اشاعتیں

دسمبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Sachi Kahani | Sabr, Mohabbat Aur Allah Par Yaqeen Ki Kahani

تصویر
 جب اپنے ہی بے گھر کر دیں اللہ ہی آخری سہارا ہے “بس ایک رات اور ٹھہرنے دو، صبح ہوتے ہی میں خود چلی جاؤں گی۔” میری آواز کانپ رہی تھی، ہاتھ اس کے پاؤں سے لپٹے ہوئے تھے، مگر سامنے کھڑا شخص میرا بھائی نہیں لگ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں خون کی طرح سرخی تھی، اور لہجے میں وہ سختی تھی جو رشتوں کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ باپ کی قبر ابھی گیلی تھی، مگر اس کے دل میں جائیداد کی ہوس سوکھے پتھر کی طرح جم چکی تھی۔ امی کے انتقال کے بعد ابا ہی میرا سایہ تھے، اور اب ان کے جانے کے بعد وہی گھر میرے لیے اجنبی ہو چکا تھا، دیواریں جو کبھی مجھے تحفظ دیتی تھیں، آج مجھے دھکے دے کر باہر نکال رہی تھیں، آدھی رات کا وقت تھا، دروازہ زور سے بند ہوا، اور اس آواز کے ساتھ میرا بچپن، میری یادیں اور میرا حق سب وہیں دفن ہو گیا۔ میں سردی میں لپٹی چادر کو مضبوطی سے پکڑے سڑک کنارے بیٹھ گئی، ہوا میں عجیب سی خاموشی تھی، جیسے شہر بھی میری بے بسی کو محسوس کر رہا ہو، گاڑیاں تیز رفتاری سے گزر رہی تھیں، مگر کسی نے پلٹ کر نہیں دیکھا، میں نے پہلی بار جانا کہ یتیمی صرف ماں باپ کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ اپنوں کے رویے کا نام ہے۔ دل میں ...

Suteli Maan Aur Yateem Bachi | Urdu story | Ek Dard Bhari Aur Ibratnak Kahani

تصویر
 سرد رات، بند دروازہ، اور یتیم بچی دسمبر کی یخ بستہ رات اپنی پوری شدت کے ساتھ گاؤں پر اتر چکی تھی، ایسی سردی جس میں سانس لینا بھی سینے میں چھریاں چلنے جیسا محسوس ہوتا تھا، آسمان پر بکھرے ستارے مدھم پڑ چکے تھے اور ہوائیں سرگوشیوں کے بجائے جیسے نوحہ کر رہی تھیں، کہر کی موٹی تہہ نے کچی گلیوں، درختوں اور مٹی کے مکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، یوں لگتا تھا جیسے قدرت نے اس بستی کی بے حسی پر سفید کفن ڈال دیا ہو۔ اسی گاؤں کے ایک کچے مگر کشادہ گھر میں ایک یتیم بچی کھڑی کانپ رہی تھی، اس کے پاؤں ننگے تھے، جسم پر ایک پرانی، میلی سی قمیص اور آنکھوں میں خوف کی نمی تیر رہی تھی، سامنے کھڑی عورت جس کے چہرے پر سختی اور آنکھوں میں لالچ صاف جھلک رہا تھا، اس کی سوتیلی ماں تھی، جس کے لبوں پر ترس کا کوئی نشان نہیں تھا۔ “یاد رکھو، میرے بیٹوں کی جائیداد میں تمہارا کوئی حق نہیں،” عورت کی آواز سردی سے زیادہ بے رحم تھی، “ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکل جاؤ۔” بچی نے لرزتی آواز میں کچھ کہنا چاہا، شاید باپ کی یاد دلانا چاہتی تھی، شاید اپنی بے بسی سنانا چاہتی تھی، مگر اس کے ہونٹوں سے کوئی لفظ نہ نکل سکا، اگلے ہ...

