Pardes Chhor Kar Aya To Ameer Bewa Ne Mujhe Driver Rakh Li | Islamic Story
پردیس چھوڑ کر واپس آیا تو ایک امیر بیوہ نے مجھے ڈرائیور رکھ لیا
میں کافی عرصہ خلیجی ملک میں ملازمت کرتا رہا تھا، کام آسان نہیں تھا مگر اتنا ضرور تھا کہ گھر کا نظام کسی طرح چل رہا تھا۔ دوری کا دکھ الگ تھا، مگر بچوں کے مستقبل کی خاطر سب برداشت کر لیتا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ میری غیر موجودگی میری بیوی کو دن بدن بے چین کرتی جا رہی تھی۔ پہلے شکایت، پھر ناراضگی اور آخرکار ضد نے گھر کا سکون ختم کر دیا۔ وہ ہر فون کال پر یہی کہتی کہ اب مزید تنہا نہیں رہ سکتی، اسے میرا ساتھ چاہیے، بچوں کو باپ کی ضرورت ہے، اور اگر میں واپس نہ آیا تو وہ بچوں کو لے کر میکے چلی جائے گی۔
میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی، حالات بتائے، مگر اس کے دل میں ایک ہی بات بیٹھ چکی تھی۔ آخرکار بچوں کے بچھڑنے کے خوف نے مجھے توڑ دیا اور میں نے نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب میں وطن واپس آیا تو دل میں یہ امید تھی کہ کچھ نہ کچھ کام مل جائے گا اور زندگی پھر پٹری پر آ جائے گی، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ دن گزرتے گئے، جیب خالی ہوتی گئی، اور گھر میں فکروں کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔
میں نے شہر کے ہر کونے میں کام تلاش کیا، فیکٹریاں، دفاتر، شو رومز، مگر ہر جگہ یا تو سفارش مانگی جاتی یا تنخواہ اتنی کم ہوتی کہ گزارا ممکن نہیں تھا۔ بچوں کے چہرے دیکھ کر دل بیٹھ جاتا، اور بیوی کے رویے میں بھی وہ نرمی باقی نہیں رہی تھی جس کی خاطر میں واپس آیا تھا۔ انہی دنوں قسمت نے ایک عجیب موڑ لیا۔
ایک جان پہچان والے نے بتایا کہ شہر کے پوش علاقے میں رہنے والی ایک خوشحال خاتون کو ذاتی ڈرائیور کی ضرورت ہے۔ میں نے زیادہ سوچے بغیر رابطہ کیا۔ ملاقات ہوئی تو وہ خاتون نہایت سنجیدہ مگر باوقار انداز میں بات کر رہی تھی۔ اس نے کام کی نوعیت بتائی، وقت مقرر کیا اور تنخواہ کا ذکر کیا تو میں ایک لمحے کو خاموش رہ گیا۔ اتنی رقم میں نے خواب میں بھی نہیں سوچی تھی۔ میں نے فوراً ہامی بھر لی۔
کام شروع ہوا تو میں نے محسوس کیا کہ وہ عورت باقی امیر لوگوں سے مختلف ہے۔ لہجہ نرم، گفتگو مختصر مگر احترام سے بھرپور۔ کسی قسم کی سختی یا حکم چلانے والا انداز نہیں تھا۔ محلے میں اس کے بارے میں عجیب عجیب باتیں مشہور تھیں، مگر میں نے اپنے کام سے کام رکھا۔ کئی ہفتے اسی طرح گزر گئے، میں وقت پر آتا، گاڑی چلاتا اور واپس چلا جاتا۔
ایک شام جب میں نے گاڑی روکی تو وہ اچانک مسکرائی اور بولی، “میرے بچے آپ کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔”
میں یہ سن کر چونک گیا، کیونکہ میں نے نہ کبھی اس کے بچوں کو دیکھا تھا اور نہ ہی اس نے پہلے کبھی ان کا ذکر کیا تھا۔ میں کچھ سمجھ نہ سکا، مگر اس لمحے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک جملہ میری زندگی کا رخ بدلنے والا ہے، اور جو منظر میں نے آگے دیکھنا تھا، وہ میری سوچ سے کہیں آگے تھا۔اگلے چند دنوں تک اس ایک جملے نے مجھے بے چین رکھا۔ “میرے بچے آپ کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں” یہ بات بار بار میرے ذہن میں گونجتی رہی۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ شاید وہ محض رسمی بات ہو، مگر دل کسی انجانے خدشے میں گھرا ہوا تھا۔ میں روز کی طرح کام پر جاتا رہا، مگر اب ہر لمحہ اس خاتون کے رویے کو زیادہ غور سے دیکھنے لگا تھا۔ وہ اب بھی نرم لہجے میں بات کرتی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک ایسی سنجیدگی تھی جو کسی چھپے ہوئے دکھ کی طرف اشارہ کرتی تھی۔
