Meri Biwi Aksar Der Se Ghar Aati Hai – Ek Dard Bhari Aur Sabaq Amoz Kahani | Sachi Kahani
ایک شوہر کا شک اور ایک بیوی کی قربانی — دیر سے گھر آنے کی اصل حقیقت
کراچی کے ایک متوسط علاقے میں رہنے والا ارسلان بظاہر ایک پرسکون زندگی گزار رہا تھا، مگر اس کے دل کے اندر ایک ایسی بے چینی پل رہی تھی جو دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کی بیوی ماہین ایک نجی فرم میں ملازمت کرتی تھی، اور پچھلے کچھ مہینوں سے اس کا معمول بدل چکا تھا۔ پہلے جو عورت شام چھ بجے تک گھر پہنچ جاتی تھی، اب اکثر رات کے دس، کبھی گیارہ بجے دروازہ کھولتی تھی۔ ارسلان ہر رات لاؤنج میں بیٹھا دیوار گھڑی کو گھورتا رہتا، اور ہر گزرتا منٹ اس کے دل میں ایک نیا خدشہ پیدا کر دیتا۔
وہ خود کو سمجھاتا تھا کہ حالات خراب ہیں، مہنگائی بڑھ چکی ہے، مگر دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔ شک ایک ایسا زہر ہے جو خاموشی سے انسان کے اندر اترتا ہے، اور ارسلان کے دل میں یہ زہر اب پوری طرح پھیل چکا تھا۔ وہ بچوں کے سونے کے بعد تنہا بیٹھ کر سوچتا کہ آخر ایسی کون سی مجبوری ہے جو ماہین کو اتنی دیر تک آفس میں روکے رکھتی ہے۔ اس کے ذہن میں بار بار ایک ہی چہرہ ابھرتا، ماہین کا باس، کامران شیخ۔
اس رات بھی گھڑی نے گیارہ بجائے تھے۔ دونوں بچے اپنی ماں کا انتظار کرتے کرتے سو چکے تھے، اور ارسلان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ جیسے ہی دروازے میں چابی گھومی، ارسلان ایک دم کھڑا ہو گیا۔ ماہین تھکی ہوئی، بجھی آنکھوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، ارسلان کی آواز کمرے میں گونج اٹھی۔ سوال پر سوال، الزام پر الزام، اور وہ خاموشی سے سب سنتی رہی۔ اس کی خاموشی ارسلان کے غصے کو مزید بھڑکا رہی تھی۔
ارسلان کو یاد آیا کہ شادی کے وقت اس نے واضح کہہ دیا تھا کہ وہ ایک سادہ زندگی چاہتا ہے، مگر ماہین نے نوکری کو اپنی ضرورت بنا لیا تھا۔ وہ دلیل دیتی رہی، بچوں کے مستقبل، کرائے، بلوں اور اخراجات کا ذکر کرتی رہی، مگر ارسلان کے دل میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ اس کی نظر میں یہ سب بہانے تھے، اور اصل حقیقت کہیں اور چھپی ہوئی تھی۔
رات تلخی میں گزر گئی۔ صبح ارسلان بچوں کی آواز سے جاگا، مگر جب باہر آیا تو منظر بدلا ہوا تھا۔ ناشتہ موجود تھا، بچے خاموش تھے، اور ماہین گھر میں نہیں تھی۔ بڑے بیٹے کے الفاظ اس کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگے کہ امی ناشتہ دے کر آفس چلی گئی ہیں۔ ارسلان کے اندر کہیں کچھ ٹوٹ سا گیا۔ اسے لگا جیسے اس کا گھر آہستہ آہستہ اس کے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔
اسی لمحے اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ اب مزید اندھیرے میں نہیں رہے گا۔ اگر سچ تک پہنچنا ہے تو خود جا کر دیکھنا ہوگا کہ ماہین کی دیر کا اصل سبب کیا ہے۔ اس کے دل میں ایک طوفان برپا تھا، اور یہ طوفان اسے ایک ایسے راستے پر لے جانے والا تھا جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ ہو۔
