Bawafa Wife Ko Bila Waja Talaq Dene Walay Husband Ki Ibratnaak Kahani | Sachi Kahani


 شوہر نے حاملہ بیوی کو بلا وجہ طلاق دی دل دہلا دینے والی کہانی

لاہور کی اس خاموش اور مہنگی سوسائٹی میں وہ رات عام راتوں جیسی نہیں تھی، فضا میں عجیب سا بوجھ تھا، آسمان پر گہرے بادل اس طرح چھائے ہوئے تھے جیسے کسی آنے والے حادثے کا اعلان کر رہے ہوں، موسلا دھار بارش تیز ہوا کے ساتھ زمین پر برس رہی تھی اور اسی بارش کے شور میں حنا کا دل بھی بے ترتیب دھڑک رہا تھا، وہ ڈرائنگ روم کی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر اندھیرے میں دیکھ رہی تھی جہاں گیٹ کے پاس جلتی مدھم لائٹ بارش کے قطروں میں لرز رہی تھی، اس کا ایک ہاتھ شیشے پر تھا اور دوسرا بے اختیار اپنے ابھرے ہوئے پیٹ پر، حمل کے ساتویں مہینے میں اس کا جسم کمزور ہو چکا تھا مگر دل کی کمزوری اس سے کہیں زیادہ تھی، رات کے تین بج چکے تھے اور ارسلان ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا، حالانکہ کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ وہ اتنی دیر کرے۔
حنا کو وہ دن یاد آیا جب شادی کے ابتدائی دنوں میں ارسلان اس کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں رہ پاتا تھا، دفتر سے بار بار فون کرتا، معمولی سی دیر ہو جاتی تو پیغامات کی لائن لگ جاتی، مگر پچھلے کچھ مہینوں سے سب کچھ بدل گیا تھا، فون خاموش رہنے لگے تھے، باتوں میں جھنجھلاہٹ آ گئی تھی اور راتوں کی دیر نے دل میں وسوسوں کو جنم دے دیا تھا، حنا سب سمجھتی تھی مگر خود کو خاموش رکھتی تھی کیونکہ وہ اپنے بچے کو کسی کشمکش میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔
اس کے دل میں ایک نام بار بار ابھرتا تھا، مائرہ، وہ لڑکی جو چند ماہ پہلے ارسلان کے دفتر میں آئی تھی، شروع میں اس کا ذکر عام سا تھا، پھر تعریفوں میں بدل گیا اور پھر خاموشیوں میں، حنا نے کئی بار خود کو سمجھایا کہ شاید وہ غلط سوچ رہی ہے مگر عورت کا دل بہت کچھ کہے بغیر جان لیتا ہے، بارش کی ہر بوند اسے اپنے دل پر گرتی محسوس ہو رہی تھی، اس نے آیت الکرسی پڑھ کر اپنے پیٹ پر دم کیا اور آہستہ سے کہا کہ یا اللہ میرے بچے کو ہر شر سے محفوظ رکھنا۔
اچانک گیٹ کے باہر گاڑی کے رکنے کی آواز آئی، حنا چونک گئی اور اس کا دل زور سے دھڑکا، یہ ارسلان کی گاڑی تھی، وہ درد اور تھکن کے باوجود جلدی سے سیدھی ہوئی، آئینے میں خود کو دیکھا، چہرہ زرد تھا مگر اس نے زبردستی ہلکی سی مسکراہٹ سجا لی کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ ارسلان گھر آئے تو سکون پائے، شکایت نہیں۔
دروازہ کھلا اور ارسلان اندر داخل ہوا، وہ بارش میں بری طرح بھیگا ہوا تھا، کپڑے بدن سے چپکے ہوئے تھے، مگر حنا کی نظر اس کی آنکھوں پر جا ٹھہری، وہ آنکھیں اجنبی تھیں، ان میں نہ محبت تھی نہ نرمی بلکہ ایک عجیب سی سختی اور بے زاری تھی، حنا نے نرمی سے کہا کہ آپ بھیگ گئے ہیں میں تولیہ لے آتی ہوں، مگر ارسلان نے اچانک اس کا ہاتھ جھٹک دیا، اتنی شدت سے کہ وہ لڑکھڑا کر پیچھے جا گری، اور ارسلان کے منہ سے نکلے الفاظ حنا کے دل پر تیز خنجر بن کر لگے کہ مجھے ہاتھ مت لگاؤ۔
اس لمحے حنا ساکت رہ گئی، اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ صرف بارش کی رات نہیں بلکہ اس کی زندگی کا وہ موڑ ہے جہاں سے سب کچھ بدلنے والا ہے۔