Main Is Haveli Mein Naukrani Thi Magar Asal Sach Kuch Aur Tha | Hindi stories

تصویر
 میں نوکرانی نہیں وارث تھی میں اس حویلی میں صرف ایک نوکرانی سمجھی جاتی تھی مگر میرے لیے یہ جگہ کسی قید خانے سے کم نہ تھی جہاں ہر دن ذلت ایک نئے انداز میں میرا استقبال کرتی تھی اور ہر صبح بڑی بی بی کی سخت آواز میرے دن کی شروعات بن جاتی تھی میں سویرا تھی اور شاید برسوں سے اسی نام کے ساتھ اسی شناخت میں زندہ تھی ایک ایسی شناخت جو دوسروں کے دیے ہوئے حکموں اور طعنوں کے سائے میں پلتی رہی میں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میں یہاں کب آئی کیونکہ بچپن کی یادیں دھند میں لپٹی ہوئی تھیں بس اتنا یاد تھا کہ یہ حویلی ہمیشہ سے میری دنیا رہی ہے مگر اس دنیا میں میرا کوئی مقام نہیں تھا بڑی بی بی اس گھر کی مالکن تھیں ان کی ایک ایک نظر میں غرور اور ایک ایک لفظ میں سختی بسی ہوتی تھی وہ مجھے صرف کام کرنے والی مشین سمجھتی تھیں جو نہ تھکتی ہے نہ بولتی ہے اور اگر بولے تو سزا کی حقدار ہوتی ہے میں نے سیکھ لیا تھا کہ خاموشی ہی میرا سب سے مضبوط ہتھیار ہے کیونکہ یہاں سچ بولنے کی قیمت بہت مہنگی تھی بڑے صاحب اس دنیا میں نہیں رہے تھے اور ان کی موجودگی بس دیواروں پر لگی تصویروں تک محدود تھی حویلی کی فضا میں ان ...

An Emotional & Heart Touching Urdu Story | Story Time | Sabaq Amoz Kahani

تصویر
 وہ خاموش رہی، مگر ٹوٹتی چلی گئی نومبر کی سرد شام تھی اور آسمان پر کالے بادل اس طرح چھائے ہوئے تھے جیسے کسی ان کہی حقیقت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہوں، بارش کی بوندیں میرے بیڈروم کی بڑی شیشے والی کھڑکی پر مسلسل دستک دے رہی تھیں اور ہر بوند کے ساتھ میرے دل میں ایک انجانا خوف اترتا چلا جا رہا تھا، میں آئنہ کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی اور مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ خوبصورت عورت میں نہیں ہوں بلکہ کوئی اور ہے جس کی زندگی بظاہر مکمل مگر اندر سے کھوکھلی ہے۔ میرا نام مایا ہے اور میں اپنی زندگی کے اکتیسویں سال میں کھڑی وہ عورت ہوں جس کے پاس دولت ہے، آسائشیں ہیں، شہر کا سب سے بڑا گھر ہے، ایک ایسا شوہر ہے جو دنیا کے سامنے مجھے اپنی کامیابی کہتا ہے، مگر اس سب کے باوجود میری گود خالی ہے اور یہی خالی پن میری روح کو روز تھوڑا تھوڑا کھا جاتا ہے۔ میری شادی حارث سے ہوئی تھی، ایک باوقار، ذہین اور حد سے زیادہ خیال رکھنے والے انسان سے، ہماری شادی محبت کی بنیاد پر نہیں بلکہ خاندان کے فیصلے سے ہوئی تھی مگر وقت کے ساتھ وہ رشتہ ایسا مضبوط ہوا کہ مجھے لگا میں واقعی خوش قسمت ہوں، حارث ہر لمحہ میرے ساتھ کھڑ...

Saas Ne Bewa Bahu Par Zulm | Nand Ka Shohar Commissioner Nikla | Sachi Kahani

تصویر
  ظلم کرتی ساس بیوہ بہو کا رونا گھبرا گئی بہو میں تیز بخار میں کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی۔ میری نند کے سسرال والوں کی آج دعوت تھی۔ نند کا ہونے والا شوہر کمشنر تھا۔ جب سے میں بیوہ ہوئی تھی، میری ساس مجھ سے نوکروں سے بھی بدتر سلوک کرتی تھی۔ آج بھی جب میں سالن کا ڈونگا میز پر رکھ رہی تھی، چکر آگئے اور ڈونگا ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا۔ ساس نے سب کے سامنے میرے گال پر تھپڑ مارا۔ کمشنر غصے سے اٹھا اور بولا، "میں اس سے شادی…" ساس نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا تو ہال میں گونجتی اس مردانہ اور رعب دار آواز نے جیسے وہاں موجود ہر شخص کو پتھر کا کر دیا۔ میری آنکھوں سے بہتے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور میں زمین پر گری سالن کی ڈش اور ٹوٹی پلیٹوں کے درمیان کانپ رہی تھی۔ سب کی نظریں دروازے پر کھڑے اس شخص پر تھیں جس کی آنکھوں میں شعلے بھڑک رہے تھے۔ "یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے، بیٹا تم بیچ میں مت پڑو!" ساس نے ہکلاتے ہوئے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ "یہ گھر کا معاملہ نہیں، یہ کھلا ظلم ہے!" اس شخص نے آگے بڑھ کر مجھے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ اس کے لمس میں ہمدردی تھی یا اپ...