ارسلان نے فیصلہ کیا کہ اب وہ صبر کے کھیل سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرے گا۔ وہ آفس کی طرف نکل کھڑا ہوا، شہر کی سڑکیں خالی تھیں، اور رات کا اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ ہر قدم کے ساتھ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی، جیسے کوئی نامعلوم خطرہ اس کے قریب آ رہا ہو۔ اس کی آنکھیں ماہین کے ہر حرکت کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر وہ خود بھی اس خوف میں ڈوبا ہوا تھا کہ اگر حقیقت سامنے آ گئی تو اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی۔
جب وہ آفس پہنچا، تو سیکیورٹی گارڈ نے اسے روکا۔ ارسلان نے ایک نظر گارڈ کی طرف ڈالی اور کہا، "یہ میرا حق ہے، میں اپنی بیوی دیکھنا چاہتا ہوں۔" گارڈ نے ہچکچاتے ہوئے راستہ دیا۔ ارسلان سیدھا لفٹ کی طرف بڑھا، اور جیسے ہی بیلٹ کھلا، اس نے دیکھا کہ آفس کی لائٹیں معمول سے کم ہیں، مگر بس ایک کیبن میں روشنی جلی ہوئی تھی۔ دل کے دھڑکنے کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی، اور ہر لمحہ اسے لگ رہا تھا کہ وہ ایک بھاری راز کے دہانے پر کھڑا ہے۔
کیبن کا دروازہ آہستہ سا کھلا، اور اندر قدم رکھتے ہی ارسلان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ماہین اپنے باس کامران کے سامنے بیٹھی تھی، اور وہ کچھ دستاویزات دیکھ رہا تھا۔ لمحہ بھر کے لیے ارسلان کا دل ڈوب گیا۔ غصہ اور حسد کے ملے جلے جذبات اسے اندر گھسیٹنے لگے۔ وہ بالکل قریب پہنچا، لیکن جیسے ہی قدم اندر بڑھائے، کامران نے اسے دیکھ کر فوراً ہاتھ جوڑ لیے، اور بولا، "ارسلان صاحب، یہ کچھ غلط نہیں، بس دستاویزات۔"
ارسلان کے ذہن میں سوالات کا طوفان اٹھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھا، اور ماہین کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور تشویش جھلک رہا تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر الفاظ اس کے گلے میں پھنس گئے۔ ارسلان کے دل میں غصے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سا الجھن بھی پیدا ہو گئی کہ آخر حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ وہ سب کچھ ہے جو اس نے سوچا تھا، یا اس کے ذہن نے صرف خوف کو حقیقت بنا دیا؟
چند لمحے خاموشی کے بعد ارسلان نے فیصلہ کیا کہ وہ سب کچھ براہِ راست جانے گا۔ اس نے ماہین سے پوچھا، "یہ سب کیا ہے؟ رات گئے تک کیوں آفس میں؟" ماہین نے ایک گہری سانس لی، اور دھیمی آواز میں کہا، "ارسلان، مجھے تمہیں سب بتانا چاہیے تھا، مگر ڈر گیا تھا کہ تم کیا سوچو گے۔" ارسلان کی نظریں اس کی باتوں پر جم گئیں، اور وہ سب کچھ سننے کے لیے تیار ہو گیا۔
ماہین نے آہستہ آہستہ سب کچھ بیان کیا۔ اس کی طویل بیماری، جو کسی سے چھپی رہی، اور وہ دوائیں جو اس نے اپنے والدین کے لیے نہیں، بلکہ اپنے لیے رکھی تھیں۔ ارسلان کو لگا جیسے زمین اس کے پاوں سے کھسک گئی ہو۔ وہ جو شبہات اور حسد کے اندھیروں میں ڈوبا رہا، حقیقت بالکل مختلف تھی۔ ماہین کی دیر کی وجہ کوئی رومانوی تعلق نہیں، بلکہ ایک بڑی بیماری اور علاج کا سلسلہ تھا جس کی حقیقت ارسلان سے چھپی ہوئی تھی۔