حنا زمین پر بیٹھی ہوئی اسی جگہ ساکت تھی جہاں ارسلان نے اس کا ہاتھ جھٹکا تھا، اس کے کانوں میں ابھی تک وہ جملہ گونج رہا تھا اور دل اس صدمے کو قبول کرنے سے انکاری تھا، وہ آہستہ آہستہ اٹھی، دیوار کا سہارا لیا اور خود کو سنبھالا کیونکہ پیٹ میں اچانک ہلکی سی اینٹھن اٹھی تھی، اس نے گہری سانس لی اور دل ہی دل میں اپنے بچے کو دلاسا دیا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر دل جانتا تھا کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں رہا۔
ارسلان بغیر کچھ کہے صوفے پر بیٹھ گیا، جوتے اتارے بغیر، اس کی آنکھوں میں عجیب سی بے قراری تھی جیسے وہ خود بھی کسی اندرونی جنگ سے لڑ رہا ہو، حنا نے پانی کا گلاس لا کر سامنے رکھا اور دھیمی آواز میں کہا کہ پہلے کپڑے بدل لیجئے ورنہ بیمار ہو جائیں گے، مگر ارسلان نے غصے میں گلاس ایک طرف رکھ دیا اور کہا کہ مجھے نصیحتوں کی ضرورت نہیں، حنا کے لیے یہ جملہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا کیونکہ کبھی یہی شخص اس کی ہر بات کو اہمیت دیتا تھا۔
خاموشی گہری ہوتی جا رہی تھی، بارش کی آواز اب بھی باہر مسلسل گونج رہی تھی اور حنا کو محسوس ہو رہا تھا کہ اس خاموشی میں چھپے سوال اگر زبان پر آ گئے تو رشتے کی آخری ڈور بھی ٹوٹ جائے گی، مگر ارسلان خود ہی بول پڑا اور اس کی آواز میں سختی صاف جھلک رہی تھی، اس نے کہا کہ حنا تم بدل گئی ہو، ہر وقت سوال، ہر وقت شک، گھر اب مجھے قید لگتا ہے، حنا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس نے کبھی بے جا سوال نہیں کیا، کبھی روک ٹوک نہیں کی، پھر بھی الزام اسی کے حصے میں آ رہا تھا۔
حنا نے ضبط کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں بدل گئی ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بدل گئے ہیں، آپ کی خاموشیاں، آپ کی دیر سے واپسی، آپ کی بے رخی، یہ سب میرے دل کو ڈراتی ہیں، میں صرف سچ جاننا چاہتی ہوں، ارسلان کے چہرے پر ایک لمحے کو گھبراہٹ آئی مگر فوراً اس نے رخ دوسری طرف موڑ لیا اور تلخ لہجے میں کہا کہ سچ یہی ہے کہ میں اب اس رشتے میں گھٹن محسوس کرتا ہوں۔
یہ الفاظ حنا کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھے، اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اس نے لرزتی آواز میں پوچھا کہ ہمارے آنے والے بچے کا کیا قصور ہے، کیا وہ بھی اس گھٹن کی سزا پائے گا، ارسلان کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا کہ میں ذمہ داریوں سے بھاگ نہیں رہا مگر مجھے سوچنے کے لیے وقت چاہیے، یہ کہہ کر وہ اٹھا اور گیسٹ روم کی طرف چلا گیا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز حنا کے دل پر ایسے گری جیسے کسی نے آخری امید بھی بند کر دی ہو، وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گئی، آنسو تھمتے نہیں تھے، اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ چاہے جو بھی ہو وہ اپنے بچے کو کمزور نہیں ہونے دے گی، اگر قسمت نے اسے آزمائش میں ڈالا ہے تو وہ صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گی، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ تو صرف ابتداء ہے اور آنے والے دن اس کے لیے اس سے کہیں زیادہ کٹھن ثابت ہونے والے ہیں۔