ایک دن اس نے خود ہی بات چھیڑ دی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے کہا کہ اگر میرے پاس وقت ہو تو شام کو اس کے گھر آ جاؤں، بچے بہت دنوں سے ضد کر رہے ہیں۔ میں نے کچھ لمحے سوچا۔ دل نے منع کیا مگر زبان نے ہاں کہہ دی۔ شاید اس لیے کہ میں خود بھی یہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر یہ بچے کون ہیں جن کا ذکر اس نے کبھی پہلے نہیں کیا تھا۔
اس شام جب میں مقررہ وقت پر اس کے گھر پہنچا تو گیٹ پر ہی ایک عجیب سی خاموشی نے میرا استقبال کیا۔ گھر بڑا تھا مگر بے حد سادہ، نہ کوئی شور نہ کوئی نمود و نمائش۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر میں ٹھٹھک گیا۔ صحن میں چند بچے خاموشی سے بیٹھے تھے، ان کے چہروں پر وہ شوخی نہیں تھی جو عام بچوں میں ہوتی ہے۔ ان کی آنکھوں میں ایک گہری اداسی تھی، جیسے انہوں نے کم عمری میں ہی زندگی کا بوجھ اٹھا لیا ہو۔
وہ خاتون آگے بڑھی اور بڑے سکون سے بولی کہ یہی وہ بچے ہیں جن کا وہ ذکر کرتی رہی ہے۔ میں نے غور سے دیکھا تو دل پر ایک عجیب بوجھ سا پڑ گیا۔ یہ اس کے اپنے بچے نہیں تھے، بلکہ مختلف عمروں کے ایسے بچے تھے جن کے چہروں سے محرومی صاف جھلک رہی تھی۔ کسی نے آہستہ سے میرا ہاتھ پکڑا، کسی نے بس ایک نظر ڈالی اور نظریں جھکا لیں۔ اس لمحے مجھے سمجھ آیا کہ اس عورت کے بارے میں مشہور باتیں شاید سچ نہیں تھیں، بلکہ سچ اس سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔
ہم سب بیٹھ گئے۔ وہ عورت بچوں سے ایسے بات کر رہی تھی جیسے ایک ماں اپنے بچوں سے کرتی ہے۔ میں خاموشی سے یہ سب دیکھتا رہا۔ دل میں ایک سوال ابھر رہا تھا کہ آخر اس عورت نے اپنی زندگی اس راستے پر کیوں ڈال دی۔ کچھ دیر بعد اس نے خود ہی آہستہ آواز میں بتایا کہ یہ بچے کسی کے بھی نہیں تھے، کسی نے انہیں چھوڑ دیا تھا، کسی سے چھن گئے تھے، اور کسی نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے انہیں صرف چھت ہی نہیں دی تھی، بلکہ پہچان بھی دی تھی۔
جب میں واپس جانے لگا تو بچوں نے ضد کی کہ میں دوبارہ آؤں۔ ان کی وہ سادہ سی خواہش میرے دل میں اتر گئی۔ مگر اسی لمحے مجھے اپنی زندگی یاد آ گئی، گھر کے جھگڑے، بیوی کی ناراضگی اور وہ تلخ باتیں جو روز سننے کو ملتی تھیں۔ میں جانتا تھا کہ اگر یہ سب میری زندگی میں داخل ہوا تو بہت کچھ بدل جائے گا، مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ تبدیلی کتنی بڑی اور کتنی تکلیف دہ ہونے والی ہے۔
اُس رات میں دیر تک سو نہ سکا۔ بچوں کی خاموش نظریں، ان کے چہروں پر جمی سنجیدگی اور اُس عورت کا پُرسکون مگر بوجھل انداز بار بار میری آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔ میں نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ سب میرے دائرے سے باہر کی باتیں ہیں، مجھے صرف اپنی نوکری اور اپنے گھر پر توجہ دینی چاہیے، مگر دل کسی اور سمت کھنچ رہا تھا۔ شاید اس لیے کہ میں نے پہلی بار کسی امیر انسان کو اتنا سادہ اور اتنا تنہا دیکھا تھا۔
