Barray Khwab Aur Zindagi Ke Gehrey Sabak | Sachi Kahani | Sabaq Amoz Kahani
زینب کی جدائی اور صبر کا درد آپ کے دل کو چھو جائے گا
کچھ رشتے محبت سے نہیں، مجبوری سے باندھے جاتے ہیں۔ اور مجبوری میں بندھا رشتہ اکثر کسی ایک کے لیے قید بن جاتا ہے۔ یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی رشتے سے شروع ہوتی ہے، جس میں خواب ایک طرف تھے اور حقیقت بالکل دوسری طرف۔
عمر ایک متوسط مگر خوددار گھرانے کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ذہین، خوداعتماد اور بڑے خواب رکھنے والا۔ میٹرک کے بعد اس کا ایک ہی مقصد تھا: بیرونِ ملک جانا، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، اور ایک جدید، پڑھی لکھی زندگی گزارنا۔ گاؤں، روایات اور سادگی اسے ہمیشہ پیچھے کھینچتی ہوئی لگتی تھیں۔ اسے لگتا تھا کہ یہ سب اس کی پرواز کے راستے میں دیواریں ہیں۔
دوسری طرف زینب تھی۔ ایک دیہاتی لڑکی، سادہ مزاج، کم گو، اور آنکھوں میں خاموشی سمیٹے ہوئے۔ اس کی دنیا محدود تھی مگر نیت صاف۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی قسمت کا فیصلہ وہ خود نہیں کرے گی، بلکہ بڑوں کی مرضی سے ہوگا۔ اس کے لیے شادی خواب نہیں، ذمہ داری تھی۔
یہ فیصلہ ایک دن اچانک سنا دیا گیا۔
“ہم نے زینب سے تمہارا نکاح طے کر دیا ہے۔ اگلے مہینے شادی ہے۔”
عمر کو لگا جیسے کسی نے اس کے خوابوں پر پانی پھیر دیا ہو۔ اس نے احتجاج کیا، بحث کی، غصہ کیا، مگر باپ کا فیصلہ آخری تھا۔ خاندان، عزت اور روایت کے نام پر اس کی بات دبا دی گئی۔ زینب خاموش رہی، اور عمر اندر ہی اندر ٹوٹتا چلا گیا۔
شادی ہو گئی۔
عمر کے لیے یہ شادی صرف ایک قانونی بندھن تھی، دل کا رشتہ نہیں۔ زینب اس کے گھر آئی، مگر اس کے دل میں کبھی داخل نہ ہو سکی۔ عمر نے اس سے کبھی بدتمیزی نہیں کی، مگر بے رخی ایسی تھی جو بدتمیزی سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ بات کم، نظریں چرا کر، اور فاصلے بڑھتے گئے۔
زینب کوشش کرتی رہی۔ کبھی خاموشی سے چائے رکھ دیتی، کبھی دعا میں اس کا نام لے لیتی، مگر عمر کے دل پر جیسے تالہ لگا تھا۔ اس کے لیے زینب اس زندگی کی نمائندہ تھی جس سے وہ بھاگنا چاہتا تھا۔
کچھ ہی مہینوں میں عمر کو بیرونِ ملک تعلیم کا موقع مل گیا۔ یورپ کے ایک ملک کی یونیورسٹی سے ایڈمیشن لیٹر آیا تو اس کی آنکھوں میں وہی پرانا خواب جاگ اٹھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ جائے گا، چاہے اس رشتے کا کیا ہی بنے۔
زینب کو بتایا گیا تو وہ خاموش ہو گئی۔ نہ روئی، نہ سوال کیا۔ بس اتنا کہا،
“آپ جہاں خوش رہیں، وہی میری دعا ہے۔”
عمر نے اسے کمزوری سمجھا۔
وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہی خاموشی ایک دن اس کے غرور سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوگی۔ یہ سفر صرف عمر کو یورپ نہیں لے جا رہا تھا، بلکہ ایک ایسی کہانی کی بنیاد رکھ رہا تھا جس کا انجام وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