Talaq Ke Baad: Behan Ki Tanha Kahani | Urdu stories | Emotional Story

تصویر
 طلاق کے بعد عدت ختم ہوئ بھائی نے کہا طلاق کے بعد عدت ختم ہوتے ہی جب میں نے بھائی کے کمرے کا دروازہ کھولا تو ان کی آنکھوں میں وہ اپنا پن نہیں تھا جو کبھی میری طاقت ہوا کرتا تھا بلکہ وہاں ایک اجنبیت تھی جو دل کو اندر تک زخمی کر رہی تھی اور وہ بغیر میری طرف دیکھے بولے دیکھو صائمہ میرے اپنے بھی چھوٹے بچے ہیں میں مزید تمہارا خرچ نہیں اٹھا سکتا اور نہ مجھ سے یہ امید رکھنا کہ میں دوبارہ تمہاری شادی کرواؤں اس لیے بہتر ہے کہ اب تم خود اپنے رہنے سہنے کا انتظام کرو میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان کی طرف دیکھتی رہی میرے ہونٹ ہل رہے تھے مگر آواز ساتھ چھوڑ چکی تھی یہی وہ بھائی تھا جو کبھی میری ہنسی پر جان دیتا تھا اور آج ایسے بات کر رہا تھا جیسے میں کوئی بوجھ ہوں اسی لمحے میری بھابھی صحن میں آئی اور میرے ہاتھ میں پکڑا ہوا بیگ چھین کر زمین پر پھینک دیا اور تیز لہجے میں بولی یہاں مزید ڈراما نہیں چلے گا میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے میں نے خاموشی سے اپنا بیگ اٹھایا اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے کیونکہ وہاں رکنا اب خودداری کے قتل کے برابر تھا جیسے ہی میں گلی میں نکلی تو میرے قدم لرزنے لگے دل میں سوال تھ...

Beta Beron Mulk Sy Apni Maa Ko Pesay Bhejta Raha | Heart Touching Sachi Kahani | Urdu Story

تصویر
 بیٹا پردیس میں تنہا تھا سلمان ہر مہینے تاریخ دیکھتا اور موبائل میں بینک ایپ کھول کر سکون کا سانس لیتا کیونکہ ایک اور بڑی رقم پاکستان روانہ ہو چکی ہوتی اور اس کے دل میں یہی خیال آتا کہ اب اماں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی اب وہ آرام سے زندگی گزار رہی ہوں گی اب ان کے ہاتھ کسی کے آگے نہیں پھیلیں گے یورپ کے ایک سرد اور اجنبی شہر میں سلمان بارہ بارہ گھنٹے کام کرتا تھا تھکن سے جسم ٹوٹ جاتا تھا مگر ماں کا خیال اسے دوبارہ کھڑا کر دیتا تھا وہ خود سے کہتا تھا کہ یہ سب برداشت صرف اماں کے لیے ہے تاکہ وہ بڑھاپے میں سکھ کا سانس لے سکیں مگر عجیب بات یہ تھی کہ ہر فون کال کے آخر میں اماں کی آواز بھرا جاتی تھی اور وہ آہستہ آہستہ یہی کہتی تھیں بیٹا پیسے ابھی تک نہیں پہنچے دوائی ختم ہو رہی ہے طبیعت سنبھل نہیں رہی سلمان کا دل ہر بار بیٹھ جاتا تھا اسے یقین نہیں آتا تھا کیونکہ اس کے پاس بینک کا پیغام موجود ہوتا تھا مکمل تصدیق ہوتی تھی کہ رقم نکلوائی جا چکی ہے اور وہ سوچتا تھا کہ آخر یہ ممکن کیسے ہے شروع میں اس نے یہی سمجھا کہ شاید اماں بھول جاتی ہیں شاید عمر کے ساتھ کمزوری آ گئی ہے مگر جب یہ بات مہینوں ت...