اگلے دن گھر کا ماحول پہلے سے زیادہ بوجھل تھا۔ میری بیوی نے میرے چہرے پر بدلا ہوا تاثر فوراً بھانپ لیا۔ سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی، کہاں گیا تھا، کیوں دیر ہوئی، کس کے ساتھ تھا۔ میں نے مختصر جواب دینے کی کوشش کی مگر بات بڑھتی چلی گئی۔ میں نے جیسے ہی اُس عورت اور بچوں کا ذکر کیا تو میری بیوی کا لہجہ بدل گیا۔ اس نے وہی باتیں دہرانا شروع کر دیں جو محلے والے کہتے تھے، وہی شک، وہی الزام، وہی خوف۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ میرے گھر میں لفظوں سے زیادہ دیواریں کھڑی ہو چکی ہیں۔
دن گزرتے گئے اور میں نے اس عورت کے گھر آنا جانا محدود کر دیا، مگر بچوں کی وہ نظریں میرا پیچھا نہیں چھوڑتی تھیں۔ کبھی وہ عورت خود فون کر کے صرف یہ کہہ دیتی کہ بچے ٹھیک ہیں، کبھی کسی بچے کی آواز پس منظر میں سنائی دے جاتی۔ یہ سب سن کر میرے دل میں ایک عجیب سی ذمہ داری کا احساس جاگنے لگا، جیسے میں ان کی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ بن چکا ہوں۔
ایک دن دفتر سے واپسی پر میری بیوی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اگر میں نے یہ نوکری نہ چھوڑی تو وہ بچوں کو لے کر میکے چلی جائے گی۔ اس دھمکی نے مجھے اندر تک ہلا دیا۔ میں جانتا تھا کہ یہ صرف الفاظ نہیں ہیں، وہ ایسا کر بھی سکتی ہے۔ اس رات میں نے بہت سوچا، اپنے بچوں کے چہرے یاد کیے، ان یتیم بچوں کے چہرے بھی یاد آئے، اور خود سے سوال کیا کہ آخر میں کس راستے پر چل رہا ہوں۔
چند دن بعد ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ایک بچے کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور وہ عورت گھبراہٹ میں مجھے فون کرنے لگی۔ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فوراً پہنچا۔ اسپتال کے کوریڈور میں بیٹھے اس عورت کے چہرے پر وہ مضبوطی نہیں تھی جو میں ہمیشہ دیکھتا آیا تھا، وہاں صرف ایک بے بس ماں تھی۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ یہ سب محض ایک نوکری نہیں رہی، یہ زندگی کے ایسے رشتے میں بدل رہی ہے جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
جب ہم واپس آئے تو اس عورت نے پہلی بار اپنی زندگی کے کچھ اور اوراق میرے سامنے رکھے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح اس نے اپنی تنہائی کو ان بچوں کی ذمہ داری میں بدل دیا تھا، اور کیسے ہر الزام اس نے خاموشی سے برداشت کیا تھا۔ میں سنتا رہا، بول نہ سکا، کیونکہ میرے اندر بھی ایک جنگ چل رہی تھی۔ ایک طرف میرا اپنا گھر تھا، دوسری طرف وہ سچ جو اب مجھ سے چھپ نہیں رہا تھا۔
اسی رات میں نے محسوس کیا کہ میں جس فیصلے کے قریب پہنچ رہا ہوں، وہ صرف میری زندگی نہیں بلکہ کئی زندگیوں کا رخ بدلنے والا ہے، مگر انجام ابھی بہت دور تھا، اور طوفان آنا باقی تھا۔
اُس رات میں دیر تک جاگتا رہا۔ کمرے میں خاموشی تھی مگر میرے اندر شور برپا تھا۔ میں بار بار ایک ہی سوال سے ٹکرا رہا تھا کہ کیا میں واقعی غلط ہوں یا میں نے بس وہ سچ دیکھ لیا ہے جو سب کی نظروں سے اوجھل تھا۔ میری زندگی دو حصوں میں بٹ چکی تھی، ایک وہ جس میں شک، دباؤ اور خوف تھا، اور دوسرا وہ جس میں ذمہ داری، سچائی اور ایک عجیب سا سکون تھا۔