رات گزر گئی مگر حنا کی آنکھوں میں نیند نہ آ سکی، وہ ساری رات کروٹیں بدلتی رہی اور ہر کروٹ کے ساتھ اس کے دل میں ایک نیا خدشہ جنم لیتا رہا، کبھی اسے اپنے بچے کا خیال آتا، کبھی ارسلان کے بدلے ہوئے رویے کا، اور کبھی اس خاموش دروازے کا جو گیسٹ روم میں بند تھا اور جس نے دونوں کے درمیان ایک انجانی دیوار کھڑی کر دی تھی، فجر کی اذان کی آواز ابھری تو حنا نے نم آنکھوں سے وضو کیا اور جائے نماز پر بیٹھ کر دیر تک دعا کرتی رہی کہ یا اللہ اس کے گھر کو ٹوٹنے سے بچا لے۔
صبح ارسلان خاموشی سے تیار ہو کر دفتر جانے لگا، اس نے نہ ناشتہ کیا اور نہ ہی حنا کی طرف دیکھا، حنا نے ہمت جمع کر کے صرف اتنا کہا کہ دوپہر کو ڈاکٹر کے پاس جانا ہے، مگر ارسلان نے مختصر سا جواب دیا کہ مجھے وقت نہیں ملے گا، یہ جملہ سن کر حنا کے دل میں ایک اور کانٹا چبھ گیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ وقت کی کمی نہیں بلکہ دلچسپی کی کمی ہے۔
دن گزرتے گئے اور ارسلان کی بے رخی بڑھتی چلی گئی، وہ دیر رات گھر آتا، فون اکثر خاموش رکھتا اور اگر حنا کچھ پوچھ لیتی تو غصے میں آ جاتا، حنا ہر دن خود کو سمجھاتی کہ شاید یہ وقتی مسئلہ ہے، شاید دفتر کا دباؤ ہے، مگر دل ماننے کو تیار نہ تھا، ایک دن اس نے ارسلان کی جیب میں ایک رسید دیکھی جس پر کسی ریسٹورنٹ کا نام اور دو لوگوں کا بل درج تھا، اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا مگر اس نے فوراً کاغذ واپس رکھ دیا کیونکہ وہ بغیر ثبوت کے الزام لگانا نہیں چاہتی تھی۔
اسی کشمکش میں حنا کی طبیعت خراب رہنے لگی، کمزوری بڑھ گئی اور ڈاکٹر نے مکمل آرام کا مشورہ دیا، حنا نے ارسلان کو فون کر کے بتایا تو اس نے بس اتنا کہا کہ شام کو بات کریں گے، مگر وہ شام بھی اکیلی ہی گزر گئی، حنا بستر پر لیٹی چھت کو گھورتی رہی اور سوچتی رہی کہ کیا یہی وہ شخص ہے جس نے وعدہ کیا تھا کہ ہر مشکل میں ساتھ دے گا۔
ایک رات ارسلان غیر معمولی طور پر جلدی گھر آیا، اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی اور آنکھوں میں عجیب سی سختی، اس نے آتے ہی کہا کہ ہمیں بات کرنی ہے، حنا کا دل زور سے دھڑکا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ بات معمولی نہیں ہوگی، ارسلان نے صاف لفظوں میں کہا کہ وہ کچھ عرصہ علیحدگی چاہتا ہے تاکہ خود کو سمجھ سکے، یہ سن کر حنا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، اس نے لرزتی آواز میں کہا کہ علیحدگی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ مسئلوں کو اور گہرا کر دیتی ہے۔
ارسلان نے سرد لہجے میں کہا کہ فیصلہ ہو چکا ہے، کچھ دن وہ الگ رہے گا، یہ کہہ کر اس نے بیگ اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا، حنا کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا، اس نے دیوار کا سہارا لیا اور خود کو گرنے سے بچایا، اس لمحے اسے محسوس ہوا کہ وہ صرف اپنے شوہر سے نہیں بلکہ اپنی محفوظ دنیا سے بھی جدا ہو رہی ہے، مگر اسے ابھی معلوم نہ تھا کہ یہ علیحدگی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے جو اس کی زندگی کی سمت ہی بدل دے گا۔
