاتی تھی، ایسا سایہ جس پر قدم رکھنا کوئی گناہ نہیں سمجھتا۔
میرے کپڑے اکثر میلے رہتے تھے، اس لیے نہیں کہ مجھے صفائی پسند نہیں تھی بلکہ اس لیے کہ دن بھر دوسروں کی گندگی صاف کرتے کرتے میرے اپنے کپڑوں پر بھی محنت کے نشان ثبت ہو جاتے تھے، میں صبح اندھیرے میں آتی اور شام ڈھلتے ہی تھکی ہاری اپنے چھوٹے سے کمرے میں لوٹ جاتی، جہاں نہ کوئی میرا انتظار کرتا تھا اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا تھا۔
اس گھر کی مالکن خود کو بہت مہذب سمجھتی تھیں، مگر ان کی شرافت صرف اپنے جیسے لوگوں تک محدود تھی، ان کا بیٹا ریحان ان سے بھی زیادہ بے حس تھا، اس کی آنکھوں میں غرور ایسا بھرا تھا جیسے دولت اس کے رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہو، وہ جب بھی مجھے دیکھتا تو اس کی نظریں میرے وجود کو کاٹ کر رکھ دیتیں، جیسے میں انسان نہیں بلکہ کوئی ناپسندیدہ شے ہوں۔
ایک دن میں صحن میں جھاڑو دے رہی تھی، میرے کپڑوں پر پانی کے چھینٹے پڑ گئے تھے اور مٹی بھی لگ گئی تھی، میں نے ذرا سا سر اٹھایا ہی تھا کہ ریحان میرے سامنے آ کھڑا ہوا، اس نے نفرت سے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور اچانک مجھے زور سے دھکا دے دیا، میں زمین پر گر پڑی اور میرے ہاتھ سے جھاڑو چھوٹ گیا، اس نے حقارت سے کہا،
“تم غریب لوگ ہمیشہ گندے ہی رہتے ہو، تمہیں دیکھ کر ہی بدبو آتی ہے۔”
اس ایک جملے نے میرے اندر کچھ توڑ دیا، زمین پر گری ہوئی میں نے آنکھیں بند کر لیں کیونکہ اگر آنسو بہہ جاتے تو شاید میری کمزوری سب کے سامنے آ جاتی، مالکن یہ سب دیکھ کر بھی خاموش رہیں، جیسے یہ سب ہونا بالکل فطری ہو، میں چپ چاپ اٹھی، جھاڑو اٹھایا اور دوبارہ کام میں لگ گئی، کیونکہ میرے پاس خاموشی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
رات کو جب میں اپنے کمرے میں آئی تو دیر تک جاگتی رہی، میرے کانوں میں وہی جملہ گونج رہا تھا، “تم غریب لوگ گندے ہوتے ہو”، میں نے آسمان کی طرف دیکھ کر صرف اتنا کہا،
“یا اللہ، اگر تو نے مجھے انسان بنایا ہے تو میری بے عزتی کا حساب بھی تو ہی لے گا۔”
مجھے نہیں معلوم تھا کہ وقت بہت جلد مجھے ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے گا جہاں طاقت، غرور اور دولت سب بے بس ہو جائیں گے، اور ایک ایسا راز سامنے آئے گا جو اس بڑے گھر کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گا۔
اگلے دن جب میں اس بڑے گھر میں داخل ہوئی تو فضا کچھ بدلی بدلی سی محسوس ہو رہی تھی، وہی دیواریں تھیں مگر خاموشی میں ایک عجیب سا بوجھ تھا، جیسے کسی ان دیکھے طوفان کی آہٹ ہو، میں نے سر جھکا کر اپنا کام شروع کر دیا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اس گھر میں سوال کرنے کا حق صرف طاقتوروں کو حاصل ہے، کمزوروں کو صرف حکم ماننا ہوتا ہے۔
ریحان اس دن خاصا پریشان دکھائی دے رہا تھا، وہ بار بار فون پر بات کرتا اور پھر غصے میں چیزیں ادھر اُدھر رکھ دیتا، میں نے انجانے میں اس کے کمرے کے باہر صفائی کرتے ہوئے ایک فائل دیکھی جو میز سے نیچے گری ہوئی تھی، میں نے اسے اٹھایا تو اس پر ایک نام لکھا تھا، وہ نام پڑھ کر میرا دل ایک لمحے کو رک سا گیا کیونکہ وہ نام میرے مرحوم والد کا تھا، وہی والد جو برسوں پہلے ایک حادثے میں دنیا سے چلے گئے تھے۔
میرے ہاتھ کانپنے لگے، میں نے فوراً فائل وہیں رکھ دی مگر میرے ذہن میں سوالوں کا طوفان اٹھ چکا تھا، میرے والد کا نام اس امیر گھر کے رازوں میں کیوں درج تھا؟ میں سارا دن اسی الجھن میں کام کرتی رہی، ہر کمرہ، ہر دیوار مجھے گھورتی محسوس ہو رہی تھی، جیسے یہ گھر خود کوئی سچ چھپائے بیٹھا ہو۔