عمر کے یورپ جانے کی تاریخ قریب آتی جا رہی تھی۔ گھر میں تیاری کا ماحول تھا مگر اس تیاری میں خوشی کم اور خاموشی زیادہ تھی۔ زینب دن بھر گھر کے کاموں میں لگی رہتی، مگر اس کے دل میں ایک انجانا خوف پل رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ عمر جا رہا ہے، مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ صرف ملک چھوڑ کر جا رہا ہے یا رشتہ بھی۔
عمر کے دل میں عجیب سا سکون تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اس کے کندھوں سے ایک بوجھ اترنے والا ہے۔ وہ خود سے یہی کہتا کہ یہ شادی اس کی مرضی کے بغیر ہوئی تھی، اس لیے اس سے نکل جانا کوئی گناہ نہیں۔ زینب کی خاموشی، اس کی سادگی، اس کا جھکا ہوا لہجہ، عمر کو اب ترس نہیں بلکہ کوفت دینے لگا تھا۔
روانگی سے ایک رات پہلے زینب نے ہمت کر کے بات کرنے کی کوشش کی۔ وہ آہستہ سے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہوئی اور اجازت مانگی۔ عمر نے بے دلی سے اندر آنے دیا۔ زینب نے نظریں جھکائے بس اتنا کہا کہ اگر اس سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کر دے۔ عمر کے دل میں ایک لمحے کے لیے کچھ ہلا، مگر اس نے فوراً خود کو سخت کر لیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ یہ رشتہ اس کے لیے صرف ایک ذمہ داری ہے، محبت نہیں۔
یہ الفاظ زینب کے لیے کسی چوٹ سے کم نہ تھے، مگر وہ روئی نہیں۔ اس نے بس سر ہلایا اور خاموشی سے کمرے سے نکل گئی۔ عمر نے اس خاموشی کو اپنی فتح سمجھا۔
چند دن بعد عمر یورپ پہنچ گیا۔ نئی دنیا، نئی آزادی، نیا ماحول۔ یہاں کوئی اسے دیہاتی بیوی کے طعنے نہیں دیتا تھا، کوئی اس کی نجی زندگی میں دخل نہیں دیتا تھا۔ وہ پڑھائی میں بھی اچھا کرنے لگا اور ساتھ ہی اس زندگی میں بھی ڈھل گیا جس کا وہ خواب دیکھتا تھا۔
اسی دوران اس کی ملاقات ایما سے ہوئی۔ ایک آزاد خیال، خوبصورت اور پراعتماد لڑکی۔ باتیں ہوئیں، قربت بڑھی، اور عمر کو لگا کہ یہی وہ زندگی ہے جس کا وہ حق دار تھا۔ اس نے زینب کو ذہن سے نکالنے کی پوری کوشش کی، جیسے وہ کبھی اس کی زندگی کا حصہ ہی نہ رہی ہو۔
چند مہینوں بعد عمر نے ایما سے شادی کر لی۔ اس نے یہ بات گھر میں فون کر کے بتائی تو باپ کی آواز ٹوٹ گئی۔ باپ نے اسے سخت الفاظ کہے، مگر عمر نے خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس نے زینب کا ذکر ایسے کیا جیسے وہ کوئی غلط فیصلہ تھی جو اس پر تھوپ دیا گیا تھا۔
کچھ عرصے بعد باپ نے ایک اور خبر دی۔ زینب حاملہ تھی۔ عمر کے اندر کا غرور جاگ اٹھا۔ اس نے غصے میں کہہ دیا کہ یہ بچہ اس کا نہیں ہو سکتا۔ اس کے الفاظ نے زینب کی عزت اور وجود دونوں کو روند ڈالا۔ انہی الفاظ کی بنیاد پر زینب کو گھر سے نکال دیا گیا۔
زینب اس وقت اکیلی تھی، مگر ٹوٹی نہیں تھی۔ وہ خاموشی سے ایک نئے سفر کی طرف بڑھ رہی تھی، اور عمر کو اس کا اندازہ تک نہیں تھا۔
یہ وہ موڑ تھا جہاں عمر کو لگ رہا تھا کہ وہ جیت گیا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی ہار کی بنیاد رکھ چکا تھا۔