Dever Ke Sath Shadi | Shohar Ki Wafat Ke Baad Ek Mushkil Faisla | Urdu stories

تصویر
 شوہر فوت ہو گیا مجبوری میں دیور سے نکاح کرنا پڑا  میرا نام حرا ہے اور میری زندگی ایک چھوٹے سے قصبے کے پرانے مگر پرسکون محلے میں گزرتی تھی جہاں لوگ ایک دوسرے کو نام سے جانتے تھے اور گھروں کے دروازے دلوں کی طرح کھلے رہتے تھے میری شادی بہت کم عمری میں ہو گئی تھی مگر اس کے باوجود میں نے کبھی خود کو زندگی سے تھکا ہوا محسوس نہیں کیا کیونکہ میرا شوہر سلمان ایک ایسا انسان تھا جو کم بولتا تھا مگر اپنے رویے سے سب کچھ کہہ دیتا تھا ہماری شادی روایتی طریقے سے ہوئی تھی مگر وقت کے ساتھ ہم دونوں کے درمیان ایک ایسی خاموش ہم آہنگی پیدا ہو گئی تھی جس میں نہ اونچی آوازیں تھیں نہ بڑے وعدے بس ایک دوسرے کو سمجھ لینے کا ہنر تھا سلمان ایک محنتی آدمی تھا جو روز صبح فجر کے بعد گھر سے نکلتا اور شام کو لوٹتا تو اس کے چہرے پر تھکن کے باوجود اطمینان ہوتا وہ شکل و صورت میں کوئی خاص نہیں تھا مگر اس کا دل صاف تھا اور میں ہمیشہ یہی سمجھتی رہی کہ اصل خوبصورتی کردار میں ہوتی ہے ہمارے تین بچے تھے دو بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا جو میری دنیا کا مرکز تھا میری ساری دعائیں میری ساری امیدیں انہی بچوں کے ساتھ جڑی ہوئی تھی...

Ghreeb Bhai Behn Ki Shadi Par Purane Kapre Pehn Kar Gaya | Dil Ko Chhoo Lene Wali Kahani | Sachi Kahani

تصویر
 وہ بھائی جسے پھٹے کپڑوں میں پہچاننے سے انکار کر دیا گیا غربت صرف جیب کو خالی نہیں کرتی بلکہ انسان کے چہرے سے وقار بھی چھین لیتی ہے مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس دولت نہ ہونے کے باوجود بھی دل اتنے امیر ہوتے ہیں کہ زمانہ ان کے سامنے فقیر لگتا ہے شفیق بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھا جس کی زندگی نے بچپن ہی میں اسے یتیمی کا ذائقہ چکھا دیا تھا باپ کے انتقال کے بعد ماں بھی زیادہ دن ساتھ نہ دے سکی اور یوں شفیق کے کندھوں پر اپنی چھوٹی بہن نازیہ کی ذمہ داری آن پڑی جسے اس نے باپ بھی بن کر پالا اور ماں بھی بن کر سنبھالا اس نے اپنی جوانی کی خواہشات کو ایک پرانے صندوق میں بند کر کے رکھ دیا اور دن رات محنت کر کے بس ایک ہی دعا مانگتا رہا کہ اس کی بہن کی زندگی اس جیسی نہ ہو وقت گزرتا گیا نازیہ کی قسمت جاگ اٹھی اس کی شادی ایک مالدار تاجر کے گھر ہو گئی اور یوں وہ محلات جیسے گھر کی مالکن بن گئی جہاں قیمتی قالین تھے چمکتے فانوس تھے اور ایسے رشتے تھے جن کی زبانیں میٹھی مگر دل پتھر کے تھے ادھر شفیق وہیں کا وہیں رہ گیا وقت نے اس کے کپڑوں کو پرانا کر دیا اس کے ہاتھوں کو کھردرا اور اس کی آنکھوں کو خامو...