شام کو مالکن نے مجھے اچانک اپنے کمرے میں بلایا، ان کی آواز میں وہی پرانا غرور تھا مگر آنکھوں میں ایک انجانی سی بے چینی جھلک رہی تھی، انہوں نے مجھے غور سے دیکھا اور کہا،
“تم زیادہ سوال تو نہیں کرتی؟”
میں نے فوراً نظریں جھکا لیں اور دھیمی آواز میں جواب دیا،
“نہیں بی بی صاحبہ، مجھے بس کام سے مطلب ہے۔”
وہ لمحہ بھر خاموش رہیں، پھر جیسے خود کو سنبھالتے ہوئے بولیں،
“یہ گھر نظم و ضبط سے چلتا ہے، جو اپنے کام سے کام رکھے وہی یہاں رہ سکتا ہے۔”
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا مگر میرے دل میں اب سکون باقی نہیں رہا تھا، وہ فائل، وہ نام، اور ریحان کی بے چینی سب کچھ کسی بڑے سچ کی طرف اشارہ کر رہا تھا، میں نے اس رات نیند کی بہت کوشش کی مگر آنکھیں بند کرتے ہی ماضی کے زخم جاگ اٹھتے، میرے والد کی خاموش مسکراہٹ اور ان کی بے بسی مجھے تڑپا دیتی۔
اگلے دن ایک عجیب واقعہ پیش آیا، ریحان کی گاڑی اچانک خراب ہو گئی اور مالکن نے مجبوری میں مجھے اس کے ساتھ ہسپتال جانے کا حکم دیا، راستے میں ریحان بالکل خاموش تھا، پہلی بار اس کے غرور میں دراڑ نظر آ رہی تھی، گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اس نے اچانک کہا،
“کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔”
میں نے اس کی طرف دیکھا مگر کچھ نہ بولی، کیونکہ میں جانتی تھی کہ وقت قریب آ رہا ہے، وہ وقت جب سچ خود بولے گا، اور یہ کہانی صرف میری بے عزتی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک بڑے انجام کی طرف بڑھے گی۔
اس دن کے بعد میری زندگی میں خاموشی اور خوف ایک ساتھ چلنے لگے تھے، میں بظاہر ویسی ہی نوکرانی تھی جو سر جھکا کر کام کرتی ہے مگر اندر ہی اندر میرے سوال اب چیخ بن چکے تھے، ہر قدم پر مجھے لگتا جیسے اس حویلی کی زمین میرے راز جانتی ہو اور دیواریں گواہ بننے کے لیے بے چین ہوں۔
ریحان کا رویہ دن بدن بدل رہا تھا، وہ اب مجھ سے بات کرتے ہوئے نظریں چرا لیتا، اس کے لہجے میں وہ پرانا غرور باقی نہ رہا تھا بلکہ ایک پچھتاوے کی پرچھائیں سی نظر آنے لگی تھیں، ایک دن جب مالکن شہر سے باہر گئی ہوئی تھیں تو ریحان نے مجھے لائبریری میں بلایا، اس کمرے میں جہاں ہمیشہ دروازے بند رہتے تھے اور جہاں جانے کی مجھے کبھی اجازت نہ ملی تھی۔
میں ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوئی تو ریحان کھڑکی کے پاس کھڑا باہر اندھیرے کو دیکھ رہا تھا، اس نے بغیر پلٹے کہا،
“تمہارے والد ایک ایماندار آدمی تھے، شاید اس گھر میں سب سے زیادہ سچے انسان۔”
میری سانس رک گئی، میں نے ہمت کر کے پوچھا،
“آپ میرے والد کو کیسے جانتے ہیں؟”
وہ مڑا، اس کی آنکھوں میں نمی تھی،
“کیونکہ اسی ایمانداری کی قیمت انہوں نے اپنی زندگی سے چکائی۔”
میرے قدم لڑکھڑا گئے، میں کرسی کا سہارا لے کر بیٹھ گئی، ریحان نے بتایا کہ برسوں پہلے اس گھر کے کاروبار میں ایک بڑا فراڈ ہوا تھا، جس کا الزام میرے والد پر ڈال دیا گیا تھا، حالانکہ وہ بے قصور تھے، سچ سامنے آنے والا تھا مگر طاقت اور دولت نے انصاف کا منہ بند کر دیا، اور میرے والد اس صدمے کو سہہ نہ پائے۔
میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، وہ زخم جو برسوں سے بے نام تھا آج اسے نام مل گیا تھا، مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ مالکن کی نفرت، اس کی سختی، اور میری بے قدری سب اسی خوف کا نتیجہ تھی کہ کہیں سچ زندہ نہ ہو جائے۔
ریحان نے دھیمی آواز میں کہا،
“میں نے بہت دیر کر دی، مگر اب مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔”