صبح جب آنکھ کھلی تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب مزید دوغلی زندگی نہیں گزاروں گا۔ میں نے اپنی بیوی سے صاف بات کرنے کا ارادہ کیا۔ اس دن میں نے پہلی بار اُس کے سامنے خود کو کمزور نہیں بلکہ سچّا رکھا۔ میں نے اسے سب کچھ بتا دیا، بچوں کے بارے میں، اُس عورت کے بارے میں، اور اپنے دل کے اندر چلنے والی کشمکش کے بارے میں۔ میں نے کہا کہ میں کسی غلط راستے پر نہیں ہوں، میں صرف ایک انسان ہونے کا فرض نبھا رہا ہوں۔ میری باتوں کا اس پر وہ اثر نہ ہوا جس کی مجھے امید تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو کم اور ضد زیادہ تھی۔ وہ خاموش ہو گئی، مگر میں جان گیا کہ یہ خاموشی طوفان سے پہلے کی ہے۔
چند دن بعد اس نے واقعی گھر چھوڑ دیا۔ بچوں کو لے کر میکے چلی گئی۔ اس دن میں ٹوٹ سا گیا تھا، مگر حیرت انگیز طور پر میں بکھرا نہیں۔ شاید اس لیے کہ میں نے پہلی بار دل کے بوجھ سے نجات محسوس کی تھی۔ میں نے بچوں کو گلے لگا کر رخصت کیا اور اللہ سے بس ایک ہی دعا کی کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔
وقت گزرتا گیا۔ میں اپنی نوکری کرتا رہا، مگر اب وہ نوکری صرف روزی کا ذریعہ نہیں رہی تھی، وہ ایک مقصد بن چکی تھی۔ میں نے اُس عورت کے ساتھ ایک ایسا رشتہ دیکھا جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا تھا۔ نہ وہاں لالچ تھا، نہ کوئی سازش، صرف اعتماد، احترام اور انسانیت تھی۔ بچوں نے مجھے اپنا مان لیا تھا، اور میں نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھ کر وہ سکون پایا جو شاید برسوں سے گم تھا۔
ایک دن اُس عورت نے خود بات کی۔ اس کی آواز میں لرزش تھی۔ اس نے کہا کہ وہ اکیلی ہے، الزاموں سے تھک چکی ہے، اور بچوں کے لیے ایک سایہ چاہتی ہے، کوئی ایسا جو صرف نام کا نہیں بلکہ دل سے باپ بن سکے۔ میں نے اس رات بہت سوچا، نماز پڑھی، اور اپنے رب سے رہنمائی مانگی۔ مجھے پہلی بار لگا کہ دل کا بوجھ ہلکا ہو رہا ہے۔
میں نے فیصلہ کیا، مگر یہ فیصلہ کسی ضد یا مجبوری کا نہیں تھا، یہ فیصلہ سکون کا تھا۔ میں نے اُس عورت سے نکاح کر لیا۔ کوئی شور نہیں ہوا، کوئی دکھاوا نہیں تھا، بس چند گواہ اور ایک سادہ سا وعدہ کہ ہم ایک دوسرے کے لیے آسانی بنیں گے۔
لوگوں نے باتیں بنائیں، الزام لگائے، پرواہ مجھے پہلے بھی نہیں تھی، اب تو بالکل نہیں رہی تھی۔ میں نے جان لیا تھا کہ ہر کہانی وہ نہیں ہوتی جو زبانیں بیان کرتی ہیں، اصل کہانی وہ ہوتی ہے جو اللہ دیکھتا ہے۔
کچھ عرصے بعد میری پہلی بیوی بھی لوٹ آئی۔ اس بار اس کی آنکھوں میں غرور نہیں تھا، تھکن تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کو سمجھا، اور بچوں کے لیے ایک درمیانی راستہ نکالا۔ نفرت کم ہوئی، سکون بڑھا۔
آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو سمجھ آتا ہے کہ زندگی کبھی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی۔ بعض اوقات ہمیں ٹوٹنا پڑتا ہے تاکہ ہم اصل شکل میں جُڑ سکیں۔ میں نے یہ سیکھا کہ سچائی شور نہیں کرتی، وہ خاموشی سے دل میں اترتی ہے، اور انسان کو انسان بنا دیتی ہے۔
یہ کہانی یہی سکھاتی ہے کہ ہر رشتہ نیت سے بنتا ہے، اور ہر انجام ہمارے عمل کا عکس ہوتا ہے۔
اور یہی اس کہانی کا نچوڑ ہے… اور یہی اس کا اختتام۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/01/meri-biwi-do-bachon-ke-baad-moti-ho-gai.html

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."