ارسلان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ غصے کی جگہ اب شرمندگی اور دکھ نے لے لی۔ وہ چند لمحے بس خاموش بیٹھا، اور ماہین کو سینے سے لگا لیا۔ دل کے اندھیروں میں جو شکوک تھے، اب روشنی نے جگہ بنا لی تھی، اور وہ سمجھ گیا کہ زندگی میں سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بغیر تحقیق کے کسی پر الزام نہ لگایا جائے۔
ارسلان نے گھر واپس آتے ہوئے راستے میں سوچا کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھنا ہے کہ انسان اکثر اپنے جذبات کو حقائق پر ترجیح دیتا ہے۔ ماہین کے راز کی حقیقت جان کر اسے احساس ہوا کہ شبہات نے اسے کس حد تک اندھا کر دیا تھا۔ لیکن گھر پہنچتے ہی اسے بچوں کی چہک اور معصومیت نے پھر سے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس کے دل میں شرمندگی اور محبت کا مکسچر تھا۔ وہ بچوں کو سینے سے لگا کر خاموشی سے روتا رہا۔
اگلے دن صبح، ارسلان نے فیصلہ کیا کہ ماہین کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے اپنی تمام تر توانائی لگا دی جائے۔ اب وہ جان چکا تھا کہ اس کی بیوی کی دیر رات کی غیر موجودگی میں کوئی غلط نیت نہیں تھی، بلکہ صحت کی سنگینی اور علاج کی ضرورت تھی۔ اس نے ماہین کے دفتر میں فون کر کے بھی وضاحت طلب کی کہ اب سے ماہین کا علاج اور آرام ترجیح ہوگا، اور کام کی ذمہ داریاں اس کے اوپر ہوں گی۔
ماہین کی بیماری بتدریج قابو میں آ گئی۔ اس کی صحت میں بہتری آنا شروع ہوئی، اور آہستہ آہستہ گھر کا ماحول دوبارہ خوشگوار ہونے لگا۔ ارسلان نے اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا شروع کیا، اور ماہین بھی گھر کی ذمہ داریوں اور علاج کے درمیان توازن برقرار رکھنے لگی۔ وہ سب سمجھ گئے تھے کہ شک اور اندیشے نے کس قدر نقصان پہنچایا ہوتا۔
چند مہینوں بعد، ماہین مکمل صحتیاب ہو گئی۔ ارسلان نے محسوس کیا کہ یہ تجربہ اس کے لیے ایک بڑا سبق تھا۔ اس نے اپنے بچوں کو بھی بتایا کہ والدین کے فیصلے اور والدین کی محنت ہمیشہ بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے ہوتی ہے۔ بچوں نے اپنی ماں اور والد کے قربانیاں اور مشکلات کو سمجھنا شروع کیا۔ اب گھر میں محبت، احترام، اور اعتماد کی فضا قائم ہوئی۔
اس واقعے کے بعد ارسلان نے فیصلہ کیا کہ وہ کبھی بھی بغیر تحقیق کے کسی پر الزام نہیں لگائے گا۔ ماہین نے بھی عہد کیا کہ وہ اپنے شوہر کو ہر صورتحال میں اعتماد کے ساتھ آگاہ کرے گی۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر اپنے خاندان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شک انسان کے تعلقات کو کمزور کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قریبی لوگوں کے ارادوں پر بھروسہ کریں اور ہر معاملے میں سب سے پہلے حقیقت کو سمجھیں۔ ارسلان اور ماہین کی کہانی میں دکھ، الجھن اور محبت سب شامل تھے، لیکن آخرکار وہ سب نے مل کر اپنے تعلقات کو مضبوط بنایا۔
یہ حصہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ مشکلات اور بحران وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ ہم صبر، سمجھداری، اور اعتماد کے ساتھ اپنے رشتوں کو سنبھالیں۔ ارسلان اور ماہین کی زندگی میں جو پریشانی آئی، وہ اب خوشی اور سکون کی طرف تبدیل ہو گئی تھی۔ بچوں کی معصومیت اور والدین کی محبت نے سب کچھ بہتر بنایا۔
