Meri Biwi Do Bachon Ke Baad Moti Ho Gai To Maine Dusri Shadi Kar Li | Urdu stories
دو بچوں کے بعد بیوی موٹی ہو گئی
میرا نام ارسلان ہے اور میں لاہور کے ایک عام سے محلے میں رہتا ہوں۔ میری شادی آٹھ سال پہلے نادیہ سے ہوئی تھی، یہ رشتہ میرے والدین کی پسند سے طے پایا تھا۔ شروع میں سب کچھ ٹھیک تھا، نادیہ نرم مزاج تھی، سادہ سی، اور مجھے دل سے چاہتی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتے اور زندگی آسان لگتی تھی۔ پھر وقت بدلا، ذمہ داریاں بڑھیں اور اللہ نے ہمیں دو بچوں سے نوازا۔ بچوں کی پیدائش کے بعد نادیہ کی پوری دنیا بدل گئی۔ اس کی توجہ خود سے ہٹ کر مکمل طور پر بچوں اور گھر تک محدود ہو گئی۔ وہ سارا دن گھر کے کاموں میں لگی رہتی، بچوں کی فکر کرتی، مگر اپنی ذات کو مکمل طور پر بھول گئی۔
آہستہ آہستہ اس کا وزن بڑھنے لگا۔ شروع میں مجھے اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا، میں نے اسے فطری تبدیلی سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے دل میں عجیب سی بےچینی پیدا ہونے لگی۔ نادیہ اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی، نہ اس کی شخصیت میں وہ چمک تھی، نہ وہ کشش جو کبھی مجھے اس کی طرف کھینچتی تھی۔ باہر جاتے تو لوگ ہمیں دیکھ کر مختلف تبصرے کرتے، کوئی کہتا یہ بچوں کی ماں لگتی ہیں، کوئی مذاق میں مسکرا دیتا۔ نادیہ شاید ان باتوں کو نظر انداز کر دیتی تھی، مگر میرے دل میں یہ جملے تیر کی طرح لگتے تھے۔
نادیہ کو کھانے پینے کا بہت شوق ہو گیا تھا۔ کبھی دوپہر میں کچھ بنا رہی ہے، کبھی رات گئے کچن میں جا کر کچھ نہ کچھ کھا رہی ہے۔ میں نے کئی بار نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھے، مگر وہ ہنس کر ٹال دیتی اور کہتی کہ بچوں کے بعد سب عورتیں ایسی ہی ہو جاتی ہیں۔ اس کے لیے یہ بات معمولی تھی، مگر میرے اندر کچھ ٹوٹتا جا رہا تھا۔ میں خود کو سمجھاتا کہ یہی زندگی ہے، یہی حقیقت ہے، مگر دل ماننے کو تیار نہیں تھا۔
میں اکثر نادیہ کے پاس بیٹھا ہوتا، مگر میرا ذہن کہیں اور بھٹک رہا ہوتا۔ میں ایک ایسی زندگی کے خواب دیکھنے لگا تھا جس میں سب کچھ میری مرضی کے مطابق ہو، جہاں میں خود کو مطمئن محسوس کر سکوں۔ مجھے احساس تھا کہ یہ سوچ درست نہیں، مگر خواہشات آہستہ آہستہ عقل پر حاوی ہوتی جا رہی تھیں۔ نادیہ میری بیوی تھی، میرے بچوں کی ماں تھی، اس نے میرے لیے بہت کچھ قربان کیا تھا، مگر میں اس کی قربانیوں کو نظر انداز کر رہا تھا۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے دل میں پلنے والی یہ بےچینی ایک دن مجھے ایسے فیصلے کی طرف لے جائے گی جس کا انجام میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ تو بس شروعات تھی، اصل امتحان تو ابھی باقی تھا، اور میری زندگی بہت جلد ایک ایسے موڑ پر پہنچنے والی تھی جہاں سے واپسی آسان نہیں ہونے والی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے دل کی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں جتنا نادیہ سے دور ہوتا جا رہا تھا اتنا ہی خود سے بھی کٹتا جا رہا تھا۔ گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی میرا دل گھر میں نہیں لگتا تھا۔ میں دفتر سے جان بوجھ کر دیر سے آتا، کبھی دوستوں کے ساتھ بیٹھ جاتا، کبھی کسی نہ کسی کام کا بہانہ بنا لیتا، بس تاکہ نادیہ کے سامنے کم آنا پڑے۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرا دیتی، بچوں کو میری طرف بھاگنے کا اشارہ کرتی، مگر میں اندر سے خالی ہوتا جا رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا جیسے میں ایک ایسا کردار ادا کر رہا ہوں جو حقیقت میں میں نہیں ہوں۔
