Sachi Kahani | Sabr, Mohabbat Aur Allah Par Yaqeen Ki Kahani
جب اپنے ہی بے گھر کر دیں اللہ ہی آخری سہارا ہے “بس ایک رات اور ٹھہرنے دو، صبح ہوتے ہی میں خود چلی جاؤں گی۔” میری آواز کانپ رہی تھی، ہاتھ اس کے پاؤں سے لپٹے ہوئے تھے، مگر سامنے کھڑا شخص میرا بھائی نہیں لگ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں خون کی طرح سرخی تھی، اور لہجے میں وہ سختی تھی جو رشتوں کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ باپ کی قبر ابھی گیلی تھی، مگر اس کے دل میں جائیداد کی ہوس سوکھے پتھر کی طرح جم چکی تھی۔ امی کے انتقال کے بعد ابا ہی میرا سایہ تھے، اور اب ان کے جانے کے بعد وہی گھر میرے لیے اجنبی ہو چکا تھا، دیواریں جو کبھی مجھے تحفظ دیتی تھیں، آج مجھے دھکے دے کر باہر نکال رہی تھیں، آدھی رات کا وقت تھا، دروازہ زور سے بند ہوا، اور اس آواز کے ساتھ میرا بچپن، میری یادیں اور میرا حق سب وہیں دفن ہو گیا۔ میں سردی میں لپٹی چادر کو مضبوطی سے پکڑے سڑک کنارے بیٹھ گئی، ہوا میں عجیب سی خاموشی تھی، جیسے شہر بھی میری بے بسی کو محسوس کر رہا ہو، گاڑیاں تیز رفتاری سے گزر رہی تھیں، مگر کسی نے پلٹ کر نہیں دیکھا، میں نے پہلی بار جانا کہ یتیمی صرف ماں باپ کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ اپنوں کے رویے کا نام ہے۔ دل میں ...