اسی لمحے دروازہ زور سے کھلا، مالکن واپس آ چکی تھیں، ان کی آنکھوں میں غصہ اور خوف ایک ساتھ تھا، انہوں نے ہمیں ایک ساتھ دیکھا تو ان کا چہرہ زرد پڑ گیا، کمرے میں ایک خاموش جنگ چھڑ چکی تھی، جہاں الفاظ سے زیادہ آنکھیں بول رہی تھیں۔
انہوں نے کپکپاتی آواز میں کہا،
“تم نے اسے سب کچھ بتا دیا؟”
ریحان نے پہلی بار مضبوط لہجے میں جواب دیا،
“ہاں، کیونکہ سچ کو دفن کرنے سے وہ مرتا نہیں، لوٹ آتا ہے۔”
میں اس لمحے سمجھ گئی تھی کہ کہانی اب واپسی کے راستے پر نہیں، بلکہ انجام کی دہلیز پر کھڑی ہے، وہ انجام جو یا تو انصاف لائے گا یا ایک اور قربانی مانگے گا، اور اس گھر کی دیواریں جلد وہ سچ سننے والی تھیں جو برسوں سے ان میں قید تھا۔
کمرے میں چھائی ہوئی خاموشی اب کسی طوفان سے کم نہ تھی، مالکن کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور ان کی آنکھوں میں وہ خوف صاف جھلک رہا تھا جو سچ کے سامنے آ کر انسان کے چہرے پر اتر آتا ہے، میں نے زندگی میں پہلی بار انہیں اس قدر بے بس دیکھا تھا، وہ عورت جو برسوں تک میری خاموشی کو کمزوری سمجھتی رہی، آج خود خاموش کھڑی تھی۔
ریحان نے آہستہ مگر پختہ لہجے میں کہا کہ اب یہ راز مزید دفن نہیں رہ سکتا، وہ گناہ جو برسوں پہلے کیا گیا تھا اس کی سزا کسی بے قصور کو نہیں ملنی چاہیے تھی، میں نے دل کی گہرائی سے سانس لی اور پہلی بار اپنی آواز میں وہ طاقت محسوس کی جو ہمیشہ مجھ سے چھین لی گئی تھی، میں نے کہا کہ سچ صرف الزام نہیں مانگتا بلکہ انصاف چاہتا ہے۔
مالکن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، شاید وہ آنسو پچھتاوے کے تھے یا خوف کے، مگر وہ اعتراف کرنے لگی کہ کس طرح دولت بچانے کے لیے ایک ایماندار انسان کو قربان کیا گیا، کس طرح میرے والد کا نام مٹی میں ملا دیا گیا اور مجھے اس جرم کی زندہ نشانی بنا کر رکھا گیا، ان کے الفاظ اب خود ان کے خلاف گواہی دے رہے تھے۔
اسی دن سچ گاؤں تک پہنچ گیا، وہی لوگ جو کل تک مجھے حقیر نظروں سے دیکھتے تھے آج نظریں جھکائے کھڑے تھے، انصاف نے دیر سے ہی سہی مگر دروازہ کھول دیا تھا، میرے والد کا نام باعزت طور پر بحال کیا گیا اور وہ دولت جو ظلم کی بنیاد پر کھڑی تھی اس کی بنیادیں ہل چکی تھیں۔
میں اس حویلی سے نکلتے وقت پیچھے مڑ کر نہیں دیکھی، کیونکہ جو جگہ آنسوؤں سے بنی ہو وہاں یادیں زخم بن جاتی ہیں، میں نے نئی زندگی کی طرف قدم بڑھایا جہاں میرا نام میرا جرم نہیں بلکہ میری پہچان تھا، ریحان نے معافی مانگی مگر میں نے بدلے میں خاموشی دی کیونکہ کچھ زخم معافی سے نہیں بلکہ قبولیت سے بھر جاتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ میں نے سیکھ لیا کہ ظلم ہمیشہ طاقتور کا ہتھیار ہوتا ہے مگر سچ کمزور ہو کر بھی ہارتا نہیں، وہ خاموش رہتا ہے، انتظار کرتا ہے، اور ایک دن پورے شور کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے، میرے والد تو واپس نہیں آئے مگر ان کی سچائی زندہ ہو گئی تھی۔
آج میں جب آئینے میں خود کو دیکھتی ہوں تو وہ یتیم بچی نظر نہیں آتی جو ڈر کے سائے میں جی رہی تھی، بلکہ ایک مضبوط انسان نظر آتا ہے جس نے درد کو ہار نہیں بننے دیا، اس کہانی کا انجام یہی ہے کہ ظلم وقتی ہوتا ہے اور سچ اگر صبر کے ساتھ جیا جائے تو آخرکار انسان کو آزاد کر دیتا ہے۔

https://www.blogger.com/u/9/blog/post

تبصرے

New Urdu Stories

ماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانیماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

فاطمہ اور عمران کی موٹر وے پر آخری ملاقات — ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

امتحان کی گزرگاہ: ایک مخلص انسان کی کہانی"