میرے ایک قریبی دوست نے ایک دن مذاق مذاق میں کہا کہ زندگی ایک بار ملتی ہے، اگر دل مطمئن نہیں تو انسان کو اپنے لیے بھی سوچنا چاہیے۔ اس کی بات میرے دل میں کہیں اتر گئی۔ اس کے بعد وہ اکثر مجھے ایسی باتیں سنانے لگا جن میں نئی زندگی، نئی شروعات اور اپنی پسند کی باتیں شامل ہوتیں۔ میں بظاہر خاموش رہتا، مگر اندر ہی اندر وہ الفاظ میرے ذہن میں گھر بنا رہے تھے۔ میں نادیہ کو دیکھتا تو اس کی سادگی، اس کی محنت اور اس کی قربانیاں نظر آتیں، مگر ساتھ ہی مجھے اپنی خواہشات بھی ستانے لگتیں۔
میں کئی راتیں جاگ کر گزارنے لگا۔ بچے سو جاتے، نادیہ تھکن سے چور بستر پر آ جاتی اور میں چھت کو تکتا رہتا۔ میرے ذہن میں سوال گردش کرتے رہتے کہ کیا یہی زندگی ہے؟ کیا میں پوری عمر ایسے ہی گزار دوں گا؟ پھر خود ہی خود کو ملامت کرتا کہ نادیہ نے میرا کیا بگاڑا ہے، وہ تو بس وقت اور حالات کی ماری ہے۔ مگر دل کی آواز ہر بار عقل پر غالب آ جاتی۔
ایک دن میں نے نادیہ کو غور سے دیکھا۔ وہ کچن میں کھڑی پسینے میں بھیگی ہوئی تھی، بچوں کے لیے کھانا بنا رہی تھی، اس کے چہرے پر تھکن صاف جھلک رہی تھی۔ اس نے میری طرف دیکھا اور مسکرا دی، جیسے اسے میرے دل کے حال کا ذرا بھی اندازہ نہ ہو۔ اس لمحے مجھے عجیب سا احساس ہوا، مگر وہ احساس جلد ہی دب گیا۔ میں نے خود کو یہ کہہ کر بہلا لیا کہ میں بھی انسان ہوں، میری بھی خواہشات ہیں، اور شاید میں خوش رہنے کا حق رکھتا ہوں۔
اسی دن میرے دوست نے مجھے ایک نئی تجویز دی۔ اس نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو وہ میری دوسری شادی کا انتظام کر سکتا ہے، ایک ایسی لڑکی جو جوان ہو، خوبصورت ہو اور زندگی کو میری نظر سے دیکھ سکے۔ میں نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا، مگر دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ یہ خیال میرے لیے نیا نہیں تھا، مگر اب یہ صرف خیال نہیں رہا تھا بلکہ ایک ممکنہ راستہ بن چکا تھا۔
اس رات میں نے نادیہ سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر الفاظ منہ سے نہ نکل سکے۔ میں اسے سچ بتانے کی ہمت نہیں کر پایا۔ میں جانتا تھا کہ جو قدم میں سوچ رہا ہوں وہ میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔ مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ اس فیصلے کے بعد سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہے گا۔ مگر اس کے باوجود میں اس راستے کی طرف بڑھتا جا رہا تھا، جیسے کوئی ان دیکھے انجام کی طرف کھنچا چلا جا رہا ہو۔
میرا دل اب ایک عجیب کشمکش میں پھنس چکا تھا۔ ایک طرف نادیہ تھی جس کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے کئی سال گزارے تھے، جس نے میرے بچوں کو جنم دیا، جس نے میرے گھر کو گھر بنایا، اور دوسری طرف میرے دل میں اٹھنے والی وہ خواہش تھی جسے میں جتنا دبانے کی کوشش کرتا اتنی ہی شدت سے وہ ابھر آتی۔ میں خود کو سمجھاتا کہ یہ سب وقتی خیالات ہیں، مگر سچ یہ تھا کہ میں اندر سے کمزور پڑ چکا تھا۔ میں نے اپنے دوست کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا تھا۔