زینب کو گھر سے نکالے جانے کے بعد کئی دن ایسے گزرے جن میں اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اگلی رات کہاں گزرے گی۔ پیٹ میں پلتا بچہ، دل میں ٹوٹا ہوا بھروسہ اور آنکھوں میں آنسو، مگر زبان پر کوئی شکوہ نہیں تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے خود کو کمزور ہونے دیا تو اس کے بچے کا مستقبل اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔ اسی سوچ نے اسے سہارا دیا۔ اس نے ایک چھوٹے سے شہر میں پناہ لی، جہاں کوئی اسے جانتا نہیں تھا، جہاں اس کا ماضی اس کے پیچھے نہیں چلتا تھا۔
مشکل حالات میں اس نے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کی۔ دن میں کام، رات میں پڑھائی، اور ہر لمحہ اپنے بچے کے لیے جینے کا عزم۔ زینب کے لیے یہ راستہ آسان نہیں تھا، مگر وہ ہار ماننے والی نہیں تھی۔ وقت کے ساتھ اس کی محنت رنگ لانے لگی۔ وہ میڈیکل کے امتحانات پاس کرتی گئی، مشکلات سہتی گئی، اور خاموشی سے مضبوط بنتی گئی۔ اس کا بیٹا، علی، اس کی زندگی کا مرکز بن چکا تھا۔ اس کی ہر مسکراہٹ زینب کے زخموں پر مرہم رکھتی تھی۔
ادھر عمر کی زندگی بظاہر کامیاب لگتی تھی، مگر اندر سے کھوکھلی ہو چکی تھی۔ ایما کے ساتھ شادی کچھ عرصے بعد بوجھ بننے لگی۔ پیسہ، آزادی اور عیش و آرام سب تھا، مگر سکون کہیں نہیں تھا۔ ایما کی بیماری نے حالات مزید بدل دیے۔ جب وہ ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہا تھا، تب اسے پہلی بار احساس ہوا کہ زندگی صرف اپنی مرضی سے نہیں چلتی۔ اسی ہسپتال میں ایک دن اس کی ملاقات ایک ڈاکٹر سے ہوئی، جسے دیکھ کر اس کے قدم زمین میں گڑ گئے۔
وہ ڈاکٹر زینب تھی۔ باوقار، پراعتماد اور مکمل مختلف۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ کمزوری نہیں تھی جو عمر نے کبھی دیکھی تھی۔ اس کے ساتھ کھڑا بچہ، جو عمر سے حیرت انگیز حد تک ملتا جلتا تھا، اس کے دل پر بجلی بن کر گرا۔ عمر کو لگا جیسے وقت اس کے سامنے ٹھہر گیا ہو۔ وہ بولنا چاہتا تھا، مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
زینب نے عمر کو پہچان لیا تھا، مگر اس کے چہرے پر کوئی حیرت نہیں تھی۔ وہ پرسکون تھی، جیسے اس ملاقات کی تیاری برسوں سے کر رہی ہو۔ اس نے مختصر اور باوقار انداز میں بات کی، اپنے کام کی طرف لوٹ گئی، اور عمر کو اس کے پچھتاوے کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیا۔ وہ لمحہ عمر کے لیے کسی سزا سے کم نہ تھا۔
بعد میں عمر کو سب حقیقت معلوم ہوئی۔ وہ بچہ اسی کا تھا، مگر اب اس کا نہیں رہا تھا۔ زینب نے اسے کبھی باپ کے نام کی محتاجی میں نہیں رکھا۔ اس نے اپنی محنت، صبر اور عزت سے وہ مقام حاصل کیا تھا جس کا عمر صرف خواب دیکھتا رہا۔
وقت نے عمر کو وہ سبق دیا جو کوئی نصیحت نہیں دے سکتی تھی۔ اس نے سمجھ لیا کہ اصل خوبصورتی شکل میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے، اور اصل جیت کسی کو چھوڑنے میں نہیں بلکہ نبھانے میں ہوتی ہے۔
یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، مگر عمر کی انا یہیں دفن ہو چکی تھی، اور زینب کی خاموش جدوجہد ایک مثال بن چکی تھی۔