ماہین کی صحت میں بہتری آنے کے بعد گھر میں ایک بار پھر سکون کا سماں چھا گیا۔ ارسلان نے محسوس کیا کہ زندگی میں سب سے قیمتی چیز اعتماد اور محبت ہے، اور جب یہ دونوں ختم ہو جائیں تو سب کچھ برباد ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے دل کی بھاری ذمہ داریوں کے ساتھ یہ سبق اپنے بچوں کو بھی سکھا رہا تھا کہ والدین کے ارادے اور قربانیاں ہمیشہ بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے ہوتے ہیں۔
ماہین نے بھی ارسلان کے لیے احترام اور شفقت کا نیا باب کھولا۔ اب وہ نہ صرف گھر کے کاموں میں تعاون کر رہی تھی بلکہ بچوں کی تربیت اور تعلیم میں بھی مکمل دلچسپی لے رہی تھی۔ ارسلان نے دیکھا کہ بچوں کی معصومیت اور خوشی ان کے درمیان پیدا ہونے والے ہر غلط فہمی اور شک کو دھو ڈالتی ہے۔ اب رات کے اندھیرے میں دیر سے گھر آنے کا خوف اور شبہات کے سایے ختم ہو چکے تھے۔
ایک شام، جب ارسلان بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، ماہین نے آہستہ سے اس کے ہاتھ پکڑے اور بولی، "میں جانتی ہوں کہ تم نے مجھے ہمیشہ صحیح راستے پر رکھنے کی کوشش کی، اور میں تمہیں بے وجہ خوف میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔" ارسلان نے آنکھوں میں آنسو لیے اسے گلے لگا لیا۔ اس لمحے میں سب کچھ بول رہا تھا—محبت، معافی، اور سمجھداری۔
وقت گزرتا گیا، اور ارسلان نے محسوس کیا کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ جو لمحے گزار رہا ہے، وہ زندگی کی سب سے بڑی دولت ہیں۔ اب وہ ہر چھوٹی بات کو بڑھا چڑھا کر نہیں دیکھتا تھا، نہ ہی شک کے اندھیروں میں اپنی محبت کو دھکیلتا تھا۔ ماہین کی بیماری اور اس کے بعد کے حالات نے انہیں یہ سکھایا کہ اصل امتحان مشکلات میں ہی سامنے آتا ہے، اور محبت اور صبر کے ساتھ وہ ہر مشکل کو پار کر سکتے ہیں۔
ماہین کے مکمل صحتیاب ہونے کے بعد، ارسلان نے گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے لمحات میں اپنی توجہ بچوں اور ماہین پر مرکوز کر دی۔ وہ سب اب ایک خاندان کی طرح مضبوط اور متحد تھے۔ بچوں کی معصوم مسکان، ماہین کی محبت بھری نگاہیں، اور ارسلان کا سکون اب ایک دوسرے کے لیے ایک زندگی کا سبق بن چکا تھا۔
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ شبہات اور جھگڑے زندگی کے قیمتی لمحات کو برباد کر سکتے ہیں، لیکن اگر ہم صحیح وقت پر حقیقت جانیں اور اپنے دلوں میں اعتماد اور محبت کو جگہ دیں، تو ہر رشتہ مضبوط ہو سکتا ہے۔ ارسلان اور ماہین کی زندگی کا انجام اس بات کی علامت ہے کہ محبت، قربانی، اور سمجھداری کے ساتھ ہم اپنے خاندان کو ہر مشکل سے بچا سکتے ہیں۔
آخرکار، سچائی سامنے آئی، محبت غالب آئی، اور خاندان میں سکون واپس آیا۔ ارسلان، ماہین، اور بچے اب ایک دوسرے کے لیے مضبوط سہارا بن چکے تھے۔ ان کے درمیان جو تجسس، شک، اور تشویش پہلے تھی، وہ اب محض ایک سبق بن چکی تھی کہ زندگی میں سب سے بڑی طاقت محبت اور بھروسہ ہے۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/01/main-ek-ameer-ghar-mein-jharu-pochha.html

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."