ارسلان کے جانے کے بعد حنا دیر تک اسی جگہ کھڑی رہی جہاں وہ آخری بار اس کے سامنے تھا، دروازہ بند ہونے کی آواز اب تک اس کے کانوں میں گونج رہی تھی اور دل کے اندر کوئی چیز ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہی تھی، وہ آہستہ آہستہ بستر تک پہنچی اور وہیں بیٹھ کر اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ لیا، آنسو بے اختیار بہنے لگے اور لبوں سے بس ایک ہی دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ میرے بچے کو اس آزمائش کی سزا نہ دینا۔
چند دن بعد حنا کو معلوم ہوا کہ ارسلان کسی اور عورت کے ساتھ رہ رہا ہے، یہ خبر کسی خنجر کی طرح اس کے سینے میں اتری مگر اس بار وہ چیخی نہیں، روئی نہیں بلکہ خاموش ہو گئی، شاید بعض زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ آواز بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہے، اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ کسی کے رحم و کرم پر نہیں رہے گی، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔
وقت نے کروٹ لی، حنا نے ہمت کر کے اپنے لیے چھوٹا سا کام شروع کیا، حالات سخت تھے، جسم کمزور تھا مگر حوصلہ زندہ تھا، وہ ہر رات اپنے بچے سے باتیں کرتی اور اسے یقین دلاتی کہ اس کی ماں ہارنے والوں میں سے نہیں، یہی حوصلہ اس کی طاقت بن گیا، مہینوں بعد اس نے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھ لیا۔
ایک دن اچانک ارسلان واپس آیا، اس کے چہرے پر پچھتاوے کے سائے تھے اور آواز میں شکست، اس نے بتایا کہ جس عورت کے لیے اس نے سب کچھ چھوڑا تھا وہ صرف ایک دھوکہ تھی، اس نے حنا سے معافی مانگی اور کہا کہ وہ دوبارہ سب کچھ ٹھیک کرنا چاہتا ہے، حنا نے اسے غور سے دیکھا، وہی چہرہ جس پر کبھی اسے فخر تھا آج اسے اجنبی لگ رہا تھا۔
حنا نے پرسکون مگر مضبوط لہجے میں کہا کہ کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو دوبارہ کھلیں تو بھی وہی تحفظ نہیں دیتے، میں نے تمہیں تب مانگا تھا جب میں کمزور تھی، آج مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں، یہ سن کر ارسلان کی آنکھیں جھک گئیں اور وہ خاموشی سے واپس چلا گیا۔
چند ہفتوں بعد حنا نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا، اس لمحے اس نے محسوس کیا کہ زندگی نے اس سے سب کچھ نہیں چھینا بلکہ اسے ایک نیا مقصد دیا ہے، اس نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا کر آنکھیں بند کیں اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ دکھ کے بعد بھی امید باقی رہتی ہے۔
حنا نے سیکھ لیا تھا کہ محبت مانگنے سے نہیں ملتی، اور جو ساتھ چھوڑ جائے اس کے پیچھے زندگی نہیں رُکتی، اس کی کہانی یہی سبق دے گئی کہ عورت جب ٹوٹتی ہے تو بکھرتی نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر ابھرتی ہے، اور بعض انجام دکھ سے شروع ہو کر خودداری پر ختم ہوتے ہیں۔

تبصرے

New Urdu Stories

ماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانیماں کی محبت – ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

فاطمہ اور عمران کی موٹر وے پر آخری ملاقات — ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

امتحان کی گزرگاہ: ایک مخلص انسان کی کہانی"