عمر اپنی زندگی کے سب سے بڑے پچھتاؤ اور دکھ کے ساتھ بھٹک رہا تھا۔ امریکہ میں کامیابی کے خواب کے پیچھے دوڑتے ہوئے اس نے اپنی اصل زندگی کے سب رشتے توڑ دیے تھے۔ زینب، جو کبھی اس کی دیہاتی بیوی تھی، اب ایک کامیاب ڈاکٹر بن چکی تھی، اپنی محنت اور لگن سے ایک الگ مقام بنا چکی تھی۔ عمر نے اسے طلاق دے دی تھی، لیکن اس کے جانے کے بعد دل میں جو خالی جگہ اور درد تھا، وہ کبھی نہیں بھرا۔
وہ ہر روز راستوں پر بھٹکتا، یادوں میں کھو جاتا اور سوچتا کہ وہ سب کچھ کھو چکا ہے۔ ہر گلی، ہر منظر اسے زینب کی یاد دلاتا۔ کئی دن اس طرح گزرتے، اور وہ اپنے کیے پر پچھتاتے، زینب کو واپس پانے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن قسمت نے اسے اس کے بیٹے کی صورت میں جواب دیا۔ بیٹا، جو اب بڑا ہو کر انجینئر بن چکا تھا، اپنے والد کی محبت اور تکلیف کو سمجھ گیا اور اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔
بیٹے نے والد کے کھانے، رہائش اور روزمرہ کی ضروریات کا پورا بندوبست کیا۔ اس کی موجودگی نے عمر کے دل میں سکون پیدا کیا، لیکن زینب کے لیے اس کی محبت اور پچھتاؤ کبھی ختم نہ ہوا۔ بیٹے نے نہ صرف والد کو سنبھالا بلکہ اسے زندگی کے اہم سبق بھی سکھائے۔ بیٹے کی محبت اور دیکھ بھال نے عمر کو بتا دیا کہ زندگی میں اصل خوشی رشتوں کی قدر کرنے میں ہے۔
اسی دوران، بیٹے کی شادی ہونے والی تھی۔ اس نے اپنے والد کو بلایا تاکہ زینب کے سامنے اپنے کیے پر معافی مانگ سکے۔ عمر زینب کے سامنے روتے ہوئے کھڑا تھا، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا اور کہتا رہا: "زینب، مجھے معاف کر دو، میں جانتا ہوں کہ تیرا درد میں نے پیدا کیا، میں اپنی زندگی کے سب سے بڑے پچھتاؤ کے ساتھ یہاں ہوں، مجھے معاف کر دو۔" زینب نے خاموشی سے اسے دیکھا، دل میں احساس اور درد کے ساتھ۔ وہ جانتی تھی کہ عمر نے اپنی زندگی کی سب بڑی قیمت ادا کی ہے، اور اس کے بیٹے نے اس کی جگہ اس کی کمی کو پر کیا ہے۔
عمر نے محسوس کیا کہ بیٹے کی محبت، اس کی دیکھ بھال اور زینب کے سامنے معافی مانگنے کا عمل اس کے دل کو کچھ حد تک سکون دے گیا۔ وہ اب سمجھ گیا تھا کہ جو کچھ کھو گیا، اسے واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن جو بچا ہے، اس کی قدر کرنا اصل زندگی ہے۔ بیٹے کی کامیابی اور زینب کی عزت نے اسے یہ سبق دیا کہ محبت، رشتے اور ایمانداری کی اہمیت کبھی بھی کم نہیں ہونی چاہیے۔
آخری دنوں میں عمر اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزارتا، اس کے ساتھ کھانا کھاتا، اور زینب کے لیے دل میں ہمیشہ احترام اور محبت رکھتا۔ وہ جان گیا تھا کہ زندگی میں اصل سکون اپنے رشتوں کی قدر کرنے، غلطیوں کا اعتراف کرنے اور محبت کے ساتھ جینے میں ہے۔ اس طرح عمر کی زندگی کے آخری لمحات پچھتاؤ، محبت، معافی اور سکون کے ساتھ ختم ہوئے، اور اس نے سیکھا کہ جو وقت ضائع ہوتا ہے، اسے واپس نہیں لایا جا سکتا، لیکن جو باقی ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."