کچھ دن بعد اس نے مجھے بتایا کہ لڑکی دیکھی جا چکی ہے، وہ نہایت خوبصورت ہے، کم عمر ہے اور حالات کو سمجھنے والی بھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ لڑکی کو معلوم ہے کہ میری پہلی شادی ہے اور وہ اس بات پر تیار ہے۔ یہ سن کر میرے دل میں ایک عجیب سا سکون اور خوشی ایک ساتھ اتر آئی۔ میں نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہ سوچا کہ اس فیصلے کا نادیہ پر کیا اثر پڑے گا۔ میں صرف اپنی تسکین کے بارے میں سوچ رہا تھا، اپنے خوابوں کے بارے میں، اپنی خواہشات کے بارے میں۔
گھر میں نادیہ حسبِ معمول اپنے کاموں میں مصروف رہتی۔ بچوں کی پڑھائی، ان کا کھانا، ان کی صحت، سب کچھ اسی کی ذمہ داری تھی۔ وہ کبھی کبھار مجھ سے پوچھتی کہ میں اتنا خاموش کیوں رہنے لگا ہوں، مگر میں ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتا۔ میں اسے یہ سچ بتانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا کہ میں اس کی زندگی میں ایک بہت بڑی دراڑ ڈالنے والا ہوں۔ اس کی آنکھوں میں وہی اعتماد تھا، وہی یقین، جو مجھے اور زیادہ بے چین کر دیتا تھا۔
میں نے اپنے دوست کے ساتھ خفیہ طور پر ملاقاتیں شروع کر دیں۔ شادی کی تاریخ، انتظامات، سب کچھ طے ہونے لگا۔ میں ہر قدم پر خود کو یہ کہہ کر مطمئن کرتا کہ یہ میرا حق ہے، میں نے بھی تو بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ مگر کہیں نہ کہیں میرے دل کے کسی کونے میں ایک آواز مجھے مسلسل ملامت کر رہی تھی۔ وہ آواز کہتی تھی کہ تم غلط کر رہے ہو، تم ایک عورت کے اعتماد کو توڑنے جا رہے ہو، تم اپنے بچوں کی ماں کو نظرانداز کر رہے ہو۔ مگر میں اس آواز کو دبانے کی کوشش کرتا رہا۔
آخرکار وہ دن بھی آ گیا جب میں نے دوسری شادی کر لی۔ نکاح سادہ تھا، چند لوگ تھے، مگر میرے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ نئی بیوی خوبصورت تھی، اس کی مسکراہٹ دل کو لبھانے والی تھی، اور میں خود کو خوش نصیب سمجھ رہا تھا۔ مگر اس خوشی کے ساتھ ہی ایک عجیب سا خوف بھی میرے دل میں بیٹھ گیا تھا۔ مجھے بار بار خیال آتا کہ جب نادیہ کو اس سب کا پتا چلے گا تو وہ کیا محسوس کرے گی۔
جب میں نئی بیوی کو لے کر گھر کی طرف بڑھا تو میرے قدم بھاری ہو گئے۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ دروازہ کھلتے ہی سب کچھ بدل جائے گا۔ وہ لمحہ میرے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا۔ میں نے خود سے وعدہ کیا کہ میں سب کچھ سنبھال لوں گا، مگر اندر سے میں خود کو ٹوٹتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن میری زندگی کو کس موڑ پر لے جانے والے ہیں، اور یہ فیصلہ میرے لیے کس قدر بھاری ثابت ہونے والا ہے۔
وہ رات میری زندگی کی سب سے بھاری رات ثابت ہوئی۔ میں نئی بیوی کے پاس بیٹھا تھا مگر عجیب سی کیفیت طاری ہو رہی تھی۔ جیسے ہی میں اس کے قریب جاتا، میرے جسم پر غنودگی چھا جاتی، آنکھیں بوجھل ہونے لگتیں اور ہوش و حواس ساتھ چھوڑنے لگتے۔ شروع میں میں نے اسے تھکن سمجھ کر نظرانداز کیا، مگر جب یہ کیفیت مسلسل دہرائی جانے لگی تو میرے دل میں خوف نے جنم لینا شروع کر دیا۔ میں خود کو سمجھاتا رہا کہ شاید ذہنی دباؤ ہے، شاید ضمیر کی ملامت ہے، مگر سچ یہ تھا کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔
چند دنوں میں میری حالت ایسی ہو گئی کہ میں نئی بیوی کے کمرے میں جانے سے گھبرانے لگا۔ وہ بظاہر نہایت پیار سے پیش آتی، اس کے لہجے میں نرمی تھی، مگر اس نرمی کے پیچھے مجھے اب ایک انجانا سا سایہ محسوس ہونے لگا تھا۔ میں اکثر رات کو پسینے میں شرابور اٹھتا اور دل بے قابو ہو کر دھڑکنے لگتا۔ نادیہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے نہ کوئی سوال کیا، نہ کوئی شکوہ، مگر اس کی خاموشی میرے لیے سب سے بڑی سزا بن چکی تھی۔
ایک دن گھر میں کام کرنے والی ماسی نے مجھے غور سے دیکھا اور آہستہ آواز میں بولی کہ اگر سچ جاننا ہے تو کل وقت سے پہلے گھر آ جانا۔ اس کے لہجے میں ایسی سنجیدگی تھی کہ میرا دل بیٹھ سا گیا۔ اگلے دن میں دفتر سے بہانہ بنا کر جلدی گھر لوٹ آیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی میں نے جو منظر دیکھا، اس نے میرے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی۔ نئی بیوی ایک کمرے میں فون پر کسی سے بات کر رہی تھی اور اس کی باتوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ مجھے محض ایک ذریعہ سمجھ رہی تھی، ایک ایسا شخص جسے اس نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا تھا۔ وہ یہ بھی بتا رہی تھی کہ وہ مجھے کمزور رکھنے کے لیے خاص چیزیں استعمال کرتی رہی ہے تاکہ میں اس کے قابو میں رہوں۔
میرا سر چکرانے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ اس لمحے مجھے اپنی سب سے بڑی غلطی کا احساس ہوا۔ میں نے جس عورت کے لیے اپنی پہلی بیوی کے جذبات کو روند دیا تھا، وہ عورت میرے اعتماد کے قابل ہی نہیں تھی۔ میں نے بغیر کوئی شور مچائے، خاموشی سے کمرے کا دروازہ بند کیا اور اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد میں نے ایک فیصلہ کر لیا، ایسا فیصلہ جو شاید مجھے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔
میں نے اسی وقت کاغذ پر طلاق لکھ دی۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر دل میں عجیب سا سکون اتر رہا تھا۔ میں نے نئی بیوی کے سامنے وہ کاغذ رکھا اور صاف لفظوں میں کہا کہ اب اس گھر میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ وہ گھبرا گئی، صفائیاں دینے لگی، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ چند گھنٹوں بعد وہ اپنا سامان لے کر اس گھر سے چلی گئی، اور اس کے ساتھ ہی میرے دل کا ایک بوجھ بھی اتر گیا۔
رات کو جب نادیہ میرے سامنے آئی تو میں مزید خود کو سنبھال نہ سکا۔ میں اس کے قدموں میں بیٹھ گیا، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے اعتراف کیا کہ میں نے اس کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی کی، اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، مگر اس نے پھر بھی مجھے بددعائیں نہیں دیں۔ نادیہ نے بس اتنا کہا کہ اس نے سب کچھ خدا پر چھوڑ دیا تھا اور آج سچ خود سامنے آ گیا۔
اسی دن مجھے یہ سبق ملا کہ خوبصورتی صرف چہرے کی نہیں ہوتی، اصل خوبصورتی کردار کی ہوتی ہے۔ میں نے اپنی زندگی کو دوبارہ سنوارنے کا فیصلہ کیا، نادیہ کے ساتھ، اپنے بچوں کے ساتھ۔ وہ عورت جسے میں نے کمزور سمجھا تھا، دراصل میری زندگی کی سب سے مضبوط بنیاد ثابت ہوئی۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، مگر اس دن میرے اندر کا غرور ضرور ختم ہو گیا، اور یہی اس کہانی کا اصل انجام تھا۔
https://www.umairkahaniblog.uk/2026/01/meri-biwi-aksar-der-se-ghar-aati-hai-ek.html

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
"Shukriya! Apka comment hamaray liye qeemati hai."